سیرتُ النبی ﷺ صرف مسلمانوں کے لیے پڑھنے اور سننے کا موضوع نہیں، بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک ایسا پیغام ہے جس میں محبت، انسانیت، بھائی چارہ، عدل و انصاف، رحم و کرم، رواداری اور حسنِ اخلاق کی تعلیم ملتی ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی پوری زندگی انسانوں کو بہتر زندگی گزارنے اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کا عملی نمونہ ہے۔
آپ ﷺ نے ایسے معاشرے میں انسانیت کا چراغ روشن کیا جہاں ظلم و زیادتی، ناانصافی، اونچ نیچ، تعصب اور کمزوروں کا استحصال عام تھا۔ آپ ﷺ نے انسانوں کو بتایا کہ تمام انسان ایک ہی اصل سے ہیں اور کسی انسان کو دوسرے انسان پر محض مال، خاندان، عہدے یا طاقت کی بنیاد پر برتری حاصل نہیں۔
آپ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ رحم و کرم کا بہترین نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے اپنے ساتھ برائی کرنے والوں کے ساتھ بھی صبر، برداشت اور معافی کا معاملہ فرمایا۔ آپ ﷺ نے پڑوسیوں کے حقوق پر زور دیا اور ضرورت مندوں، یتیموں، مسکینوں اور کمزوروں کی مدد کی تعلیم دی۔
سیرتِ نبوی ﷺ کا ایک عظیم پیغام عدل و انصاف ہے۔ آپ ﷺ نے سکھایا کہ انصاف ہر شخص کے لیے برابر ہونا چاہیے، خواہ وہ اپنا ہو یا غیر، امیر ہو یا غریب، طاقتور ہو یا کمزور۔ سرمایہ دار ہو یا مزدور، شہری ہو یا دیہاتی، گورا یا کالا ،،اگر آج ہمارا معاشرہ اس تعلیم کو اپنا لے تو بہت سی سماجی برائیوں کا خاتمہ ہوسکتا ہے۔
آپ ﷺ نے خواتین کے احترام اور ان کے حقوق پر بھی خصوصی توجہ دی۔ بیٹیوں کو بوجھ سمجھنے والی سوچ کی نفی فرمائی اور عورتوں کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنے کی تعلیم دی۔ والدین، اولاد، شوہر، بیوی اور خاندان کے ہر فرد کے حقوق کو واضح فرمایا۔
آپ ﷺ کی سیرت ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ دین صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ اچھے اخلاق اور اچھے کردار کا بھی نام ہے۔ سچ بولنا، امانت داری، وعدہ پورا کرنا، معاف کرنا، عاجزی اختیار کرنا اور دوسروں کے حقوق ادا کرنا ایک مسلمان کے کردار کا لازمی حصہ ہے۔
آج دنیا میں مذہب، ذات، زبان، نسل اور مختلف نظریات کی بنیاد پر فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں سیرتِ طیبہ ﷺ ہمیں محبت، برداشت، باہمی احترام اور پُرامن بقائے باہمی کا راستہ دکھاتی ہے۔ اختلافِ رائے فطری چیز ہے، لیکن اختلاف کو نفرت اور دشمنی میں تبدیل کرنا انسانیت کے لیے نقصان دہ ہے۔
سیرتِ النبی ﷺ کا پیغام کسی ایک قوم یا طبقے تک محدود نہیں۔ آپ ﷺ نے پوری انسانیت کو رحم، انصاف، امن اور حسنِ سلوک کا درس دیا۔ اسی لیے سیرتِ طیبہ کا مطالعہ ہر اس شخص کے لیے مفید ہے جو ایک بہتر انسان بنا چاہتا ہے اور ایک بہتر معاشرہ دیکھنا چاہتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ ہم سیرتِ رسول ﷺ کو صرف جلسوں، محفلوں اور تقریروں تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس کے اصولوں کو نافذ کریں۔ اپنے گھر میں محبت، کاروبار میں ایمانداری، معاشرے میں انصاف، پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور کمزوروں کے ساتھ ہمدردی کو اپنا شعار بنائیں۔
سیرتِ النبی ﷺ پڑھنا محبت ہے، لیکن سیرتِ النبی ﷺ کو اپنی زندگی میں اتارنا اس محبت کا عملی ثبوت ہے۔ یہی پیغامِ سیرتُ النبی ﷺ ہے—محبت سب کے لیے، انصاف سب کے لیے اور انسانیت سب کے لیے۔
javedbharti508@gmail.com
++++++++++++++++++++++++
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یوپی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی