انسان اور فطرت کا المیہ
(پگھلتے گلیشیئر، اسباب اور تدارک کی راہ)
✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
ہمالیہ میں ایک گلیشیئر کا بڑا حصّہ ٹوٹ کر الگ ہوا اور چند ہی گھنٹوں کے اندر اس کے نتیجے میں آنے والے سیلاب نے امیگریشن چیک پوسٹوں، تیرہ بجلی کے منصوبوں اور ہمالیہ کی ایک درجن سے زائد بستیوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ نیپال اور تبت میں تقریباً 190 افراد ہلاک، جب کہ تقریباً دو ہزار افراد لاپتا ہیں۔ کیلاش مانسرور کے راستے پر موجود کئی بھارتی یاتریوں کا بھی تاحال کوئی پتا نہیں چل سکا۔ بھارت کے بالائی علاقوں میں 47 خطرناک گلیشیائی جھیلیں موجود ہیں، جن میں سے 25 چین کے اندر واقع ہیں۔ یہ صورتِ حال ایک نہایت اہم سوال ہمارے سامنے رکھتی ہے: آخر اس خطے کو مزید کتنی وارننگز درکار ہیں، اس سے پہلے کہ ایسا مؤثر اور فوری نظام قائم کیا جائے جو گھنٹوں نہیں بلکہ چند منٹوں میں خطرے کی نشاندہی کرکے لوگوں کو بروقت خبردار کرسکے؟
یہ واقعہ محض ایک قدرتی آفت نہیں؛ یہ ہمیں انسان اور فطرت کے درمیان بگڑتے ہوئے تعلق کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے۔ قدرت نے انسان اور فطرت کے درمیان ایک نہایت متوازن رشتہ قائم کیا ہے۔ پہاڑ، جنگلات، دریا، سمندر، بارش، برفانی ذخائر اور گلیشیئر—یہ سب زمین کے اس عظیم قدرتی نظام کا حصّہ ہیں جس پر انسانی زندگی کا انحصار ہے۔ لیکن جب انسان اپنی ضرورت کو لالچ، ترقی کو بے لگام دوڑ اور سہولت کو فطرت پر غلبے کا ذریعہ بنا لیتا ہے تو یہ نازک توازن رفتہ رفتہ بگڑنے لگتا ہے۔ آج پگھلتے اور سکڑتے ہوئے گلیشیئر اسی بگڑتے ہوئے توازن کی ایک خطرناک علامت ہیں۔ گلیشیئرز کا پگھلنا ایک قدرتی عمل ہے، لیکن موجودہ دور میں عالمی درجۂ حرارت میں مسلسل اضافہ اس قدرتی عمل کو غیر معمولی رفتار دے رہا ہے۔ صنعتی سرگرمیاں، کوئلے، تیل اور گیس کا بڑے پیمانے پر استعمال، گاڑیوں اور کارخانوں سے خارج ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں، جنگلات کی کٹائی اور بے ہنگم شہری و صنعتی توسیع—یہ سب عوامل زمین کے ماحولیاتی نظام پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
انسان نے اپنی ترقی کے لیے فطرت سے بے شمار وسائل حاصل کیے، مگر ان وسائل کے تحفّظ اور تجدید کی ذمّہ داری کو اسی تناسب سے محسوس نہیں کیا۔ نتیجتاً فضا میں گرمی کو روکنے والی گیسوں کی مقدار میں اضافہ ہوا، عالمی درجۂ حرارت بڑھا اور اس کے اثرات برفانی خطوں تک نمایاں طور پر پہنچنے لگے۔ گلیشیئر محض برف کے پہاڑ نہیں ہوتے؛ یہ قدرت کے عظیم آبی ذخائر ہیں۔ ان سے پگھلنے والا پانی دریاؤں کو زندگی فراہم کرتا، زراعت کو سہارا دیتا اور کروڑوں انسانوں سمیت بے شمار حیوانات کی ضروریات پوری کرتا ہے۔ پہاڑوں پر جمع یہ برف دراصل آنے والے موسموں اور نسلوں کے لیے پانی کا ایک قدرتی ذخیرہ ہے۔ جب یہ ذخائر تیزی سے سکڑنے لگتے ہیں تو اس کے اثرات صرف برفانی علاقوں تک محدود نہیں رہتے، بلکہ دریاؤں کے بہاؤ، زراعت، آبادیوں اور پورے ماحولیاتی نظام کو متاثر کرتے ہیں۔
اس صورتِ حال کا ایک خطرناک پہلو یہ بھی ہے کہ گلیشیئر کے پگھلنے سے بننے والی یا پھیلنے والی گلیشیائی جھیلیں اچانک پھٹ سکتی ہیں، جن سے آنے والا شدید سیلاب چند ہی گھنٹوں میں وادیوں، پلوں، سڑکوں، بجلی کے منصوبوں اور انسانی آبادیوں کو تباہ کرسکتا ہے۔ یوں جو برف صدیوں تک پانی کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ تھی، وہ بعض حالات میں چند لمحوں کے اندر تباہ کن سیلاب کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پگھلتے ہوئے گلیشیئر کو محض ایک ماحولیاتی تبدیلی سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ پانی، خوراک، زراعت، انسانی آبادی، حیاتیاتی تنوع اور آنے والی نسلوں کے مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ اور شاید سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا ہم فطرت کے ان مسلسل ملنے والے اشاروں کو محض خبروں کی سرخی سمجھ کر نظر انداز کرتے رہیں گے، یا وقت رہتے اپنے طرزِ زندگی، ترقی کے تصور اور زمین کے ساتھ اپنے تعلق پر نظرِ ثانی کریں گے؟
گلیشیئر کے پگھلنے میں انسان کا کتنا ہاتھ ہے؟ یہ سوال محض سائنسی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔ انسان نے براہِ راست ہر گلیشیئر کو نہیں پگھلایا، لیکن اس کی صنعتی، معاشی اور طرزِ زندگی کی سرگرمیوں نے اس عالمی ماحولیاتی تبدیلی کو ضرور تیز کیا ہے جس کا اثر برفانی علاقوں تک پہنچ رہا ہے۔ یہ دراصل انسان اور فطرت کے درمیان تعلق کے بحران کی داستان ہے۔ ہم نے فطرت کو ایک امانت سمجھنے کے بجائے ایک بے انتہا وسیلہ سمجھ لیا۔ درخت کاٹا تو دوبارہ لگانے کی فکر کم کی، زمین سے وسائل نکالے تو اس کی تجدید کا خیال نہ رکھا، توانائی استعمال کی تو اس کے ماحولیاتی اثرات کو نظر انداز کیا، اور ترقی کی رفتار بڑھاتے ہوئے یہ بھول گئے کہ زمین کی برداشت کی بھی ایک حد ہے۔
پگھلتے گلیشیئر ہمیں ایک بڑے المیے کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف برف کے پگھلنے کا نہیں بلکہ پانی، زراعت، خوراک، انسانی آبادی، حیاتیاتی تنوع اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کا مسئلہ ہے۔ ایک گلیشیئر کا سکڑنا بظاہر کسی دور افتادہ پہاڑی علاقے کا واقعہ محسوس ہوسکتا ہے، لیکن اس کے اثرات بہت دور تک پہنچ سکتے ہیں۔ پانی کے نظام میں تبدیلی سے کسان متاثر ہوسکتے ہیں، دریاؤں کا بہاؤ بدل سکتا ہے، سیلاب اور خشک سالی کے خطرات بڑھ سکتے ہیں اور بالآخر انسان ہی اس ماحولیاتی عدمِ توازن کی قیمت ادا کرتا ہے۔ اس بحران کا حل صرف حکومتوں یا سائنس دانوں کی ذمّہ داری نہیں۔ حکومت، صنعت، معاشرہ اور فرد—سب کو اپنی اپنی سطح پر کردار ادا کرنا ہوگا۔
سب سے پہلے توانائی کے ایسے ذرائع کو فروغ دینا ہوگا جو ماحول پر کم سے کم اثر ڈالیں۔ شمسی اور ہوائی توانائی جیسے صاف ذرائع کی طرف منتقلی، ایندھن کے غیر ضروری استعمال میں کمی اور توانائی کی بچت اس سلسلے میں اہم اقدامات ہیں۔ دوسرا اہم قدم جنگلات کا تحفّظ اور بڑے پیمانے پر شجرکاری ہے۔ درخت صرف سایہ اور خوبصورتی نہیں دیتے بلکہ ماحول کے توازن، مٹی کے تحفّظ، پانی کے چکر اور حیاتیاتی تنوع میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ تیسرا، شہروں اور صنعتوں کی منصوبہ بندی اس انداز میں ہونی چاہیے کہ ترقی اور ماحول ایک دوسرے کی دشمن نہ بنیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ کا فروغ، آلودگی میں کمی، پانی کا محتاط استعمال، فضلے کی مناسب تلفی اور پائیدار تعمیرات اس سمت میں مؤثر قدم ہوسکتے ہیں۔ چوتھا، سب سے اہم کام طرزِ زندگی کی اصلاح ہے۔ ہمیں یہ سوال اپنے آپ سے کرنا ہوگا کہ ہماری ہر ضرورت واقعی ضرورت ہے یا محض خواہش؟ کیا ہم وسائل کو استعمال کرتے ہوئے ان کے ضیاع سے بچ رہے ہیں؟ کیا ہم پانی، بجلی، خوراک اور دیگر نعمتوں کو ذمّہ داری کے ساتھ استعمال کرتے ہیں؟
اسلامی تصورِ حیات میں زمین محض انسان کے استعمال کی چیز نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کی عطا اور امانت ہے۔ قرآن انسان کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتا ہے اور اس کے اندر ایک ذمّہ دارانہ کردار پیدا کرتا ہے۔ رسول اللّٰہﷺ کی تعلیمات میں بھی پانی، درختوں، جانوروں اور ماحول کے ساتھ حسنِ سلوک کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔ اس لیے ماحولیاتی بحران کا مقابلہ صرف جدید ٹیکنالوجی سے نہیں بلکہ اخلاقی شعور سے بھی کرنا ہوگا۔ سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ گلیشیئر کیوں پگھل رہے ہیں، لیکن اخلاق ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انہیں بچانا کیوں ضروری ہے۔ آج پگھلتا ہوا گلیشیئر گویا انسان سے ایک خاموش سوال کر رہا ہے: کیا ترقی کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے ہی مستقبل کی بنیادیں کمزور کر دے؟
اگر ہم نے وقت رہتے اپنے طرزِ زندگی، توانائی کے استعمال، صنعتی پالیسیوں اور فطرت کے ساتھ اپنے تعلق پر نظر ثانی نہ کی تو آنے والی نسلیں ہمیں اس زمین کے ایسے وارث کے طور پر یاد کریں گی جنہوں نے اپنے آرام کے لیے قدرت کا توازن قربان کردیا۔ اب بھی وقت ہے کہ ہم فطرت سے جنگ ختم کریں، زمین کو امانت سمجھیں، وسائل کے استعمال میں اعتدال اختیار کریں اور ترقی کا ایسا راستہ تلاش کریں جس میں انسان بھی محفوظ رہے اور فطرت بھی۔ گلیشیئر کا پگھلنا صرف برف کا پگھلنا نہیں؛ یہ انسان کے اپنے مستقبل کے پگھلنے کی وارننگ ہے۔ ماحولیاتی بحران کے بارے میں اسلام کی رہنمائی نہایت بنیادی اور جامع ہے۔ اسلام نے ماحولیات کو محض ایک سائنسی یا معاشی مسئلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے انسان کے اخلاقی اور روحانی رویے سے جوڑا ہے۔ قرآن مجید انسان کو زمین پر ذمّہ دار مخلوق کی حیثیت سے دیکھتا ہے اور اسے اس بات سے روکتا ہے کہ وہ اللّٰہ کی بنائی ہوئی فطرت کے نظام میں فساد پیدا کرے۔
قرآن مجید انسان کو زمین کا مالکِ مطلق قرار نہیں دیتا بلکہ اسے اس میں ذمّہ داری کے ساتھ زندگی گزارنے والا قرار دیتا ہے "میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں” (البقرۃ: 30)۔ خلافت کا یہ تصور انسان کو اختیار کے ساتھ ذمّہ داری بھی عطا کرتا ہے۔ انسان زمین کے وسائل سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، مگر اسے تباہ کرنے، ضائع کرنے یا آنے والی نسلوں کے حق کو پامال کرنے کا اختیار نہیں دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن انسان کو متنبہ کرتا ہے "اور زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد برپا نہ کرو” (الأعراف: 56)۔ آج جنگلات کی بے دریغ کٹائی، دریاؤں اور سمندروں کی آلودگی، فضائی آلودگی اور عالمی حدت جیسے مسائل کو اسی وسیع قرآنی اصول کی روشنی میں دیکھا جاسکتا ہے۔
قرآن مجید ایک نہایت معنی خیز حقیقت بیان کرتا ہے "خشکی اور سمندر میں فساد ظاہر ہوگیا، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے سبب” (الروم: 41)۔ یہ آیت موجودہ ماحولیاتی بحران کے لیے ایک گہری اخلاقی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انسان کے اعمال کے نتائج صرف انسان تک محدود نہیں رہتے؛ ان کے اثرات زمین، پانی، ہوا، حیوانات اور پورے ماحولیاتی نظام تک پہنچتے ہیں۔ پگھلتے ہوئے گلیشیئر بھی ہمیں اسی حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ انسانی سرگرمیوں کے اثرات بسا اوقات وہاں بھی پہنچ جاتے ہیں جہاں انسان کی براہِ راست موجودگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ اسلامی تعلیمات میں اعتدال بنیادی اصول ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے "کھاؤ اور پیو، مگر اسراف نہ کرو” (الأعراف: 31)۔ اسراف صرف کھانے پینے تک محدود نہیں۔ اسلامی اخلاق کا یہ اصول زندگی کے ہر شعبے پر لاگو ہوتا ہے۔ پانی، بجلی، ایندھن، خوراک اور قدرتی وسائل کا بے جا استعمال بھی اسی عمومی اخلاقی اصول کے خلاف ہے۔ آج جب دنیا وسائل کے بے تحاشا استعمال، ضرورت سے زیادہ پیداوار اور صارفیت کے بحران سے دوچار ہے، اسلام کا اعتدال اور عدمِ اسراف کا تصور ایک اہم ماحولیاتی اصول بن کر سامنے آتا ہے۔
پانی انسانی زندگی کی بنیادی ضرورت ہے۔ قرآن مجید پانی کو زندگی کی بنیاد قرار دیتا ہے "اور ہم نے ہر جاندار چیز کو پانی سے زندہ کیا (الأنبیاء: 30)”۔ گلیشیئرز کا ایک اہم کردار دنیا کے آبی نظام سے وابستہ ہے۔ ان کا پگھلنا ہمیں پانی کی قدر اور اس کے محتاط استعمال کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ رسول اللّٰہﷺ نے پانی کے استعمال میں بھی اسراف سے منع فرمایا۔ احادیث میں وضو کے دوران پانی کے غیر ضروری استعمال سے بچنے کی تعلیم ملتی ہے، یہاں تک کہ بہتے ہوئے پانی کے قریب بھی اسراف سے منع کیا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے نزدیک پانی کا احترام صرف ضرورت کے وقت نہیں بلکہ ہر حال میں مطلوب ہے۔ اسلام نے شجرکاری کو بھی محض معاشی یا ماحولیاتی سرگرمی نہیں سمجھا بلکہ اسے اجر و ثواب کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا کہ جو مسلمان کوئی درخت لگاتا ہے یا کھیتی بوتا ہے اور اس سے انسان، پرندہ یا جانور کھاتا ہے تو وہ اس کے لیے صدقہ ہے۔ (صحیح البخاری، صحیح مسلم)۔ یہ تعلیم انسان کو فطرت کے ساتھ دینے والے تعلق کی طرف لے جاتی ہے۔ ہم زمین سے مسلسل لیتے رہیں اور کچھ واپس نہ کریں، یہ اسلامی مزاج نہیں۔ ایک درخت لگانا بظاہر معمولی عمل ہے، لیکن اس میں انسان، حیوان اور آنے والی نسلوں کے لیے خیر کا پہلو موجود ہے۔
اسلامی ماحولیاتی تصور صرف انسانوں تک محدود نہیں۔ قرآن مجید جانوروں کو بھی باقاعدہ امتیں قرار دیتا ہے "زمین میں چلنے والا کوئی جانور اور اپنے پروں سے اڑنے والا کوئی پرندہ ایسا نہیں جو تمہاری ہی طرح کی امتیں نہ ہوں” (الأنعام: 38)۔ اس تصور کے نتیجے میں حیوانات، پرندوں اور دیگر جانداروں کے ساتھ رحم و شفقت اور ان کے مسکن کے تحفّظ کی ذمّہ داری پیدا ہوتی ہے۔ رسول اللّٰہﷺ کی سیرت کا بنیادی وصف ہی رحمت ہے "اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے” (الأنبیاء: 107)۔ یہ رحمت صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام عالم کے لیے ہے۔ آپﷺ نے جانوروں کے ساتھ حسنِ سلوک کی ترغیب دی، انہیں بلاوجہ تکلیف پہنچانے سے روکا اور درختوں کو نقصان پہنچانے سے متعلق بھی ہدایات دیں۔ چنانچہ سیرتِ نبویﷺ کی روشنی میں ماحول کے تحفّظ کو رحمتِ عالمﷺ کے وسیع تر پیغام کا حصّہ سمجھا جاسکتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کی روشنی میں آج ہماری ماحولیاتی ذمّہ داری چند بنیادی اصولوں میں سمٹ سکتی ہے:
– زمین کو امانت سمجھیں، بے لگام ملکیت نہیں۔
– پانی، بجلی، خوراک اور قدرتی وسائل کے استعمال میں اسراف سے بچیں۔
– شجرکاری اور جنگلات کے تحفّظ کو اجتماعی ذمّہ داری سمجھیں۔
– فضائی، آبی اور زمینی آلودگی کو کم کرنے کی کوشش کریں۔
– جانوروں اور دیگر جانداروں کے ساتھ رحم کا معاملہ کریں۔
– ایسی ترقی کی حمایت کریں جو ماحول اور آنے والی نسلوں کے حقوق کو پامال نہ کرے۔
– اپنی ضرورت اور خواہش کے درمیان فرق سمجھیں اور صارفیت کی اندھی دوڑ سے بچیں۔
– ماحولیاتی شعور کو دینی تربیت، تعلیم اور معاشرتی زندگی کا حصّہ بنائیں۔
پگھلتے ہوئے گلیشیئر دراصل ہمارے سامنے ایک ایسا آئینہ ہیں جس میں انسان اپنی تہذیبی ترجیحات دیکھ سکتا ہے۔ سوال صرف یہ نہیں کہ برف کیوں پگھل رہی ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہماری زندگی کا وہ کون سا انداز ہے جس نے زمین کے قدرتی توازن کو اس مقام تک پہنچا دیا ہے؟ اسلام انسان کو ترقی سے نہیں روکتا، بلکہ ایسی ترقی چاہتا ہے جو عدل، اعتدال اور ذمّہ داری کے ساتھ ہو۔ اسلام وسائل کے استعمال سے منع نہیں کرتا، بلکہ اسراف اور فساد سے روکتا ہے۔ اسلام زمین سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دیتا ہے، مگر زمین کو تباہ کرنے کی نہیں۔ لہٰذا آج ماحولیاتی بحران کے مقابلے میں ہمیں صرف نئی ٹیکنالوجی نہیں، بلکہ نیا اخلاقی شعور بھی درکار ہے۔
سائنس ہمیں بتاتی ہے کہ گلیشیئر کیوں پگھل رہے ہیں؛ اسلام ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ زمین کی حفاظت ہماری ذمّہ داری کیوں ہے۔ اگر زمین امانت ہے تو اس کی حفاظت عبادت کا اخلاقی تقاضا ہے، اگر پانی نعمت ہے تو اس کا ضیاع ناشکری ہے، اگر درخت اللّٰہ کی مخلوق ہیں تو ان کی حفاظت رحمت ہے، اور اگر آنے والی نسلوں کا بھی اس زمین پر حق ہے تو آج کا بے اعتدال طرزِ زندگی ان کے حق میں ناانصافی ہے۔ زمین ہماری جاگیر نہیں؛ اللّٰہ کی امانت ہے۔ اور امانت کا تقاضا یہ ہے کہ اسے اپنے بعد پہلے سے بہتر حالت میں چھوڑا جائے۔
🗓️ (27.08.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○