کرناٹک کی سماجی و تعلیمی سروے رپورٹ
سماجی انصاف کے خواب اور سیاسی مصلحتوں کا تصادم
از: عبدالحلیم منصور
جمہوریت کی اصل روح یہ ہے کہ ریاست اپنے فیصلے قیاس آرائیوں، سیاسی دباؤ یا طاقتور طبقات کی خواہشات کے بجائے حقائق، اعداد و شمار اور آئینی اصولوں کی بنیاد پر کرے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید ریاستوں میں مردم شماری، سماجی و معاشی سروے اور تعلیمی جائزے محض اعداد و شمار جمع کرنے کی مشق نہیں ہوتے بلکہ یہی معلومات حکومتوں کی پالیسی سازی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، ریزرویشن، تعلیم، صحت اور فلاحی منصوبوں کی بنیاد بنتی ہیں۔ کرناٹک کی سماجی و تعلیمی سروے رپورٹ بھی اسی مقصد کے تحت تیار کی گئی تھی، لیکن افسوس کہ ایک دہائی گزرنے کے باوجود یہ رپورٹ اپنی افادیت سے زیادہ سیاسی تنازعات کا شکار رہی۔ اب جبکہ ایک مرتبہ پھر اس رپورٹ کو اسمبلی میں پیش کرنے کا مطالبہ زور پکڑ رہا ہے، سب سے اہم سوال یہ نہیں کہ رپورٹ میں کیا لکھا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ریاست کی سیاسی قیادت اس کے نتائج کو قبول کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے؟
2015 میں وزیراعلیٰ سدارامیا کی پہلی حکومت نے کرناٹک اسٹیٹ کمیشن فار بیک ورڈ کلاسز کے ذریعے ایک جامع سماجی و تعلیمی سروے کرایا تھا۔ اس وقت اسے ملک کا سب سے بڑا ریاستی سماجی سروے قرار دیا گیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس ابتدائی سروے پر تقریباً 165 کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ بعد کے برسوں میں رپورٹ پر نظرثانی، نئی معلومات، انتظامی کارروائیوں اور حالیہ سروے کے مراحل پر مزید سرکاری وسائل صرف کیے گئے، جس کے باعث آج سیاسی حلقوں میں مجموعی اخراجات 450 کروڑ روپے سے زیادہ بتائے جا رہے ہیں۔ اگر واقعی عوام کے اتنے بڑے سرمائے سے یہ کام انجام دیا گیا ہے تو پھر عوام کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ آخر دس برس بعد بھی اس کی مکمل رپورٹ اسمبلی اور عوام کے سامنے کیوں نہیں رکھی گئی؟
اس رپورٹ کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ رہی کہ اسے ابتدا ہی سے سماجی انصاف کی دستاویز کے بجائے سیاسی ہتھیار کے طور پر دیکھا گیا۔ یہ حقیقت بھی فراموش نہیں کی جا سکتی کہ اس رپورٹ کو صرف ایک حکومت نے نہیں روکا بلکہ مختلف ادوار میں مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے انداز میں اس کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے تو اس سروے کے طریقۂ کار، اس کے ممکنہ نتائج اور سماجی اثرات پر شدید اعتراضات اٹھائے۔ بعض رہنماؤں نے یہاں تک کہا کہ اس طرح کے سروے سے ہندو سماج میں تقسیم پیدا ہوگی اور اسے نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ آج وہی بی جے پی اسمبلی میں رپورٹ پیش کرنے اور اس پر خصوصی بحث کرانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔جمہوری اعتبار سے اس مطالبے کی مخالفت نہیں کی جا سکتی، مگر یہ سیاسی تضاد ضرور قابلِ غور ہے کہ جس رپورٹ کو کل مسترد کیا جا رہا تھا، آج اسی کو شفافیت کا پیمانہ قرار دیا جا رہا ہے۔
کانگریس بھی اس معاملے میں مکمل طور پر بری الذمہ نہیں۔ اگرچہ سماجی و تعلیمی سروے اسی جماعت کی حکومت نے شروع کیا، مگر دس برس گزرنے کے باوجود وہ اسے مکمل اعتماد کے ساتھ نافذ نہیں کر سکی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ صرف اپوزیشن کی مخالفت نہیں بلکہ خود کانگریس کے اندر پائے جانے والے اختلافات ہیں۔ موجودہ وزیراعلیٰ ڈی۔ کے۔ شیوکمار نے ماضی میں اس رپورٹ پر کھل کر اعتراضات کیے تھے۔ انہوں نے متعدد مواقع پر وکالیگا برادری کے تحفظات کا حوالہ دیا اور واضح طور پر کہا کہ وہ اپنی برادری کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ان بیانات نے یہ تاثر پیدا کیا کہ حکومت کے اندر بھی اس رپورٹ کو لے کر مکمل اتفاقِ رائے موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نئی رپورٹ حکومت کو موصول ہونے کے باوجود اس پر فیصلہ مسلسل مؤخر ہوتا رہا۔
یہاں سب سے بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا رپورٹ واقعی ناقص ہے یا اس کے ممکنہ نتائج بعض سیاسی اور سماجی مفروضوں کو چیلنج کرتے ہیں؟ اگر سروے میں خامیاں تھیں تو دس برس تک ان کی اصلاح کیوں نہیں کی گئی؟ اور اگر نئی رپورٹ تیار ہو چکی ہے تو اسے اسمبلی کے سامنے پیش کرنے میں ہچکچاہٹ کیوں برقرار ہے؟ کسی بھی جمہوری حکومت کے لیے یہ مؤقف قابلِ قبول نہیں ہو سکتا کہ رپورٹ موجود بھی ہو اور عوام اس کے مندرجات سے مسلسل محروم بھی رہیں ۔
سیاسی اور صحافتی حلقوں میں مختلف دعوے گردش کر رہے ہیں کہ رپورٹ کے بعض ممکنہ نتائج ریاست کے روایتی سماجی اور انتخابی توازن کو متاثر کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر آبادی کے تناسب سے متعلق بعض غیر سرکاری دعووں نے اس بحث کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ تاہم چونکہ حکومت نے رپورٹ جاری نہیں کی اور کمیشن نے بھی لیک ہونے والے اعداد و شمار کی تصدیق نہیں کی، اس لیے کسی مخصوص آبادیاتی دعوے کو حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں ہوگا۔ لیکن اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اگر رپورٹ کے نتائج معمولی ہوتے تو شاید اسے دس برس تک دبائے رکھنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ یہی غیر معمولی رازداری خود کئی نئے سوالات کو جنم دے رہی ہے۔
اس سے بھی زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ رپورٹ ابھی منظرِ عام پر آئی بھی نہیں اور اسے متنازع بنانے کی مہم عملاً شروع ہو چکی ہے۔مختلف سماجی گروہوں کے نام پر خدشات پیدا کیے جا رہے ہیں، سیاسی جماعتیں اپنی اپنی برادریوں کو متحرک کر رہی ہیں اور اصل رپورٹ کے بجائے اس سے متعلق قیاس آرائیاں عوامی بحث کا مرکز بن رہی ہیں۔ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو خدشہ ہے کہ یہ رپورٹ بھی سماجی انصاف کی بنیاد بننے کے بجائے انتخابی سیاست کا ایک نیا ہتھیار بن جائے گی۔
یہاں حکومت کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ اگر رپورٹ میں خامیاں ہیں تو انہیں اسمبلی کی کمیٹی، ماہرینِ شماریات، سماجیات کے ماہرین اور متعلقہ طبقات کے نمائندوں کے سامنے رکھا جائے۔ اگر رپورٹ درست ہے تو اسے بلا خوف و تردد عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ کسی بھی رپورٹ کو خفیہ رکھنے سے نہ اختلاف ختم ہوتا ہے، نہ اعتماد پیدا ہوتا ہے، بلکہ افواہیں، بداعتمادی اور سیاسی مفروضے مزید مضبوط ہوتے ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ اس رپورٹ کو کسی ایک جماعت کی فتح یا شکست کا مسئلہ بنایا جائے، بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ اسے آئینِ ہند کی روح، سماجی انصاف کے تقاضوں اور ریاست کے طویل المدتی مفاد کے تناظر میں دیکھا جائے۔ اگر حکومت اس رپورٹ کو طاقتور سماجی یا سیاسی دباؤ کی وجہ سے مؤخر کرتی رہی تو یہ صرف ایک رپورٹ کی تاخیر نہیں ہوگی بلکہ آئینی شفافیت، ادارہ جاتی دیانت اور سماجی انصاف کے تصور پر بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہوگا۔
کرناٹک کی سماجی و تعلیمی سروے رپورٹ اب محض ایک انتظامی دستاویز نہیں رہی، بلکہ یہ ریاست کی سیاسی بصیرت، حکومتی شفافیت اور سماجی انصاف کے دعووں کا امتحان بن چکی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ اس دستاویز کو عوامی مفاد کا ذریعہ بناتے ہیں یا اسے برادریوں کے درمیان سیاسی کشمکش کا مستقل عنوان۔ تاریخ گواہ ہے کہ حقائق کو زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا، اور جو ریاستیں سچ کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتی ہیں، وہی انصاف پر مبنی مضبوط معاشروں کی بنیاد رکھتی ہیں۔
haleemmansoor@gmail.com