آئی ایم پی سی ایل(IMPCL )کی نجکاری روایتی نظامِ طب کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی: ڈاکٹر ڈی آر سنگھ

آئی ایم پی سی ایل(IMPCL )کی نجکاری روایتی نظامِ طب کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی: ڈاکٹر ڈی آر سنگھ

آئی ایم پی سی ایل(IMPCL )کی نجکاری روایتی نظامِ طب کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی: ڈاکٹر ڈی آر سنگھ
حکومت فیصلہ واپس لے اور قومی دواساز ادارے کو مزید مضبوط بنائے، آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کا مطالبہ

نئی دہلی، 19 جون: آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے قومی آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر ڈی آر سنگھ نے مرکزی حکومت کی دواساز کمپنی ’’انڈین میڈیسنز فارماسیوٹیکل کارپوریشن لمیٹڈ‘‘ (IMPCL) کی نجکاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1978 میں قائم کیا گیا یہ ادارہ آیوروید اور یونانی ادویات کی تیاری، معیاری مرکب ادویات کی فراہمی اور تحقیقی سرگرمیوں کے حوالے سے ملک کا ایک اہم اور قابلِ اعتماد ادارہ رہا ہے۔

ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ آل انڈیا یونانی طبی کانگریس طویل عرصے سے IMPCL کو مزید فعال بنانے، اس کی پیداواری صلاحیت بڑھانے اور آیوروید و یونانی شعبوں میں درکار عملے کی تقرری کا مطالبہ کرتی رہی ہے، لیکن افسوس کہ ان مطالبات پر غور کرنے کے بجائے ادارے کی نجکاری کا فیصلہ کر لیا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب IMPCL ایک نفع بخش اور قومی اہمیت کا حامل ادارہ ہے تو پھر اس کی نجکاری کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

انہوں نے کہا کہ حکومت ہند نے روایتی ہندوستانی نظامِ علاج کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے وزارت آیوش قائم کی ہے، لیکن اسی شعبے کے اہم اداروں کو کمزور کرنا یا محدود کرنا پالیسی کے بنیادی مقاصد سے متصادم نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر ڈی آر سنگھ نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس فیصلے پر ازسرِ نو غور کرے اور IMPCL جیسے اہم قومی دواساز ادارے کو فروخت کرنے کے بجائے اس کی ترقی اور استحکام کے لیے عملی اقدامات کرے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت وزارت آیوش کے قیام کے مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے روایتی نظامِ طب کے فروغ اور عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے IMPCL کو مزید مضبوط بنانے کی سمت میں مثبت قدم اٹھائے گی۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے