المعہد العالی الاسلامی، حیدرآباد میں "قانونی مطالعات وصحافت” کے عنوان سے دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد

حیدرآباد، 13 جولائی: المعہد العالی الاسلامی، حیدرآباد کے زیر اہتمام "قانونی مطالعات و صحافت شناسی” کے عنوان سے دو روزہ ورکشاپ 26-27 محرم الحرام 1448ھ مطابق 12-13 جولائی 2026ء (اتوار و پیر) کو منعقد ہوئی، ورکشاپ کی صدارت حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی دامت برکاتہم، صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، جنرل سیکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) وناظم المعہد العالی الاسلامی نے فرمائی، اس کا مقصد مدارس کے طلبہ کو قانون، صحافت، میڈیا اور ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ سے متعلق بنیادی اور عملی آگہی فراہم کرنا تھا۔
ورکشاپ کی پہلی نشست 12 جولائی کو 12 بجے دن منعقد ہوئی، تلاوتِ قرآن کریم مولوی محمد حماد (انگریزی سال دوم) نے کی، جبکہ نعتِ رسول ﷺ نے مولوی محمد سعد (فقہ سال دوم) نے پیش کی، نظامت کے فرائض ڈاکٹر مفتی محمد اعظم ندوی نے انجام دئیے، اس نشست میں مولانا مفتی منور سلطان ندوی، استاذ دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنو نے "ذرائع ابلاغ: مفہوم، تاریخی مراحل، اقسام اور کردار” اور "ذرائع ابلاغ کی شرعی حیثیت” کے موضوعات پر گفتگو کی، انہوں نے میڈیا کے تاریخی ارتقا، اس کے مثبت ومنفی استعمال، دعوتِ دین اور خدمت انسانیت میں اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی، اور میڈیا کے استعمال کو فرض کفایہ قرار دیا۔
دوسری نشست اسی روز بعد نمازِ مغرب منعقد ہوئی، تلاوت مولوی محمد حمید احمد سید (فقہ سال اول) نے کی، افتتاحی کلمات مولانا احسان الحق مظاہری، استاذ المعہد العالی الاسلامی، نے پیش کیے، نظامت کے فرائض مولانا محمد ارشد قاسمی نے انجام دئیے، اس کے بعد پروفیسر نسیم احمد جعفری، صدر شعبۂ قانون، انٹیگرل یونیورسٹی، لکھنو نے "دستورِ ہند اور قانونی نظام” کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے آئینِ ہند کی بنیادی دفعات، شہری حقوق اور قانونی اداروں کے کردار کا تعارف کرایا۔

تیسری نشست پیر 13 جولائی کو صبح 9 بجے منعقد ہوئی، تلاوت مولوی محمد حسین (تفسیر سال اول) نے کی ، جس میں پروفیسر نسیم احمد جعفری نے "شخصی قوانین اور نظامِ عدل” کے عنوان پر اظہارِ خیال کیا، انہوں نے بھارت میں شخصی قوانین کی آئینی بنیاد، مختلف مذہبی طبقات کے قانونی حقوق، عدالتی نظام اور موجودہ قانونی مباحث کا جائزہ پیش کیا۔
چوتھی نشست پیر کو صبح 11 بجے منعقد ہوئی، اس نشست میں پروفیسر نسیم احمد جعفری نے "فوجداری قانون، قانونی حقوق اور عصری چیلنجز” کے موضوع پر خطاب کیا، انہوں نے فوجداری قانون کے بنیادی اصول، شہریوں کے قانونی حقوق، گرفتار ہونے کی صورت میں دستیاب قانونی تحفظات، عدالتی طریقۂ کار اور موجودہ سماجی و قانونی چیلنجز پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قانونی آگہی ہر شہری، بالخصوص طلبہ اور دینی اداروں سے وابستہ افراد کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ اپنے حقوق، ذمہ داریوں اور جدید فوجداری قوانین سے بخوبی واقف رہیں۔
ورکشاپ کی پانچویں اور اختتامی نشست پیر کو بعد نمازِ مغرب منعقد ہوئی، تلاوت مولوی محمد حماد (انگریزی سال دوم) نے کی ، جس میں مفتی منور سلطان ندوی نے دو اہم موضوعات پر خطاب کیا، پہلا موضوع "ہندوستانی مسلمانوں کے لیے میڈیا کے پانچ ترجیحی شعبے” تھا، جس میں انہوں نے موجودہ حالات میں میڈیا کی مختلف جہات، ترجیحات اور مؤثر موجودگی کی ضرورت پر گفتگو کی، دوسرا موضوع "دینی، دعوتی اور تعلیمی مقاصد کے لیے ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کیسے کریں؟” تھا، اس میں انہوں نے سوشل میڈیا، یوٹیوب، ویب سائٹس، پوڈکاسٹ اور دیگر ڈیجیٹل ذرائع کو دعوت، تعلیم اور علمی خدمات کے لیے منظم اور ذمہ دارانہ انداز میں استعمال کرنے کے عملی اصول بیان کیے، نیز مواد کی تیاری، ابلاغ کے اسلوب اور ڈیجیٹل اخلاقیات پر بھی روشنی ڈالی۔

