فیملی کاؤنسلنگ سینٹر (مسلم معاشرے کی ایک ناگزیر ضرورت)

فیملی کاؤنسلنگ سینٹر    (مسلم معاشرے کی ایک ناگزیر ضرورت)

فیملی کاؤنسلنگ سینٹر
(مسلم معاشرے کی ایک ناگزیر ضرورت)

 

ازقلم:عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری فیملی کاؤنسلر
9224599910
———

خاندان معاشرے کی پہلی اور بنیادی اکائی ہے ۔ جب خاندان مضبوط، پرسکون اور باہمی اعتماد پر قائم ہوں تو معاشرہ بھی مضبوط ہوتا ہے؛ لیکن جب گھروں میں مسلسل جھگڑے، بداعتمادی، غصہ، ضد، انا، معاشی اختلافات، ساس بہو کے مسائل، بچوں کی تربیت کے تنازعات اور میاں بیوی کے درمیان جذباتی دوری پیدا ہوجائے تو اس کے اثرات صرف دو افراد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پوری نسل متاثر ہوتی ہے۔

آج مسلم معاشرے کے سامنے ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیا ہر ازدواجی اختلاف کا آخری راستہ عدالت، پولیس 498A یا مقدمہ ہی ہے؟ ظاہر ہے ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ بہت سے اختلافات ایسے ہوتے ہیں جو بروقت مشاورت، صحیح رہنمائی، باہمی گفتگو، خاندان کے سمجھ دار افراد کی مداخلت اور تربیت یافتہ کاؤنسلر کی مدد سے گھر کی سطح پر حل ہوسکتے ہیں۔
اسی ضرورت نے فیملی کاؤنسلنگ سینٹر کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے۔

*فیملی کاؤنسلنگ سینٹر کیا ہے؟*

فیملی کاؤنسلنگ سینٹر ایسا محفوظ اور بااعتماد مرکز ہے جہاں خاندان، میاں بیوی یا خاندان کے دیگر افراد اپنے اختلافات اور مسائل کو کسی غیر جانب دار، تربیت یافتہ اور ذمہ دار کاؤنسلر کے سامنے بیان کرسکیں اور مسئلے کو سمجھنے، گفتگو بہتر بنانے، باہمی مفاہمت پیدا کرنے اور مناسب حل تلاش کرنے میں مدد حاصل کرسکیں۔

یہ مرکز نہ عدالت ہے، نہ پولیس اسٹیشن اور نہ کسی ایک فریق کو صحیح اور دوسرے کو غلط ثابت کرنے کا ادارہ۔
اس کا بنیادی مقصد ہے:

سننا > سمجھنا > جوڑنا > اصلاح کرنا > اور جہاں ضروری ہو باوقار علیحدگی کی رہنمائی کرنا۔

*مسلم معاشرے میں اس کی ضرورت کیوں ہے؟*
مسلم معاشرے میں خاندان کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ نکاح صرف دو افراد کا تعلق نہیں بلکہ دو خاندانوں اور آئندہ نسلوں سے متعلق ایک ذمہ دارانہ رشتہ ہے۔ اس لیے معمولی اختلاف کو انا کا مسئلہ بنا کر بڑھاتے چلے جانا، یا غصے میں طلاق اور علیحدگی کا فیصلہ کرلینا، خاندان کے لیے تباہ کن ہوسکتا ہے۔
آج مشترکہ خاندان کمjoint family ہورہے ہیں، بزرگوں کی رہنمائی محدود ہوگئی ہے، میاں بیوی دونوں کی معاشی و سماجی مصروفیات بڑھ گئی ہیں، سوشل میڈیا نے تعلقات کے نئے مسائل پیدا کیے ہیں اور ازدواجی زندگی سے توقعات بھی بدل گئی ہیں۔ نتیجتاً بہت سے ایسے مسائل پیدا ہورہے ہیں جنہیں صرف روایتی نصیحت سے حل کرنا آسان نہیں۔
اسی لیے ایسے مراکز کی ضرورت ہے جہاں دینی بصیرت، نفسیاتی سمجھ، سماجی شعور اور کاؤنسلنگ کی عملی مہارت ایک ساتھ دستیاب ہوں۔
آج اس کی ضرورت پہلے سے زیادہ کیوں ہے؟
آج ایک چھوٹا سا اختلاف بعض اوقات چند دنوں میں اس مرحلے تک پہنچ جاتا ہے جہاں شوہر طلاق کی بات کرتا ہے، بیوی خلع کا مطالبہ کرتی ہے، خاندان ایک دوسرے کے خلاف ہوجاتے ہیں اور پھر معاملہ پولیس، وکیل اور عدالت تک پہنچ جاتا ہے۔
حالاں کہ ابتدا ہی میں اگر دونوں فریقوں کو الگ الگ اور پھر مناسب مرحلے پر مشترکہ طور پر سنا جائے، مسئلے کی اصل وجہ تلاش کی جائے اور جذبات کے بجائے سمجھ داری سے بات کی جائے تو بہت سے معاملات کو بگڑنے سے روکا جاسکتا ہے۔

یہی Preventive Family Counseling یعنی پیشگی خاندانی کاؤنسلنگ کی اہمیت ہے۔

*طلاق، خلع اور علیحدگی سے پہلے مفاہمت کی کوشش*
ہر ازدواجی اختلاف کا مقصد ہر قیمت پر ساتھ رہنا نہیں، بلکہ انصاف، سلامتی اور باوقار حل ہونا چاہیے۔
جب میاں بیوی میں شدید اختلاف پیدا ہو تو فوری طور پر طلاق، خلع یا مقدمے کی طرف جانے کے بجائے پہلے مناسب کاؤنسلنگ اور مفاہمت کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

کاؤنسلنگ کے مراحل کچھ اس طرح ہوسکتے ہیں:
مسئلہ سامنے آئے > دونوں فریقوں کو الگ الگ سنا جائے > اصل وجہ معلوم کی جائے > جذبات اور غلط فہمیوں کو سمجھا جائے > حقوق و ذمہ داریاں واضح کی جائیں > مشترکہ گفتگو کرائی جائے > عملی معاہدہ بنایا جائے >
> کچھ عرصے بعد Follow-up کیا جائے۔
اس عمل میں مشاورت ، مفاہمت، رفاقت ، برداشت ، معافی اور رویوں میں تبدیلی کو اہمیت دی جائے۔
لیکن اگر کوششوں کے باوجود ازدواجی زندگی برقرار رکھنا ممکن نہ ہو تو علیحدگی بھی باوقار، منصفانہ اور شرعی و قانونی تقاضوں کے مطابق ہونی چاہیے۔

*کیا ہر معاملہ کاؤنسلنگ سے حل ہوسکتا ہے؟*
نہیں۔
یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کاؤنسلنگ کا مقصد ہر قیمت پر صلح کرانا نہیں۔ گھریلو تشدد، جنسی تشدد، سنگین ذہنی یا جسمانی خطرے، بچوں کے تحفظ کے مسائل یا ایسے معاملات جہاں کسی فریق کی سلامتی خطرے میں ہو، وہاں Safety First کا اصول اختیار کرنا ضروری ہے۔
ایسے معاملات میں کاؤنسلر کو مناسب قانونی، طبی یا نفسیاتی ماہر کی مدد لینے کا مشورہ دینا چاہیے۔
مسجد، مدرسہ، اسکول اور کمیونٹی کی عمارتیں کیوں نہیں؟

فیملی کاؤنسلنگ کے لیے ہر جگہ مہنگی عمارت یا بڑا دفتر ضروری نہیں۔
مساجد کے اضافی کمرے، مدارس کے مناسب حصے، اسکولوں کے خالی اوقات کے کمرے، کمیونٹی ہال، جماعتی دفاتر یا سماجی اداروں کی جگہیں اس کام کے لیے استعمال کی جاسکتی ہیں۔

اصل ضرورت جگہ سے زیادہ نظام اور تربیت یافتہ افراد کی ہے۔
ایک چھوٹے سے مرکز میں بھی ہفتے کے مخصوص دن اور اوقات مقرر کرکے یہ خدمت شروع کی جاسکتی ہے۔

*علماء اور اساتذہ کا کردار*
ہمارے علماء کو مسلم خاندانوں کا اعتماد حاصل ہے۔ وہ نکاح، طلاق، خلع، حقوق الزوجین، میراث اور اسلامی خاندانی احکام سے واقف ہوتے ہیں۔ اس لیے وہ فیملی کاؤنسلنگ کے اہم شراکت دار بن سکتے ہیں۔

لیکن آج کے پیچیدہ خاندانی مسائل کے لیے صرف فقہی معلومات کافی نہیں۔ عالمِ دین کو بنیادی Counseling Skills، Active Listening، Communication، Conflict Resolution، Psychology اور Family Dynamics سے بھی واقف ہونا چاہیے۔
اسی طرح اسکول کے اساتذہ، ائمہ، سماجی کارکنان اور خواتین کارکنان کو بھی بنیادی تربیت دی جاسکتی ہے۔
بہترین ماڈل یہ ہوسکتا ہے:

عالمِ دین + فیملی کاؤنسلر + ماہرِ نفسیات + قانونی ماہر
یہ چاروں مل کر ایک ایسا نظام تشکیل دے سکتے ہیں جس میں دینی رہنمائی، نفسیاتی مدد اور قانونی شعور ایک دوسرے کی تکمیل کریں۔

*کیا مسلم ادارے پہلے سے یہ کام کررہے ہیں؟*

یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ یہ کام کہیں نہیں ہورہا۔ ملک میں مختلف مسلم ادارے مختلف انداز سے دارالقضاء، ثالثی، خاندانی مشاورت، قانونی رہنمائی اور سماجی اصلاح کا کام کررہے ہیں۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (AIMPLB) کے مقاصد میں مسلم خاندانوں میں شریعت کے خاندانی احکام سے آگاہی، سماجی اصلاح اور دارالقضاء کے قیام و فروغ کا ذکر موجود ہے۔ اس کی ویب سائٹ پر دارالقضاء کو خاندانی و دیگر تنازعات کے شرعی حل کا ادارہ بتایا گیا ہے۔

اسی طرح امارتِ شرعیہ، پٹنہ اور اس سے وابستہ دارالقضاء بھی خاندانی تنازعات، نکاح، طلاق، خلع وغیرہ کے معاملات میں رہنمائی اور مصالحت کا کام کرتے ہیں۔ امارتِ شرعیہ کے مطابق دارالقضاء میں فریقین کو باہمی رضامندی سے معاملہ حل کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

جماعتِ اسلامی ہند نے بھی فیملی اور کاؤنسلنگ کے شعبے کو باقاعدہ اہمیت دی ہے۔ 2025 میں اس کے Family and Counselling Department کے بارے میں بتایا گیا کہ ملک کے مختلف علاقوں میں پہلے سے غیر رسمی کاؤنسلنگ، مراکز اور تربیتی سرگرمیاں موجود رہی ہیں۔ اس کی پالیسی میں ملک بھر میں کاؤنسلنگ سینٹرز کے قیام اور تنازعات کے حل کے مراکز کی حوصلہ افزائی کا ذکر بھی ملتا ہے۔
جماعتِ اسلامی ہند ریاستوں میں Community Welfare Centre میں Family Counselling Centre اور Legal Guidance Centre بھی قائم کیا ہے ، جہاں مذہبی علماء، کاؤنسلرز اور قانونی رہنمائی کو ایک ساتھ رکھنے کی کوشش کی گئی۔
* اسی طرح بنگلورو میں Happy Family Guidance and Counselling Centre کا قیام Women’s Wing Bangalore Metro اور FORWARD Trust Karnataka کے تحت عمل میں آیا، جسے خاندانی اور سماجی مسائل کے لیے باقاعدہ کاؤنسلنگ مرکز کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
* ممبی میں
* Family First Guidance centre
یہ مثالیں بتاتی ہیں کہ ضرورت بھی موجود ہے اور کام بھی ہورہا ہے؛ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کوششوں کو منظم، تربیت یافتہ اور ملک گیر سطح پر مربوط کیا جائے۔

*مستقبل کا قابلِ عمل ماڈل*
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر بڑے شہر، ضلع اور مسلم آبادی والے علاقے میں کم از کم ایک Community Family Counseling Centre قائم ہو

ایک کمرہ، دو تربیت یافتہ کاؤنسلرز، ایک عالمِ دین، ایک خاتون کاؤنسلر، ضرورت کے وقت ماہرِ نفسیات اور قانونی مشیر، چند بنیادی فارم اور واضح SOPsاتنے وسائل سے بھی ایک مؤثر مرکز شروع کیا جاسکتا ہے۔
مساجد، مدارس، اسکولوں اور جماعتی اداروں کو اس کام کے لیے اپنے وسائل فراہم کرنے چاہئیں۔

*ایک نئی سماجی تحریک کی ضرورت*
اب وقت آگیا ہے کہ ہم صرف طلاق کے بعد مسائل حل کرنے کے بجائے طلاق سے پہلے خاندانوں کی مدد کریں۔
نکاح سے پہلے کاؤنسلنگ ہو۔
نکاح کے بعد رہنمائی ہو۔
اختلاف کے آغاز پر کاؤنسلنگ ہو۔
شدید تنازع میں مصالحت ہو۔
طلاق کے امکان سے پہلے آخری سنجیدہ کوشش ہو۔
اور اگر علیحدگی ناگزیر ہوجائے تو وہ بھی عزت، انصاف اور ذمہ داری کے ساتھ ہو۔
* مسجد صرف نماز کی جگہ نہ رہے؛ وہ خاندانوں کی اصلاح کا مرکز بھی بن سکتی ہے۔
* مدرسہ صرف تعلیم کا مرکز نہ رہے؛ وہ خاندانی رہنمائی کے لیے علماء بھی تیار کرے۔
* اسکول صرف بچوں کی تعلیم نہ دے؛ والدین اور خاندانوں کی تربیت میں بھی کردار ادا کرے۔
اور جماعتیں اور سماجی ادارے صرف مسائل پر گفتگو نہ کریں؛ مسائل کے حل کے لیے عملی مراکز قائم کریں۔
Abdul Azim Rehmani Malkapuri
9224599910

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے