اب سے بہت دن پہلے میں سوئٹزر لینڈ میں ایک تقریب میں مدعو تھا۔ وہاں میری ملاقات ایک ہندستانی مسلمان سے ہوئی۔ تقریب کے خاتمے پر اس ہندستانی مسلمان نے مجھ سے پوچھا کہ
’’کیا آپ مولانا مودودی کو جانتے ہیں؟‘‘
میں نے کہا کہ ’’الحمد للہ میں انہیں جانتا ہوں۔‘‘
ان صاحب نے مجھ کہا کہ ’’آپ کی عنایت ہوگی اگر آپ میری طرف سے مولانا تک یہ بات پہنچادیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کے حضور میں ایک آدمی کی شہادت کوئی اہمیت رکھتی ہے تو قیامت کے دن میں اللہ کے حضور اس امر کی شہادت دوں گا کہ جس شخص نے میری زندگی کا دھارا بدل دیا اور مجھے ایک اچھا مسلمان بنایا، وہ مولانا مودودی ہیں۔ مولانا مودودی کی خدمت میں میرا یہ احساس بھی پہنچادیجئے کہ بے شک ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو آپ کے ساتھ معاندانہ رویہ رکھتے ہیں، لیکن اگر خدا کے حضور میں ایک آدمی کی شہادت اس کی مغفرت کا سبب بن سکتی ہے تو آخری فیصلے کے روز میں کھڑا ہوکر اللہ تعالیٰ سے یہ درخواست کروں گا کہ وہ مولانا مودودی کو اپنی رحمت سے نوازے اور انہیں اپنے برگزیدہ بندوں میں شامل کرے، کیونکہ انہوں نے مجھ کو ایک اچھا مسلمان بننے میں مدد دی ہے۔‘‘
حقیقت یہ ہے کہ ایک آدمی کی سب سے گراں قدر متاع جس پر وہ بجا طور پر فخر کرسکتا ہے، اس کا مال و دولت نہیں ہے، اس کے کارخانے اور فیکٹریاں نہیں ہیں، وہ اعزازات و خطابات بھی نہیں ہیں، جو حکومت نے اسے دیے ہوں، بلکہ اس کی سب سے قیمتی متاع اس کی سیرت و کردار ہے۔ اور اگر کسی آدمی کی سیرت و کردار کو تبدیل کرنا اور اس میں کوئی قابل قدر تغیر کردینا ممکن ہے تو جو شخص یہ کام سر انجام دیتا ہے، وہ اس آدمی کی زندگی کا معمار ہوتا ہے اور اس سے آگے بڑھ کر وہ اس قوم کا معمار ہوتا ہے۔ اس نقطہ نظر سے میری رائے میں آج پاکستان کے سب سے عظیم انسان مولانا مودودی ہیں۔
میں نے گزشتہ پچیس سال پاکستان میں گزارے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ایک حد تک ہوش مندی ہی سے گزارے ہیں۔ میں پاکستان کی تاریخ کا اور اس کی سیاست و معیشت کا گہری نظر سے مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ میں اس بات کی تصدیق کرسکتا ہوں کہ اگر یہ سوال اٹھایا جائے کہ وہ کون سا فردِ واحد ہے جس نے پاکستان کے لوگوں کے کردار کو سب سے زیادہ مثبت طور پر متاثر کیا ہے تو میرا جواب یہ ہوگا… کہ وہ مولانا مودودی ہیں… میرے اس جواب کی بنیاد یہ ہے کہ یہ قرآن مجید ہی ہے جو بنیادی طور پر ایک کتابِ ہدایت ہے۔ یہ ہدایت ہے متقین کیلئے ۔ یہ کتاب آپ کو متقی بنا سکتی ہے اور آپ کو اس بلند ترین مقام تک پہنچنے میں مدد و رہنمائی کرسکتی ہے جس تک پہنچنے کی آپ کے اندر صلاحیت موجود ہے۔ اب وہ شخص کہ جو اس کتاب ہدایت کی تشریح و توضیح کا کام انجام دے اور اپنے اوقات کو اس کوشش میں صرف کرے کہ وہ اس کتاب کی فہم میں آپ کی مدد کرے، وہی شخص در حقیقت آپ کا سب سے بڑا دوست ہوسکتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے سب سے بڑے دوست اور بہی خواہ مولانا مودودی ہیں۔
جہاں تک مولانا مودودی کے دشمنوں اور مخالفوں کا تعلق ہے میں اس سلسلے میں کچھ زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں سمجھتا۔ صرف قرآن کریم ایک آیت دہرانا چاہتا ہوں ، ارشاد ہوا ہے:
’’ہم اس قرآن میں وہ کچھ نازل کررہے ہیں جو ماننے والوں کیلئے
تو شفا اور رحمت ہے مگر ظالموں کیلئے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔‘‘
اب اگر قرآن خود اپنے بارے میں یہ بتاتا ہے کہ اس کے کیا اثرات لوگوںپر مرتب ہوتے ہیں، یعنی مؤمنین پر اس کا یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ ان کے اندر بھلائی اور خیر کو بڑھاتا ہے اور ظالموں پر اس کے بر عکس اثر ہوتا ہے کہ وہ ان کے تذبذب اور بے یقینی میں اضافے کاموجب بنتا ہے تو اس سے یہ بات خود نکلتی ہے کہ اسی قرآن کی تفسیر و تشریح کرنے والی کسی شخصیت کے بارے میں کس قسم کے لوگوں میں کسی نوع کے اثرات اور کیا ردِّ عمل پیدا ہوگا۔ جب ہم اس معیار پر مولانا مودودی کے بارے میں میں لوگوں کے رد عمل لیتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ جو لوگ خدا سے محبت رکھتے ہیں، سچائیوں اور صداقتوں سے پیار کرتے ہیں اور انسانی کردار کی عظمت و پاکیزگی کو پسند کرتے ہیں، وہ لوگ مولانا کی عزت و تکریم پر خود کو مجبور پاتے ہیں۔ اس کے برعکس جن لوگوں کو خدا کے دین سے کوئی سروکار نہیں ہے اور ان کے مقاصد و مشاغل کچھ دوسرے ہیں، وہ اپنے کھیل یونہی کھیلتے چلے جائیں گے۔ اس لئے مولانا سے میری یہی گزارش ہے کہ وہ ان کے بارے میں قرآنی آیت واھجرہم ہجرا جمیلاکے مصداق درگزر کا معاملہ اختیار فرمائیں اور مجھے یقین ہے کہ وہ ایسا ہی کررہے ہیں۔
آخری بات میں تفہیم القرآن کے بارے میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ مولانا مجھ پر یہ عنایت فرماتے رہے ہیں کہ جونہی تفہیم القرآن کی کوئی جلد شائع ہوتی تو وہ اپنے دستخطوں کے ساتھ مجھے اس کا ایک نسخہ بھجوا دیتے۔ میرے پاس مولانا کی عطا کردہ تفہیم القرآن کی سبھی جلدیں محفوظ ہیں۔ اسلامیانِ پاکستان کو یہ بات جاننی چاہئے کہ بے شک قرآن خوانی اپنی جگہ بڑی اچھی چیز ہے ۔
لیکن اصل اہمیت قرآن فہمی کی ہے اورمولانا نے اپنی تفسیر کا نام ہی تفہیم القرآن رکھا ہے۔ یہ کتاب آپ کے فہم کو بڑھانے میں مدد دیتی ہے اور اس کے شعور سے بہرہ ور کرتی ہے۔
جس قدر زیادہ مسلمان اس کتاب کا مطالعہ کرسکیں اسی قدر یہ مفید اور نتیجہ خیز ہوگا۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ آج پورا عالم اسلامی بجا طور پر مولانا کا ممنون ہے
کہ انہوں نے قرآن کی ایک عظیم خدمت انجام دی ہے۔
میں نے جو کچھ کہا ہے دل کی گہرائی سے کہا ہے مجھے یقین ہے کہ جو کچھ میں نے آج کہا ہے میں کل بھی یہی کچھ کہہ سکوں گا اور اگر یوم آخرت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے میری شہادت طلب فرمائی تو میں اس وقت بھی یہی گواہی دوں گا جو آج دے رہا ہوں۔ (عبد العزیز)