Breaking
جمعرات. ستمبر 10th, 2026

جمعہ نامہ: اقتدار کی حقیقت اور آزمائش

جمعہ نامہ: اقتدار کی حقیقت اور آزمائش

جمعہ نامہ: اقتدار کی حقیقت اور آزمائش

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

ارشادِ ربانی ہے: ’’وہ ہستی نہایت بابرکت ہے جس کے دستِ ( قدرت ) میں ( تمام جہانوں کی ) سلطنت ہے ، اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے‘‘۔ رب ذوالجلال کا حکم سارے جہان پر چل رہا ہے ۔ فرمان خداوندی ہے ’’کہو! خدایا! ملک کے مالک! تو جسے چاہے ، حکومت دے اور جس سے چاہے ، چھین لے‘‘۔ یعنی خالق کائنات اقتدار کی محدود باگ ڈور اس لیے کچھ بندوں کے بھی حوالے کرتا ہے کیوں کہ اول الذکر آیت کے فوراً بعد فرمایا گیا :’’اس نے موت اور زندگی کو پیدا فرمایا تا کہ وہ تمہیں آزمائےکہ عمل کے لحاظ سےکون بہتر ہے۰۰۰‘‘۔گویا اقتدار کاحصول و محرومی آزمائش ہیں۔ انسان اقتدار سمیت ہر نعمتِ خداوندی کو عطائی امانت کے بجائے کسبی ملکیت سمجھ کر اس کا من مانا استعمال کرتا ہے۔دنیا پرست حکمرانوں کے لیے اقتدار کا زوال یا حکومت کے چھن جانے کا خوف بہت بڑی آزمائش بن جاتا ہے۔ عیاش حکمرانوں کوعیش و عشرت سے محرومی کا اندیشہ بے چین کردیتا ہے اور ظالم سزا کے خوف سے پریشان ہو جاتے ہیں ۔ اسی بے کلی نے یوگی ادیتیہ ناتھ سے سہارنپورکی مسجد گروائی ۔ اقتدار کے ہاتھ سے نکل جانے کا خوف یوگی سے ہر طرح کا ظلم اورناانصافی سرزد کروا رہا ہے۔ ماضی کے فرعون اور حال میں یوگی کا رویہ یکساں ہے۔
یوگی جیسے حکمراں اس حقیقت سے ناآشنا ہیں کہ اقتدار کا ملنا اور چھن جانا انسان کے اخلاق اور عدل کا امتحان ہے۔جہانِ فانی کا اقتدار بھی عارضی ہے، اور اس سے وابستہ اندیشے محدود انسانی طاقت و اختیار کی علامت ہے۔خدا ترس حکمران اقتدار کے زوال سے بے نیاز ہوکررضائے الٰہی کی خاطر احکام الٰہی کی پابندی اورقیامِ عدل کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ ہر حال میں منصفانہ فیصلے کرتے ہیں ۔ قرآن کریم قصۂ فرعون کلیم ایسے فرمانرواوں کی نفسیات سمجھنے میں مددگارکرتا ہے اور ان سے نمٹنے کی حکمت عملی بتاتا ہے۔ اسی علاوہ ان ظالموں کا عبرت ناک انجام اہل ایمان کوحزن و یاس سے محفوظ رکھتا ہے۔ارشادِ قرآنی ہے:’’ ۰۰۰ ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا مگر انہوں نے بھی ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا، پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا‘‘ اس تمہید کے بعد فرمایا : موسیٰؑ نے کہا "اے فرعون، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا ہوا آیا ہوں ۔میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں، میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رب کی طرف سے صریح دلیل ماموریت لے کر آیا ہوں، لہٰذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے‘‘۔
حضرت موسیٰؑ نے خدا کی بندگی اور انسانوں کی آزادی کا پیغام فرعون تک پہنچا دیا گیا لیکن اس نے اسے قبول کرنے کے بجائے مطالبہ کیا: "اگر تو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے تو اسے پیش کر۔ موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اژدہا تھا ۔اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا‘‘۔فرعون کے بھرے دربار میں مصاحبین کے سامنے یہ مطالبات پورے کیے گئے تھے اس لیے انہیں سرِ اطاعت جھکا دینا چاہیے تھا مگر ان کا ردعمل یہ تھا کہ:’’۰۰سرداروں نے آپس میں کہا کہ "یقیناً یہ شخص بڑا ماہر جادو گر ہے ۔تمہیں تمہاری زمین سے بے دخل کرنا چاہتا ہے، اب کہو کیا کہتےہو‘‘۔اس جواب میں اقتدار سے محرومی کے اندیشے کا اظہار ہے۔ اس کے بعد موسیٰؑ کو زیر کرنے کے لیے وہ لوگ خود جادوگر بلواتے ہیں اور انہیں مصاحبین میں شامل کرنے کا لالچ بھی دیتے ہیں۔ اس کے باوجود جادوگروں کے ایمان لانے پر آگ بگولا ہوکر فرعون کہتاہے:’’تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں؟ یقیناً یہ کوئی خفیہ ساز ش تھی جو تم لوگوں نے اس دارالسلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کر دو ‘‘یہاں تو اقتدار کے چھن جانے کے خوف کا صاف اعتراف کیا گیا ہے۔
اس کے بعد خوفزدہ فرعون کی دھمکی سن کر بے ساختہ یوگی کی بدزبانی یاد آتی ہے۔ وہ کہتا ہے:’’اچھا توا س کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے ۔میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا اور اس کے بعد تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا” ۔ مگر جب اس کےجبر سے بے نیاز جادوگروں نے کمال استقامت اور جرأتمندی کا مظاہرہ کیاتو فرعون کی قوم کے سرداروں نے اس سے کہا : "کیا تو موسیٰؑ اور اُس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے؟” اس پرفرعون جواب دیتا ہے "میں اُن کے بیٹوں کو قتل کراؤں گا اور اُن کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے‘‘۔ یہاں پھر ظلم و جبر کے بل بوتے پر اقتدار کو مضبوط کرنے کی بات کی گئی ہے اور فی الحال یہی کام یوگی، مودی ، ٹرمپ اور نیتن یاہو وغیرہ کررہے ہیں ۔ حضرتِ موسیٰ ؑ اس نازک صورتحال میں اپنی قوم کا حوصلہ اس طرح بڑھاتے ہیں کہ ’’اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی انہی کے لیے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں‘‘۔ طاغوت سے نبرد آزمانفوس کے لیے تاقیامت یہ بشارت ہے۔
قرآن کریم میں فرعونیوں کا یہ انجام بیان کیا گیا ہے کہ:’’ یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے سمندر پھاڑ کر تمہارے لیے راستہ بنایا، پھر اس میں سے تمہیں بخیریت گزروا دیا، پھر وہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے فرعونوں کو غرقاب کیا‘‘۔ ایک دیگر مقام پر فرمان قرآنی ہے:’’پھر ہم نے انہیں (فرعون اور اس کی قوم کو) باغات اور چشموں سے نکال باہر کیا۔ اور خزانوں اور عمدہ رہائش گاہوں سے۔ اسی طرح ہوا، اور ہم نے ان چیزوں کا وارث بنی اسرائیل کو بنا دیا۔” اللہ تبارک و تعالیٰ کی اس سنت کا اعادہ ہوتا رہا ہے اور جاری رہے گا۔ ہر دور کے ظالم حکمراں عبرتناک انجام سے دوچار ہوئے اور آگے بھی ہوتے رہیں گے ۔ اسی اندیشے نے ان کی بےچینی بڑھا دی ہے لیکن یہ جھنجھلاہٹ انہیں دنیا و آخرت میں انجام بد سے محفوظ نہیں رکھ سکتی ایسی صورتحال میں اہل ایمان کوایمان لانے والے جادوگروں کا اسوہ سامنے رکھ کر عالم انسانیت کو جبر واستبداد سے نجات دلانے کی جدو جہد کرتے رہنا چاہیے ۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے