مدھیہ پردیش وقف بورڈ میں غیر مسلم ارکان کی شمولیت کے بعد اب اترپردیش میں بھی اسی نوعیت کی تبدیلی کی تیاری کی خبروں نے پورے ملک کے مسلمانوں میں تشویش کی ایک نئی لہر پیدا کر دی ہے۔ اترپردیش کے وزیر مملکت برائے اقلیتی بہبود و وقف دانش آزاد انصاری کے اس بیان نے کہ وقف ترمیمی قانون کے مطابق ریاستی وقف بورڈ کی تشکیل نو کی جائے گی اور اس میں دو غیر مسلم ارکان بھی شامل ہوں گے اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے کہ آخر اس قانون کے دور رس نتائج کیا ہوں گے؟ اس کے پس پردہ حکومت کی سوچ کیا ہے؟ اور مستقبل میں اس کے کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں؟ یہ معاملہ محض دو غیر مسلم افراد کی تقرری کا نہیں بلکہ اس پورے نظام سے متعلق ہے جس کے ذریعے صدیوں سے مسلمانوں کی دینی، فلاحی اور رفاہی جائیدادوں کا انتظام کیا جاتا رہا ہے۔ وقف اسلامی تہذیب کا ایک نہایت اہم ادارہ ہے۔ اسلام میں وقف کا تصور یہ ہے کہ کوئی مسلمان اپنی جائیداد کو الله تعالیٰ کی رضا کے لیے ہمیشہ کے لیے عوامی، دینی یا رفاہی مقاصد کے لیے مخصوص کر دیتا ہے۔ ایسی جائیداد نہ فروخت کی جا سکتی ہے، نہ وراثت میں تقسیم ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی اصل حیثیت تبدیل کی جا سکتی ہے۔ برصغیر میں ہزاروں مساجد، مدارس، خانقاہیں، یتیم خانے، قبرستان، عیدگاہیں، مسافر خانے اور دیگر رفاہی ادارے انہی وقف املاک کی بدولت قائم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وقف کا مسئلہ مسلمانوں کے نزدیک محض انتظامی نہیں بلکہ مذہبی اور شرعی حیثیت بھی رکھتا ہے۔
حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ وقف ترمیمی قانون کا مقصد وقف املاک میں شفافیت پیدا کرنا، بدعنوانی ختم کرنا، قبضہ مافیا سے جائیدادوں کو بچانا اور بہتر انتظام کو یقینی بنانا ہے۔ حکومت یہ بھی کہتی ہے کہ خواتین، پسماندہ مسلمانوں اور دیگر محروم طبقات کو نمائندگی دے کر وقف بورڈ کو زیادہ جامع اور جواب دہ بنایا جا رہا ہے۔ اسی سلسلے میں قانون کے مطابق غیر مسلم ارکان کی شمولیت کو بھی ایک انتظامی قدم قرار دیا جا رہا ہے، نہ کہ مذہبی مداخلت۔ حکومت کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ چونکہ وقف بورڈ ایک قانونی ادارہ بھی ہے اس لیے اس میں مختلف پس منظر رکھنے والے افراد کی موجودگی سے نگرانی کا نظام مضبوط ہوگا۔ دوسری جانب مسلم تنظیموں، علماء، دینی اداروں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ سمیت کئی حلقوں نے اس تبدیلی پر شدید اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وقف کا پورا تصور اسلامی شریعت سے وابستہ ہے اس لیے اس کے انتظام و انصرام میں غیر مسلم افراد کو شامل کرنا اس کی روح کے خلاف ہے۔ اگر کسی مندر، گردوارے یا چرچ کے مذہبی معاملات میں متعلقہ مذہب سے باہر کے افراد کو شامل نہیں کیا جاتا تو پھر وقف جیسے مذہبی ادارے میں ایسا کیوں کیا جا رہا ہے؟ یہی سوال اس وقت ملک بھر میں سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔ مدھیہ پردیش میں جو تبدیلی ہوئی اسے بہت سے لوگ ایک آزمائشی مرحلہ قرار دے رہے ہیں۔ اب جب اتر پردیش جیسے ملک کی سب سے بڑی مسلم آبادی والی ریاست میں بھی یہی ماڈل نافذ کرنے کی بات سامنے آ رہی ہے تو فطری طور پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔ اتر پردیش میں وقف کی ہزاروں ایکڑ اراضی، تاریخی مساجد، مزارات، مدارس اور دیگر ادارے موجود ہیں۔ ان کی مالی، انتظامی اور سماجی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔ اس لیے یہاں ہونے والی ہر تبدیلی پورے ملک کے مسلمانوں کے لیے ایک مثال بن سکتی ہے۔ مسلم حلقوں کا سب سے بڑا اندیشہ یہ ہے کہ اگر وقف بورڈ کی ساخت بتدریج تبدیل ہوتی رہی تو مستقبل میں اس کے فیصلوں کی نوعیت بھی تبدیل ہو سکتی ہے اگرچہ حکومت کہہ رہی ہے کہ صرف دو غیر مسلم ارکان شامل ہوں گے لیکن ناقدین کا کہنا ہے کہ قانون سازی اکثر مرحلہ وار آگے بڑھتی ہے۔ آج دو ارکان کی شمولیت ہے کل اختیارات کی نئی تقسیم بھی ہو سکتی ہے اور پھر وقف املاک کے استعمال سے متعلق ایسے فیصلے بھی سامنے آ سکتے ہیں جنہیں مسلمان اپنے مذہبی مفادات کے خلاف سمجھیں۔ ایک اہم خدشہ وقف املاک کے تحفظ سے متعلق بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک بھر میں ہزاروں وقف جائیدادیں پہلے ہی ناجائز قبضوں، سرکاری تنازعات اور عدالتی مقدمات میں پھنسی ہوئی ہیں۔ ایسے حالات میں اگر وقف بورڈ کی خودمختاری مزید کمزور ہوئی تو ان املاک کے تحفظ کا عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت اگر واقعی وقف املاک کو محفوظ بنانا چاہتی ہے تو پہلے ناجائز قابضین کے خلاف مؤثر کارروائی کرے، ریکارڈ کو ڈیجیٹل بنائے، کرپشن ختم کرے اور مقدمات کو جلد نمٹانے کا نظام قائم کرے۔
کیا حکومت وقف جائیدادوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے؟ اس سوال کا جواب جذبات کے بجائے حقائق کی بنیاد پر تلاش کرنا ضروری ہے۔ اس وقت ایسا کوئی قطعی ثبوت موجود نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ حکومت کا مقصد تمام وقف جائیدادوں پر قبضہ کرنا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب کسی مذہبی ادارے کی ساخت، اختیارات اور فیصلہ سازی کے طریقۂ کار میں بنیادی تبدیلیاں کی جاتی ہیں تو متعلقہ برادری میں خدشات پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔ اسی لیے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں کے تحفظات کو سنجیدگی سے سنے، شفاف انداز میں قانون کی تشریح کرے اور ایسا ماحول پیدا کرے جس سے کسی قسم کے شکوک و شبہات باقی نہ رہیں۔ وقف بورڈوں کے اندر گزشتہ کئی دہائیوں میں انتظامی کمزوریاں، مالی بے ضابطگیاں، قبضوں کے معاملات اور بدعنوانی کی شکایات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ اگر مسلمان یہ چاہتے ہیں کہ وقف ادارے مکمل خودمختار رہیں تو انہیں اپنے اداروں کو بھی ہر قسم کی بدعنوانی سے پاک بنانا ہوگا۔ جہاں کرپشن ہوگی وہاں اصلاحات کے نام پر حکومتی مداخلت کے امکانات ہمیشہ موجود رہیں گے۔ اس لیے خود احتسابی بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مستقبل میں اس قانون کے کیا نتائج برآمد ہوں گے؟ اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ اس پر عمل درآمد کس انداز سے کیا جاتا ہے۔ اگر غیر مسلم ارکان صرف انتظامی نگرانی تک محدود رہتے ہیں اور مذہبی معاملات میں کوئی مداخلت نہیں ہوتی تو ممکن ہے عملی صورت حال ویسی نہ ہو جیسی خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ لیکن اگر فیصلہ سازی میں ایسے اقدامات سامنے آتے ہیں جن سے وقف کی مذہبی حیثیت متاثر ہوتی ہے تو یقیناً قانونی اور آئینی تنازعات مزید بڑھ سکتے ہیں۔ مسلمانوں کو اس مرحلے پر جذباتی نعروں کے بجائے آئینی، قانونی اور جمہوری راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ اگر کسی قانون سے اختلاف ہے تو عدالتوں میں مضبوط دلائل کے ساتھ مقدمات پیش کیے جائیں، پارلیمانی سطح پر نمائندوں سے بات کی جائے، قانونی ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں اور عوام میں وقف کی اصل اہمیت سے متعلق شعور پیدا کیا جائے۔ احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ علمی اور قانونی جد وجہد زیادہ دیرپا نتائج پیدا کرتی ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ وقف جائیدادوں کا مکمل ریکارڈ جدید انداز میں محفوظ کیا جائے، ہر مسجد، مدرسہ، قبرستان اور دیگر وقف املاک کی دستاویزات درست کی جائیں، ان کی حد بندی مکمل ہو، ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا جائے اور جہاں کہیں قبضے ہیں وہاں قانونی کارروائی کی جائے۔ اگر خود مسلمان اپنی اوقاف کی حفاظت کے لیے منظم نہیں ہوں گے تو بعد میں صرف حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا مسئلے کا مکمل حل نہیں ہوگا۔ علماء، دانشوروں، وکلاء، سماجی کارکنوں اور نوجوانوں کو بھی مشترکہ طور پر اس معاملے پر سنجیدہ مکالمہ شروع کرنا چاہیے۔ اختلاف رائے اپنی جگہ، لیکن امت کے اجتماعی مفاد کے لیے اتحاد اور حکمت ضروری ہے۔ داخلی اختلافات، گروہی سیاست اور باہمی کشمکش نے پہلے ہی وقف اداروں کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ اگر مسلمان متحد ہو کر شفاف، دیانت دار اور مؤثر وقف نظام قائم کرنے کی کوشش کریں تو ان کے مؤقف کو زیادہ مضبوطی مل سکتی ہے۔ اس پورے معاملے میں میڈیا کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ سنسنی خیزی، افواہوں اور غیر مصدقہ خبروں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ ہر خبر کی تصدیق کے بعد ہی رائے قائم کی جائے۔ اسی طرح حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے نمائندہ اداروں کے ساتھ مسلسل مشاورت کرے، تاکہ ایسا کوئی احساس پیدا نہ ہو کہ فیصلے یک طرفہ طور پر مسلط کیے جا رہے ہیں۔ وقف صرف زمین یا عمارتوں کا نام نہیں بلکہ یہ مسلمانوں کی دینی، تعلیمی، سماجی اور تہذیبی میراث ہے۔ اس کے ذریعے لاکھوں غریبوں، طلبہ، مسافروں اور ضرورت مندوں کی خدمت ہوتی رہی ہے۔ اگر اس ادارے کو سیاسی تنازعات کی نذر کر دیا گیا تو اس کا نقصان صرف مسلمانوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ملک کے فلاحی ڈھانچے پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔
آج مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا امتحان یہ ہے کہ وہ اس مسئلے کو صرف جذبات کے بجائے علم، قانون، اتحاد اور حکمت کے ساتھ دیکھیں۔ اگر قانون میں واقعی ایسی دفعات موجود ہیں جو مذہبی آزادی یا آئینی حقوق سے متصادم ہیں تو ان کے خلاف عدالتی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھی جائے، لیکن اگر بعض انتظامی اصلاحات واقعی وقف کے بہتر تحفظ میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں تو ان پر بھی کھلے ذہن سے غور کیا جائے۔ اسی توازن میں مستقبل کا راستہ پوشیدہ ہے۔ بھوپال سے شروع ہونے والی یہ تبدیلی اگر اتر پردیش تک پہنچتی ہے تو یقیناً اس کے اثرات پورے ملک میں محسوس کیے جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ حکومت شفافیت، اعتماد اور مشاورت کا راستہ اختیار کرے اور مسلمان بھی اپنے اداروں کی اصلاح، قانونی تیاری، باہمی اتحاد اور وقف املاک کے مؤثر تحفظ پر بھرپور توجہ دیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک طرف مذہبی آزادی کے تحفظ کو یقینی بنا سکتا ہے اور دوسری طرف وقف جیسے عظیم اسلامی ادارے کو آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com