اسلام ایک دینِ فطرت ہے۔ اس کی تعلیمات انسانی فطرت، معاشرتی ضروریات اور زندگی کے حقیقی تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔ اسلام جہاں عبادت، ذکر و فکر، تقویٰ اور آخرت کی تیاری کی دعوت دیتا ہے، وہیں دنیاوی زندگی کی جائز ضروریات پوری کرنے، محنت کرنے اور حلال ذرائع سے رزق حاصل کرنے کی بھی ترغیب دیتا ہے۔ اسلام کے نزدیک دنیا کمانا برا نہیں، حرام طریقے سے دنیا کمانا برا ہے؛ مال رکھنا مذموم نہیں، مال کی محبت میں حلال و حرام کی تمیز کھو دینا مذموم ہے۔ قرآنِ کریم نے جمعہ کی نماز کی تاکید کے بعد معاشی جدوجہد کی توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا : «فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ فَانْتَشِرُوا فِي الْأَرْضِ وَابْتَغُوا مِنْ فَضْلِ اللَّهِ وَاذْكُرُوا اللَّهَ كَثِيرًا لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔[سورۃ الجمعۃ: 10]
یعنی: پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔
یہ آیت ایک نہایت متوازن اسلامی تصور پیش کرتی ہے: مسجد سے تعلق بھی قائم رہے اور بازار سے جائز تعلق بھی؛ پیشانی سجدے میں بھی جھکے اور ہاتھ حلال روزی کے لیے محنت بھی کریں۔ مسلمان کی زندگی میں عبادت اور معاشی جدوجہد ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ صحیح نیت کے ساتھ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔
حلال رزق: عبادت کی روح
جب انسان اپنے اہلِ خانہ کی کفالت، اپنی جائز ضروریات کی تکمیل، والدین کی خدمت، اولاد کی تعلیم، رشتہ داروں کی مدد اور ضرورت مندوں کی اعانت کی نیت سے محنت کرتا ہے تو اس کی یہ محنت محض دنیاوی سرگرمی نہیں رہتی، بلکہ نیک نیت کے ساتھ اجر و ثواب کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اسی لیے رزقِ حلال کی اہمیت صرف اس بات میں نہیں کہ اس سے پیٹ بھرتا ہے، بلکہ اس میں یہ حقیقت بھی پوشیدہ ہے کہ حلال کمائی سے زندگی میں برکت، دل میں اطمینان اور مال میں خیر پیدا ہوتی ہے۔
اسلام نے تجارت کو جائز قرار دیا اور سود کو حرام قرار دیتے ہوئے فرمایا: «وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا۔ “اور اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔” [سورۃ البقرۃ: 275]
اس آیت میں معاشی زندگی کے لیے ایک بنیادی اصول بیان کیا گیا ہے: جائز تجارت اور محنت کے ذریعے مال حاصل کرنا درست ہے، لیکن ظلم، استحصال اور حرام ذرائع کے ذریعے مال کمانا درست نہیں۔
نبی کریم ﷺ کی زندگی اور تجارت ومزدوری
سیرتِ رسول اللہ ﷺ کے مطالعے سے ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ عزتِ نفس، محنت اور جائز معاشی جدوجہد اسلام کے مزاج کا حصہ ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:«مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَّا رَعَى الْغَنَمَ۔» ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس نے بکریاں نہ چَرائی ہوں۔“ ” فَقَالَ أَصْحَابُهُ: وَأَنْتَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، كُنْتُ أَرْعَاهَا عَلَى قَرَارِيطَ لِأَهْلِ مَكَّةَ”. صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے بھی؟ فرمایا: ہاں، میں مکہ والوں کی بکریاں چند قیراط کے عوض چَرایا کرتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 2262]
غور کیجیے! جس ذاتِ اقدس پر پوری انسانیت کی ہدایت کی ذمہ داری تھی، جسے اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین بنایا، اس کی حیاتِ مبارکہ میں بھی محنت ومزدوری اور جائز معاشی سرگرمی کا یہ روشن پہلو موجود ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ محنت کسی انسان کے مقام کو کم نہیں کرتی؛ بلکہ حلال محنت انسان کی عزت میں اضافہ کرتی ہے۔
عہدِ نبوی کا ایک دل کو چھو لینے والا واقعہ
مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کو حضرت سعد بن ربیعؓ کا بھائی بنایا گیا۔ حضرت سعدؓ انصار کے صاحبِ ثروت صحابی تھے۔ انہوں نے اپنے مہاجر بھائی سے ایسی محبت کا اظہار کیا کہ اپنا مال تقسیم کرنے کی پیشکش کی اور کہا کہ جو کچھ میرے پاس ہے، اس میں سے نصف آپ لے لیجیے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ نے مال کی اس پیشکش کو ٹھکرایا اور نہایت وقار کے ساتھ فرمایا:
«بَارَكَ اللَّهُ لَكَ فِي أَهْلِكَ وَمَالِكَ، دُلُّونِي عَلَى السُّوقِ» اللہ تعالیٰ آپ کے اہل و مال میں برکت عطا فرمائے، مجھے بازار کا راستہ بتا دیجیے۔” وہ بازار گئے، تجارت کی اور اپنے لیے رزق کا ذریعہ پیدا کیا۔ انہوں نے کچھ پنیر اور گھی حاصل کیا اور تجارت شروع کی بھر پور نفع کمایا۔[صحيح مسلم حديث نمبر:3780].
پھر وہ وقت بھی آیا کہ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ اپنے عہد میں جزیرہ نمائے عرب کے سب سے مالدار تاجر بنے، آپؓ کہا کرتے تھے کہ: ’’ میں اگر پتھر اٹھاتا ہوں تو اس کے نیچے سونا اور چاندی پاتا ہوں.” آپؓ نے ایک روز اپنے بارے میں رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ’’ اے ابن عوف! تم دولت مند ہو ،تم سست روی سے جنت میں داخل ہو گے۔ لہٰذا اللہ کو قرض دو ،تمہارے قدم کھول دیے جائیں گے.”جس دن سے آپؓ نے رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے یہ نصیحت بھرے کلمات سنے ، آپؓ اپنے رب کو قرض حسنہ دینے لگے اور اللہ بھی اس کو کئی گنا بڑھاتا رہا۔ رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ تبوک کا ارادہ فرمایا تو صحابہ کو انفاق فی سبیل اللہ کا حکم دیا ۔حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ صدقہ و انفاق کرنے والے اس اولین گروہ میں شامل تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے عطیہ کی وصولی کے بعد جناب عبدالرحمنؓ سے پوچھا. "عبدالرحمنؓ ! کیا اہل خانہ کیلئے بھی کچھ چھوڑا ہے؟” عبدالرحمنؓ بن عوف نے جواب دیا. "یا رسول اللہ ﷺ میں نے ان کے پاس وہ اجر چھوڑا ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول اللہ ﷺ نے وعدہ فرمایا ہے.”
اس دنیا سے رخصت ہوتے وقت آپؓ نے پچاس ہزار دینار فی سبیل اللہ تقسیم کرنے کا حکم دیا۔ اسلام میں سب سے بلند مرتبہ لوگ وہ سمجھے جاتے ہیں جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔ انہوں نے غزوہ بدر میں شرکت کرنے والے زندہ اصحاب میں سے ہر ایک کو چار ہزار دینار دینے کی بھی وصیت کی۔ اپنے ورثاء کے لیے کئی ہزار اونٹ، گھوڑے اور بکریاں ترکہ میں چھوڑ گئے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ آپؓ ہمیشہ اس دولت سے خائف رہے ۔ ایک روز آپؓ کے سامنے افطاری کا کھانا رکھا گیا ، کھانے پر آپؓ کی نظر پڑی تو آپؓ رو پڑے اور کہا. ’’مصعب بن عمیر شہید ہوئے ۔ انہیں ایک چادر میں کفنایا گیا ، اگر ان کا سرڈھانپا جاتا تو پاؤں ننگے ہوجاتے اور اگر پاؤں ڈھانپا جاتا تو سرننگا ہو جاتا۔ حمزہؓ شہید ہوئے ۔ ان کے کفن کیلئے ایک چادر کے سوا کچھ نہ ملا۔ پھر دنیا ہمارے سامنے خوب پھیلا دی گئی اور ہمیں اس سے بہت کچھ عطا ہوا۔ مجھے خدشہ ہے کہ کہیں ہماری نیکی کا بدلہ ہمیں یہاں ہی نہ دیدیا جائے‘‘۔ [بحوالہ اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ]
یہ ہے عہدِ نبوت میں ایک مقبول صحابیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غربت سے امارت ودولت تک پہنچنے کی کہانی!
کیا کسی اہلِ اقتدار نے اس بات پہ غور کیا۔ کوئی ہے جو عبدالرحمن بن عوف رضی اللی عنہ کی اس روایت پہ چل سکے؟ کوئی بادشاہ سلطان شیخ کوئی وزیرِ اعظم، کوئی صدر، کوئی گورنر‘ کوئی مشیر؟
حضرت ابن عوفؓ اپنے مال کے غلام نہیں مالک تھے۔ یہی وہ نکتہ ہے جو ہمیں سمجھ نہیں آتا۔ مالک وہ ہوتا ہے جو اپنا مال بانٹ دیتا ہے اور غلام وہ ہے جو اسے سنبھال کے رکھتا ہے….!!
یہ واقعہ ہمیں خود داری، محنت اور حلال روزگار کا نہایت خوب صورت سبق دیتا ہے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوفؓ کو مدد کی ضرورت تھی، مگر انہوں نے مدد کو اپنی مستقل زندگی کا سہارا بنانے کے بجائے محنت اور تجارت کو اپنا ذریعۂ معاش بنایا۔
یہاں ایک اہم بات سمجھنے کی ہے کہ اسلام ضرورت مند کی مدد کرنے سے منع نہیں کرتا۔ بلکہ اسلام تو صدقہ، زکوٰۃ، ایثار اور مواسات کی تعلیم دیتا ہے۔ لیکن جو شخص اپنی استطاعت کے مطابق محنت کرسکتا ہو، اس کے لیے محنت اور خود انحصاری ایک قابلِ قدر راستہ ہے۔
ہاتھ پھیلانے کے بجائے ہاتھ کو کام میں لگائیے
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لَأَنْ يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ فَيَحْطِبَ عَلَى ظَهْرِهِ… خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْأَلَ رَجُلًا“
ترجمہ: ” تم میں سے کوئی شخص اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا اٹھا کر لائے… یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی شخص سے بھیک کرے۔”
اسی حدیث میں آپ ﷺ نے فرمایا: «فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى» “بے شک اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔” [صحیح مسلم: 1042]
یہ تعلیم کسی غریب یا مجبور انسان کی تحقیر نہیں کرتی، بلکہ انسان میں محنت، خود داری اور دوسروں کے لیے نفع بخش بننے کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ جو شخص آج اپنے لیے حلال روزی کماتا ہے، کل وہی دوسروں کے لیے سہارا بن سکتا ہے۔
حلال کمائی صرف اپنی ضرورت کے لیے نہیں
مال کا اصل حسن یہ ہے کہ وہ انسان کے ہاتھ میں رہے، دل میں نہ اترے۔ حلال مال سے انسان اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کرسکتا ہے، والدین کی خدمت کرسکتا ہے، اولاد کی تعلیم و تربیت کرسکتا ہے، زکوٰۃ ادا کرسکتا ہے، صدقہ دے سکتا ہے اور ضرورت مندوں کے کام آسکتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى»“اپنے زیرِ کفالت لوگوں سے آغاز کرو، اور اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔” [صحیح مسلم:1036]
یعنی اسلام کی معاشی تعلیم صرف “کمانے” تک محدود نہیں؛ بلکہ کمانا، اہلِ خانہ پر خرچ کرنا، ضرورت مندوں کا خیال رکھنا اور اللہ کی رضا کے لیے مال استعمال کرنا اس پورے تصور کا حصہ ہے۔
تجارت میں بھی اخلاق ضروری ہیں
حلال کمائی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ کاروبار بظاہر جائز ہو؛ بلکہ کمائی کے طریقے بھی پاکیزہ اور دیانت دارانہ ہوں۔ جھوٹ، دھوکا، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی، عیب چھپانا اور کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھانا حلال تجارت کے مزاج کے خلاف ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے تجارت کے اخلاق کی تعلیم دیتے ہوئے فرمایا: «رَحِمَ اللَّهُ رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى۔» [صحيح البخاري – 2076]
” اللہ اس شخص پر رحم فرمائے جو بیچتے وقت، خریدتے وقت اور اپنا حق طلب کرتے وقت نرمی اختیار کرے۔”
گویا مسلمان تاجر کا مقصد صرف نفع حاصل کرنا نہیں، بلکہ حلال نفع کے ساتھ حسنِ اخلاق اور انسانی ہمدردی کو بھی قائم رکھنا ہے۔دنیا کمائیے، مگر آخرت نہ بھولیے۔
اسلام رہبانیت یعنی دنیا سے کنارہ کشی کا قائل نہیں اور نہ دنیا کمانے کو برا سمجھتا ہے۔ اصل مطلوب یہ ہے کہ دنیا انسان کے ہاتھ میں ہو، دل پر غالب نہ ہو۔ کاروبار ہو مگر نماز نہ چھوٹے، دولت ہو مگر تکبر نہ آئے، آمدنی بڑھے مگر حلال و حرام کی تمیز ختم نہ ہو، گھر خوشحال ہو مگر پڑوسی بھوکا نہ رہے۔
ایک مسلمان کی کامیابی یہ نہیں کہ اس کے پاس کتنا مال ہے؛ بلکہ یہ ہے کہ اس نے مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔حلال رزق کا ایک لقمہ انسان کے لیے محض غذا نہیں، بلکہ اطمینانِ قلب اور پاکیزہ زندگی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی لیے ہمیں اپنے بچوں کو بھی صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ “زیادہ کماؤ”، بلکہ یہ بھی سکھانا چاہیے کہ “حلال کماؤ، دیانت سے کماؤ، محنت سے کماؤ اور اللہ کو راضی کرکے کماؤ۔”
غریبی کوئی عیب نہیں اور مال داری بھی بذاتِ خود کوئی کمال نہیں۔ اصل عزت حلال کمائی، پاکیزہ کردار، محنت، قناعت اور اللہ کی اطاعت میں ہے۔جو ہاتھ آج محنت کے لیے اٹھتا ہے، وہ کل کسی محتاج کو سہارا دینے والا ہاتھ بھی بن سکتا ہے۔ جو شخص اپنی محنت سے اپنے بچوں کی ضرورتیں پوری کرتا ہے، والدین کی خدمت کرتا ہے، رشتہ داروں کا خیال رکھتا ہے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اس کی کمائی صرف اس کی جیب نہیں بھرتی بلکہ اس کے لیے اجر کے دروازے بھی کھول سکتی ہے۔اس لیے حالات جیسے بھی ہوں، امید کا دامن نہ چھوڑیں۔ اپنی صلاحیت کو پہچانیے، جائز ذریعۂ معاش تلاش کیجیے، محنت کیجیے، تجارت کیجیے، ہنر سیکھیے، دیانت کو اپنا سرمایہ بنائیے اور رزق کے معاملے میں اللہ پر بھروسا رکھتے ہوئے اسباب اختیار کیجیے۔محنت کیجیے، رزقِ حلال کمائیے، اپنے اہلِ خانہ کی کفالت کیجیے، ضرورت مندوں کا سہارا بنیے اور اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی کوشش کیجیے؛ کیونکہ حلال رزق صرف پیٹ کی غذا نہیں؛ یہ زندگی کی برکت، دل کا سکون اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔