کاکروچ کے ہاتھوں مودی سرکار کی دوسری شکست

کاکروچ کے ہاتھوں مودی سرکار کی دوسری شکست

کاکروچ کے ہاتھوں مودی سرکار کی دوسری شکست

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

امریکہ کے اندر مظاہرین نے جس طرح سرسنگھ چالک کو اپنا لب ولہجہ بدلنے پر مجبور کردیا اسی طرح دہلی میں مودی سرکار نے دوسری بار سپریم کورٹ میں کاکروچ جنتا پارٹی کے آگے گھٹنے ٹیک دئیے۔ مرکزی حکومت نے خود سپریم کورٹ کے اندردرخواست دائر کرکے جولائی میں نوجوانوں کے احتجاج سے متعلق دہلی میں درج 13؍ ایف آئی آر ختم کرنے کی اجازت مانگ لی۔ا پنی ہر غلطی پر اڑ جانےوالی اڑیل حکومت کی یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔ان ایف آرکو منسوخ ہی کروانا تھا تو قائم ہی کیوں کیا؟ دراصل اس کا مقصد طلبا اور نوجوانوں کو ڈرانا تھا مگر اب یہ خود خوفزدہ ہیں۔ درج شدہ ایف آئی آر کو واپس لینے کا اختیارچونکہ انتظامیہ کے پاس نہیں ہوتا اس لیے مودی سرکارنے آئین کی دفع 142؍ کے تحت عدالت سے گہار لگائی کہ وہ اپنے خصوصی اختیارات استعمال کرکے انہیں ختم کرے۔ اس طرح خود اپنے دام میں پھنسی ہوئی مودی سرکارنے اس سے نکلنے کے لیے اسی سی جی آئی سوریہ کانت سے مدد مانگی جن کی بدزبانی نے سی جے پی کو جنم دیا۔
مودی سرکار کے نام نہادچانکیہ امیت شاہ نے اگر ان 13؍ مقدمات کو قائم کرتے ہوئے عقل سے کام لیا ہوتا تو اس میں فساد، اقدامِ قتل، ڈکیتی اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانےجیسے سنگین الزامات کا اندراج نہ کرواتے لیکن اس وقت تو دماغ میں ایسا گھمنڈ بھرا ہوا تھا کہ ہم جو مرضی ہے کریں گے، کس کی مجال ہے ہمیں روکے؟ ملک کے طلبا اور نوجوانوں نے مغرور سرکار کے دماغ سے رعونت نکال دی۔ اب وہ عدالت کے سامنے گڑگڑا کر کہہ رہی ہے کہ ان واقعات کے سلسلے میں آئندہ بھی کوئی نئی ایف آئی آر درج نہیں کی جائے گی۔حکومت نے اپنے سالیسیٹر جنرل کے توسط سے یقین دہانی کروائی کہ اگر اسی نوعیت کا کوئی مقدمہ بعد میں سامنے آتا ہے تو حکومت اسے ختم کرنے کی مخالفت نہیں کرے گی۔ یہ شرافت نہیں مجبوری ہے۔ سونم وانگ چوک کو اغوا کرنے کے بعد نوجوان مظاہرین پر اپنے نجی غنڈے تک چھوڑ دینے والے۔ ان پر تشدد کے لیے کیلوں والی لاٹھیاں برسانے والے اور پیلیٹ گن تک چلوانے والوں سے شرافت کی توقع کرنا حماقت ہے لیکن مجبوری شیطان کو بھی سادھو بنادیتی ہے۔
کاکروچ پارٹی کودنڈوت پرنام(سجدہ ریز ) کرنے والی بی جے پی کے من کی بات تو مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے ظاہر کردی ۔ پونے میں کانگریس کے زیر اہتمام چھاتروں کی گونج کے بعد موصوف نے خود اپنے حلقۂ انتخاب میں طلباء اور نوجوانوں سے رابطہ کرنے کی ایک ناکام کوشش کی۔ اس میں بری طرح ناکام ہونے کے بعدانہوں نے شہر پونے میں بی جے پی کے ریاستی کنونشن کا اہتمام کروایا اور وہاں سے خطاب کرتے ہوئے کاکروچ جنتا پارٹی پر اپنا نزلہ اتار دیا۔ سی جے پی پر سخت تنقید کرتے ہوئے وہ اسے "کانگریس جتاؤ پروگرام” قرار دے دیا۔ دیویندر فڈنویس نے الزام لگایا کہ کاکروچ جنتا پارٹی کے نوجوان محض مہرے ہیں، جبکہ اصل لوگ پسِ پردہ رہ کر کام کر رہے ہیں۔ان کا دعویٰ ہے کہ سی جے پی کے پیچھے وہ لوگ سرگرم ہیں جو راہل گاندھی کی ‘بھارت جوڑو یاترا’ کا حصہ تھے۔ یہ الزام اگر درست ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے مرکزی حکومت نے ابھیجیت دِپکے کے ہندوستان آتے ہی ہوائی اڈے پر جنتر منتر کا اجازت نامہ کیوں دیا اور اب سپریم کورٹ نے اندر سارے مقدمات واپس لینے کی درخواست کیوں کی؟ کیا کوئی اپنے دشمن کے دلالوں کے آگے اس طرح ہتھیار ڈالتا ہے؟انسان کو جھوٹ بھی سوچ سمجھ کر بولنا چاہیے۔
مودی سرکار اور سنگھ پریوار کے بارے میں اب یہ بات جگ ظاہر ہوچکی ہے کہ یہ لوگ پہلے تو اپنے مخالف کو دھمکاتے ہیں اور اگر وہ نہیں ڈرتے تو خود ڈر جاتے ہیں ۔ کاکروچ پارٹی کے ساتھ یہی ہوا ۔ملک بھر کے اندر مقابلہ جاتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف اس کے احتجاج کا آغاز 6؍ جون کو جنتر منتر سے ہوا ۔ اسے بزورِ قوت کچلنے کے لیے 20؍ جولائی کو پارلیمنٹ کی جانب مارچ کے دوران پولیس کارروائی میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے استعمال کے ساتھ پیلٹ گن بھی چلائی مگر اس سے ڈرنے کے بجائے مظاہرین ڈٹ گئے ۔ اس تحریک نے مودی سرکارسے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ لے کر بڑی کا میابی درج کرائی اوراپنی ساری شرائط منوا کر تحریک کو 36 دنوں کے بعد ختم کردیا ۔ مرکزی وزیر تعلیم کا استعفیٰ لے کر مظاہرین تو خوشی خوشی لوٹ گئے مگر حکومت اپنے وعدوں سے مکرکر احتجاج کرنے والوں پر مقدمات درج کرکے انہیں ہراساں کرنےلگی ۔ نوئیڈا کی پندرہ سالہ یتیم طالبہ کی مثال سب کے سامنے ہے کہ جسے معافی کے باوجود پریشان کیا جاتا رہا یہاں تک کہ اس کی بیوہ ماں کو نقلِ مکانی کرنا پڑا۔ اس کے باوجود اس دلیر بیٹی نے اپنے بیان میں کہا گو کہ میرا جینا حرام کردیا گیا مگر ’مودی جی‘ میں نہیں ڈروں گی۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے اس سنگین صورتحال سے حکومت کو خبردار کیاکہ وہ مظاہرین کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لے ورنہ انہیں دوبارہ احتجاج کرنا پڑے گا۔سی جے پی کے ترجمان سورو داس نے کہا کہ جب 25 تاریخ کو تحریک کو ختم کی گئی تھی ، تو انہیں خدشہ تھا کہ جیسے ہی تحریک ختم ہوگی حکومت مظاہرین کو نشانہ بنائےگی ۔ اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کے نوجوان حکومت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں ۔ سورو داس کے مطابق یہ خدشہ اس لیے تھا کیونکہ پہلے بھی بڑی تحریکوں کے ساتھ ایسا رویہ دیکھا گیا ہے، جہاں احتجاج ختم ہونے کے بعد مخصوص افراد کو نشانہ بنا کر جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا۔سی جے پی کے دوسرے ترجمان آشوتوش رانکا نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس نہیں لیے تو وہ دوبارہ احتجاج کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اس پریس کانفرنس میں، سی جے پی رہنما رتنا سنگھ نے انکشاف کیا کہ آسام، بہار اور مغربی بنگال کے مظاہرین کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے گرفتار بھی کیا گیا۔ سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے مظاہرین کی حفاظت کے لیے ایک کروڑ کے ذاتی تعاون سے ‘قانونی دفاعی فنڈ’ بنانے کا اعلان کرکے نوجوانوں کا حوصلہ بڑھایااور دیگر وکلا سے طلبہ پرجھوٹے مقدمات کے خلاف لڑنے میں تعاون کرنے کی اپیل کی ۔
کاکروچ جنتا پارٹی نے بالآخر پانچ ستمبر کو نئی دہلی میں احتجاجی مارچ کرنے کا اعلان کرہی دیا ۔اس کے خلاف دہلی پولیس کے سبکدوش افسر راجندر سنگھ نے سپریم کورٹ سے فوری مداخلت کرنے کی درخواست دائر کردی ۔ ان کے وکیل نے دلیل دی کہ منتظمین نے مارچ کے لیے پولیس سے اجازت نہیں مانگی۔ انہوں نے اپنی درخواست میں 12-13 ستمبر کو ہونے والے برکس سربراہی اجلاس کے بعد تک لوٹینز دہلی میں کسی بھی مجوزہ احتجاج کو ریگولیٹ کرنے، ملتوی کرنے یا اس میں ترمیم کرنے پر زور دیا ۔ انہیں اجلاس کے دوران دارالحکومت میں بین الاقوامی معززین اور میڈیا کی موجودگی پر تشویش تھی۔ 20 جولائی کو سی جے پی کے ‘پارلیمنٹ مارچ’ کے دوران ہونے والے تشدد کا حوالہ دے کر خبردار کیا گیا کہ ایک اور واقعہ رونما ہوسکتا ہے، چاہے براہ راست منتظمین کی وجہ سے کیوں نہ ہو۔ اس مقدمہ نے چیف جسٹس سوریہ کانت کو اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کا نادر موقع عطا کیا اور انہوں نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنا بنیادی طور پر حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہے۔ بنچ نے مشاہدہ کیا کہ، اس مرحلے پر، یہ ماننے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ مجوزہ مظاہرہ کسی ناخوشگوار واقعے کا باعث بنے گا۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے اپنے تبصرے میں کہا کہ "ابھی کے لیے، ہم کم از کم یہ مان لیں گے کہ ہر کوئی پرامن طریقے سے کام کرے گا‘‘۔ اس طرح گویا انہوں نوجوانوں کے پرامن احتجاج کا تسلیم کرلیا۔ اس کے بعد یکم ستمبر کو سپریم کورٹ نے یہ حکم دے دیا کہ 20 جولائی سے 25 جولائی کے درمیان اس احتجاج کے سلسلے میں کسی ریاست یا مرکز کے زیر انتظام علاقے میں کوئی اور ایف آئی آر درج کی گئی ہے اسے ختم سمجھا جائے گا۔ اس طرح احتجاجی مظاہروں میں شامل طلبہ کے خلاف درج تمام ایف آئی آر منسوخ ہوگئیں۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اس معاملے میں مزید کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی ۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ کی بنچ نے ’ خودکشی کرنے والے طلبہ کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے کے معاملے میں مرکزی حکومت کوملک گیر پالیسی بنانے اور متاثرہ خاندانوں کو تین ماہ کے اندر رقم ادا کرنے کی ہدایت دی۔ اس کے بعد ہی کاکروچ جنتا پارٹی نے قومی دارالحکومت میں 5 ستمبر کو ہونے والے مجوزہ مارچ کو منسوخ کر دیا اس لیے کہ ان کے سارے مطالبات کو عدالت نے حکومت کے ذریعہ منظور کروا لیا۔ عدالت عظمیٰ اور مرکزی حکومت کے بدلے ہوئے رویہ سے سے دو باتیں ثابت ہوتی ہیں۔ پہلی تو یہ کہ ’جھکتی ہے دنیا جھکانے والا چاہیے‘ اور دوسری یہ کہ اگر حکومت پہلے ہی اس طرح کی دانشمندی کا مظاہرہ کرتی تو اس کےہاتھ زبردست رسوائی نہ آتی مگر موجودہ سرکار کے مقدر میں جو ذلت لکھی تھی اس سے وہ کیونکر بچ سکتی تھی؟ مشیت ہر ظالم سے انتقام لیتی ہے وہ کسی کو نہیں بخشتی۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے