ازواج مطهرات كے ساتھ
پیغمبر اسلام صلی الله علیه وآله وسلم كا سلوك
(۱)
شمع فروزاں
2026.08.28
ازقلم: مولانا خالد سیف الله رحمانی
میزبان کا مہمان کے ساتھ ، تاجر کا گاہک کے ساتھ ، ملازم کا افسر کے ساتھ اور ایک دوست کا دوسرے دوست کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنا دشوار نہیں ، ان لوگوں کے ساتھ بھی خوش اخلاقی کا ثبوت دینا آسان ہے ، جن سے گاہے گاہے ملاقات ہوتی ہو ؛ لیکن شوہر اور بیوی کا رشتہ ایسا رشتہ ہے ، جس میں ہر وقت کا ساتھ ہے ، خلوت میں اور جلوت میں ، دن کی روشنی اوررات کی تاریکی میں ، صبح و شام اور شب و روز ، اس ہمہ وقتی رفاقت میں خوشی کے لمحات بھی آتے ہیں ، رنج و غم کی ساعتیں بھی آتی ہیں ،اور غصہ و ناراضگی کے واقعات بھی پیش آتے ہیں ؛ اس لئے انسان دوسروں کے ساتھ تو مصنوعی خوش اخلاقی برت کر کام چلا سکتا ہے اور دو چہروں کے ساتھ زندگی گزارسکتا ہے ، ایک اس کا مصنوعی چہرہ جس میں نرمی، خوش اخلاقی ، شرافت اوراظہار محبت ہو ، وہ باہر کی دنیا میں اسی چہرے سے اپنا تعارف کرائے ، دوسرا چہرہ اس کا حقیقی چہرہ ہو ، جس میں بد اخلاقی ، سخت کلامی ، غیظ و غضب اور درشتی و تند خوئی ہو ۔
لیکن شوہر اور بیوی کا تعلق چوںکہ ہر سرد و گرم میں ہوتا ہے ؛ اس لئے یہاں مصنوعی اخلاق کے ذریعے اپنی بد اخلاقی کو چھپایا نہیں جاسکتا: اسی لئے رسول اللہ ﷺ نے بہترین شخص اس کو قرار دیا ، جس کے اخلاق اچھے ہوں ، پھر فرمایا کہ تم میں بہتر شخص وہ ہے ، جس کا رویہ اس کے گھر والوں کے ساتھ بہتر ہو ، اور یہ کہ میں تم سب سے زیادہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ بہتر برتاؤ کرنے والا ہوں : خیرکم خیرکم لأھلہ وأنا خیرکم لأھلی (سنن ترمذی ، بسند صحیح ، حدیث نمبر : ۳۸۹۵ ، ابن ماجہ ، حدیث نمبر : ۱۹۷۷۱) اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی حیاتِ طیبہ اپنی بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کا بہترین نمونہ ہے !
رسول اللہ ﷺ کو ’ دعوت دین ‘ علوم نبوت کی اشاعت اور مختلف قبائل کی دل داری کے مقصد سے خصوصی طورپر چار سے زیادہ نکاح کی اجازت دی گئی تھی ؛ چنانچہ بحیثیت مجموعی گیارہ پاک بیویاں آپ کے نکاح میں رہیں : حضرت خدیجہ بنت خویلدؓ ، حضرت سودہ بنت زمعہؓ ، حضرت عائشہ بنت ابی بکرؓ ، حضرت حفصہ بنت عمرؓ ، حضرت زینب بن خزیمہؓ ، حضرت اُم سلمہ بنت ابی اُمیہؓ ، حضرت زینب بنت جحشؓ ، حضرت جویریہ بنت حارثہؓ ، حضرت اُم حبیبہ بنت ابی سفیانؓ ، حضرت صفیہؓ ، حضرت میمونہؓ ۔
رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج کے ساتھ ہمیشہ اعلیٰ درجے کا سلوک رہا ، اور کیوں نہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے بیویوں کے ساتھ بہتر سلوک کا حکم فرمایا: وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (النساء : ۱۹) یعنی بیویوں کے ساتھ بہتر طریقہ پر زندگی گزارو ، یہ ایک جامع تعبیر ہے ، جس میں خوش اخلاقی ، مروت اور پاس و لحاظ کی تمام صورتیں داخل ہیں اور حیاتِ طیبہ بیویوں کے ساتھ اس مثالی طرز عمل کی عملی شکل پیش کرتی ہے۔
خوبیوں کا اعتراف
بیوی کے ساتھ حسن سلوک کا ایک پہلو یہ ہے کہ اس کی خوبیوں کا ذکر کیا جائے اور اس سے محبت کا اظہار ہو ، یہ انسانی فطرت ہے کہ اگر اس کی تعریف کی جائے یا اس سے محبت کا اظہار کیا جائے تو اس کو خوشی ہوتی ہے ؛ لیکن خاص کر اگر شوہر اپنی بیوی کی تعریف کرے تو یہ اس کے لئے سب سے قیمتی سوغات ہوتی ہے ، اس کو لگتا ہے کہ اس کی محنت وصول ہوگئی ؛ چنانچہ آپ ﷺاپنی بیویوں کے لئے تعریفی کلمات بھی فرمایا کرتے تھے ؛ چنانچہ حضرت عائشہؓ کے بارے میں فرمایا : جیسے تمام کھانوں میں ثرید عمدہ ہوتا ہے ، اسی طرح حضرت عائشہؓ تمام عورتوں میں بہترین عورت ہے : إن فضل عائشۃ علی النساء کفضل الثرید علی سائر الطعام (بخاری ، عن ابی موسیٰ الاشعریٰ ، کتاب الانبیاء ، حدیث نمبر : ۳۲۳۰، مسلم ، باب من فضل عائشہ ، حدیث نمبر : ۲۴۴۶ )
اُم المومنین حضرت خدیجہؓ کی وفات کے بعد بھی آپ ہمیشہ ان کا ذکر خیر فرماتے تھے ؛ اسی لئے حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حالاںکہ میں نے حضرت خدیجہؓ کو نہیں دیکھا ؛ لیکن مجھے ان ہی پر سب سے زیادہ رشک آتا تھا ، آپ ﷺان کا بار بار تذکرہ فرماتے ، بکرا ذبح کرتے تو خود سے اس کے ٹکڑے کرتے اور حضرت خدیجہؓ کی سہیلیوں کو بھیجتے ، حضرت عائشہؓ نے ایک بار غلبۂ رشک میں عرض کیا کہ گویا دنیا میں خدیجہؓ کے سوا کوئی عورت ہی نہیں تھی ؟ آپ ﷺنے فرمایا : إنھا کانت وکانت وکان لی منھا ولد (بخاری ، باب تزویج النبی ؐ خدیجہ وفضلہا ، حدیث نمبر : ۳۶۰۷۱) یعنی وہ بڑی خوبیوں کی مالک تھی ، (فتح الباری : ۷؍۱۳۷) اور ان ہی سے مجھے اولاد حاصل ہوئی ، ایک اور موقع پر آپ نے ان کا ذکر خیر کرتے ہوئے فرمایا : جب لوگوں نے انکار کیا ، اس وقت وہ ایمان لائیں ، جب لوگوں نے مجھے جھٹلایا ، اس وقت انھوںنے میری تصدیق کی ، جب لوگوں نے مجھے محروم کرنا چاہا ، اس وقت انھوںنے اپنے مال سے میری غمگساری کی اور اللہ نے ان کے ذریعے مجھے اولاد عطا فرمائی ، ( مسند احمد ، حدیث نمبر : ۲۴۹۰۴) — اکثر جب کسی شخص کی بیوی کا انتقال ہوجاتا ہے اور وہ دوسرا نکاح کرتا ہے تو اپنی پہلی بیوی کی خدمات اور اس کی قربانیوں کو فراموش کردیتا ہے ، آپ ﷺنے اپنے اس ارشاد سے اس بات کا سبق دیا کہ ایسا نہ ہونا چاہئے کہ نئے رشتے کی وجہ سے پرانے رشتے کو فراموش کردیا جائے ۔
اظہارِ محبت
آپ ﷺازواجِ مطہرات سے اپنی محبت کا اظہار بھی فرماتے تھے اور اس میں تکلف سے کام نہیں لیتے تھے ؛ چنانچہ آپ نے حضرت خدیجہؓ کے بارے میں فرمایا کہ مجھ کو ان کی محبت عطا فرمائی گئی ہے : إنی رزقت حبھا (مسلم ، کتاب الفضائل، حدیث نمبر : ۲۴۳۵) — حضرت عمرو بن عاصؓ نے ایک موقع پر دریافت فرمایا کہ آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے ؟ آپ انے فرمایا : عائشہؓ سے ، (دیکھئے : اللؤ لؤ والمرجان ، حدیث نمبر : ۱۵۲۴) اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص لوگوں کے درمیان اپنی بیوی سے محبت اظہار کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
پھر آپ اپنے سلوک کے ذریعے بھی محبت کا احساس دلاتے تھے ؛ چنانچہ آپ ﷺ بعض دفعہ اپنی کم سن زوجۂ مطہرہ کو پیار سے ’’ یا عائش‘‘ کہتے تھے ، (مسلم ، کتاب الفضائل ، حدیث نمبر : ۲۴۴۷) — اظہار محبت کی ایک تعبیر یہ ہے کہ آپ نے ایک بار حضرت عائشہؓ سے فرمایا : یہ جان لینے کے باوجود کہ جنت میں بھی تم میری بیوی رہوگی ، مجھے موت کی پرواہ نہیں رہی : ما أبا لی بالموت بعد أن عرفت أنک زوجتی بالجنۃ(کنز العمال ، حدیث نمبر : ۳۴۳۶۴) — غور کیجئے کہ محبت کے اس بول نے حضرت عائشہؓ کو کس قدر شاد کام کیا ہوگا کہ اس میں جنت میں رفاقت نبوی ﷺکا مژدہ بھی ہے اور آپ ﷺسے محبت کا اظہار بھی، ایک موقع پر حضرت عائشہؓ نے دریافت کیا کہ آپ کی مجھ سے کیسی محبت ہے ؟ یعنی آپ مجھ سے کس درجہ محبت فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺنے فرمایا : رسی کی گرہ کی طرح ، یعنی گرہ جیسی مضبوط ہوتی ہے اور کھولے نہیں کھلتی ، اسی طرح تم سے میری محبت ہے ، حضرت عائشہ نے استفسار کیا : یہ گرہ کیسی ہے ؟ آپ ﷺنے فرمایا : جیسی تھی ویسی ہی ہے ، یعنی اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ( حلیۃ العلماء : ۲؍۴۴)
اظہار محبت کی ایک ادا وہ بھی تھی ، جو حضرت عائشہؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کھانے کا برتن ہاتھ میں لیتے اور قسم دیتے کہ میں اس میں سے کھاؤں ، پھر آپ برتن لیتے اورجہاں سے میں نے منھ لگایا تھا ، اسی جگہ سے تناول فرماتے : ویتحری موضع فمی ویضع فمہ علی موضع فمی من الإناء(مسلم ، کتاب الحیض ، حدیث نمبر : ۳۳۰)اور ایسا بھی ہوتا کہ ہڈی والے گوشت میں سے جہاں سے حضرت عائشہؓ کھینچ کر تناول فرماتیں ، آپ وہیں پر سے گوشت تناول فرماتے :وکان اذا تعرقت عرقا ، وھو العظم الذی علیہ لحم أخذہ فوضع فمہ موضع فمھا (مسلم ، کتاب الحیض ، حدیث نمبر : ۳۰۰)— رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف خود ازواج مطہرات کے ساتھ اس طرح محبت اور لگاؤ کا اظہار کیا ؛ بلکہ اُمت کو بھی اس کی تلقین فرمائی ؛ چنانچہ آپ ﷺنے ارشاد فرمایا : تم جو بھی خرچ کروگے ، اس پر اجر پاؤگے ، یہاں تک کہ جو لقمہ اپنی بیوی کے منھ میں رکھوگے ، اس میں بھی اجر ہے : إنک لن تنفقہ نفق إلا أجرت علیھا حتی اللقمۃ ترفعھا إلی فی إمراتک(نسائی ، کتاب عشرۃ النساء ، حدیث نمبر : ۹۱۸۶)اس میں یوں تو انفاق کی ترغیب دینا مقصود ہے ؛ لیکن ایک لطیف اشارہ بیوی کے ساتھ اظہار محبت کا بھی ہے کہ شوہر اپنے ہاتھوں سے بیوی کو لقمۂ کھلائے ، یہ لقمہ محبت پیٹ ہی کی نہیں دل کی بھی غذا بن جاتا ہے ۔
عمر کا لحاظ
آپ قدم قدم پر ازواج مطہرات کی دل داری کا لحاظ رکھتے تھے یہاں تک کہ سِن وسال کے تقاضوں کا بھی خیال فرماتے تھے ، حضرت عائشہؓ جب آپ کے نکاح میں آئیں تو ان کی عمر کم تھی اور انھیں اس طرح کے کھیل کا شوق تھا ، جو کم عمر بچیوں میں ہوا کرتا ہے ، ایک دفعہ عید کے موقع سے حضرت ابوبکرؓ حاضر خدمت ہوئے ، آپ نے کپڑا اوڑھ رکھا تھا اور دو کم عمر لڑکیاں حضرت عائشہؓ کے سامنے دف بجا رہی تھیں ، حضرت ابوبکرؓ نے اس پر ناگواری ظاہر کی تو آپ نے روئے انور سے کپڑا ہٹا دیا اور حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا : انھیں چھوڑ دو ، یہ عید کا دن ہے — حبشی لوگ ایسے خوشی کے موقع پر اپنے کرتب دکھاتے تھے ، حضرت عائشہؓ کو ان کے دیکھنے کی خواہش ہوئی ، تو آپ ﷺکھڑے ہوگئے ، اورحضرت عائشہؓ آپ کے مونڈھے پر ٹیک لگاکر حبشیوں کا نیزے کا کھیل دیکھتی رہیں اور جب تک خود تھک نہ گئیں ، آپ ان کی رعایت میں کھڑے رہے ۔ (مسلم، حدیث نمبر : ۸۹۲)
حضرت عائشہؓ کی ہم عمر سہیلیاں ان کے پاس آتیں اور ساتھ کھیلتیں ، جب آپ ﷺ تشریف لاتے تو مارے شرم کے بھاگ جاتیں ؛ لیکن آپ ﷺان کو حضرت عائشہؓ کے پاس بھیج دیتے : فکان یسر بھن إلیّ (مسلم ، کتاب الفضائل ، حدیث نمبر : ۲۴۴۰) — حضرت عائشہؓ کی کم سنی کی وجہ سے اگرچہ آپ ﷺ خصوصی طورپر ایسی باتوں میں ان کا لحاظ فرماتے تھے ؛ لیکن حسن سلوک اور دل داری کا یہ معاملہ ہر بیوی کے ساتھ ہوتا ، اُم المومنین حضرت صفیہؓ کو اونٹ پر بیٹھنا تھا ، تو آپ نے اپنا گھٹنہ کھڑا کردیا ؛ تاکہ آپ کے گھٹنے پر قدم رکھ کر حضرت صفیہؓ اونٹ پر چڑھ سکیں : ثم یجلس عند بعیرہ فیضع رکبتہ فتضع صفیۃ رجلھا علی رکبتہ حتی ترکب (بخاری ، کتاب المغازی ، حدیث نمبر : ۳۹۷۴) — ایک سفر میں انجشہ نامی ایک غلام اس سواری کو ہانک رہا تھا ، جس میں بعض اُمہات المومنین سوار تھیں ، انجشہ اس طرح نظم پڑھ رہے تھے کہ اونٹ بہت تیز دوڑنے لگا ، آپ ﷺنے فرمایا : انجشہ ! آہستہ آہستہ ، تم آبگینوں کو لے کر جارہے ہو : رویدک یاانجشہ سوقک بالقواریر (بخاری ، کتاب الادب ، حدیث نمبر : ۵۸۰۹)
آپ ﷺاعتکاف میں تھے ، حضرت صفیہؓآپ سے ملاقات کے لئے تشریف لائیں ، جب واپس ہونے لگیں تو آپ ﷺان کو رُخصت کرنے کے ئے مسجد کے دروازے تک آئے ، (بخاری ، حدیث نمبر : ۱۹۳۰ ، مسلم ، حدیث نمبر : ۲۱۷۵) یہ بھی اظہار محبت کا ایک انداز تھا ، ازواج مطہرات کے درمیان بھی کبھی کبھی چشمک ہوجاتی تھی ، یہ فطری بات ہے اور رسول اللہ ﷺکی زندگی میں ایسی تمام باتوں کا پیش آنا ضروری تھا ، جن سے اُمت کو سابقہ پیش آسکتا ہو ؛ چنانچہ ایک بار حضرت حفصہؓ نے حضرت صفیہؓ کو یہودی کی بیٹی کہہ دیا ، جب حضور تشریف لائے تو حضرت صفیہؓ رورہی تھیں ، آپ ﷺنے رونے کا سبب پوچھا ، انھوںنے حضرت حفصہؓ کی بات نقل کی ، آپ نے ان سے فرمایا : تم ایک نبی (حضرت ہارون علیہ السلام) کی بیٹی ہو ، ایک نبی ( حضرت موسیٰ علیہ السلام ) کی بھتیجی ہو ، اور ایک نبی کی بیوی ہو ، تمہارے مقابلہ کیسے کوئی فخر کرسکتا ہے ، پھر آپ نے حضرت حفصہؓ سے فرمایا : اللہ سے ڈرو ، (سنن ترمذی ، باب فضل ازواج النبی ﷺ، حدیث نمبر : ۳۸۹۴ ، بسند صحیح)— ایک سفر میں حضرت صفیہؓ آپ کے ساتھ تھیں اور اس دن ان ہی کی باری تھی ، اتفاق سے سست رفتار سواری پر ان کا سفر ہوا ، جب رسول اللہ ﷺنے ان کا استقبال کیا تو وہ رورہی تھیں اور کہہ رہی تھیں : آپ نے مجھے ایک سست رفتار سواری پر بیٹھا دیا ، آپ اپنے ہاتھوں سے ان کے آنسو پونچھنے اور ان کو خاموش کرنے لگے : فجعل رسول اﷲ یمسح بیدیہ عینیھا ویسکتھا (أسد الغابۃ : ۱؍۱۳۷۶)
بے تکلفی
بیویوں کے ساتھ حسن سلوک کا ایک مظہر وہ بے تکلفی ہے ، جو آپ ﷺان کے ساتھ برتا کرتے تھے ، جس کو آپ روا رکھتے تھے ؛ چنانچہ دو موقعوں پر حضرت عائشہؓ کے ساتھ آپ نے دوڑ بھی لگائی ، پہلی بار حضرت عائشہ آگے بڑھ گئیں ، اس وقت ان کا جسم ہلکا تھا ، پھر دوسری مرتبہ جب حضرت عائشہؓ کا جسم بھاری ہوگیا تھا ، رسول اللہ ﷺآگے بڑھ گئے ، اس موقع پر آپ ﷺنے فرمایا کہ یہ اُس کا بدلہ ہوگیا : ھذہ بتلک (ابوداؤد ، کتاب الجہاد ، حدیث نمبر : ۲۵۷۸)اس بے تکلفی کا اظہار اس وقت بھی ہوتا تھا ، جب کوئی نوک جھونک ہوجاتی ، ایک بار آپ ﷺ کے اورحضرت عائشہؓ کے درمیان کوئی بات ہوگئی تو آپ ﷺنے پوچھا : کیا تم عمر (رضی اللہ عنہ ) کو حکم بناؤگی ؟ حضرت عائشہ ؓنے عرض کیا : نہیں ؛ کیوں کہ حضرت عمرؓ سخت مزاج کے آدمی ہیں ، پھر آپ نے پوچھا : کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ تمہارے والد میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ کریں ؟ حضرت عائشہ نے کہا : ہاں ، آپ ﷺنے حضرت ابوبکرؓ کو بلا بھیجا ، جب حضرت ابوبکرؓ تشریف لائے تو آپ نے دریافت فرمایا کہ تم بات کروگی یا میں بات کروں ؟ اُم المومنین نے عرض کیا : آپ ہی بات کریں ؛ لیکن صحیح صحیح بولیں ، حضرت ابوبکرؓ یہ سن کر بے قابو ہوگئے ، اور حضرت عائشہؓ کی ناک پر تھپر رسید کردیا ، حضرت عائشہؓ بھاگیں اور آپ اﷺکی پیٹھ کے پیچھے چُھپنے لگیں ، حضور ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا: میں نے آپ کو اس لئے نہیں بلایا تھا ، پھر جب حضرت ابوبکرؓ تشریف لئے گئے تو آپ نے حضرت عائشہؓ کو قریب بلایا ، مگر انھوںنے آنے سے انکار کردیا ، آپ مسکرائے اور فرمایا : ابھی کچھ پہلے تو تم میری پیٹھ سے چمٹی جارہی تھیں ، پھر جب حضرت ابوبکر تشریف لائے اور دونوں کو ہنستے ہوئے دیکھا ، توفرمایا : آپ دونوں نے اپنے اختلاف میں ہمیں شریک کیا تھا ، تو اپنی صلح میں بھی ہمیں شریک کرلیں : أشر کانی فی سلمکما کما أشرکتمانی فی حربکما (ابوداؤد ، کتاب الادب ، حدیث نمبر : ۴۹۹۹)
ناز برداری
آپ ﷺاپنی ازدواجی زندگی میں اُمہات المومنین کو روٹھنے کا حق دیتے تھے ؛ تاکہ خواتین کی فطرت میں ناز کرنے کا جو وصف پایا جاتا ہے ، یا وہ سمجھتی ہیں کہ ان کو شوہر سے سوال و جواب کا حق ہے ، اس کی رعایت ہو اور اُمت کے لئے نمونہ مہیا ہو ؛ چنانچہ حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ انھوںنے ایک دفعہ اپنی بیوی پر غصہ کا اظہار کیا تو اہلیہ نے بھی پلٹ کر جواب دیا ، حضرت عمرؓ نے اس بات پر ناگواری کا اظہار کیا کہ تم میری بات کا جواب دیتی ہو ؟ زوجۂ محترمہ نے عرض کیا : آپ میرے اس عمل پر کیوں نکیر کرتے ہیں ، جب کہ حضور ﷺکی ازواج آپ کو جواب دیتی ہیں ، اوربعض تو رات ترک گفتگو تک کردیتی ہیں؟إن إحداھن لتھجرہ الیوم حتی اللیل (سیرت ابن حبان : ۱؍۳۶۰ ، امیر المومنین عمر الخطاب : ۱؍۷۶ ، حیات الصحابہ : ۴؍۶۵) — پھر اگر کوئی بیوی ناراض ہوجاتیں تو آپ کا رویہ نہایت مشفقانہ ، کریمانہ اور دل دارانہ ہوتا ، آپ ان کے مونڈھے پر دست مبارک رکھتے اور دُعائیہ کلمات ارشاد فرماتے :
اللّٰہم اغفر لھا ذنبھا واذھب غیظ قلبھا وأعذھا من الفتن ۔ (کنز العمال ، حدیث نمبر : ۱۸۴۰۹)
اے اللہ ! ان کو معاف فرمادیجئے ، ان کے دل کے غصے کو دُور کردیجئے اور ان کو فتنوں سے محفوظ رکھئے ۔
تفریح طبع
ازواج مطہرات کے ساتھ بے تکلفی اور زنانہ ناز و انداز کے پاس و لحاظ کا ایک لطیف مظہر حضرت عائشہؓ کی روایت ہے کہ ایک بار سرکار دوعالم ﷺنے مجھ سے فرمایا : جب تم مجھ سے خوش ہوتی ہو اور جب ناراض ہوتی ہو ، دونوں کو میں اچھی طرح سمجھ لیتا ہوں ، میں نے پوچھا : آپ کیسے سمجھ لیتے ہیں ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : جب تم خوش رہتی ہو اور قسم کھانی ہوتی ہے تو کہتی ہو : محمد ﷺکے رب کی قسم ! اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو : حضرت ابراہیم علیہ السلام کے رب کی قسم ! میں نے کہا : اللہ کے رسول ! خدا کی قسم میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں : ما أھجر إلا اسمک (بخاری ، کتاب النکاح ، حدیث نمبر : ۴۹۳۰) یعنی یہ صرف زبان سے ہوتا ہے ؛ لیکن دل میں ہمیشہ آپ ﷺکا ذکر خیر بسا رہتا ہے ۔
ازواج کے ساتھ بے تکلفی کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ آپ بعض دفعہ ان کی آپسی نوک جھونک اور ایک دوسرے کے ساتھ تفریح سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے ، اسی طرح کا ایک واقعہ حضرت عائشہ ؓ سے منقول ہے کہ ایک بار حضرت سودہؓ میرے پاس آئیں ، رسول اللہ ﷺ ہم دونوں کے درمیان اس طرح بیٹھ گئے کہ آپ کا ایک پاؤں میری گود میں تھا اور ایک پاؤں ان کی گود میں ، میں نے ان کے لئے حریرہ بنایا اور ان سے کھانے کو کہا ، انھوں نے انکار کیا ، میں نے کہا : یا تو آپ کھائیں یا میں آپ کے چہرے پر مَل دوں گی ، انھوں نے پھر انکار کیا تو میں نے پیالے میں سے تھوڑا سا حریرہ لے کر ان کے چہرے پر مَل دیا ، آپ ﷺ نے ان کی گود سے اپنا پاؤں ہٹالیا ؛ تاکہ وہ بھی مجھ سے بدلہ لے سکیں ؛ چنانچہ انھوں نے بھی تھوڑا سا حریرہ لے کر میرے چہرے پر بھی مَل دیا ، رسول اللہ ﷺ اس منظر کو دیکھتے اور ہنستے رہے ۔ (نسائی ، کتاب عشرۃ النساء ، حدیث نمبر : ۸۹۱۷)
اسی طرح بعض اوقات ایک ہی برتن سے آپ ﷺاور حضرت عائشہؓ غسل فرماتے اور دونوں اس سے پانی لیتے ، کبھی آپ ﷺحضرت عائشہؓ سے فرماتے کہ تم میرے لئے پانی چھوڑ دو ، اور کبھی حضرت عائشہ ؓحضور ﷺسے عرض کرتیں کہ آپ میرے لئے پانی چھوڑ دیں : حتی یقول لھا دعي لي و تقول لہ دع لي (مسلم ، کتاب الحیض ، حدیث نمبر : ۳۲۱)
کبھی کبھی آپ ازواج مطہرات سے مزاح بھی فرماتے تھے ، ایک زوجۂ مطہرہ نے ایسا کپڑا پہنا ، جو بہت ڈھیلا ڈھالا تھا ، آپ ﷺنے فرمایا : پہنو اور اللہ کا شکر ادا کرو ، اور فرمایا کہ تمہارا دامن اس طرح گھِسٹ رہا ہے ، جیسے لباس عروسی کا دامن ہو : وجری من ذیلک ھذا کذیل العروس (کنزالعمال : ۷؍۲۰۶ ، حدیث نمبر : ۱۸۶۴۶) — حضرت عائشہ ؓجب حرم مبارک میں آئیں تو کم عمر تھیں اورگڑیا بھی بناتی تھیں ، انھوں نے ایک گھوڑا بنایا اور اس میں پَر بھی لگا دیا ، آپ ﷺدیکھ کر مسکرائے اورارشاد فرمایا : اس گھوڑے کے پر بھی ہیں ؟ حضرت عائشہؓ بھی بڑی ذہین اور ذکی خاتون تھیں ، کہنے لگیں : حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھوڑوں کے تو پَرہوتے تھے ۔ (ابوداؤد ، کتاب الادب ، حدیث نمبر : ۴۹۳۲) (جاری)