اللہ تعالیٰ نے ہر زمانے اور ہر علاقے میں انسانوں کی ہدایت،رہنمائی اور رہبری کے لئے اپنے منتخب ،خاص اور برگزیدہ بندے بھیجتے رہے جنہیں نبی اور رسول کہا جاتا ہے ، دنیا میں بہت نبی اور رسول آتے رہے اور انسانوں کو پیام انسانیت سناتے رہے ، انہیں توحید کا درس دیتے رہے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت واطاعت کا سبق پڑھاتے رہے، نبوت ورسالت کا مبارک سلسلہ سیدنا آدم ؑ سے شروع ہوکر سیدنا عیسیٰ ابن مریم ؑ پر آکر رکتا ہے ،سیدنا عیسیٰؑ کی بعثت کے بعد تقریبا چھ سو سال تک نبی ورسول کی آمد کا سلسلہ موقوف رہتاہے ،اس درمیانی عرصے کو زمانہ فترت کہا جاتا ہے،پھر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ان کا بھولا ہوا سبق پڑھانے ،انہیں رشد وہدایت کا راستہ دکھانے اور سسکتی بلکتی اور دم توڑتی انسانیت میں ایک نئی روح پھونکنے کے لئے ایک ایسی عظیم ہستی کو نبوت ورسالت کے لئے منتخب فرمایا جسے تمام مخلوقات میں سب سے افضل ترین مقام حاصل ہے ، مورخین کے مطابق اس عظیم ہستی کی ولادت پانچ سو اکہتر عیسوی میں سرزمین کے عرب کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ کے عظیم ترین گھرانے میں ہوئی ،جس کا نام نامی اسم گرامی محمد اور احمد ہے ،اللہ تعالیٰ نے اس عظیم ہستی پر نبوت ورسالت کے مقدس ترین سلسلہ کو بند کردیا اور اس ہستی کو تاج ختم نبوت سے سرفراز فرماکر قیامت کے لئے ختم نبوت کا اعلان کردیا کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی ورسول مبعوث نہیں ہوگا ،ختم نبوت ورسالت کے واضح اعلان کے باوجود اگر کوئی دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا اور کذاب کہلائے گا،قرآن مجید میں صراحت کے ساتھ محمد ؐ کے خاتم النبین ہونے کا اعلان کردیا گیا ہے ،یہی وجہ ہے کہ توحید ورسالت کے ساتھ ختم نبوت کا عقیدہ جزو ایمان ہے اس کے بغیر ایمان معتبر نہیں ہوگا ،ختم نبوت کا انکار کفر ہے ۔
تاریخ انسانی شاہد ہے کہ رسول اللہؐ کی بعثت اور تشریف آوری سے قبل پوری دنیا کفر وشرک میں مبتلا ہو چکی تھی ،انسانوں سے انسانیت رخصت ہو چکی ،ہر سمت کفر وشرک کی تاریکی ہی تاریکی تھی،لوگوں نے اپنے لئے طرح طرح کے معبود بنالئے تھے ،انسان بھلے برے کی تمیز کھو چکاتھا،کسی نے چاند وسورج کو اپنا معبود بنالیا تھا تو کوئی شجر وحجر کی پرستش میں مشغول تھا، دنیا چاروں طرف سے ظلم وجور کی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی بلکہ دنیا ظلمت کدہ میں تبدل ہو چکی تھی ، انسانیت کی جگہ درندگی وحیوانیت لے لی تھی بلکہ ہر طرف درندوں کا راج تھا ، طاقتور کمزو ر پر ظلم کرتا تھا ،انسانوں کو خریدا اور فروخت کیا جانے لگا تھا ،شرم وحیا دم توڑ چکی تھی ، بیٹیوں کی عزت وعصمت تار تار ہونے لگی تھی،چاروں طرف قتل وغارت گری کا بازار گرم تھا،جنگ وجدال روز کا معمول بن چکا تھا ، صنف نازک کے ساتھ حیوانوں سے بھی بدتر ظلم کیا جاتا تھا ،ان معصوموں کی پیدائش کو منحوس اور عار سمجھاجاتا تھا اسی وجہ سے انہیں پیدا ہوتے ہی زندہ زمین میں دفن کردیا جاتا تھا ، چہار سو ابلیسی اور طاغوطی لشکر دندناتے پھر رہے تھے ، انسان انسانیت کی سطح سے نیچے گر چکا تھا ،انسانیت نوحہ کناں اور ماتم زدہ تھی ، تاریخ لکھنے والوں نے اس زمانہ کو بدترین زمانہ قرار دیا ہے ،یہی وجہ ہے کہ تاریخ نگاروں نے اس زمانہ کو دور جاہلیت کا نام دیا ہے اور جہالت بھی اس قدر خطرناک کے جس سے جہالت بھی شرماجائے اور پناہ مانگیں ۔
ایسے نازک ترین حالات میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر مہربانی فرمائی اور اپنے حبیب ومحبوب اور آخری پیغمبر کو مبعوث فرماکر پوری انسانیت پر احسان عظیم فرمایا ، چنانچہ رسول اللہؐ خاتم النبین ،امام المرسلین ،رحمۃ للعالمین اور محسن انسانیت بن کر تشریف لائے ،آپ ؐ کی تشریف آوری سے توحید کا ڈنکا بجا،انسانوں کو اپنے معبود کا پتا ملا ،دستور حیات ملا،مظلوموں کو حمایتی ملا ،غم زدوں کو غمخوار ملا ، عدل وانصاف سے ظلم وجور اور تاریکی کے بادل چھٹ گئے ،ناانصافی کا خاتمہ ہوا ،انسانوں کو ان کا مقام حاصل ہوا،عورتوں کو عزت وعظمت ملی ،مظلوموں کے ساتھ انصاف ہوا، ظالموں کو سزائیں ملی ، پوری دنیا کو امن وچین عطا ہوا اور انسانیت کو عزت و شرافت حاصل ہوئی، کفر وشرک کا تلسمی ٹوٹ گیا اور دم توڑ تی ہوئی انسانیت کو حیا نو حاصل ہوئی ،محسن انسانیتؐ نے دنیا کو الٰہی احکام و فرمان سے روشناس کرایا اور اپنی بے مثال وبے نظیر تعلیمات سے لوگوں کو جینے کی راہ دکھائی ،دنیا کو امن و امان ،اطمینان و سکون کا پیغام دیا،دنیا کی تخلیق اور اس میں انسانوں کے بسائے جانے کے مقصد کو واضح کیا ، محسن انسانیت ؐ اپنی انسانیت نواز اور رحمت بھری تعلیمات سے انسانوں کو مکمل رہبری ورہنمائی فرمائی ، عبادات ہو یا معاملات ،اجتماعی ہو یاانفرادی،عایلی ہو یا معاشرتی ،جلوت ہویا خلوت، شہری ہو یا ملکی ،عالمی ہویا آفاقی غرض یہ کہ انسانی زندگی کے کسی گوشہ کو تشنہ نہیں چھوڑا ،نبی ٔ رحمت ؐ نے بتایا کہ آدم ؑ پہلے انسان ہیں اور سارے انسان انہی کی اولاد ہیں ،کسی گورے کو کالے پر ،مالدار کو غریب پر ،عربی کو عجمی پر ، آقا کو غلام پر اور بادشاہ کو عامی پر ہرگز فوقیت حاصل نہیں مگر نگاہ خداوندی میں و ہی شخص محترم ومکرم ہے جو اس سے ڈرتا ہے اور اس کی مرضی پر چلتا ہے،انسانیت کا احترم بہت بڑی چیز ہے ،ظلم زیادتی کرنے والے ،زمین میں فساد برپا کرنے والے اللہ کی نظر میں مبغوض ہیں ،ماں باپ کی خدمت بڑی عبادت ہے ،رشتہ دار وں کے ساتھ صلہ رحمی باعث اجر ہے ،اہل تعلق اور پڑوس سے اچھا برتاؤ ایمان کا حصہ ہے ،غریب ومسکین ،بیوہ ویتیم کی مدد ونصرت بہت بڑی خدمت ہے ، نبی ٔ رحمت ؐ نہ صرف انسانوں کے ساتھ تعلق ،ہمدردی اور مددونصرت کی تعلیم دی بلکہ حیوانات کو تکلیف دینے اور نباتات کو بے ضرورت کاٹنے اور ضائع کرنے سے منع فرمایا ۔
محسن انسانیت ؐنے عام انسانوں کے علاوہ ،ملکی ،شہری اور پڑوسی سے لے کر جملہ رشتہ داروں تک کے حقوق بتائے ہیں، محسن انسانیتؐ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے خطبہ میں انسانی حقوق اور احترام انسانیت کی طرف جس انداز میںتوجہ دلائی وہ تمام انسانوں کیلئے آب حیات کی حیثیت رکھتا ہے ،ارشاد فرمایا :’’ اے لوگو! تم سب کا پروردگار ایک ہے اور تم سب کا باپ بھی ایک ہی ہے ،خبر دار ! کسی عربی کو عجمی پر برتری حاصل نہیں اور نہ کسی عجمی کو عربی پر فضیلت حاصل ہے اور نہ کالے رنگ والے کو گورے رنگ والے پر اور نہ سرخ رنگ والے کو کسی کالے رنگ والے پر فوقیت حاصل ہے ،سوائے تقویٰ اور پرہیزگاری کے‘‘ ( مسند احمد:۲۴۲۰۴) ،ماں باپ کے حسن سلوک کے متعلق آپ ؐ نے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر دارز کرے اور رزق میں اضافہ فرمائے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے والدین سے حسن سلوک کرے ( شعب الایمان: ۷۸۳۰) رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت کی جائے اور اس کے عمر میں اضافہ کیا جائے تو اسے چاہیے کہ رشتہ داروں کو جوڑے رکھے (ابوداؤد:۱۶۹۴ ) یتیموں کے متعلق آپ ؐ نے ارشاد فرمایا: میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں دونوں اس طرح ساتھ ہوں گے جیسے شہادت اور بیچ کی انگلی(بخاری:۶۰۰۵)بیوہ اور مسکین کی مددونصرت کرنے کی فضیلت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا: بیوہ اور مسکین کی مدد کرنے والا اللہ کے راستہ میں جہاد کرنے والے اور رات میں مسلسل نماز پڑھنے والے اور دن میں مسلسل روزے رکھنے والے کی طرح ہے (مسلم:۲۹۸۲) ،پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ تعالیٰ کی ذات اور یوم آخرت پر یقین رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے( مسلم:۱۸۴) ،چھوٹوں کے ساتھ شفقت اور بڑوں کے ساتھ احترام واکرام کرنے کی تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے اور ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے(ترمذی:۱۹۱۹) ، محسن انسانیت ؐ نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ صنف نازک کو بلند وبالا مقام عطا کیا ،انہیں وہ مرتبہ عطا کیا جن کی وہ مستحق تھیں ، آپؐ نے عورتوں کوجو عزت وعظمت سے نوازا تاریخ انسانی میں اس کی مثال نہیں ۔
محسن انسانیتؐ کی آمد سے پہلے صنف نازک کا بدترین استحصال کیا جاتا تھا ،ان کے حقوق پامال کئے جا چکے تھے، باندی بناکر ان کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا جاتا تھا، اپنی تسکین کی خاطر انہیں شمع محفل بنا یا جاتا تھا ،بعض بد بخت ان کی پیدائش کو منحوس تصور کرکے پیدا ہوتے ہی انہیں زندہ درگور کردیتے تھے،غرض یہ کہ عورتوں کے ساتھ انتہائی ناروا سلوک کیا جاتا تھا ،ایسے ناگفتہ بہ حالات میں آپ ؐ کی آمد و بعثت ہوئی ،آپؐ نے آتے ہی عورتوں کو وہ مقام دلایا جس کا صدیوں سے انہیں انتظار تھا،آپؐ نے اپنی تعلیمات کے ذریعہ فرمایا کہ عورت ہر روپ میں قابل تعظیم اور لائق احترام ہے، اس کی خدمت اور عمدہ برتاؤ باعث اجر وثواب ہے، عورت اگر ماں ہے تو اس کے قدموں میں جنت ہے ،اگر عورت بیوی ہے تو اس پر خرچ بہترین صدقہ ہے، اگر وہ بہن یابیٹی ہے تو ان کی دیکھ بھال ،عمدہ تربیت اور شادی کرکے ان کے گھر بسانا دخول جنت کا ذریعہ ہے ، آپؐ نے جنگ وجدال اور دشمن سے مدبھیڑ کے موقع پر بھی انسانیت کے احترام اور ضعیف وکمزوروں کا بھر پور لحاظ کرنے کا حکم دیا کہ بچے قتل نہ کئے جائیں،کسی عورت پر ہاتھ نہ اُٹھایاجائے،کسی ضعیف کو نہ ماراجائے،کوئی پھل دار درخت نہ کاٹاجائے،کسی باغ کو نہ جلایاجائیوغیرہ۔
ایک مسلمان اور غلام رسول ؐ ہونے کی حیثیت سے ہمارا فریضہ ہے کہ ہم تعلیمات رسول ؐ سے مکمل واقفیت حاصل کریں ، اسے اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور ہر موڑ پر اس کے مطابق عمل کی فکر کریں ، سچا اور پکامسلمان تعلیمات رسول ؐ پر اپنی خواہش کو قربان کردیتا ہے اور اسی میں اپنی کامیابی وکامرانی تصور کرتا ہے ،موجودہ نازک حالات اور فتنہ پروری کے اس دور میں بحیثیت مسلمان ہماری یہ بھی ذمہ داری ہے کہ ہم تعلیمات رسولؐ سے دنیا کو روشناس کرائیں ،اپنی صلاحیت وقابلیت کا استعمال کرتے ہوئے اپنی بساط کے موافق دنیا کے سامنے سیرت رسول اور اس کے نقوش کو اجاگر کرنےکی کوشش کریں ،اپنے قول وعمل ، اخلاق واطوار اور اپنے کردار کے ذریعہ ثابت کریںکہ محسن انسانیت ؐ کی تعلیمات واقعی لاجواب ، انسانیت نواز ،امن وسکون کا ضامن اور قلبی اطمینان کا باعث ہیں ،دور حاضر میں تو تڑپتی ،سسکتی اور امن وامان کی متلاشی انسانیت کو پیام محسن انسانیت کی اشد ضرورت ہے ،اس کے بغیر انسانیت کے سکون کا تصور ممکن ہی نہیں ہے، اس وقت دنیا مادی ترقیات کے باوجود تباہی وبربادی کے دہانے پرکھڑی ہے ، ہر شخص اپنے اپنے طور پر بے چین وبے قرار نظر آرہا ہے اور چین وسکون کو شدت سے تلاش کر رہا ہے،ہمارے لئے بہترین موقع ہے کہ ہم انہیں محسن انسانیت اور نبی ؐ رحمت کا پیغام ان تک پہنچائیں ،پیام رحمت وانسانیت اگر ہم نے ان تک نہیں پہنچا یا تو انسانوں کے لئے تباہی سے بچنا نا ممکن ہوجائے گا ، ہم کو بحیثیت مسلمان اور غلامان رسول ؐ ہونے کے محسن انسانیت ؐ کی انسانیت بھری تعلیمات پر خود بھی عمل کرنا ہوگا اور اپنی بساط کے مطابق اپنے قول وعمل کے ذریعہ دوسروں تک بھی اسے پہنچانا ہوگا ،اگر ہم اس میں کامیاب ہوگئے تو یقینا ہم کامیاب ہیں اور ان شاء اللہ اس کے بہتر نتائج سامنے آئیں گے ۔