راہل گاندھی اور طالبات و خواتین کی عصری معنویت

راہل گاندھی اور طالبات و خواتین کی عصری معنویت

راہل گاندھی اور طالبات و خواتین کی عصری معنویت

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

 

بی جے پی کادعویٰ ہے کہ وہ تو ملک کو وشو گرو( عالمی قائد) بنارہی ہے۔اس مقصد کے حصول کی خاطر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت فی الحال امریکہ کے شہر نیویارک میں ہیں لیکن ان کی مخالفت سے ملک کے حصے میں نیک نامی کے بجائے بدنامی آرہی ہے۔ س نگھ پریوار کا یہ الزام بھی ہے کہ کانگریس کے پاس اقتدار کے حصول کی خاطر مودی مخالفت کے سوا کوئی اور ایجنڈا ہی نہیں ہے۔ اس بیانیہ کی بیخ کنی کرتے ہوئے طلبہ کی گونج نامی پروگرام میں کہا کہ وہ یہاں سیاست پر بات کرنے نہیں آئے بلکہ خواتین کو بولنے یعنی اپنے جذبات و احساسات کو بیان کرنے کا موقع دینا چاہتے ہیں۔ اس کے بعد اپنا پروچن سنانے کے بجائے انہوں نے کہا ’’آج آپ بولیں، آپ بتائیں کہ آپ کیا سوچتی ہیں اور کیا چاہتی ہیں؟ ہم آپ کے خیالات آپ ہی کے ساتھ شیئر کریں گے اور ان پر گفتگو کریں گے‘‘۔ موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی تو خود کو غیر طبعی (نان بایولوجیکل) سمجھتے ہیں ۔ اس لیے وہ کسی سے کچھ سننا اپنے لیے کسرِ شان سمجھتے ۔ ان کا طریقۂ کار یہ ہےکہ اپنا گھسا پٹا راگ الاپتے رہناہے مگر اس سے نسل نو تو دور عام لوگ بھی اوب چکے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ من کی بات سننے والوں کی تعداد میں بہت زبردست کمی واقع ہوچکی ہے۔ آنکھ موند کر ان کی باتوں کو سننے والے اب بارہ سال کی طویل مدت کے بعد سوال کرنے لگے ہیں؎
نہ ادھراُدھر کی تو بات کر ، یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے

راہل گاندھی نےپونہ کانفرنس کے دوران ایک خاتون سے سوال کیا کہ آخر ایک مرد کسی عورت کو کنٹرول کیوں کرنا چاہتا ہے؟ کیا وہ محسوس کرتی ہیں کہ مرد انہیں قابو میں رکھ سکتا ہے؟جواب تھا کہ وہ خود کوسب سے پہلے ایک انسان سمجھتی ہیں۔ انہیں اس وقت غصہ آتا ہے جب لوگ ان کے ساتھ صرف اس بنیاد پر برتاؤ کرتے ہیں کہ وہ ایک عورت ہے۔ انہیں کہا جاتا ہے کہ ’’تم تو لڑکی ہو، خوبصورت ہو، کوئی بھی تم سے شادی کرلے گا اور تم اچھی زندگی گزارو گی۔ ‘‘اس جواب پر راہل گاندھی بولے یہی دراصل ایک جال ہے۔ خواتین کو کنٹرول کرنے کے لیے سماج نے کئی طریقے بنا رکھے ہیں۔ ان میں تشدد، توہین و بے عزتی، وقت پر پابندی اور فیصلوں پر کنٹرول شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف تشدد صرف جسمانی نہیں ہوتا بلکہ اس کی کئی شکلیں ہیں۔ گھر میں بار بار یہ کہا جاتا ہے کہ ’’ادھر مت جاؤ، کچھ ہوگیا تو؟‘‘، ’’باہر مت نکلو، کچھ ہوگیا تو؟‘‘۔ اس طرح خوف کو عورت کی زندگی کا مستقل حصہ بنا دیا جاتا ہے۔

نبیٔ کریم ﷺ نے مکہ مکرمہ کے دگر گوں حالات میں جس روشن مستقبل کی خوشخبری سنائی تھی اس میں یہ مثال دی گئی کہ ’’ایک بوڑھی عورت صنعاء سے حضرموت یعنی جزیرۃ العرب کے ایک کونے سے دوسرے تک تنہا سونا اچھالتی ہوئی جائے گی اور اس کو اللہ کے سوا کسی کا ڈر نہیں ہوگا‘‘۔ یہ تحفظ کی گارنٹی سیکڑوں سال قبل دی گئی اور اسے عملی جامہ پہنا کر دکھایا گیا ۔ چھاتروں کی گونج نے سنگھ پریوار کے اس بیانیہ کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا کہ حزب اختلاف کے پاس مودی مخالفت کے سوا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ راہل گاندگی نے سنگھ کی دکھتی رگ ’منو سمرتی ‘ پر سیدھا حملہ کرکے ثابت کردیا کہ یہ معاملہ اقتدار کی تبدیلی تک محدود نہیں بلکہ نظریاتی و سماجی انقلاب کا بھی ہے ۔ چھاتروں کی گونج کا سلسلہ راجستھان کے کوٹا شروع ہوکر دہرہ دون گیا اور پھر الٰہ آباد سے ہوتا ہوا پونہ پہنچ گیا۔ ان سارے صوبوں میں بی جے پی کی ڈبل انجن سرکاریں ہیں ۔ ان میں سے ہر مقام پر رکاوٹیں پیدا کی گئیں مگر ریاستی سرکاروں کو منہ کی کھانی پڑی اور ہر مرحلے میں اس کے اندر شریک ہونے والے طلبا و طالبات کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ پونہ کے چھاتروں کی گونج نے تو تاریخ رقم کردی ۔ راہل گاندھی کی کامیابی کا یہ روشن سفر بشیر بدر کے اس شعر کی یاد دلاتا ہے؎

مخالفت سے مری شخصیت سنورتی ہے
میں دشمنوں کا بڑا احترام کرتا ہوں

پونہ شہر کو مہاراشٹر کی ثقافتی راجدھانی کا درجہ حاصل ہے۔ اسی شہر میں برہمن پیشواوں نے منو سمرتی کو نافذ کرکے ظلم و جبر کی انتہا کردی تھی ۔ اس شہر کے اندر منو سمرتی کی دھجیاں اڑا کر راہل گاندھی نے یہ ثابت کردیا کہ اب وہ سنگھ پریوار کو گھر میں گھس کر مار رہے ہیں ۔ پونہ میں منو سمرتی کا ذکر خواتین کے تناظر میں تھا اس لیے کہ وہ پروگرام طالبات کیلئے مخصوص تھا۔ اس میں ہزاروں طالبات نے شرکت کی ۔ وہاں اپنے شاندار استقبال کے جواب میں راہل گاندھی نے کہا ’’پہلی بار پروگرام میں لڑکے کم دکھائی دے رہے ہیں، یا دکھائی ہی نہیں دے رہے۔ ‘‘لیکن یہ معاملہ تعداد اور جذباتی نعروں سے اس وقت آگے نکل گیا جب راہل گاندھی نے کہا ’’خواتین کو دبانے کا مائنڈسیٹ منوسمرتی سے آتا ہے اور آج ہماری جنگ اسی ذہنیت سے ہے۔ بی جے پی-آر ایس ایس کے لوگ چاہتے ہیں کہ لڑکیاں پنجرے میں بند رہیں۔ لیکن ہم ایسا ہندوستان نہیں چاہتے۔ ہم چاہتے ہیں کہ سبھی کا احترام ہو۔‘‘ پونہ کی ترقی یافتہ طالبات اور جین-زی خواتین کے درمیان راہل گاندھی نے منو اسمرتی کا اقتباس پیش کرکے کہا یہ کتاب خواتین کے خود مختار نہ ہونے دینے کی تلقین کرتی ہے۔ ریاست میں سنگھ کی شاکھا سے آنے والے برہمن وزیر اعلیٰ کے ہوتے یہ چمتکار ہوگیا اور فڈنویس دیکھتے رہ گئے۔

نئی نسل کے ساتھ راہل گاندھی نئے انداز میں گفتگو کرتے ہیں ۔ ان کے اسٹیج پر بہت بڑا الکٹرانک بورڈ لگا ہوتا ہے۔ اس پر مختلف سلائیڈس کے ساتھ ویڈیوز بھی دکھائی جاتی ہیں ۔ ایسے میں اسکرین پر لکھے منو سمرتی ایک مذموم جملے کی طرف اشارہ کر کے راہل گاندھی کہا کہ ’’منو اسمرتی میں لکھا ہے کہ بچپن میں عورت کو اپنے والد کے تابع رہنا چا ہئے، جوانی میں اپنے شوہر کے اور جب اس کا شوہر مر جائے تو اپنے بیٹوں کے تابع۔ عورت کو کبھی خودمختار نہیں ہونا چا ہئے۔ ‘‘ اس نظریہ کو شرمناک قرار دے کر راہل گاندھی نے مسترد کیا اوربولے کہ ہر خاتون کی اپنی شناخت ہے، وہ کسی کے تابع نہیں ہو سکتی۔ یہ سن کر وہاں موجود مجمع خوشی سے جھوم اٹھا۔ انھوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ منواسمرتی کے مطابق عورت کو کبھی آزاد نہیں ہونا چاہیے، لیکن ملک کی سب سے بڑی طاقت یہ ہے کہ خواتین آزاد ہوں، اپنے لیے کھڑی ہوں اور خود پر اعتماد کریں۔ وطن عزیز میں شودر سماج سے آنے والی خواتین منو اسمرتی کی دوہری تعذیب کا شکار ہوجاتی ہے۔
اترپردیش میں بی جے پی کی رکن اسمبلی دیوی کوشل کو شیتلا ماتا مندر کے سنگ بنیاد کی تقریب سے اس لیے دور رکھا گیا کیونکہ وہ پاسی سماج سے آتی ہیں جو دلت ہے۔ ان کے شوہر کوشل کشور وزیر رہ چکے ہیں اس کے باوجود اگر اپنی ہی پارٹی کی رکن اسمبلی کے ساتھ اس طرح کا بھید بھاو کیا جاتا ہو تو عام خواتین کی کیا بساط ؟بی جے پی صوبائی وزیر صوفیہ قریشی جیسی فوجی افسر کو بھی دہشت گرد کی بہن قرار دینے سے نہیں ہچکچاتے ۔ یہ تو ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں خاتونِ اول یعنی صدر مملکت دروپدی کو بھی دہلی کے اندر مندر کے اندرونی حصے میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے لیکن کسی کا بال بیکا نہیں ہوتا ۔ حدیث رسول ﷺ میں جب حصول علم کی ترغیب دی گئی تو مسلم مرد اور عورت دونوں کا ذکر کیا گیا اور دونوں کی پرورش میں بھید بھاو کی مخالفت کرتے ہوئے بیٹی کی دیکھ بھال پر خوب بشارتیں دی گئیں مگر موجودہ سماج میں سب کچھ الٹ پلٹ گیا ہے۔ اس لیے راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ یہ ذہنیت کہاں سے آتی ہے کہ لڑکی کو تعلیم دینے کے بجائے لڑکے کو پڑھایا جائے، لڑکی کو ملازمت نہ کرنے دی جائے ۔

ر اہل گاندھی نےاس کا یہ مطلب نکالا کہ خواتین پر جسمانی، مالی اور ان کی زندگی کے فیصلوں سے متعلق تینوں طرح کا کنٹرول قائم کرلیا جائے۔ پونہ کی تقریب میں موجود خواتین سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ خواتین فطرتاً مردوں کے مقابلے میں زیادہ حساس، نرم مزاج، رحم دل اور دور اندیش ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ہندوستان کی خواتین کو ملک کی سب سے بڑی طاقت تصور کرتے ہیں۔ راہل گاندھی کے اس کامیاب ترین پروگرام کو گودی میڈیا نے پوری طرح نظر انداز کرکے اپنی نمک خواری کا ثبوت دیا مگر ان کی واپسی کے بعد جب ریاست کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے اپنے حلقۂ انتخاب ناگپور میں نوجوانوں سے مکالمہ کا جو پروگرام کیا وہ اس قدر پھیکا اور ناکام رہا کہ گودی میڈیا اسے بھی نشر نہیں کرسکا۔ آر ایس ایس کے شہر ناگپور کے اندر وزیر اعلیٰ کی انتظامیہ کی مکمل حمایت کے باوجود یہ ناکامی بتا رہی ہے کہ کس کا سورج ڈوب رہا ہے اور کون سی صبح طلوع ہونے والی ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے