مولانا حمید الدین حسامی عاقلؒ کی دینی و ملی خدمات ناقابلِ فراموش : مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی
حیدرآباد4ستمبر(راست)علماء انبیائے کرام ؑ کے وارث ہیں اور امت کی دینی رہنمائی، اصلاح اور تربیت کی ذمہ داری علماء ہی انجام دیتے ہیں۔ حیدرآباد، دکن اور ہندوستان کی دینی و ملی تاریخ میں حضرت مولانا محمد حمید الدین حسامی عاقلؒ کی شخصیت علم، دعوت، اصلاح اور ملی خدمت کے حوالے سے ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ ان کی دینی و ملی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ان خیالات کااظہارمولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی(ناظم مدرسہ اسلامیہ ریاض العلوم، فلک نما) نے کیا۔ نے نمازِ جمعہ سے قبل اپنے خطاب میں کیا۔انہوں نے کہا کہ مولانا عاقلؒ ایک علمی و دینی گھرانے میں پیدا ہوئے۔
ان کے والد محترم علامہ فاضلؒ اپنے دور کے ممتاز عالمِ دین، خطیب، مفسر، ماہرِ تعلیم اور عثمانیہ یونیورسٹی کے استاد تھے۔ مولانا عاقلؒ نے بچپن ہی سے اپنے والدین کی نگرانی میں دینی و روحانی تربیت حاصل کی اور بعد ازاں اپنے والد محترم سے خلافت و اجازت بھی حاصل کی۔مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی نے کہا کہ حضرت مولانا عاقلؒ کی شخصیت علم و عمل، تقویٰ، سادگی، خوش اخلاقی اور ظرافت کا حسین امتزاج تھی۔ آج بھی ان کا تذکرہ لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت اور عقیدت کو تازہ کردیتا ہے۔
ان کی زندگی کا ایک بڑا حصہ وعظ و تبلیغ اور اصلاحِ معاشرہ میں گزارا۔ وہ حیدرآباد کے علاوہ دکن کے مختلف اضلاع، قصبات اور دیہات کا مسلسل دورہ کرتے اور مسلمانوں تک دین کا پیغام پہنچاتے رہے۔ ان کے مؤثر خطابات کے ذریعے جنوبی ہند میں دینی شعور بیدار کرنے، اصلاحِ معاشرہ اور اسلامی تعلیمات کو عام کرنے میں نمایاں مدد ملی۔ ملک میں ایمرجنسی کے دور میں جب شہری آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد تھیں، اس وقت انہوں نے سرکاری نس بندی مہم کے خلاف بے باکانہ آواز بلند کی، جس کے نتیجے میں انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔ جیل میں ذکر، عبادت اور اصلاح کا سلسلہ جاری رکھا۔ جس سے متعدد قیدی متاثر ہوئے اورکئی افراد نے اسلام قبول کیا۔
اسی دوران ان کی اہلیہ محترمہ کا انتقال بھی ہوگیا، جو ان کی زندگی کا انتہائی کرب ناک مرحلہ تھا۔ مسلمانوں کی اجتماعی قیادت کے لیے 1968ء میں ذمہ دارانِ مساجد و علماء کا ایک مشاورتی اجتماع منعقد ہوا، جس میں مفتی عبدالحمید ؒ(شیخ الجامعہ نظامیہ)، کو امیرِ ملت منتخب کیا گیا، جبکہ مولانا محمد حمید الدین حسامی عاقلؒ اور مولانا محمد حامد صدیقیؒ کو معاونینِ امیرِ ملت مقرر کیا گیا۔1977ء میں مفتی عبدالحمیدؒ کے انتقال کے بعد دوبارہ مشاورت ہوئی اور بااتفاقِ رائے مولانا عاقلؒ کو امیرِ ملت منتخب کیا گیا۔ مولانا عاقلؒ نے دیگر ملی قائدین کے ساتھ مل کر یونائیٹڈ مسلم فورم کے پلیٹ فارم سے مسلمانوں میں سیاسی و ملی بیداری پیدا کرنے کیلئے ریاست بھر کے مختلف علاقوں کے دورے کیے اور اجتماعات سے خطاب کیا۔ اس جدوجہد میں مولانا عبدالرحیم قریشیؒ، سلیمان سکندرؒ اور دیگر ملی شخصیات کی خدمات بھی قابلِ ذکر ہیں۔مولانا عاقلؒ نے 2010ء میں اس دارِ فانی سے رحلت فرمائی۔
نمازِ جنازہ تاریخی مکہ مسجد میں لاکھوں سوگواروں کی موجودگی میں ادا کی گئی، تدفین آبائی قبرستان حسامیہ چمن، مادناپیٹ میں عمل میں آئی۔ ان کی وفات سے سرزمینِ دکن میں رشد و ہدایت، وعظ و اصلاح اور ملی رہنمائی کا ایک اہم باب بند ہوگیا۔ آج ضرورت ہے کہ نئی نسل کو مولانا عاقلؒ کی زندگی، علمی و اصلاحی جدوجہد اور ملی خدمات سے واقف کرایا جائے اور ان کے چھوڑے ہوئے علمی و اصلاحی مشن کو آگے بڑھایا جائے۔آخر میں مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مولانا محمد حمید الدین حسامی عاقلؒ کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی دینی و ملی خدمات کو شرفِ قبول عطا فرمائے اور امتِ مسلمہ کو علم، اتحاد، اصلاح اور خدمتِ دین کی توفیق عطا فرمائے۔