جب اعتماد جواب مانگنے لگے الیکشن کمیشن کے اندرونی اعتراضات اور انتخابی عمل کی شفافیت

جب اعتماد جواب مانگنے لگے الیکشن کمیشن کے اندرونی اعتراضات اور انتخابی عمل کی شفافیت

جب اعتماد جواب مانگنے لگے
الیکشن کمیشن کے اندرونی اعتراضات اور انتخابی عمل کی شفافیت

از: عبدالحلیم منصور

انتخابات صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں، اعتماد کا آئینی معاہدہ بھی ہیں۔ ووٹر اپنا حقِ رائے دہی اس یقین کے ساتھ استعمال کرتا ہے کہ انتخابی فہرست میں اس کا نام قانون کے مطابق موجود ہے، اس کا ووٹ محفوظ ہے اور انتخابات کرانے والا ادارہ اقتدار کے کسی فریق کا نہیں بلکہ آئین کا پابند ہے۔ یہی اعتماد الیکشن کمیشن کی اصل قوت ہے۔ اگر اسی اعتماد میں دراڑ پڑ جائے تو محض یہ کہنا کافی نہیں رہتا کہ ’’سب کچھ قانون کے مطابق ہورہا ہے‘‘؛ پھر طریقۂ کار، اختیار کے استعمال اور فیصلہ سازی کی شفافیت بھی واضح کرنا پڑتی ہے۔

اسی پس منظر میں موجودہ تنازع کو صرف ایس آئی آر، ووٹر فہرستوں یا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج تک محدود کرنا اصل مسئلے کو چھوٹا کردینا ہوگا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ جس ادارے پر انتخابی عمل کی غیر جانب داری کی ذمہ داری ہے، کیا وہ اپنے فیصلوں، داخلی اختلافات اور اختیارات کے استعمال کے بارے میں عوام کو پوری طرح مطمئن کرسکتا ہے؟

23 ستمبر کو دی انڈین ایکسپریس کی ایک تحقیق نے اس سوال کو نئی اہمیت دی۔ رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ دس ماہ کے دوران کم از کم 14 مرتبہ تحریری اعتراضات درج کیے۔ یہ اعتراضات ووٹر کے اندراج، نام حذف کرنے اور بحالی، فارم 6 میں تبدیلی، انتخابی فہرست کے ڈیجیٹل نظام اور مغربی بنگال میں اپیلوں جیسے بنیادی معاملات سے متعلق تھے۔ رپورٹ میں بعض اقدامات کو ’’غیر مجاز‘‘ اور ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیے جانے اور انتخابی ڈیٹا کی بڑھتی ہوئی مرکزیت پر بھی تشویش کا ذکر ہے۔

یہاں یہ فرق برقرار رکھنا ضروری ہے کہ کسی کمشنر کا اعتراض بذاتِ خود کسی فیصلے کو غیر قانونی ثابت نہیں کرتا۔ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اختلافِ رائے فیصلہ سازی کا حصہ ہے اور ایس آئی آر سمیت اہم فیصلے مکمل کمیشن نے متفقہ طور پر کیے۔ لیکن اگر ایسا ہے تو بنیادی سوال پھر بھی باقی رہتا ہے: ان 14 اعتراضات پر کیا غور کیا گیا؟ کون سا اعتراض قبول یا مسترد ہوا؟ اور حتمی فیصلوں کی دستاویزی بنیاد کیا ہے؟

آئینی طور پر الیکشن کمیشن کسی ایک شخص کا ادارہ نہیں۔ 2023 کے قانون کی دفعہ 18 کے تحت کمیشن کا کاروبار حتی الامکان اتفاقِ رائے سے چلایا جاتا ہے اور اختلاف کی صورت میں اکثریتی رائے فیصلہ کن ہوتی ہے۔ سپریم کورٹ بھی ٹی این شیشن بنام یونین آف انڈیا میں کثیر رکنی کمیشن کی اجتماعی نوعیت واضح کرچکی ہے۔ اس لیے اگر دو ارکان یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ بعض اقدامات ان کے علم یا منظوری کے بغیر ہوئے تو اس کی وضاحت ریکارڈ کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔

سب سے حساس معاملہ فارم 6 کا ہے۔ نئے ووٹر کے اندراج کے اس فارم میں ایس آئی آر سے متعلق نئی معلومات شامل کیے جانے کی رپورٹ سامنے آئی، جس پر دونوں کمشنروں نے قانونی اختیار کے حوالے سے اعتراض کیا۔ اسی طرح انتخابی فہرست کے ڈیجیٹل نظام پر بھی یہ سوال اٹھا کہ اگر قانونی اختیار متعلقہ انتخابی افسر کے پاس ہے تو مرکزی نظام اس کے فیصلے کے نفاذ میں رکاوٹ کیسے بن سکتا ہے؟

یہ صرف سافٹ ویئر کا مسئلہ نہیں بلکہ قانونی اختیار کی بالادستی کا سوال ہے۔ اگر مجاز افسر دستاویزات کی جانچ کے بعد کسی شہری کو ووٹر فہرست میں شامل یا اس کا نام بحال کرنے کا فیصلہ کرتا ہے، لیکن سافٹ ویئر اس فیصلے کو درج یا نافذ نہ ہونے دے تو حتمی اختیار کس کا ہوگا—قانون کے تحت مقرر افسر کا یا اس نظام کا؟

گوا میں 97 ووٹروں کا معاملہ اسی سوال کو عملی شکل دیتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مقامی انتخابی افسران نے ان ووٹروں کو فہرست میں شامل کرنے کے اہل قرار دیا، لیکن مرکزی سافٹ ویئر میں ان کے نام بحال کرنے کا مناسب طریقہ بروقت دستیاب نہیں تھا۔ بعد میں کئی نام شامل کیے گئے اور باقی معاملات زیرِ عمل ہونے کی اطلاع دی گئی۔ معاملہ یہ سوال ضرور اٹھاتا ہے کہ ٹیکنالوجی انتخابی قانون پر عمل درآمد کا ذریعہ ہے یا اس کے نفاذ میں خود رکاوٹ بن سکتی ہے۔

مغربی بنگال میں سوال مزید پیچیدہ ہوگیا۔ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ ایس آئی آر کے دوران 27.16 لاکھ نام حذف کیے گئے، جن میں سے 22.21 لاکھ سے زیادہ افراد نے بحالی کے لیے اپیل کی۔ مجموعی طور پر 38.31 لاکھ اپیلوں کا ذکر سامنے آیا، جن میں 16.10 لاکھ ایسے ووٹروں سے متعلق تھیں جنہیں عدالتی افسران نے فہرست میں برقرار رکھا تھا۔ خود کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو نے سوال اٹھایا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ایسی اپیلیں دائر کرنے کی اجازت کس نے دی اور انہیں کس نے دائر کیا۔ یہ اعتراض کسی سیاسی جماعت کی طرف سے نہیں بلکہ کمیشن کے اندر سے سامنے آیا، اس لیے اس کا جواب بھی سیاسی بیان سے نہیں بلکہ متعلقہ احکامات اور دستاویزات سے ملنا چاہیے۔

دہلی میں بھی ایس آئی آر کے تحت 31.63 لاکھ ووٹروں کو نوٹس جاری کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی اور سپریم کورٹ نے ’’منطقی تضادات‘‘ کی بنیاد پر جاری نوٹسوں کے طریقۂ کار پر وضاحت طلب کی۔ عدالت کا سوال کمیشن کو قصوروار قرار دینا نہیں، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی جانچ کا طریقۂ کار عدالتی جانچ کے دائرے میں ہے۔

اسی پس منظر میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انہیں عہدے سے ہٹانے کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمانی کارروائی کی تیاری کی بات کہی، جبکہ کانگریس نے احتجاج بھی کیا۔ لیکن سیاسی مطالبہ اور آئینی طور پر عہدے سے ہٹانے کا عمل دو الگ چیزیں ہیں؛ کسی احتجاج کو مواخذے کا فیصلہ نہیں سمجھا جاسکتا۔

الیکشن کمیشن کے دفاع میں بی جے پی کے ترجمانوں کے بیانات بھی سامنے آئے ہیں۔ بی جے پی کو اپنا سیاسی مؤقف پیش کرنے کا حق ہے، لیکن ادارہ جاتی اعتبار سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اگر کمیشن ایک آزاد آئینی ادارہ ہے تو اس کی ساکھ کا جواب سیاسی جماعت کے بجائے خود کمیشن کے ریکارڈ سے کیوں نہ آئے؟ اسی طرح کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کو بھی حتمی ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔ احتجاج سیاسی حق ہے، مگر الزام کو ثبوت میں تبدیل نہیں کرتا؛ تردید بھی سوال کو خود بخود ختم نہیں کرتی۔

کاکروچ جنتا پارٹی نے بھی چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مہم کا اعلان کیا ہے۔ اس سیاسی مہم کے دعووں کو بھی الگ سے جانچنا ضروری ہے، تاہم اس کا سامنے آنا بتاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار پر بحث اب صرف پارلیمانی جماعتوں تک محدود نہیں رہی۔

آخرکار اصل سوال ’’کس نے کیا کہا‘‘ نہیں بلکہ ’’کس کے پاس کیا اختیار تھا‘‘ ہے۔ فارم 6 کس اختیار کے تحت تبدیل ہوا؟ انتخابی ڈیٹا تک کس افسر کو کتنی رسائی حاصل ہے؟ مجاز افسر کے فیصلے کو سافٹ ویئر میں نافذ کرنے کا اختیار کس کے پاس ہے؟ مغربی بنگال میں اپیلیں کس نے دائر کیں؟ دو کمشنروں کے اعتراضات پر کیا کارروائی ہوئی؟ اور اگر اہم فیصلے متفقہ تھے تو ان کی منظوری کا ریکارڈ کہاں ہے؟

ان سوالات کا جواب کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں نہیں بلکہ انتخابی نظام کے حق میں دیا جانا چاہیے۔ اگر اعتراضات معمول کی داخلی بحث تھے تو ان کا نتیجہ سامنے آئے؛ اگر کسی اعتراض کو مسترد کیا گیا تو وجہ بتائی جائے؛ اور اگر کسی اہل ووٹر کا نام انتظامی یا تکنیکی وجہ سے متاثر ہوا تو اس کی فوری اصلاح کا مؤثر نظام موجود ہو۔

گیانیش کمار کے خلاف استعفے یا عہدے سے ہٹانے کی مہم کا آئینی انجام کیا ہوگا، یہ متعلقہ پارلیمانی اور قانونی عمل طے کرے گا۔ لیکن الیکشن کمیشن کے سامنے اس سے بڑا امتحان موجود ہے: کیا وہ اپنے اوپر اٹھنے والے سوالات کا ایسا مکمل اور دستاویزی جواب دے گا جسے ہر شہری سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر خود جانچ سکے؟

الیکشن کمیشن کی ساکھ کسی سیاسی جماعت کے دفاع یا کسی اپوزیشن کے احتجاج سے طے نہیں ہوگی۔ وہ اس بات سے مضبوط ہوگی کہ کمیشن اپنے فیصلوں کی بنیاد، اپنے ارکان کے اختلافات اور قانونی اختیارات کی حدود کتنی واضح کرتا ہے اور یہ یقینی بناتا ہے کہ ووٹر فہرست قانون، شفاف طریقۂ کار اور قابلِ احتساب ادارہ جاتی فیصلوں کے مطابق تیار ہو۔

جمہوریت میں الیکشن کمیشن صرف انتخابات کرانے والا دفتر نہیں بلکہ ایک ایسا آئینی ادارہ ہے جس پر حکومت اور اپوزیشن سے یکساں فاصلہ رکھتے ہوئے انتخابی عمل کی نگرانی کی ذمہ داری ہے۔ اس لیے اس کی ساکھ کا سب سے مضبوط دفاع سیاسی بیانات نہیں بلکہ واضح اختیارات، شفاف طریقۂ کار اور قابلِ جانچ ریکارڈ ہے۔

آج ہندوستانی جمہوریت کو کسی ایک فریق کی فتح سے زیادہ ایسے واضح جواب کی ضرورت ہے جس کے بعد ووٹر یہ محسوس کرے کہ اختلاف اپنی جگہ، سیاست اپنی جگہ، مگر اس کے ووٹ کی حفاظت کرنے والا ادارہ اپنے فیصلوں کی وضاحت کے لیے کسی سیاسی جماعت کا محتاج نہیں۔

اور یہی الیکشن کمیشن کے سامنے اصل امتحان ہے: وہ سیاسی دفاع چاہتا ہے یا عوامی اعتماد؟

haleemmans

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے