پیران پیر کی اصل اتباع کیا ہے (سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی عملی زندگی)

پیران پیر کی اصل اتباع کیا ہے  (سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی عملی زندگی)

پیران پیر کی اصل اتباع کیا ہے
(سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی عملی زندگی)

از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک تلنگانہ

محبت الہی ہر ایک کو محبوب ہوتی ہے لیکن اس کا ظہور سنت مصطفوی پر عمل سے ہوتا ہے محبت دل کی کیفیت ہے، لیکن اتباع اس کیفیت کا عملی اظہار ہے۔ محبوب کی پسندیدہ راہ اختیار کیے بغیر محبوب تک پہنچنے کی آرزو کیسے پوری ہوسکتی ہے؟ اسی حقیقت کو قرآنِ کریم نے نہایت فیصلہ کن انداز میں بیان فرمایا: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَاللّٰهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ: آپ کہہ دیجیے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ (آل عمران) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے محبت کا دعویٰ کرنے والوں کے لیے ایک واضح معیار مقرر فرما دیا کہ اگر اللہ کی محبت مطلوب ہے تو محمد رسول اللہ ﷺ کی اتباع لازم ہے۔ گویا بندے کی محبتِ الٰہی کا راستہ براہِ راست آسمان کی طرف نہیں جاتا بلکہ محمد مصطفیٰ ﷺ کے نقشِ قدم سے ہو کر گزرتا ہے۔جس طرح کرنسی کے معتبر ہونے کے لیے مجاز ادارے کی مہر ضروری ہے، اسی طرح اعمال کی قبولیت کے لیے محمد رسول اللہ ﷺ کی سنت و اتباع کی مہر ضروری ہے۔ جس قدر اتباع میں پختگی ہوگی، اسی قدر محبت میں صداقت ہوگی ۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی اپنی سنت سے بے رغبتی کو سختی سے ناپسند فرمایا: فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِي فَلَيْسَ مِنِّي “جس نے میری سنت سے بے رغبتی کی، وہ مجھ سے نہیں۔(صحیح البخاری) یہاں سنت محض چند ظاہری آداب کا نام نہیں؛ سنت دراصل وہ پورا نبوی طریقہ ہے جس میں عقیدہ بھی ہے، عبادت بھی، اخلاق بھی، معاملات بھی، معاشرت بھی اور زندگی گزارنے کا سلیقہ بھی۔ اسی لیے اللہ والوں کی زندگیوں کو جب صحیح زاویۂ نظر سے دیکھا جائے تو وہاں کرامتوں کے قصوں سے پہلے اتباعِ شریعت کا روشن باب نظر آتا ہے۔ انہی بزرگوں میں ایک عظیم نام سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا ہے۔ آپ نے جس ماحول میں پرورش پائی، وہاں علمی ماحول تھا اور پھر بغداد پہنچ کر علومِ دین حاصل کیے۔ معتبر تراجم کے مطابق آپ ۴۷۱ھ کے قریب جیلان میں پیدا ہوئے، ۴۸۸ھ میں بغداد تشریف لے گئے، وہاں اہلِ علم سے استفادہ کیا، فقہ و حدیث حاصل کیا، وعظ و ارشاد میں نمایاں مقام پیدا کیا اور بالآخر ۵۶۱ھ میں بغداد ہی میں وصال فرمایا۔لیکن شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی شخصیت کا اصل سبق صرف یہ نہیں کہ ایک بزرگ نے بڑی شہرت حاصل کی؛ اصل سبق یہ ہے کہ ولایت کو شریعت سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ کا ولی وہ نہیں جو لوگوں کی نگاہوں میں عجیب و غریب واقعات کا مرکز بن جائے، بلکہ ولی وہ ہے جس کی زندگی اللہ کی اطاعت، رسول اللہ ﷺ کی اتباع اور شریعت کی پابندی سے آراستہ ہو۔ اسی لیے یہ نہایت اہم بات ہے کہ سنت پر عمل سے بڑی کوئی کرامت نہیں۔ دنیا کسی غیر معمولی واقعے کو کرامت سمجھ کر حیران ہوسکتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ بندہ اپنے محبوب ﷺ کے طریقے پر ثابت قدم رہے۔ ایک شخص کے ہاتھ پر کوئی حیرت انگیز واقعہ ظاہر نہ بھی ہو، مگر وہ نماز کی پابندی کرے، حلال و حرام کا لحاظ رکھے، زبان کو گناہ سے بچائے، معاملات میں دیانت اختیار کرے اور سنتِ رسول ﷺ کو اپنی زندگی کا معیار بنائے تو اس کی یہ استقامت کسی ظاہری کرامت سے کم نہیں۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی طرف منسوب بہت سے واقعات عوام میں مشہور ہوئے، مگر ان کی زندگی کا سب سے قابلِ قدر پہلو یہی ہے کہ ان کے تذکرے کو صرف کرامات کے عنوان سے پڑھنے کے بجائے علم، عمل، عبادت، اصلاح اور اتباعِ سنت کے زاویے سے سمجھا جائے۔ کیونکہ جس ولایت کا تعلق محمد ﷺ کی اتباع سے ٹوٹ جائے، وہ ولایت نہیں ڈھونگ ہے۔
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی زندگی کا دوسرا نمایاں پہلو علم کی طلب اور دینی تربیت ہے۔ بغداد اس زمانے میں علومِ اسلامیہ کا بڑا مرکز تھا۔ آپ نے اہلِ علم کی صحبت اختیار کی، فقہ و حدیث کا علم حاصل کیا، اور علمی بنیاد مضبوط کرنے کے بعد وعظ و ارشاد کی طرف متوجہ ہوئے۔ تراجم میں آپ کے فقہی تبحر، حدیث سے شغف اور وعظ میں امتیاز کا ذکر ملتا ہے۔ یہ پہلو ہمارے لیے خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ روحانی مقام کے حصول کے لیے آپ نے علم کی راہ کو نظرانداز نہیں کیا۔ آج بعض لوگ روحانیت کو علم سے بے نیاز سمجھنے لگتے ہیں؛ گویا دل صاف ہو تو شریعت کے مسائل جاننے کی ضرورت نہیں، یا کسی بزرگ سے نسبت ہوجائے تو عمل کی پابندی ثانوی چیز بن جاتی ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی زندگی اس تصور کی تردید کرتی دکھائی دیتی ہے: دل کی اصلاح کے لیے علم چاہیے، علم کی برکت کے لیے عمل چاہیے، اور عمل کی درستی کے لیے سنت چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک صاحبِ نسبت انسان کے لیے صرف خلاف معمول اشیاء کا صادر ہونا کافی نہیں۔ اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ نے کیا فرض کیا ہے، رسول اللہ ﷺ نے کیسے ادا کیا ہے، کس چیز کو حلال قرار دیا ہے اور کس چیز سے روکا ہے۔ عبادت میں شوق ضرور ہو، مگر شوق کو شریعت کی لگام حاصل ہو؛ ذکر میں ذوق ہو، مگر ذکر سنت کے دائرے میں ہو؛ محبت میں وارفتگی ہو، مگر رسول اللہ ﷺ کی محبت اتباع سے ثابت ہو تی ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی طرف منسوب ایک مشہور حکایت اسی حقیقت کو نہایت بلیغ انداز میں سامنے لاتا ہے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ آپ ایک ایسے شخص کے پاس پہنچے جس کی بزرگی اور ولایت کے چرچے تھے۔ جب اس کی عبادت گاہ دیکھی تو وہاں سجدے کے آثار میں ایسی کیفیت محسوس ہوئی جو سنت کے مطابق نہ تھی۔ شیخ نے اس ظاہری بزرگی کے باوجود اس شخص کے بارے میں اعتماد نہیں کیا، کیونکہ اللہ کے یہاں میں اصل معیار محض غیر معمولی دعوے نہیں بلکہ اتباعِ رسول ﷺ ہے۔ یہ حکایت اپنے اندر ایک بڑا اصول رکھتی ہے: جس عبادت کی بنیاد سنت پر نہ ہو، اس کی ظاہری کثرت انسان کو دھوکا دے سکتی ہے۔ ممکن ہے کوئی شخص بہت زیادہ نوافل پڑھتا دکھائی دے، بہت زیادہ ذکر کرتا ہو، لوگوں کی نگاہ میں بڑا متقی نظر آتا ہو، لیکن اگر وہ رسول اللہ ﷺ کے طریقے کو اپنی مرضی کے تابع کردے تو محض ظاہری کثرت اسے اللہ کے ہاں مقبولیت کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ معرفت نے ہمیشہ باطن کی کیفیت کے ساتھ ظاہر کی درستی پر بھی زور دیا۔ اسلام میں روحانیت اور شریعت دو الگ راستے نہیں؛ ایک ہی راستے کے دو پہلو ہیں۔ دل میں اللہ کا خوف ہو تو اعضا میں اطاعت ظاہر ہوگی، دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت ہو تو زندگی میں سنت کی جھلک نظر آئے گی، اور دل میں آخرت کا یقین ہو تو معاملات میں تقویٰ پیدا ہوگا۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی زندگی کا یہ پہلو ہمیں ایک نہایت اہم سبق دیتا ہے: علم حاصل کیے بغیر عبادت کا ذوق کبھی کبھی انسان کو اپنی ہی پسند کا پابند بنا دیتا ہے، لیکن علم کے ساتھ عبادت انسان کو رسول اللہ ﷺ کے طریقے کا پابند بناتی ہے۔ یہی وہ فرق ہے جو محض ظاہری دینداری اور سنجیدہ دینی زندگی کے درمیان حدِ فاصل قائم کرتا ہے۔ چنانچہ اگر آج ہم شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا تذکرہ کرتے ہیں تو ہمیں صرف یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ ان سے کون سی کرامت ظاہر ہوئی؛ ہمیں یہ پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے ہمیں شریعت کی پابندی، عبادات کی محنت اور سنت کی پیروی کے بارے میں کیا سبق دیا؟ یہی چیز ان کے تذکرے کو قصۂ کرامت سے نکال کر درسِ زندگی بنا دیتا ہے۔

چنانچہ بغداد میں جب شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی علمی و روحانی شخصیت نمایاں ہوئی تو آپ کی مجلسِ وعظ اصلاحِ باطن کا ایک مؤثر مرکز بن گئی۔ آپ کا اندازِ خطاب محض معلومات پہنچانے تک محدود نہ تھا؛ آپ انسان کو اس کے اندر کی دنیا کی طرف متوجہ کرتے، غفلت پر جھنجھوڑتے، گناہ سے توبہ کی دعوت دیتے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مضبوط کرنے کی ترغیب دیتے۔ آپ کے وعظ کی شہرت دور دور تک پہنچی اور بڑی تعداد میں لوگ آپ کی مجلس میں حاضر ہونے لگے۔ آپ کی مجالس کے بارے میں تذکرہ نگاروں نے غیر معمولی قبولِ عام کا ذکر کیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کی دعوت محض الفاظ کی دل آویزی نہیں تھی، بلکہ سامعین کے دلوں کو ان کے رب کی طرف متوجہ کرنے والی دعوت تھی۔ آپ کی دعوت کا ایک اہم پہلو تزکیۂ نفس تھا۔ انسان دوسروں کی اصلاح کی فکر میں تو بہت جلد مبتلا ہوجاتا ہے، مگر اپنے نفس کی اصلاح سے غافل رہتا ہے۔ وہ دوسروں کی غلطیاں گن سکتا ہے، لیکن اپنے دل کے تکبر، حسد، ریا، حبِ جاہ اور دنیا کی محبت کو دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی منقول تعلیمات میں اس اندرونی بیماریوں سے نجات، اخلاص، توبہ اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع پر خاص زور ملتا ہے۔ آپ کی معروف کتاب الغنیۃ لطالبی طریق الحق میں بھی عبادات، معاملات، اخلاق اور دینی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی گفتگو ملتی ہے۔ یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے کہ تزکیۂ نفس کا مطلب شریعت سے آزادی نہیں، بلکہ شریعت کے ذریعے نفس کی اصلاح ہے۔ بعض لوگ روحانیت کے نام پر ظاہری اعمال کو معمولی سمجھ لیتے ہیں، حالاں کہ اسلام میں دل کی پاکیزگی اور عمل کی درستی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ دل میں اخلاص ہو تو نماز میں خشوع پیدا ہوگا، اللہ کا خوف ہو تو زبان گناہ سے بچے گی، آخرت کا یقین ہو تو مال و منصب انسان کو سرکش نہیں بنائیں گے، اور رسول اللہ ﷺ کی محبت ہو تو آپ ﷺ کی سنت زندگی کا حسن بن جائے گی۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے وعظ کا ایک بڑا میدان توبہ تھا۔ توبہ محض زبان سے “استغفر اللہ” کہہ دینے کا نام نہیں؛ گناہ پر ندامت، اس سے دست برداری، آئندہ کے لیے عزم اور جہاں کسی بندے کا حق پامال ہوا ہو وہاں حق کی ادائیگی بھی توبہ کا تقاضا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حقیقی اصلاح انسان کے ظاہر سے زیادہ اس کے باطن کو بدلتی ہے۔ جو شخص مجلس سے اٹھ کر صرف وقتی کیفیت ساتھ لے جائے مگر اپنی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ لائے، اس نے وعظ کا مقصد پوری طرح نہیں پایا؛ اصل کامیابی یہ ہے کہ آنکھ میں آنے والا آنسو زندگی میں آنے والی تبدیلی کا مقدمہ بن جائے۔ شیخ کی دعوت میں دنیا سے بے رغبتی بھی ایک اہم موضوع تھا، لیکن دنیا چھوڑنے سے مراد دنیاوی ذمہ داریوں سے فرار نہیں۔ اصل زہد یہ ہے کہ دنیا ہاتھ میں ہو، دل میں نہ ہو؛ مال انسان کے پاس رہے، انسان مال کا غلام نہ بنے؛ عزت ملے تو تکبر نہ آئے، محرومی آئے تو اللہ سے شکوہ نہ ہو۔ قرآنِ کریم فرماتا ہے: وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللّٰهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا اور جو کچھ اللہ نے تمہیں دیا ہے اس کے ذریعے آخرت کا گھر تلاش کرو، اور دنیا میں سے اپنا حصہ بھی نہ بھولو۔” (القصص: 77) اسی لیے شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی دعوت کو صرف خانقاہی ماحول تک محدود سمجھنا درست نہیں۔ ولایت کا اثر انسان کو لوگوں سے کاٹتا نہیں بلکہ اس کے کردار کو ایسا بناتا ہے کہ اس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی زندگی کا تذکرہ ہمارے لیے آئینہ بن جاتا ہے۔ اگر ہماری زبان پر اولیاء کا ذکر ہو مگر ہماری نماز کمزور ہو، اگر ہماری مجلسوں میں کرامات کے قصے ہوں مگر معاملات میں جھوٹ ہو، اگر ہم بزرگوں سے محبت کا دعویٰ کریں مگر سنت کے معمولات ہمیں بوجھ محسوس ہوں، تو ہمیں اپنے دعوے اور اپنے عمل کے درمیان موجود فاصلے کو دیکھنا ہوگا۔ بزرگوں سے سچی محبت صرف ان کے نام لینے سے نہیں ہوتی؛ ان کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے سے ہوتی ہے۔
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی زندگی کا تذکرہ اگر صرف ایک تاریخی شخصیت کے طور پر کیا جائے تو اس کا سب سے قیمتی پہلو ہماری نظروں سے اوجھل ہوجائے گا۔ اصل سوال یہ ہے کہ ایک ایسے بزرگ کی زندگی، جس نے علم، عبادت، اصلاح اور دعوت میں نمایاں مقام حاصل کیا، آج ہمارے لیے کیا پیغام رکھتی ہے؟ جواب نہایت واضح ہے: دین میں بلندی کا راستہ شریعت کی پابندی سے ہو کر گزرتا ہے، اور شریعت کی روح اتباعِ رسول اللہ ﷺ ہے۔ آج کے زمانے میں روحانیت کے نام پر بہت سی ایسی باتیں سننے کو ملتی ہیں جن میں ظاہری جذبات تو بہت ہوتے ہیں، مگر عمل کی بنیاد کمزور ہوتی ہے۔ کوئی کرامتوں کے واقعات سن کر متاثر ہوتا ہے، کوئی بزرگوں کے قصے سن کر وجد میں آتا ہے، کوئی نسبتوں اور دعوؤں کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھ لیتا ہے؛ لیکن اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب اذان سنائی دے اور انسان اپنے کام کو چھوڑ کر نماز کے لیے کھڑا ہوجائے، جب حرام کمائی سامنے ہو اور انسان اللہ کے خوف سے ہاتھ روک لے، جب غصہ آئے اور آدمی سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق اپنے نفس کو قابو میں رکھے، جب کسی کا حق اپنے ذمے ہو اور آدمی اسے ادا کرنے کی فکر کرے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دین کو محض دعووں کے حوالے نہیں کیا، بلکہ اپنے عمل سے امت کے لیے ایک مکمل نمونہ پیش فرمایا۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي “نماز اسی طرح پڑھو جیسے تم نے مجھے نماز پڑھتے دیکھا ہے۔(صحیح البخاری) یہ مختصر ارشاد عبادت کے ایک بڑے اصول کو واضح کرتا ہے کہ مسلمان اپنی عبادت بھی اپنی مرضی سے ایجاد نہیں کرتا، بلکہ اسے رسول اللہ ﷺ کے طریقے کے مطابق انجام دیتا ہے۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی طرف منسوب مشہور حکایات میں جو بات بار بار نمایاں ہوتی ہے، وہ یہی ہے کہ غیر معمولی چیز سے زیادہ اہم معمول کی شریعت ہے۔ ایک شخص اگر آسمان میں اڑنے کا دعویٰ کرے، پانی پر چلنے کی بات کرے یا لوگوں کی نگاہ میں کوئی حیرت انگیز واقعہ پیش کرے، لیکن نماز، حلال و حرام اور سنت کی پابندی سے بے نیاز ہو تو مسلمان کے لیے اصل معیار وہ دعویٰ نہیں ہوسکتا۔ اللہ کے نیک بندوں کی پہچان ان کے شریعت سے تعلق، تقویٰ، عبادت، اخلاق اور اتباعِ رسول ﷺ سے ہوتی ہے۔ اسی حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے وہ معروف مفہوم یاد رکھنے کے قابل ہے کہ سنت پر استقامت خود ایک عظیم کرامت ہے۔ انسان اگر پوری زندگی کسی خارقِ عادت واقعے کا مشاہدہ نہ کرے، مگر فجر کی نماز پابندی سے پڑھتا رہے، اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرے، بیوی بچوں کے حقوق ادا کرے، معاملات میں جھوٹ اور خیانت سے بچے، نگاہوں کی حفاظت کرے، زبان کو غیبت سے محفوظ رکھے اور ہر معاملے میں رسول اللہ ﷺ کے طریقے کو ترجیح دے تو وہ ایک ایسی راہ پر چل رہا ہے جس کی منزل اللہ تعالیٰ کی رضا ہے۔ آج ہمیں اپنے گھروں میں بھی اس پیغام کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ بچوں کو صرف بزرگوں کی کرامات کے قصے نہ سنائے جائیں، بلکہ انہیں نماز کی پابندی، سچائی، ادب، والدین کی خدمت، قرآن سے تعلق اور سنت کے چھوٹے چھوٹے آداب سکھائے جائیں۔ انہیں یہ بتایا جائے کہ نیک بننے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان لوگوں کی نگاہ میں غیر معمولی بن جائے؛ نیک بننے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی نگاہ میں مقبول بننے کی کوشش کرے۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا وصال ۵۶۱ھ میں بغداد میں ہوا، مگر صالحین کی زندگیوں کا اثر ان کے دنیا سے جانے کے ساتھ ختم نہیں ہوتا۔ ان کا اصل سرمایہ ان کی تعلیمات، ان کی دعوت اور وہ اصلاحی اثر ہے جو لوگوں کے دلوں میں باقی رہتا ہے۔ ہمارے لیے بھی ان کی زندگی کا صحیح احترام یہی ہے کہ ان کے تذکرے کو محض عقیدت کی مجلس تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اس سے اپنے عمل کی اصلاح کی جائے۔ آج اگر کوئی شخص شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ اپنے آپ سے چند سوال کرے: میری نماز کیسی ہے؟ میرے معاملات کیسے ہیں؟ میرے گھر والوں کے حقوق کیسے ہیں؟ میری زبان کتنی محفوظ ہے؟ میرے دل میں تکبر تو نہیں؟ میں سنت کے کتنے احکام کو اپنی زندگی میں جگہ دیتا ہوں؟ میری محبتِ رسول ﷺ صرف الفاظ میں ہے یا میرے لباس، اخلاق، عبادت اور معاملات میں بھی اس کی جھلک دکھائی دیتی ہے؟ یہ سوالات کسی دوسرے کو پرکھنے کے لیے نہیں، اپنے آپ کو پرکھنے کے لیے ہیں۔ کیونکہ ولایت کے تذکرے کا سب سے بڑا فائدہ یہی ہے کہ انسان دوسروں کی بزرگی دیکھ کر اپنے دل کو غافل نہ چھوڑے، بلکہ اپنی اصلاح کی طرف متوجہ ہوجائے۔
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا نام صدیوں سے مسلمانوں کے دلوں میں عقیدت کے ساتھ زندہ ہے؛ مگر ان کے تذکرے کی حقیقی برکت اس وقت حاصل ہوگی جب یہ عقیدت ہمیں سنتِ رسول ﷺ کی طرف لے جائے۔ اگر بزرگوں کا ذکر ہمارے دل کو نرم کردے، مگر عمل نہ بدلے تو ابھی سفر باقی ہے؛ اگر کرامات کے واقعات ہمیں حیران کردیں، مگر نماز کی پابندی نہ آئے تو ابھی مقصد سامنے نہیں آیا؛ اور اگر اولیاء سے محبت ہمیں رسول اللہ ﷺ کی سنت سے جوڑ دے تو یہی محبت ہمارے لیے اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
آخرکار اللہ تعالیٰ کی محبت کا دروازہ وہی ہے جس کی نشاندہی قرآن نے فرمائی: فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ میری پیروی کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا۔(آل عمران)
پس شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے محبت کا بہترین ثبوت یہی ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی کی زینت بنائیں۔ کرامتوں کی تلاش سے پہلے استقامت تلاش کریں، غیر معمولی واقعات سے پہلے معمول کی عبادت درست کریں، لوگوں کی نگاہ میں بڑا بننے سے پہلے اللہ کی نگاہ میں مقبول ہونے کی فکر کریں۔ کیونکہ اولیاء اللہ کی پوری زندگی کا حاصل یہی ہے کہ بندہ اپنے رب تک پہنچنے کے لیے اس راستے کو اختیار کرے جس پر اس کے محبوب محمد مصطفیٰ ﷺ چلے۔
اور آئیے اسے اپنی زندگی کے ایک نئ بنایں آج ہی اپنی نمازوں کا جائزہ لیجیے، آج ہی کسی چھوٹی ہوئی سنت کو زندگی میں جگہ دیجیے، آج ہی کسی گناہ کو چھوڑنے کا عزم کیجیے، آج ہی کسی کا حق ادا کرنے کی فکر کیجیے، آج ہی اپنے گھر میں اولاد کو رسول اللہ ﷺ کی ایک سنت سکھائیے، اور آج ہی اپنے دل سے یہ عہد کیجیے کہ بزرگوں سے محبت ہمیں عمل سے غافل نہیں کرے گی بلکہ عمل کی طرف لے جائے گی۔
اگر ہماری مجلسوں میں شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا ذکر ہو تو ہمارے گھروں میں نماز بھی زندہ ہو؛ اگر ہماری زبان پر اولیاء کا نام ہو تو ہمارے معاملات میں دیانت بھی نظر آئے؛ اگر ہمارے دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت کا دعویٰ ہو تو ہماری زندگی میں سنت بھی دکھائی دے۔ یہی وہ محبت ہے جو صرف زبان کا دعویٰ نہیں رہتی، بلکہ کردار بن جاتی ہے؛ یہی وہ نسبت ہے جو صرف نام سے نہیں، عمل سے ثابت ہوتی ہے؛ اور یہی وہ دعوت ہے جس کی آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
سنت کو تھام لیجیے؛ یہی نسبت کی حفاظت ہے، یہی محبت کی علامت ہے، یہی ولایت کی روح ہے، اور یہی نجات کی شاہراہ ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے