خوشامد یا جی حضوری کرنا ایک قبیح فعل ہے۔ اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے لوگ کسی کو ایسی بات کہہ دیتے ہیں جو اس فرد میں نہیں پائی جاتی۔ لوگ اپنے ناجائز کام کی خاطر ایسا مٹھاس بھرا لہجہ اپناتے ہیں جس سے کسی کو شیشے میں اُتارا جاسکے تاکہ اپنا مفاد حاصل کیا جاسکے۔ منہ پر جھوٹی بات کہی جاتی ہے، چاپلوسی اختیار کی جاتی ہے جبکہ وہ خوبی جو بیان کی جارہی ہے وہ اُس شخص میں بالکل بھی نہیں ہوتی لیکن چاپلوسی کے ہنر میں یکتا لوگ جب کسی کی جھوٹی تعریفیں کرتے ہیں اُس کی خوبیاں بیان کرتے وقت زمین و آسمان کے قلابے ملادیتے ہیںاس قدر صفائی کے ساتھ وہ جھوٹ بولتے ہیں کہ سُننے والا شخص یہی گمان کرنے لگتا ہے کہ جیسے واقعی اُس میں کچھ ایسی خوبی ہے جس کی وجہ سے اُس کی تعریف کی جارہی ہے۔ اپنی تعریف سُن کر بہت سے لوگ متکبر ہوجاتے ہیں ۔ لوگ اپنے ناجائز مفادات حاصل کرنے کی خاطر لوگوں کے سامنے منت سماجت کرتے ہیں اور اپنی عزتِ نفس کی پرواہ بھی نہیں کرتے۔ تنقید سن کر لوگ چراغ پا ہوجاتے ہیں لیکن خوشامد کے میٹھے بول سُن کر بلندیوں پر پرواز کرنے لگتے ہیں ۔ خوشامدی لوگ سامنے تو آپ کی تعریف کرتے نہیں تھکتے لیکن وہ پیٹھ پیچھے آپ کی برائیاں کرتے ہیں وہ بالکل بھی آپ کے ساتھ مخلص نہیں ہوتے، ا ٓپ کی عزت کو مٹی میں ملانے کے خواب دیکھتے ہیں لیکن آپ خوشامد کا میٹھا زہر پی کر سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں کھو بیٹھتے ہیں ، وہ سچ اور جھوٹ جاننے سے قاصر رہتے ہیں۔ اپنی تعریف سننے کا نشہ لوگوں کے عقل و شعور پر ایسا پردہ ڈال دیتا ہے کہ وہ درُست فیصلہ کرنے کے قابل نہیں رہ جاتے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی سے بھی اختلاف نہیں رکھتے، ہمیشہ لوگوں کی ہاں میں ہاں ملاتے رہتے ہیں تاکہ اُن سب لوگوں کو خوش رکھ سکیں اور اپنے مفادات حاصل کرسکیں ایسے لوگ آستین کے وہ سانپ ہوتے ہیں جو موقع ملتے ہی آپ کو ڈس لیتے ہیں، آپ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ خوشامد اور جی حضوری سے بڑے بڑے کام ہوجایا کرتے ہیں اور منافق اور دوغلے لوگ اس میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ ایسے مفاد پرست لوگ کبھی بھی بھروسے کے قابل نہیں ہوتے۔کسی مالدار شخص کے سامنے عاجزی اور انکساری دکھانے والے لوگ صرف اور صرف اپنا فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں اور یہ انتہائی گھٹیا ترین فعل ہے اور چاپلوسی اور جی حضوری کی انتہا ہے۔ کسی کے منصب اور مرتبے کو دیکھ کر اُس کی تعظیم و تکریم کرنے والاشخص انسانیت کے درجے سے گِر جاتا ہے اور وہ شخص جو اپنی جھوٹی تعریفیں سن کر اُن پر یقین کرلیتا ہے وہ بناوٹی زندگی جی رہا ہوتا ہے اُس کی صلاحیتیں ختم ہونے لگتی ہیں وہ اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھنے لگتا ہے لیکن عقل و شعور رکھنے والا انسان کبھی بھی کسی خوشامدی کے دھوکے میں نہیں آتا اُسے اپنی خوبیوں اور خامیوں دونوں کا علم ہوتا ہے اُس کے پیر ہمیشہ زمین پر رہتے ہیں اور وہ نہایت عاجزی و انکساری سے اپنی زندگی بسر کرتا ہے۔ جو انسان حق گو اور بے غرض ہوتا ہے وہ کبھی بھی کسی کی چرب زبانی اور جی حضوری سے متاثر نہیں ہوتا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ سچ کیاہے؟خوشامدی لوگوں کی صحبت اختیار کرنے والا انسان دھوکے اور فریب میں جیتا ہے وہ خود غرض ہوتا ہے وہ ہمیشہ اس بات کی توقع اور اُمید رکھتا ہے کہ ہر جگہ اُس کے ہی چرچے ہوں وہ شہرت کا خواہش مند ہوتا ہے۔ بہت سارے نا عاقبت اندیش لوگ صرف خوشامد کے بل بوتے پر اپنے بڑے سے بڑے کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچادیتے ہیں‘ جھوٹ ہی اُن کا اوڑھنا اور بچھونا ہوتا ہے وہ نہیں جانتے کہ عزت نفس کیا ہے، سچی عزت کِسے کہتے ہیں ، حرام اور حلال میں فرق کو بھی جاننا نہیں چاہتے۔ وہ اپنا مطلب حاصل کرنے کے لیے اپنے ایمان کا بھی سوداکر لیا کرتے ہیں ایسے لوگوں کا ضمیر کب کا مرچکا ہوتا ہے اپنے قبیح اعمال پر اُنہیں کبھی ندامت اور شرمندگی محسوس نہیں ہوتی۔خوشامد اور جی حضوری ایک ایسی معاشرتی بُرائی ہے جس نے بہت سارے افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے لوگ اپنا مفاد حاصل کرنے کے لیے خوشامد کا سہارا تلاش کرتے ہیں، جائز اور ناجائز سے انہیں کوئی غرض نہیں ہوتی۔ چمچہ گیری اور چاپلوسی کرنے والے لوگ نہ ہی کسی کے ہمدرد ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی کا بھلا کرنے سے انہیں دلچسپی ہوتی ہے اُن کے خیالات ہر دم، ہر گھڑی اپنی ہی ذات کے اِرد گرد گردش کرتے رہتے ہیں۔ چاپلوس انسان اپنی چاپلوسی سے لوگوں کے وہ حقوق ہڑپ کر جاتا ہے جو کہ اُس کے تھے ہی نہیں۔ ایسے لوگ معاشرے میں حق و انصاف کا خون کرتے ہیں اور بڑے بڑے عہدے حاصل کرکے شاندار زندگی بسر کرتے ہیں ۔ ہمارے معاشرے میں اس وقت زیادہ تر لوگ اسی بُرائی میں مبتلا ہیں۔ لوگوں سے اُن کے وہ جائز حقوق چھین لئے جاتے ہیں جو اُن کی قابلیت کے بل بوتے پر اُنہیں مل سکتے تھے۔ اس اخلاقی بُرائی نے ہمارے معاشرے کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے، ہر شخص ایسے ذرائع تلاش کرتا دکھائی دیتا ہے جس سے کم وقت میں وہ ۔۔۔۔ ایسا مقام پاسکے جو چمچہ گیری کے راستے سے ہو کر گزرتا ہے۔ خوشامد ہمارے معاشرے کا وہ ناسور ہے جس نے عوام الناس کے حقوق کو پامال کیا ہے اُن کے جائز حقوق کو چھین لیا ہے۔ اس اخلاقی برائی نے انصاف کے تقاضوں کو روند دیا ہے وہ معاشرہ جہاں قابلیت کے ہوتے ہوئے بھی لوگوں کو وہ منصب نہ مل سکیں جو اُن کا حق تھے اُس معاشرے میں غُربت پنپتی ہے، جرائم سر اُٹھاتے ہیں۔ غریب، غریب تر ہوتا چلا جاتا ہے اور امیر۔۔۔ امیر تر ۔ آج بڑے بڑے عالیشان منصب پر بیٹھے ہوئے زیادہ تر لوگ اپنی چرب زبانی ، جھوٹ اور جی حضوری کی بدولت ان عہدوں تک پہنچے ہیں اور قابلیت، عزت اور شرافت کے باوجود بہت سارے لوگ دُکھ بھری اور غریبی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔۔۔ دُکھ بھری اور غریبی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔