اقبال کے شاہین کہاں ہو تم!

اقبال کے شاہین کہاں ہو تم!

اقبال کے شاہین کہاں ہو تم!

ازقلم:سیماشکور (حیدرآباد)

علامہ اقبالؔ نے کہا تھا :
نہیں تیرا نشیمن قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

اقبال نے قوم کو خودداری کا درس دیاتھا۔ خودی کی حقیقت سمجھائی تھی مگر افسوس اتنے برس گزر جانے کے باوجود اقبال کا شاہین کہیں دکھائی نہیں دے رہا۔ ہمارے نوجوان اپنی شادی جہیز لے کر کرتے ہیں اپنے رہنے سہنے کیلئے لڑکی والوںسے سہولیات کی بھیک مانگتے ہیں۔ اپنی ضروریات تک خود پوری نہیں کرسکتے۔ اپنی بہنوں سے تک وراثت کا حق چھین لیتے ہیں۔ والدین کو نہیں سنبھال سکتے۔ اپنی زندگی کے مقصد سے لاعلم نوجوان خود ی اورخوداری کو کیا سمجھیںگے۔ اپنی حقیقی آزادی کو بھی نہیں سمجھ سکتے یا پھر سمجھتے ہوئے بھی انجان ہیں۔ انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے باوجود غلامی کی زندگی جی رہے ہیں۔ اور مست ہیں اپنی زندگی میں صرف پیسہ کمانے کو ہی زندگی سمجھتے ہیں۔ اپنے حق کیلئے آواز نہیںا ٹھا سکتے تو دوسروں کیلئے کیا کرسکتے ہیں۔ آج مسلمان پس رہا ہے، بے بس ہے ،لاچار ہے ان میںا تحاد واتفاق کی بے انتہا کمی ہے۔ اسی لیے گھٹن کی زندگی جی رہے ہیں۔ ایک مسلک پر تک قائم نہیں۔ جھوٹی شان وشوکت دکھانے کیلئے بے چین رہتے ہیں۔ سادگی کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں فضول رسم ورواج میںگھرے ہوئے یہ نوجوان اسلام کے اصولوں کو سمجھتے ہوئے بھی انجان ہیں۔ اگر آج مسلمان متحد ہوتے ایک مسلک پر قائم رہتے سادگی کو اپناتے۔ نفسانفسی کا شکار نہ ہوتے ان میںا یک دوسرے کیلئے درد ہوتا۔ ایک دوسرے کا احساس ہوتا تو آج وہ اس طرح نہ پس رہے ہوتے۔ اپنی آزادی ، سالمیت اورخودی کو کھوچکے ہیں۔ اپنے آبائو اجداد کے اسباق بھول چکے ہیں۔ صرف اپنے آشیانے کو ہی بچانے کی فکر ہی کسی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔ ان سب حالات کے باوجود میں ناامید ہرگز نہیں ہوں۔ مجھے یقین ہے اس ذات بر حق پر اور میں جانتی ہوں کہ اقبال کے شاہین ہر ملک ، ہرخطے اور ہرگائوں میں ہیں۔خوف،جبر اور تاریکی کی فضا میں جنم لینے والے نوجوان ایک دن ضرور جاگ جائیںگے۔ ضرورت ہے بس ان کی سوئی ہوئی غیرت وحمیت کو جگانے کی ، انہیں احساس دلانے کی ضرورت ہے۔ اقبال کے شاہین ضرور پرواز کریںگے۔ وقت ضرور بدلے گا۔ تاریکی کے گھنیرے بادل ایک دن ضرور چھٹیںگے۔ راستے دشوار سہی، حالات انتہائی ناسازگار سہی، پھر بھی امید کی شمع روشن ہے اور رہے گی۔دہشت کا ماحول ضرور بدلے گا، جب ہمت جواں ہوگی، حوصلے بلند ہوںگے تو ہی شاہینوں کو طاقت پرواز ملے گی ، مسلمان کبھی مایوس نہیں ہوتا اس لیے کہ مایوسی کفر ہے۔
آج کا نوجوان بے شک ابھی تاریکیوں میں سفرکررہا ہے۔ مختلف قسم کے نشوں نے اسے کمزورکردیا ہے۔ نشہ انسان سے خودداری چھین لیا کرتا ہے۔ غلطی ان کی نہیں غلطی بڑوں نے کی ہے انہیں ہمیشہ حقیقتوں سے دور رکھا گیا ہے۔ خود بھی ڈر ڈر کر جیئے اور اپنی اولادوں کو بھی گھٹن کی زندگی دی۔ خود بھی گہری نیند سوتے رہے۔ حالات کی نزاکت کو نہیںسمجھا۔ خواب خرگوش کے مزے لیتے رہے اور وقت گزرتا رہا، گزرتا ہی رہا اور پھر وہ حالات سامنے آئے جس نے اتنا خوفزدہ کردیا کہ سہم گئے اور ہتھیار ڈال دئیے۔ مسلمان ایسے نہیں جیتا مسلمان کبھی ہراساں نہیں ہوا کرتے۔ قوت ایمانی ان کو کبھی جھکنے نہیں دیتی وہ جھکتے ہیں تو صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے، وہ کسی بھی بڑی سے بڑی طاقت کو نہیں مانتے وہ مرتو سکتے ہیں کبھی جھک نہیں سکتے۔ وہ فولاد کی طرح مضبوط ہوتے ہیں۔ حالات کتنے ہی سنگین کیوں نہ ہوں مسلمان کبھی بھی گھبرایا نہیں کرتے۔ مسلمانوں کے حوصلے دیکھ کر باطل کے قدم اکھڑ جاتے ہیں۔ تاریخ ہمیشہ بہادر قوموں کو سلام پیش کرتی رہی ہے۔ آج انصاف خاموش سہی، قلم پر قدغن سہی۔ آنے والا کل ضرور روشن اور تابناک ہوگا۔ حالات ضرور بدلیںگے بس اپنی ہمتوں کو جواں رکھنے کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو ان کا شاندار ماضی یاد دلانے کی اشد ضرورت ہے۔ اسلامی تاریخ سے بھی آگاہی بے حد ضروری ہے۔ اسلامی تاریخ ہی ان میں بیداری جگا سکتی ہے۔ آزاد ملک میںغلامی کی زندگی جینا بھی کوئی زندگی ہے۔ زندگی کا سایہ ضرور کہہ سکتے ہیں لیکن زندگی نہیںکہہ سکتے۔ بہادر قومیں کٹھن سے کٹھن حالات کا مقابلہ بھی بہادری سے کرتی ہیں۔ اپنے خون کے آخری قطرے تک، اپنی آخری سانس تک ظلم کا مقابلہ کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جس قوم میں خود اپنی حالت کو بدلنے کی جستجو نہ ہو۔اپنے قوت بازو پر بھروسہ ہونا چاہئے۔ ایک ننھا سا چراغ کمرے کی تاریکی کو مٹا دیاکرتا ہے۔ محنت اور لگن کو اپناشعار بنانا ہوگا۔ جب تک ہم خود اپنی عزت نہیںکریںگے کوئی دوسرا بھی کبھی ہماری عزت نہیںکرے گا۔ روشنی کی نوید سنانے کوئی نہیں آئے گا۔ ہمیں اپنے خواب کو حقیقت کا روپ دینے کیلئے ان تھک محنت کرنی ہوگی۔ اگر ہم متحد ہیں تو ہماری آزادی کو کوئی نہیں چھین سکتا۔ اگر ہم ٹکڑوں میں بٹے ہوئے ہوں تو پھر ہماری شکست یقینی ہے۔ موجودہ حالات اس وقت بہت ابتر ہیں۔ ہماری نیند اس وقت بے انتہا گہری ہے جو کسی بھی طرح ٹوٹنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ ہمیں ابھی معاملے کی سنگینی کا اتنا احساس نہیں ہے۔ طوفان ہمارے بے حد قریب پہنچ چکا ہے ، ہم نہیں جانتے کہ آنے والے حالات کس قدر بھیانک ہوسکتے ہیں۔ ہمیںگرداب سے نکلنے کیلئے متحد ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ ہم لیکن نفسا نفسی کا شکار ہیں۔ ہمیں ایک دوسر ے کی تکلیف کا ذرا سا احساس نہیں ہے۔ ہماری مسجدیں بھی الگ الگ ہیں۔ فرقوں میں بٹی ہوئی قوم کبھی بھی متحد نہیں کہلاسکتی۔ مذہب پر بحث کرتے ہیں لڑتے ہیں جھگڑتے ہیںلیکن کبھی بھی مذہب پر عمل پیرا نہیں ہوتے۔ مذہب تو امن کا پیغام ہے۔ ہمارے آپسی جھگڑے کسی بھی طرح ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔ اقبال کے شاہینوں تم کب تک خواب غلفت کی نیند سوتے رہوگے۔ جاگ جائو کہ تمہیں اقبال کے خواب کو تعبیر دینا ہے۔ تمہیں اقبال کاشاہین بننا ہے۔ تمہیں خودی اور خودداری سے جینا ہے۔ اس لیے کہ تم مسلمان ہو اور مسلمانوں سے زیادہ کسی میںبھی خودی اور خودداری نہیں پائی جاتی۔مسلمان سے زیادہ کوئی قوم بہادر نہیں ہوا کرتی۔ بشرطیکہ وہ واقعی مسلمان ہو مسلمان کہہ دینے سے کوئی مسلمان نہیں ہوجاتا۔ مسلمان اپنے اعمال سے مسلمان ہوتا ہے جسے کوئی دنیا کی طاقت کبھی جھکا نہیں سکتی۔ وہ صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتا ہے۔
٭٭٭

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے