افسانہ ____ خاموش وزیر اور بولتا شہر!

افسانہ ____  خاموش وزیر اور بولتا شہر!

___ افسانہ ___
خاموش وزیر اور بولتا شہر!

ازقلم: افتخاراحمدقادری، پورن پور

کہتے ہیں کہ ایک عجیب و غریب سلطنت تھی جس کا نام "خاموشستان” تھا۔ اس سلطنت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ وہاں ہر چیز بولتی تھی سوائے حکمران کے۔ درخت ہوا سے شکایت کرتے، پرندے آسمان سے بحث کرتے، سڑکیں گڑھوں پر احتجاج کرتیں، ندی اپنے خشک ہونے پر آنسو بہاتی، اخبار چیختے، ٹی وی اسکرینیں گرجتیں، سوشل میڈیا دن رات آگ اگلتا حتیٰ کہ چائے کا کپ بھی کھولتے ہوئے کہتا: "صاحب! ملک میں کچھ تو ہو رہا ہے” لیکن وزیر اعلیٰ صاحب ایسے خاموش تھے جیسے کسی نے ان کی زبان کو سرکاری فائل کے ساتھ سیل کرکے الماری میں رکھ دیا ہو۔
شہر کے ایک بزرگ نے ایک دن کہا: "بیٹا! پہلے لوگ خاموشی کو سونا کہتے تھے مگر اب لگتا ہے یہ پلاٹینم بن گئی ہے کیونکہ ہمارے وزیر اعلیٰ نے اتنی خاموشی جمع کرلی ہے کہ اگر اسے بازار میں بیچ دیں تو بجٹ کا خسارہ پورا ہو جائے” لوگ ہنس پڑے…
اسی شہر میں ایک نوجوان رہتا تھا جس کا نام تھا "سوال خان” اس کی عادت تھی کہ ہر بات پر سوال کرتا تھا۔ اس نے ایک دن اپنے دوست "جواب علی” سے پوچھا: یار! یہ بتاؤ ملک میں اتنے ہنگامے ہیں، پیپر لیک کی خبریں آرہی ہیں، کہیں چندے کے حساب پر سوال اٹھ رہے ہیں، کہیں نئی نئی سیاسی مہمیں شروع ہورہی ہیں، کہیں مسجد و مندر کے نام پر بحث گرم ہے لیکن ہمارے وزیرِ اعلیٰ کی آواز آخر گئی کہاں؟ جواب علی نے قہقہہ لگایا… "آواز کہیں نہیں گئی صرف سرکاری آرام پر ہے”۔ "سرکاری آرام؟” "ہاں جیسے بعض فائلیں زیرِ غور رہتی ہیں ویسے ہی ان کی تقریر بھی زیرِ غور ہے”۔ اتنے میں سامنے سے ایک طوطا گزرا۔ طوطا بولا "میں روز سرکاری عمارت کے درخت پر بیٹھتا ہوں۔ اندر سے صرف پنکھے کی آواز آتی ہے باقی سب خاموش”۔ ایک کوّا فوراً بولا "جھوٹ بول رہا ہے” طوطا چونکا "کیوں؟” کوّا بولا "پنکھا بھی بند رہتا ہے بجلی بچائی جاتی ہے۔” پورا بازار ہنسنے لگا…
اسی دوران شہر میں اعلان ہوا کہ وزیر اعلیٰ صاحب عوام سے ملاقات کریں گے۔ ہزاروں لوگ جمع ہوگئے۔ کسی نے سوچا آج ضرور بڑے فیصلے ہوں گے۔ کسی نے کہا آج خاموشی ٹوٹے گی۔ کسی نے کہا آج شاید مائیک بھی خوش ہو جائے۔ وزیر اعلیٰ تشریف لائے۔ مائیک ان کے سامنے رکھا گیا۔ مائیک نے دل ہی دل میں دعا مانگی "یا الله! آج مجھے بھی بولنے کا موقع نصیب فرما”۔ وزیرِ اعلیٰ نے گلا صاف کیا۔ پورا مجمع سانس روک کر کھڑا ہوگیا۔ انہوں نے پانی پیا۔
سب نے انتظار کیا۔ انہوں نے رومال نکالا۔ سب مزید متوجہ ہوگئے۔ انہوں نے چشمہ سیدھا کیا۔ صحافی نوٹ بک کھول کر بیٹھ گئے۔ پھر وزیرِ اعلیٰ نے صرف ایک جملہ کہا "سب کچھ قانون کے مطابق ہوگا” اور کرسی سے اٹھ کر چلے گئے۔ مائیک وہیں بے ہوش ہوگیا۔ ڈاکٹر بلایا گیا۔ ڈاکٹر نے نبض دیکھی اور کہا "یہ مسلسل انتظار کی بیماری میں مبتلا ہے۔” چند روز بعد شہر کے بچوں نے ایک نیا کھیل ایجاد کیا۔ کھیل کا نام تھا "وزیرِ اعلیٰ بنو” ایک بچہ کرسی پر بیٹھ جاتا۔ باقی بچے اس سے سوال کرتے۔ "پیپر لیک پر کیا کہیں گے؟” وہ خاموش۔ "چندے کے تنازع پر کیا کہیں گے؟” خاموش۔ "فرقہ وارانہ سیاست پر کیا کہیں گے؟” خاموش۔ پھر سب بچے تالیاں بجاتے اور کہتے "شاباش! تم اصلی وزیرِ اعلیٰ بن گئے۔” یہ کھیل اتنا مقبول ہوا کہ کھلونوں کی دکانوں پر "خاموش وزیر سیٹ” بکنے لگا۔ اس میں ایک کرسی، ایک بند مائیک اور ایک خالی تقریر شامل ہوتی تھی۔ ایک صحافی نے سوچا کہ شاید وزیرِ اعلیٰ کی خاموشی کے پیچھے کوئی فلسفہ ہوگا۔ وہ انٹرویو لینے پہنچ گیا۔ پوچھا: "سر! آپ ہر معاملے میں خاموش کیوں رہتے ہیں؟” وزیرِ اعلیٰ نے مسکرا کر کہا: "خاموشی بہترین پالیسی ہے۔” صحافی نے عرض کیا: "لیکن حضور! کبھی کبھی بولنا بھی بہترین پالیسی ہوتی ہے” وزیرِ اعلیٰ نے جواب نہ دیا۔ صحافی نے اپنی ڈائری میں لکھا "جواب بھی خاموشی کے سپرد کردیا گیا۔”
ادھر شہر کے شاعر نے ایک مشاعرے میں شعر پڑھا "بولے نہ کبھی صاحبِ اقتدار حضور، خاموشی ہوئی ان کی سرکاری دستور۔” لوگوں نے خوب داد دی۔ ایک طرف امتحان دینے والے طلبہ پریشان تھے۔
وہ کہتے "ہمارا پیپر تو امتحان سے پہلے ہی بازار پہنچ گیا مگر وزیرِ اعلیٰ کا بیان ابھی تک بازار نہیں پہنچا۔” دوسری طرف چندہ دینے والے لوگ حساب پوچھ رہے تھے۔ انہیں جواب میں صرف اتنا ملتا "تحقیق جاری ہے۔” ایک شخص بولا "تحقیق تو اتنی لمبی ہوگئی ہے کہ لگتا ہے اب اس کی بھی ریٹائرمنٹ قریب ہے۔” بازار میں ایک نئی دکان کھلی۔
نام تھا "بیانات کرائے پر ملیں گے۔ لوگ حیران ہوئے۔
دکاندار نے بتایا "اگر کسی لیڈر کے پاس بیان نہ ہو تو ہم کرائے پر دے دیتے ہیں۔ کسی نے پوچھا "وزیرِ اعلیٰ صاحب آئے تھے؟” دکاندار بولا "آئے تھے مگر بیان لینے کے بجائے خاموشی کا اسٹاک بڑھا کر لے گئے”۔ یہ سن کر پورا بازار قہقہوں سے گونج اٹھا۔
شہر کی گھڑی نے بھی ایک دن احتجاج کردیا۔ اس نے وقت بتانا بند کردیا۔ لوگوں نے پوچھا "کیا ہوا؟” گھڑی بولی "جب فیصلوں کا وقت ہی نہ آئے تو میں وقت بتا کر کیا کروں؟” اسی دوران ایک بابا شہر میں آئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ہر بند چیز کھول سکتے ہیں۔ تالے کھول سکتے ہیں۔ گرہیں کھول سکتے ہیں۔ قسمت کھول سکتے ہیں۔ لوگ انہیں وزیرِ اعلیٰ کے پاس لے گئے۔ بابا نے بہت کوشش کی۔ آخر تھک کر بولے "میں ہر تالا کھول سکتا ہوں مگر یہ خاموشی نہیں کھول سکتا۔”
ایک روز اسمبلی کے باہر ایک کتا بیٹھا تھا۔صحافیوں نے مذاق میں پوچھ لیا "تم یہاں کیوں بیٹھے ہو؟” کتا بولا: "میں بھونکنے آیا تھا مگر سوچا کہیں میری آواز وزیرِ اعلیٰ کی تقریر سے زیادہ نہ ہو جائے اس لیے خاموش بیٹھ گیا ہوں۔” شہر کے گدھے بھی پریشان تھے۔ ایک گدھا دوسرے سے کہنے لگا” پہلے لوگ ہمیں مثال دیتے تھے اب خاموشی کی مثال وزیرِ اعلیٰ سے دیتے ہیں۔ ہماری عزت واپس کرو۔” ایک اُلو رات بھر جاگتا رہا۔ صبح کسی نے پوچھا "کیا دیکھ رہے تھے؟” بولا "انتظار کررہا تھا کہ شاید آج کوئی بیان آجائے۔” لوگوں نے کہا "فضول جاگے تمہیں ابھی سیاست کا تجربہ نہیں۔”
ایک دن وزیرِ اعلیٰ نے اچانک پریس کانفرنس بلائی۔ پورا میڈیا دوڑتا ہوا پہنچا۔ کیمرے آن ہوگئے۔ لائیو نشریات شروع ہوگئیں۔ صحافیوں نے سوالات تیار کرلیے۔ وزیرِ اعلیٰ نے مائیک پکڑا۔ سب کے دل دھڑکنے لگے۔ انہوں نے کہا: "آپ سب کا شکریہ۔” اور واپس چلے گئے۔ ایک چینل نے بریکنگ نیوز چلائی "وزیرِ اعلیٰ نے دو الفاظ بول کر خاموشی کا نیا ریکارڈ قائم کردیا۔” شہر کی لائبریری میں ایک نئی کتاب آئی۔ عنوان تھا "خاموش رہنے کے ایک ہزار آسان طریقے۔” مصنف کا نام خالی چھوڑ دیا گیا۔ قارئین سمجھ گئے کہ مصنف کون ہوسکتا ہے۔
آخرکار سوال خان نے فیصلہ کیا کہ وہ وزیرِ اعلیٰ کو ایک تحفہ دے گا۔ وہ ایک خوبصورت صندوق لے کر پہنچا۔ وزیرِ اعلیٰ نے پوچھا "اس میں کیا ہے؟”
سوال خان بولا "اس میں ایک تقریر ہے۔ جب کبھی مناسب سمجھیں کھول کر عوام کے سامنے پڑھ دیجیے گا۔” وزیرِ اعلیٰ نے صندوق الماری میں رکھ دیا۔ کہتے ہیں وہ صندوق آج بھی وہیں رکھا ہے۔ لوگ جب کبھی اس الماری کے پاس سے گزرتے ہیں تو انہیں اندر سے ہلکی سی آواز سنائی دیتی ہے "مجھے باہر نکالو… مجھے عوام تک پہنچنے دو…” مگر الماری کا تالا مسکرا کر کہتا ہے "صاحب! یہاں تقریروں سے زیادہ خاموشیوں کی حفاظت کی جاتی ہے۔” کہانی ختم ہوئی تو قصہ گو نے سامعین سے کہا: "یہ محض ایک افسانہ ہے۔ اگر کسی کردار، کسی عہدے، کسی شہر یا کسی واقعے سے مشابہت محسوس ہو تو اسے محض اتفاق سمجھیے کیونکہ افسانے اکثر آئینہ ہوتے ہیں، اور آئینے کا جرم صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ چہرہ ویسا ہی دکھا دیتا ہے جیسا سامنے کھڑا ہو۔” اور مجمع میں بیٹھا ایک بوڑھا مسکرا کر بولا: "بیٹا! اس افسانے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں سب بولتے رہے صرف وہی خاموش رہا جس سے سب سے زیادہ بولنے کی امید تھی۔”
* ایم.اے اردو، گنا کرسک اسناتکوتر مہاودیالیہ، پورن پور، پیلی بھیت

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے