اردو صحافت کا آغاز و ارتقاء.قلم کی روشن تاریخ کا ایک زندہ سفر ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکر کی ضخیم تحقیقی کاوش؛ سات سو صفحات میں خبر، قلم، مزاحمت، قربانی اور صحافت کی کئی نسلوں کی داستان
اردو صحافت کا آغاز و ارتقاء.قلم کی روشن تاریخ کا ایک زندہ سفر
ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکر کی ضخیم تحقیقی کاوش؛ سات سو صفحات میں خبر، قلم، مزاحمت، قربانی اور صحافت کی کئی نسلوں کی داستان
ازقلم:جاوید جمال الدین
کچھ کتابیں صرف پڑھی نہیں جاتیں، انہیں محسوس کرنا پڑتا ہے۔ ان کے صفحات پلٹتے ہوئے قاری محض الفاظ اور سطروں سے نہیں گزرتا بلکہ وقت کی دھول، پرانے کاغذ کی مہک، پریس کی کھڑکھڑاہٹ، مدیر کے کمرے کی خاموشی، صحافی کے بے قرار قلم اور تاریخ کے ان قدموں کی چاپ بھی سنتا ہے جو زمانہ گزر جانے کے باوجود مٹ نہیں پاتے۔
ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکر کی کتاب ’’اردو صحافت کا آغاز و ارتقاء‘‘ میرے لیے ایسی ہی کتاب ہے۔
یہ اردو صحافت کی تاریخ پر محض ایک اور کتاب نہیں بلکہ ان بے شمار مدیران، صحافیوں، اخبار نویسوں، اہلِ قلم اور خاموش کارکنوں کی اجتماعی داستان ہے جنہوں نے اپنے اپنے عہد میں لفظ کو آواز، قلم کو قوت اور اخبار کو عوامی شعور کا وسیلہ بنایا۔ یہ ان لوگوں کی داستان بھی ہے جنہوں نے محدود وسائل، مالی دشواریوں، حکومتی دباؤ، پابندیوں، مقدمات اور نامساعد حالات کے باوجود صحافت کا چراغ بجھنے نہیں دیا۔
ڈاکٹر ذاکر نے اسی چراغ کی لو کو ماضی کے اندھیروں میں تلاش کیا ہے۔
اور یہ کام محض کتابیں پڑھ کر نہیں کیا گیا؛ اس کے پیچھے ایک محقق کی طویل جستجو، سفر، ملاقاتیں، نایاب مواد کی تلاش اور تاریخ کے بکھرے ہوئے ٹکڑوں کو یکجا کرنے کی مسلسل کوشش ہے۔
ایک فیس بک ملاقات، جو علمی رفاقت میں بدل گئی
ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکر سے میری ابتدائی ملاقات فیس بک کے ذریعے ہوئی۔ سوشل میڈیا کے زمانے میں بہت سے تعلقات چند جملوں، تبصروں اور پیغامات تک محدود رہ جاتے ہیں، لیکن بعض ملاقاتیں رفتہ رفتہ اپنی ایک الگ معنویت پیدا کرلیتی ہیں۔ ہماری شناسائی بھی اسی طرح ایک علمی و صحافتی رفاقت میں تبدیل ہوئی، جس کا مرکز اردو صحافت، اس کی تاریخ، اس کے کردار اور اس کے مستقبل کے سوالات بنتے گئے۔
جب ڈاکٹر ذاکر نے اردو ٹائمز اور ممبئی کی اردو صحافت کے بارے میں تحقیق کے سلسلے میں ممبئی آنے کا ارادہ ظاہر کیا تو خیال تھا کہ چند ملاقاتیں ہوں گی، ضروری معلومات حاصل ہوں گی اور وہ اپنے کام کی طرف واپس لوٹ جائیں گے۔
لیکن ان کا چار روزہ قیام ایک مختلف تجربہ ثابت ہوا۔
مجھے ان کے ساتھ ممبئی کے مختلف علاقوں میں جانے، صحافتی شخصیات سے ملاقاتیں کرانے اور انہیں ایسے لوگوں تک پہنچانے کا موقع ملا جن کے پاس کتابوں سے بھی زیادہ قیمتی سرمایہ موجود تھا—یادداشت۔
ہم نے روزنامہ اردو ٹائمز کے مالک و چیف ایڈیٹر سعید احمد، ان کی اہلیہ قمر جہاں سعید، شاعر کے مدیر اعلیٰ نعمان امام اور دیگر صحافتی و سماجی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔
ڈاکٹر ذاکر کا تحقیقی انداز دیکھ کر بارہا محسوس ہوا کہ وہ محض معلومات جمع کرنے نہیں بلکہ ماضی کو زندہ کرنے نکلے ہیں۔ وہ ایک نام پوچھتے، پھر اس نام سے وابستہ دوسرے شخص تک پہنچتے، کسی پرانے اخبار کا ذکر سنتے تو اس کا شمارہ تلاش کرنے کی فکر میں پڑ جاتے۔ کسی مدیر کے بارے میں ایک معمولی سا حوالہ بھی ملتا تو اس کے پس منظر تک پہنچنے کی کوشش کرتے۔
یہی کیفیت شاید تحقیق کا جنون کہلاتی ہے۔
پانچ ہزار الفاظ کا مقالہ، سات سو صفحات کی کتاب
ڈاکٹر ذاکر نے اپنی تحریر ’’اور پھر بیاں اپنا‘‘ میں کتاب کی پیدائش کی جو داستان بیان کی ہے، وہ خود اس تحقیقی سفر کی وسعت کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
ابتدا میں ارادہ صرف اتنا تھا کہ اردو صحافت کے آغاز و ارتقاء پر چار پانچ ہزار الفاظ کا ایک مقالہ لکھا جائے، جسے ان کی کتاب ’’خندہ ہائے گل‘‘ میں شامل کیا جاسکے۔ کچھ مواد پہلے سے موجود تھا اور کچھ معلومات ذہن میں تھیں۔
مگر جب قلم اٹھایا گیا تو موضوع نے اپنی وسعت ظاہر کرنا شروع کردی۔
ایک اخبار سے دوسرے اخبار، ایک صحافی سے دوسرے صحافی، ایک عہد سے دوسرے عہد اور ایک واقعے سے دوسرے واقعے تک پہنچتے پہنچتے وہ مختصر مقالہ اپنی مقررہ حدود سے بہت آگے نکل گیا۔ موضوع نے مصنف کو اپنے اندر کھینچ لیا اور بالآخر چند ہزار الفاظ کا منصوبہ ایک ضخیم کتاب کی صورت اختیار کرگیا۔
یہی کسی زندہ موضوع کی طاقت ہوتی ہے۔
صحافت کی تاریخ محض تاریخوں، ناموں اور اخبارات کی فہرست نہیں ہوتی۔ اس کے اندر انسان ہیں، خواب ہیں، اختلافات ہیں، نظریات ہیں، جدوجہد ہے، ناکامیاں اور کامیابیاں ہیں، پابندیاں اور قربانیاں ہیں اور وہ چھوٹے بڑے واقعات ہیں جن کے بغیر صحافت کی اصل روح سمجھ میں نہیں آسکتی۔
خبر اخبار سے بہت پہلے پیدا ہوچکی تھی
کتاب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نے اردو اخبار سے اپنی بحث شروع کرنے کے بجائے ایک بنیادی سوال اٹھایا ہے:
خبر آخر ہے کیا؟
انسان نے خبر کب دی؟ خبر رسانی کی ضرورت کیوں پیدا ہوئی؟ طباعت سے پہلے معلومات ایک جگہ سے دوسری جگہ کس طرح پہنچتی تھیں؟ درباروں کے ہرکارے، مخبر، پیغام رساں اور خبر رساں کس طرح اپنے فرائض انجام دیتے تھے؟
یہاں تاریخ اچانک ایک دلچسپ داستان بن جاتی ہے۔
قدیم زمانے کے وہ خبر رساں جو جان خطرے میں ڈال کر اطلاعات پہنچاتے تھے، راستے میں پکڑے جاتے، قید ہوتے اور بعض اوقات جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے۔ ان کرداروں میں آج کی مہم جو اور تحقیقاتی صحافت کی ایک ابتدائی انسانی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔
یعنی خبر رسانی انسان کی ضرورت اور فطرت میں اخبار سے بہت پہلے موجود تھی۔ اخبار اس کا ایک بعد کا ادارہ جاتی روپ ہے۔
یہی وسیع تناظر کتاب کو محض اخبارات کی تاریخ بننے سے بچاتا ہے۔
جام جہاں نما سے دہلی اردو اخبار تک
اردو صحافت کی باقاعدہ تاریخ میں مولوی محمد باقر کے دہلی اردو اخبار کو جو تاریخی مقام حاصل ہے، وہ اپنی جگہ مسلم ہے۔ لیکن ڈاکٹر ذاکر نے اس سے پہلے کے اخباری تجربات کو بھی نظرانداز نہیں کیا۔
کلکتہ سے ہری ہردت کا جام جہاں نما، اس کی مختصر اردو اشاعت اور پھر فارسی کے ساتھ اردو ضمیمے کی روایت اس تاریخی تسلسل کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس سے بھی پہلے مختلف درباروں میں ’’ڈیوڑھی اخبار‘‘ اور خبر رسانی کے دوسرے ذرائع موجود تھے۔
یہاں ڈاکٹر ذاکر کا تحقیقی زاویہ اہم ہوجاتا ہے۔ وہ کسی ایک اخبار کو اچانک تاریخ کے صفحے پر نمودار نہیں کرتے بلکہ اس کے پیچھے موجود پورے تہذیبی، سیاسی اور انتظامی نظام کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
آزادی کی جنگ اور قلم کا محاذ
اردو صحافت کی تاریخ ہندوستان کی آزادی کی تاریخ سے الگ نہیں کی جاسکتی۔
مولوی محمد باقر، مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولانا ظفر علی خاں، حسرت موہانی، دیا نرائن نگم، نیاز فتح پوری اور دوسرے اہلِ قلم کے ہاں اخبار محض خبر کا کاغذ نہیں تھا۔ وہ ایک فکری مورچہ بھی تھا۔
کسی نے سیاسی شعور بیدار کیا، کسی نے سامراجی اقتدار کے خلاف آواز بلند کی، کسی نے سماجی اصلاح کو موضوع بنایا اور کسی نے اپنے قلم کی بے باکی کی قیمت جیل، مقدمے، پابندی یا مالی دشواری کی صورت میں ادا کی۔
ڈاکٹر ذاکر ان ناموں کو صرف تاریخی فہرست میں درج نہیں کرتے بلکہ انہیں اپنے عہد کے سیاسی، سماجی اور فکری حالات سے جوڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب کے صفحات پڑھتے ہوئے بار بار محسوس ہوتا ہے کہ اردو صحافت کی تاریخ دراصل ہندوستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ کا ایک متحرک باب بھی ہے۔
راجہ رام موہن رائے سے سرسید احمد خاں تک
کتاب میں راجہ رام موہن رائے کا ذکر صحافت کے اصلاحی کردار کو سمجھنے کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے صحافت کو سماجی اصلاح، فکری بیداری اور جدید تعلیم کے مباحث کا ذریعہ بنایا۔ ستی جیسی سماجی برائیوں کے خلاف جدوجہد نے صحافت کو محض خبر رسانی سے کہیں وسیع کردار عطا کیا۔
اسی طرح سرسید احمد خاں اردو صحافت کے ایک بڑے فکری موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے خیالات سے اختلاف ہوا، ان پر طنز کیا گیا اور ان کے نظریات کو چیلنج کیا گیا، لیکن وہ اپنے مقصد سے پیچھے نہیں ہٹے۔
اودھ پنچ کے طنزیہ مزاج اور سرسید کے خلاف شائع ہونے والے کارٹون کا حوالہ اس دور کی صحافتی کشمکش کو ایک دلچسپ تصویری شکل دیتا ہے۔
ڈاکٹر ذاکر کی خوبی یہ ہے کہ وہ تاریخی شخصیات کو صرف عقیدت یا مخالفت کے پیمانے سے نہیں دیکھتے بلکہ ان کے عہد کے فکری اختلافات کو بھی سامنے رکھتے ہیں۔ تاریخ کی صحت اسی میں ہے کہ اس میں مختلف آوازیں سنائی دیں۔
اودھ پنچ: طنز بھی صحافت ہے
اردو صحافت میں اودھ پنچ ایک ایسا سنگِ میل ہے جس کے بغیر اس کی فکری اور طنزیہ روایت مکمل نہیں ہوسکتی۔
منشی سجاد حسین، اکبر الہ آبادی اور اس دور کے طنزیہ قلم نے معاشرے کے تضادات کو جس انداز سے آئینہ دکھایا، وہ آج بھی قابلِ مطالعہ ہے۔ طنز بعض اوقات وہ بات کہہ دیتا ہے جسے براہِ راست کہنے میں زبان جھجھک محسوس کرتی ہے۔
ڈاکٹر ذاکر نے صحافت کے اس مزاحیہ اور طنزیہ پہلو کو بھی جگہ دی ہے۔ اس سے کتاب کے تاریخی مواد میں زندگی کی حرارت پیدا ہوتی ہے اور یہ احساس ہوتا ہے کہ پرانے اخبارات صرف سنجیدہ سیاسی بیانات کے مجموعے نہیں تھے بلکہ ان میں اپنے عہد کی سماجی نفسیات بھی سانس لیتی تھی۔
صحافت کی قیمت: محرومی، پابندی اور قربانی
کتاب کے مختلف حصے پڑھتے ہوئے ایک خیال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے۔
ایک زمانے میں لوگ بھوک کی شدت کم کرنے کے لیے پیٹ پر پتھر باندھنے پر مجبور ہوتے تھے۔ ماضی کے بعض صحافیوں کی زندگیوں کو دیکھیں تو محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے بھی اپنے قلم کی بھوک کو زندہ رکھنے کے لیے محرومیوں کے بے شمار پتھر اپنے سینے پر رکھے۔
اخبار نکالنا آسان نہیں تھا۔ وسائل محدود تھے، قارئین کم تھے، مالی مشکلات مستقل تھیں اور حکومتی دباؤ اپنی جگہ۔
کبھی مقدمہ، کبھی پابندی، کبھی مالی بحران اور کبھی تنہائی۔
مگر اخبار نکلتا رہا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں صحافت محض پیشہ نہیں رہتی، عہد بن جاتی ہے۔
آزادی کے بعد: بدلتا ہوا صحافتی منظرنامہ
ڈاکٹر ذاکر نے آزادی کے بعد اردو صحافت کو بھی اپنی تحقیق کا اہم حصہ بنایا ہے۔
انقلاب، قومی آواز، آزاد ہند، ہند سماچار، اردو ٹائمز اور روزنامہ راشٹریہ سہارا سمیت مختلف اخبارات، ہفت روزوں اور رسائل و جرائد کا ذکر اس کتاب کو آزادی کے بعد اردو صحافت کے بدلتے ہوئے ادارہ جاتی منظرنامے کو سمجھنے کے لیے بھی اہم بناتا ہے۔
خاص طور پر راشٹریہ سہارا پر تفصیلی گفتگو اس لیے اہم ہے کہ آزادی کے بعد اردو صحافت نے ایک نئے تجارتی، ادارہ جاتی اور مسابقتی ماحول میں اپنے لیے جگہ کس طرح بنائی، اس کا مطالعہ اردو صحافت کے جدید دور کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
ڈاکٹر ذاکر مختلف اخبارات کے مدیران اور صحافتی قیادت کے اندازِ کار کو بھی موضوع بناتے ہیں۔ یوں یہ کتاب صرف اخبار کی تاریخ نہیں رہتی بلکہ اخبار کے پیچھے کھڑے انسان کی تاریخ بھی بن جاتی ہے۔
تاریخ کے حاشیے سے مرکزی صفحے تک
کتاب کی ایک قابلِ قدر خوبی یہ ہے کہ مصنف نے صرف بڑے اور معروف اخبارات پر اکتفا نہیں کیا۔
گورکھپور سے شائع ہونے والے ریاض الاخبار، فتنہ اور عطر فتنہ جیسے اخبارات کا ذکر اس بات کی مثال ہے کہ صحافت کا کتنا بڑا سرمایہ عمومی تاریخی بیانیے کے حاشیے میں رہ گیا ہے۔
اسی طرح ممبئی کے فن اور شخصیت جیسے ششماہی مجلے پر توجہ بھی قابلِ ذکر ہے۔ اس کے فنی، طباعتی اور مجلاتی معیار کو سامنے لاتے ہوئے ڈاکٹر ذاکر نے اسے اردو صحافت اور رسائل کی وسیع تاریخ میں مناسب جگہ دینے کی کوشش کی ہے۔
ایسے ہی کام تحقیق کو صرف بڑے ناموں کی فہرست بننے سے بچاتے ہیں۔
لائبریریوں سے نکل کر لوگوں تک پہنچنے والا محقق
ڈاکٹر ذاکر کی محنت کا سب سے متاثر کن پہلو شاید ان کی تحقیقی بھاگ دوڑ ہے۔
انہوں نے پٹنہ کی خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری میں نایاب کتابوں اور قدیم اخبارات کی فائلوں کا مطالعہ کیا اور ڈاکٹر شائستہ بیدار سمیت ان اہلِ علم سے تعاون حاصل کیا جنہوں نے تحقیق کے لیے مواد فراہم کیا۔
کولکاتا سے پرانی فائلیں منگوائیں، حیدرآباد سے سیاست کے شمارے حاصل کیے، ممبئی سے اردو ٹائمز کا مواد جمع کیا، جالندھر میں ہند سماچار کے ذمہ داران سے ملاقات کی اور اعظم گڑھ کی شبلی منزل تک پہنچ کر نایاب کتابوں سے استفادہ کیا۔
اس سفر سے واضح ہوتا ہے کہ کتاب کا بڑا حصہ صرف لائبریری کی میز پر نہیں بلکہ سفر کی گرد، ملاقاتوں کی گفتگو اور بکھرے ہوئے تاریخی مواد سے وجود میں آیا ہے۔
ممبئی: میرے لیے بھی ایک یادگار تجربہ
اس تحقیقی سفر میں میری اپنی معمولی سی شرکت کا ذکر ڈاکٹر ذاکر نے کتاب کے اظہارِ تشکر میں جس محبت سے کیا ہے، وہ میرے لیے باعثِ تشکر ہے۔
میں نے اپنی بساط کے مطابق انہیں ممبئی کے صحافتی حلقوں سے متعارف کرایا اور کوشش کی کہ وہ ان لوگوں تک پہنچیں جن کی یادداشتیں اردو ٹائمز اور ممبئی کی اردو صحافت کے مختلف ابواب کو سمجھنے میں مدد دے سکتی تھیں۔
سعید احمد، قمر جہاں سعید، فاروق انصاری، سعید حمید سمیت متعدد صحافتی شخصیات سے گفتگو نے انہیں ایسے مواد تک رسائی دی جو شاید کسی کتاب یا فائل میں محفوظ نہ ہو۔
محقق کے لیے ایسی گفتگو کی اہمیت وہی سمجھ سکتا ہے جو ماضی کی تاریخ لکھتے ہوئے کسی بزرگ صحافی کی زبان سے اچانک کوئی ایسا نام، واقعہ یا حوالہ سن لے جو پوری تحقیق کا رخ بدل دے۔
عبد الحمید انصاری اور ’’انقلاب‘‘ کا حوالہ
میرے لیے اس کتاب کا ایک اور خوشگوار پہلو یہ ہے کہ ڈاکٹر ذاکر نے روزنامہ انقلاب کے بانی مدیر عبد الحمید انصاری پر میری تحقیقی کتاب ’’عبد الحمید انصاری: انقلابی صحافی اور مجاہدِ آزادی‘‘ سے استفادہ کیا اور انقلاب سے متعلق باب کی نظرثانی کے سلسلے میں مجھ سے گفتگو بھی کی۔
عبد الحمید انصاری کی صحافتی جدوجہد پر تحقیق کرتے ہوئے میں خود اس حقیقت سے دوچار ہوا تھا کہ اردو صحافت کی تاریخ کے کتنے ہی قیمتی صفحات مختلف فائلوں، ذاتی یادداشتوں، پرانے اخبارات اور بکھرے ہوئے حوالوں میں منتشر ہیں۔
ڈاکٹر ذاکر نے اسی بکھرے ہوئے تاریخی سرمائے کو ایک وسیع کینوس پر جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔
امداد صابری سے معاصر محققین تک
اردو صحافت کی تاریخ لکھتے ہوئے امداد صابری کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ ان کی پانچ جلدوں پر مشتمل ’’اردو صحافت کی تاریخ‘‘ ایک بنیادی حوالہ ہے۔ ڈاکٹر ذاکر نے اس سے استفادہ کرنے کے ساتھ انہیں خراجِ عقیدت بھی پیش کیا ہے۔
اس کے ساتھ عتیق احمد صدیقی، معصوم مرادآبادی، نادر علی، انور دہلوی، ڈاکٹر طاہر مسعود، ڈاکٹر افضل مصباحی اور دیگر اہلِ قلم کے کام سے استفادہ کیا گیا ہے۔
حوالہ جاتی مواد کی یہ وسعت کتاب کی تحقیقی بنیاد کو مضبوط کرتی ہے اور یہ بھی بتاتی ہے کہ مصنف نے کسی ایک ماخذ پر انحصار کرنے کے بجائے مختلف ذرائع سے مواد اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے۔
کیا یہ اردو صحافت کی مکمل تاریخ ہے؟
شاید نہیں۔
اور خود مصنف بھی ایسا دعویٰ نہیں کرتے۔
اردو صحافت کی تاریخ اتنی وسیع، متنوع اور منتشر ہے کہ سات سو صفحات بھی اس کے سامنے کم محسوس ہوسکتے ہیں۔ ہندوستان کے ہر شہر، ہر قصبے، ہر اخبار، ہر رسالے اور ہر مدیر کو ایک ہی کتاب میں سمیٹنا ممکن نہیں۔
لیکن کسی کتاب کی اہمیت اس بات سے کم نہیں ہوجاتی کہ اس میں سب کچھ شامل نہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ جو کچھ شامل کیا گیا ہے، اسے کتنی محنت، دیانت اور تحقیق کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
اس معیار پر ڈاکٹر ذاکر کی کاوش ایک اہم تحقیقی پیش رفت کے طور پر سامنے آتی ہے۔
اختلاف بھی تاریخ کا حصہ ہے
ڈاکٹر ذاکر نے بعض شخصیات، واقعات اور نظریات کے بارے میں اپنی رائے بھی قائم کی ہے۔ ممکن ہے ہر قاری ہر رائے سے اتفاق نہ کرے۔ لیکن تاریخ کا مطالعہ محض اتفاقِ رائے پیدا کرنے کے لیے نہیں ہوتا؛ وہ مختلف زاویۂ نظر کو سمجھنے کا وسیلہ بھی ہے۔
ہم ماضی کے ہر صحافی کے نظریے کو قبول کیے بغیر بھی اس کے کردار اور اثرات کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔
ایک محقق کا زاویہ دوسرے سے مختلف ہوسکتا ہے اور آنے والا محقق اسی مواد کو کسی تیسرے زاویے سے دیکھ سکتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اختلاف کو تحقیق کا دشمن نہ بنایا جائے۔
ماضی کی آواز اور اردو کا مستقبل
شاید اس کتاب کا سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ یہ ہمیں اردو کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
اردو آج بھی ایک زندہ زبان ہے، لیکن اس کے اخبارات، رسائل، کتابیں اور صحافتی روایت نئی نسل سے جس تیزی سے دور ہورہی ہیں، اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔
زبان صرف ماضی کی یادگار نہیں ہوتی؛ وہ کسی معاشرے کی تہذیبی یادداشت بھی ہوتی ہے۔
اور اردو صحافت اس یادداشت کا ایک بڑا حصہ ہے۔
اگر ہم نے اس تاریخ کو محفوظ نہ رکھا تو آنے والی نسل شاید یہ جان ہی نہ سکے کہ ایک زمانے میں اخبار نکالنا کس قدر دشوار تھا، ایک مدیر کے لیے سچ لکھنا کس قدر مہنگا پڑسکتا تھا اور ایک صحافی اپنی زبان، اپنے نظریے اور اپنے قلم کے لیے کس حد تک قربانی دے سکتا تھا۔
اسی لیے اچھی تاریخ صرف جواب نہیں دیتی، سوال بھی چھوڑتی ہے۔
آج ہم اپنے قلم کے ساتھ کیا کررہے ہیں؟
کیا خبر اب بھی ہمارے لیے ذمہ داری ہے؟
کیا اخبار اب بھی عوامی یادداشت کا محافظ ہے؟
کیا اردو صحافت اپنی اگلی نسل تیار کررہی ہے؟
اور سب سے بڑھ کر:
کیا ہم ان لوگوں کی وراثت کے ساتھ انصاف کررہے ہیں جنہوں نے اپنے زمانے میں اردو صحافت کے لیے اپنی آسائشیں قربان کردی تھیں؟
ان سوالوں کے مکمل جواب شاید ’’اردو صحافت کا آغاز و ارتقاء‘‘ میں بھی نہ ملیں، لیکن ان کی بازگشت اس کے صفحات میں ضرور سنائی دیتی ہے۔
قلم کی امانت
ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکر نے اردو صحافت کے ماضی کو محض محفوظ نہیں کیا بلکہ اسے ہمارے سامنے دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے پرانے اخبارات کے زرد صفحات کو دیکھا، نایاب کتابوں کی گرد جھاڑی، لائبریریوں کے خاموش گوشوں میں بیٹھ کر گم شدہ حوالوں کو تلاش کیا، مختلف شہروں کے سفر کیے، صحافیوں اور اہلِ علم سے ملاقاتیں کیں، پرانی فائلیں حاصل کیں، یادداشتوں کو سنا اور پھر اس بکھرے ہوئے مواد کو اپنے قلم سے ایک مربوط داستان میں ڈھالنے کی کوشش کی۔
یہ آسان کام نہیں تھا۔
تحقیق میں صرف علم کافی نہیں ہوتا۔ اس کے لیے وقت، صبر، سفر، تجسس، جستجو اور ایک ایسا جنون درکار ہوتا ہے جو محقق کو بار بار اسی سوال کی طرف واپس لے جائے جس کا جواب ابھی مکمل نہیں ہوا۔
ڈاکٹر ذاکر کے اس سفر میں یہ تمام عناصر دکھائی دیتے ہیں۔
میں نے کتاب کو پڑھ کر بند کیا تو ذہن میں ایک خیال مسلسل گردش کرتا رہا:
صحافت کی تاریخ دراصل قلم کی امانت کی تاریخ ہے۔
وہ قلم جو کبھی مولوی محمد باقر کے ہاتھ میں تھا، کبھی مولانا ابوالکلام آزاد کے پاس، کبھی محمد علی جوہر کے ہاتھ میں، کبھی مولانا ظفر علی خاں کے پاس، کبھی حسرت موہانی کے ساتھ اور پھر آزادی کے بعد مختلف شہروں، مختلف اخباروں اور مختلف نسلوں کے صحافیوں تک پہنچتا رہا۔
یہ قلم ہم تک کسی اتفاق سے نہیں پہنچا۔
اس کے پیچھے کئی نسلوں کی محنت ہے۔
کئی صحافیوں کی محرومیاں ہیں۔
کئی مدیران کی بے خوابی ہے۔
کئی اخبارات کی بندش ہے۔
کئی قلم کاروں کی گرفتاریاں ہیں۔
اور سب سے بڑھ کر یہ یقین ہے کہ لفظ کو زندہ رہنا چاہیے۔
آخری بات
’’اردو صحافت کا آغاز و ارتقاء‘‘ اردو صحافت کی تاریخ کا آخری لفظ نہیں، لیکن یہ ایک ایسا اہم پڑاؤ ضرور ہے جہاں رک کر ہم پیچھے مڑ کر اپنی صحافتی وراثت کو دیکھ سکتے ہیں۔
یہ کتاب طالب علم کے لیے حوالہ ہے، محقق کے لیے مواد ہے، صحافی کے لیے اپنی روایت کا آئینہ ہے اور عام قاری کے لیے اس حیرت انگیز سفر کی داستان ہے جس میں خبر نے اخبار کا روپ اختیار کیا، اخبار نے رائے عامہ کو متاثر کیا اور قلم نے اپنے عہد سے مکالمہ کیا۔
اردو صحافت کی یہ داستان ابھی ختم نہیں ہوئی۔
اس کا اگلا باب ہماری نسل لکھ رہی ہے۔
اور شاید آنے والی نسل کبھی ہماری طرف بھی اسی طرح دیکھے گی جیسے آج ہم مولوی محمد باقر، مولانا آزاد، محمد علی جوہر، ظفر علی خاں، حسرت موہانی اور ان بے شمار معروف و گمنام صحافیوں کی طرف دیکھتے ہیں جنہوں نے اپنے قلم سے اپنے عہد کی تاریخ رقم کی۔
ڈاکٹر ذاکر حسین ذاکر نے ماضی کے ان چراغوں کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ ہم ان کی روشنی میں اپنا راستہ کس طرح دیکھتے ہیں۔
کیونکہ اخبار کے صفحات پر چھپنے والی خبر وقت گزرنے کے ساتھ پرانی ہوجاتی ہے، مگر سچ کے لیے اٹھایا گیا قلم کبھی پرانا نہیں ہوتا۔
اور شاید یہی ’’اردو صحافت کا آغاز و ارتقاء‘‘ کا سب سے بڑا پیغام ہے۔
javedjamaluddin@gmail.com