آج سے ڈیڑھ سو سال پہلے ایک ملک سے دوسرے ملک جانے میں وہ پریشانیاں اور رکاوٹیں نہیں تھیں جو مغربی دنیا کے اقتدار نے مصنوعی سرحدیں قائم کر کے پیدا کر دی ہیں۔ پاسپورٹ، ویزا اور تفتیش کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ نہیں تھا۔ سلطنتِ عثمانیہ میں حجاز سے ایک آدمی بغیر پاسپورٹ ویزا کے شام، لبنان، ترکی، مصر، اردن، مراکش، الجزائر باآسانی سفر کر سکتا تھا، تعلیم حاصل کر سکتا تھا، کاروبار کر سکتا تھا، نوکری ڈھونڈ سکتا تھا، کہیں بھی شادی کر کے گھر بسا سکتا تھا۔ ہمارے ملک میں بھی سرحد سے پٹھان کابلی چنے بیچنے بنگال، آج کے بنگلہ دیش اور برما جا سکتا تھا، آنے جانے پر کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔ یورپی قوموں نے جب اسلامی ممالک پر قبضہ کیا تو پہلا کام ان کی دولت لوٹی، ان کا نظامِ تعلیم ختم کیا، ان کی معیشت کو برباد کیا اور انہیں مختلف ریاستوں اور ملکوں میں تقسیم کر دیا، اور ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے پر پابندی عائد کر دی تاکہ وہ اپنے بھائیوں سے کٹ جائیں اور ایک دوسرے کو اجنبی سمجھیں۔ رفتہ رفتہ مغرب کی حکومت ختم ہوئی، مسلم ممالک آزاد ہوئے، مگر انگریز ہر جگہ اپنے آدمی بٹھا کر گیا جو بظاہر مسلمان نظر آتے تھے مگر تہذیب و تمدن کے اعتبار سے انگریز یا فرانسیسی تھے۔ شام اس کی بدترین مثال ہے، پاکستان بھی ایک مثال ہے، ایران بھی 1979 تک یورپی کالونی ہی تھا۔ مگر اب لگتا ہے ایران کے خلاف جنگ کے بعد حالات میں تیزی سے تبدیلی واقع ہوئی ہے۔ سعودی عرب، پاکستان اور ترکی کے درمیان معاہدہ ہوا ہے، اور ایران کو بھی اس میں شامل کیے جانے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ یہ ایسی چیزیں ہیں جن کے بارے میں آپ ایک سال پہلے سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ پچھلے پانچ سالوں میں افغانستان، شام اور بنگلہ دیش میں ڈکٹیٹرشپ کا خاتمہ ہوا اور پہلی بار عوامی انقلاب کے نتیجے میں عوامی حکومت قائم ہوئی ہے۔ وہاں کی عوام نے پہلی بار آزاد فضاؤں میں سانس لی ہے۔
شام میں بھی سیاسی اور عسکری صورتحال میں ایک تبدیلی رونما ہوئی ہے جسے آنے والے برسوں میں ملکی تاریخ کا اہم موڑ قرار دیا جا سکتا ہے۔ 25 اگست 2026 کو سیرین ڈیموکریٹک فورسز (SDF) نے ایک تاریخی اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اب ایک آزاد اور علیحدہ عسکری قوت کے طور پر کام نہیں کرے گی، بلکہ اپنی افواج کو باقاعدہ طور پر شامی فوج کے ڈھانچے میں ضم کر رہی ہے۔ SDF امریکہ کی مدد سے قائم ہوئی تھی، امریکی اشارے اور پیسوں پر اس کا دارومدار تھا۔ شام کے انقلاب کے بعد وہاں کی حکومت نے بغیر کسی جنگ کے سبھی باغی گروہوں کو اپنے اندر جذب کر لیا ہے، یہ ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ یہ فیصلہ برسوں کی کشیدگی، جنگ، مذاکرات اور علاقائی پیچیدگی کے بعد سامنے آیا ہے، اور اس کے اثرات پورے شمال مشرقی شام پر مرتب ہوں گے۔ ایک طویل عرصے سے رقہ، دیر الزور اور حسکہ کے علاقے ایک متوازی انتظامی اور عسکری نظام کے تحت چل رہے تھے، جو دمشق کی مرکزی حکومت سے الگ تھا۔ اس نئے معاہدے کے بعد یہ علیحدگی بتدریج ختم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ ریاستی ادارے، سرحدی گزرگاہیں اور علاقے میں موجود تیل و گیس کے قیمتی وسائل اب دوبارہ دمشق کے کنٹرول میں آنے کی طرف بڑھ رہے ہیں، جو شامی حکومت کے لیے معاشی اور سیاسی دونوں لحاظ سے ایک بڑی کامیابی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس انضمام کو محض عسکری فتح یا شکست کے زاویے سے نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ معاہدے میں کرد آبادی کے لسانی، ثقافتی اور سیاسی حقوق کے تحفظ کی ضمانت بھی شامل کی گئی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عمل زبردستی کے بجائے ایک سیاسی سمجھوتے کی صورت میں آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ اگر اس وعدے پر عمل درآمد ہوتا ہے تو یہ شام کے کثیر النسلی اور کثیر المذہبی تانے بانے کے لیے ایک مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
جہاں شام کے اندرونی معاملات میں استحکام کی کوششیں جاری ہیں، وہیں خطے کی سطح پر بھی ایک بڑا منصوبہ زیرِ غور ہے جو تاریخ اور مستقبل کو ایک ساتھ جوڑ دے گا۔ ترکی، شام، اردن اور سعودی عرب کوحجاز ریلوے کے ذریعے دوبارہ منسلک کرنے کا منصوبہ اب عملی مراحل میں داخل ہو چکا ہے۔ یہ کہانی دراصل ایک صدی سے زیادہ پرانی ہے۔ حجاز ریلوے 1900 سے 1908 کے درمیان تعمیر کی گئی تھی، جو دمشق سے مدینہ منورہ تک زائرین اور تجارتی سامان کی ترسیل کے لیے بنائی گئی تھی۔ یہ ریلوے اپنے دور میں انجینئرنگ کا ایک شاہکار سمجھی جاتی تھی، لیکن پہلی جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں اور بعد کے علاقائی حالات نے اسے بتدریج غیر فعال کر دیا۔ اس تباہی کے پیچھے کسی حد تک المناک تاریخی پس منظر بھی ہے۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران عرب باغیوں نے سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی تھی، اور اسی بغاوت کے دوران حجاز ریلوے کو جگہ جگہ سے اکھاڑ پھینکا گیا، تاکہ ترک افواج کی نقل و حرکت اور رسد کا سلسلہ منقطع کیا جا سکے۔ یہی وہ تاریخی زخم تھا جس نے اس عظیم ریلوے نیٹ ورک کو بند کر دیا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بربادی کے باوجود مدینہ منورہ اور شام کے دارالحکومت دمشق میں آج بھی حجاز ریلوے کے تاریخی اسٹیشن اپنی جگہ موجود ہیں، گویا وہ ایک صدی سے اپنی بحالی کے منتظر ہوں۔ اب ترکی نے اس تاریخی راستے کو جدید خطوط پر بحال کرنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں ترکی، حلب اور دمشق سے ہوتے ہوئے اردن تک رابطہ قائم کیا جائے گا، اور اس کے بعد اس نیٹ ورک کو آگے سعودی عرب سے ملانے کا ارادہ ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے بھی مثبت اشارے ملے ہیں، اور یہ بتایا گیا ہے کہ ترکی کے راستے شام اور اردن کے ذریعے ریلوے رابطے سے متعلق مطالعات مکمل کرنے پر کام جاری ہے۔ اگر یہ منصوبہ حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو اس کے اثرات محض ٹرانسپورٹ تک محدود نہیں رہیں گے۔ ترکی سے شام، اردن اور سعودی عرب تک ایک زمینی تجارتی و سفری راہداری دوبارہ قائم ہو سکتی ہے، جو خطے میں معاشی سرگرمی، سیاحت اور علاقائی تعاون کو نئی جہت دے سکتی ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مدینہ منورہ، جو ایک صدی پہلے بھی اس تاریخی ریلوے نیٹ ورک کا اختتامی مقام تھا، ایک بار پھر اسی حیثیت میں دوبارہ اُبھرنے والا ہے۔ شاید یہی وہ تاریخی لمحہ ہو جب دمشق اور مدینہ منورہ کے وہی پرانے، خاموش اسٹیشن دوبارہ ریل کی آواز سے گونج اٹھیں، اور یہ منصوبہ محض ایک ریلوے لائن کی بحالی نہ رہے بلکہ امتِ مسلمہ کے باہمی اتحاد اور رابطے کی ایک نئی اور معنی خیز مثال بن جائے۔
ان دونوں پیش رفت کو الگ الگ واقعات کے بجائے ایک بڑی تصویر کے حصے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ SDF کا انضمام شام کے اندرونی استحکام کی طرف ایک قدم ہے، جبکہ حجاز ریلوے کی بحالی خطے کو باہمی رابطوں اور معاشی ترقی کی طرف لے جانے کی کوشش ہے۔ SDF کا انضمام، شام میں بڑھتا ہوا استحکام اور حجاز ریلوے کی بحالی، یہ تینوں عوامل مل کر اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ شام اب برسوں کی جنگ و خانہ جنگی کے سائے سے نکل کر تعمیرِ نو اور علاقائی رابطوں کے ایک نئے دور کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ سفر آسان نہیں ہوگا، اور اس میں کئی سیاسی و عملی چیلنجز بھی درپیش آئیں گے، لیکن سمت کا تعین ہو چکا ہے، اور اگر تاریخ کا یہ اکھڑا ہوا ریلوے ٹریک دوبارہ جڑ جاتا ہے تو یہ محض تعمیرِ نو کی ایک علامت نہیں بلکہ آنے والے وقت کے لیے امتِ مسلمہ کے لیے امید کی ایک روشن کرن بھی ثابت ہو سکتا ہے۔