ارشادِ ربانی ہے:’’ان لوگوں کو (جہاد کی) اجازت دے دی گئی ہے جن سے (ناحق) جنگ کی جارہی ہے اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور بیشک اﷲ ان (مظلوموں) کی مدد پر بڑا قادر ہے‘‘۔ حضرت ابوبکر ؓ نےہجرت کے وقت فرمایا اپنے نبی کو نکالنے والے ہلاک ہوں تو یہ آیت نازل ہوئی یعنی اب جنگ اجازت مل گئی تاکہ اہل ایمان تعالیٰ مدد و نصرت سے فتح یاب ہوں گے ۔ قرآن حکیم میں قتال کی بابت فرمایا گیا:’’ان سے لڑو اللہ انہیں تمہارے ہاتھوں سزا دے گا اور رسوا کرے اور ان پر تمہیں غالب کرے گا اور مومنوں کے حوصلے نکالنے کا موقع دے گا کہ ان کے کلیجے ٹھنڈے ہوجائیں ساتھ ہی جسے چاہے گا توفیق توبہ دے گا اللہ علم وحکمت والا ہے‘‘ ۔ یہاں جنھیں اجازت دی گئی کہ :’’ (یہ) وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے صرف اس بنا پر ناحق نکالے گئے کہ وہ کہتے تھے کہ ہمارا رب اﷲ ہے (یعنی انہوں نے باطل کی فرمانروائی تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا)‘‘۔ آگے طاغوتی چنگل سے عالم انسانیت کے نجات کی یہ حکمت بتائی گئی کہ :’’ اگر اﷲ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ (جہاد و انقلابی جد و جہد کی صورت میں) ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں (یعنی تمام ادیان کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہیں) مسمار اور ویران کر دی جاتیں جن میں کثرت سے اﷲ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے‘‘۔
وطن عزیز میں آج کل عبادتگاہوں پر حکومت کا عتاب زور وں پر ہے ۔ سنبھل میں ایک مسجد کوقبرستان کی زمین پر تعمیرہونے کا الزام لگا کر شہید کردیا گیا ۔ مسلمانوں نے اپنے قبرستان کی فاضل زمین پر اگر مسجد تعمیر کرلی تو یہ کون سا جرم ہے ؟ جئے پور میں سڑک چوڑی کرنے کے لیے مسجد شہید ہوگئی ۔ بنارس میں پانچ سو سال پرانی مسجد کو ریلوے کی زمین پر دراندازی قراردیا گیا جبکہ اس وقت ریل گاڑی موجود ہی نہیں تھی ۔ اس مسجد کے احاطے میں ایک مندر بھی توڑ دیا گیا ۔ اس مسجد سے متصل گاندھی آشرم کو دو سال قبل مسمار کردیا گیا تھا ۔ بنارس میں کاریڈور بنانے کے لیے بے شمار چھوٹے موٹے مندر توڑے گئے۔ ابھی حال میں مغل سرائے کے اندر ایک مندر توڑا گیا ۔ یہاں فرق یہ ہے کہ مندر توڑنے کی خبر دبا دی جاتی ہے تاکہ ہندو ووٹرس ناراض نہ ہو اور مساجد پر بلڈوزر کی ویڈیوخوب چلائی جاتی ہے تاکہ وہ خوش ہوکر ووٹ دیں ۔ ملک کے طول و ارض میں یہ لینڈ دھرم یدھ چل رہا ہے۔ایسے میں اہل ایمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس ظلم کاارتکاب کرنے والے حکمرانوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں ۔
قرآن کریم میں اس دینی تقاضے کی تکمیل کو دین کی مدد قرار دے کر فرمایا :’’ اور جوشخص اﷲ (کے دین) کی مدد کرتا ہے یقیناً اﷲ اس کی مدد فرماتا ہے۔ بیشک اﷲ (بڑی) قوت والا (سب پر) غالب ہے (گویا حق اور باطل کے تضاد و تصادم کے انقلابی عمل سے ہی حق کی بقا ممکن ہے)‘‘۔ اس دوران لندن سے قریب 120 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع پیٹربورو شہر کی سرکاری کونسل نے اپنی ملکیت والی زمین کو فنڈ کی کمی کےسبب نیلام کر دیا ۔اس پر تقریباً 40 برس سے ایک ہندو مندر اور کمیونٹی سینٹر موجود تھا ۔ اس زمین کو چونکہ ’یوکے اسلامک مشن‘ نے زیادہ بولی لگا کر خرید لیا اس لیے وہاں ہندو اور مسلم سماج کے درمیان تنازعہ ملک کی سب سے بڑی عدالت میں پہنچ گیا ہے۔برطانیہ کے بڑے بڑے سرمایہ دار چونکہ ہندو ہیں اس لیے زمین کو زیادہ قیمت پر خرید سکتے تھے ۔ اس کے باوجود اپنی عبادتگاہ سے ہندو طبقہ کا لگاو فطری ہے لیکن ان کو دیگر طبقات کےاپنی عبادتگاہ سےقلبی لگاو کا لحاظ کرنا چاہیے۔
وطن عزیز کے اندر مسلمانوں کے معاملے صرف قانونی اور ضابطے کی آڑ میں پاکستانی سرحد پر تین سو مساجد کو نوٹس پر جو لوگ خاموش رہتے ہیں انہیں برطانیہ کے مندر پر ٹسوے بہانے کا حق نہیں ہے؟ راجستھان کے جیسلمیر میں مساجد کے تحفظ کی خاطر میدان میں آنے والے ہندووں کا معاملہ استثنائی اور قابلِ مبارکباد ہے۔ لندن کی عدالت اس بابت کیا فیصلہ کرے گی یہ تو کوئی نہیں جانتا مگر مدھیہ پردیش کے ضلع دھار میں واقع کمال مولیٰ مسجد کی بابت وہاں کے ہائی کورٹ نے پچھلے دنوں نہایت مایوس کن فیصلہ سنایا ۔ محکمۂ آثار قدیمہ کے فیصلے کو پس پشت ڈال کر اس نے پوری زمین بھوج شالہ مندر کو دے دی ۔ اس کے خلاف مسلمانوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو چیف جسٹس سوریہ کانت نے بھوج شالہ احاطے سے متصل ایک کھلی جگہ مسلم فریق کو جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے فراہم کرنے کا عبوری حکم دے دیا ۔ ملک میں یہ قانون موجود ہے کہ جو عبادتگاہ آزادی کے وقت جس کی تھی اسی کی رہے گی اس کے باوجود مسلمانوں کو مسجد سے باہر بھیج کر یہ احسان جتایا گیا کہ: ’’ اس انتظام کا مقصد مقدمے کے آخری فیصلے تک امن اور ہم آہنگی برقرار رکھنا ہے‘‘۔
عدالتِ عظمیٰ نےمدھیہ پردیش حکومت کویہ ہدایت اس لیے دی گئی تاکہ کسی بھی فریق کو تکلیف نہ ہو اور مسلم فریق پہلے کی طرح نماز بھی ادا کر سکے لیکن مسلمان پہلے کمال مولیٰ مسجد کے باہر نہیں بلکہ اندر نماز پڑھتے تھے ۔ لندن کا مندر تو 40 سال پرانا تھا جبکہ یہ مسجد 820 سال پرانی ہے۔ ایسی صورتحال میں اہل ایمان کی ذمہ داری مستقل مزاجی کے ساتھ اس قرآنی بشارت کے پیش نظر اپنے حقوق کے جدوجہد جاری رکھنا ہےکہ :’’ ہم نے تو پہلے سے ہی اپنے رسولوں سے وعدہ کرلیا ہے کہ ان کی یقینی طور پر مدد کی جائے گی اور یہ کہ ہمارا لشکر ہی غالب آئے گا ‘‘۔ ایودھیا میں جاری مہابھارت اشارہ کررہی ہے کہ یہ کاغذ کی کشتی بہت دور نہیں جائے گی بلکہ خود گیلی ہوکر ڈوب جائے گی۔ اس کے بعد اللہ کا اگلی آیت والا یہ وعدہ پورا ہوگا ’’ (یہ اہلِ حق) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دے دیں (تو) وہ نماز (کا نظام) قائم کریں اور زکوٰۃ کی ادائیگی (کا انتظام) کریں اور (پورے معاشرے میں نیکی اور) بھلائی کا حکم کریں اور (لوگوں کو) برائی سے روک دیں، اور سب کاموں کا انجام اﷲ ہی کے اختیار میں ہے ‘‘۔