لو آپ انپے دام میں صیاد آگیا. الیکشن کمیشن ‘ سوالوں کی زد میں

لو آپ انپے دام میں صیاد آگیا. الیکشن کمیشن ‘ سوالوں کی زد میں

لو آپ انپے دام میں صیاد آگیا.
الیکشن کمیشن ‘ سوالوں کی زد میں

تحریر: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755

جمہوریت میں عہدے بڑے نہیں ہوتے، عوام کا اختیار بڑا ہوتا ہے۔ جس منصب کی طاقت عوام کے ووٹ سے نکلتی ہو، وہ منصب عوام کے سامنے جواب دہ بھی ہوتا ہے۔ اقتدار کی کرسی وقتی ہوسکتی ہے، اختیار محدود ہوسکتا ہے، مگر شہری کا حقِ رائے دہی کسی انتظامی سہولت یا کسی افسر کے صوابدیدی اختیار کا محتاج نہیں ہوسکتا۔ جب یہی بنیادی حق پیچیدہ ضابطوں، غیر معمولی دستاویزات اور یک طرفہ فیصلوں کے درمیان الجھنے لگے تو سوال صرف ایک انتخابی عمل کا نہیں رہتا، بلکہ جمہوریت کی روح اور ادارہ جاتی جواب دہی کا بن جاتا ہے۔
ایس آئی آر کے نام پر ملک بھر میں شروع کیے گئے عمل نے عام شہری کے سامنے ایسے ہی کئی سوال کھڑے کردیے ہیں۔ برسوں سے فہرستِ رائے دہندگان میں درج رائے دہندہ کو دوبارہ اپنی شناخت، شہریت اور حقِ رائے دہی کی تصدیق کے مراحل سے گزارنا، فارموں اور دستاویزات کا بوجھ ڈالنا، اور فارم ۶ کے ساتھ نئے اقرارنامے جیسے تقاضوں کو انتخابی عمل کا حصہ بنانا، پہلے ہی عام آدمی کے لیے ایک دشوار صورتِ حال پیدا کرچکا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس شہری کا نام پہلے سے فہرستِ رائے دہندگان میں موجود ہے، اسے اپنے ہی ووٹ کے وجود کا بار بار ثبوت کیوں دینا پڑے؟ اور اگر کسی کم تعلیم یافتہ، بزرگ، غریب یا تکنیکی سہولتوں سے محروم شہری کے لیے یہ عمل مشکل ہوجائے تو اس کی قیمت کون ادا کرے گا؟
اس سے بھی زیادہ اہم سوال طریقۂ کار اور اختیار کا ہے۔ کیا فہرستِ رائے دہندگان کی نظرثانی کے نام پر ایسے اضافی تقاضے عائد کیے جاسکتے ہیں جن کی قانونی بنیاد، دائرۂ کار اور ضرورت پر خود سوالات اٹھ رہے ہوں؟ کیا کسی انتظامی عمل کے ذریعے شہری کے حقِ رائے دہی پر ایسی نئی شرائط عائد کی جاسکتی ہیں جنہیں قانون میں واضح طور پر بیان کیے بغیر لازمی قرار دیا جائے؟ اور جب فہرستِ رائے دہندگان کی تیاری، تصحیح، تصدیق اور ناموں کے اندراج و اخراج کا بڑا حصہ سافٹ ویئر اور مرکزی ڈیجیٹل نظام کے ذریعے انجام پانے لگے تو اس پورے عمل کی شفافیت، انسانی نگرانی، اپیل اور جواب دہی کی ضمانت کہاں ہے؟
اصل تشویش فہرستِ رائے دہندگان کی اصلاح نہیں،اصل تشویش یہ ہے کہ اصلاح کے نام پر کہیں اہل اور مستحق رائے دہندہ ہی اپنے ووٹ کے حق کا ثبوت دیتے دیتے فہرست سے باہر نہ ہوجائے۔ کسی جعلی یا غیر مستحق نام کو نکالنا انتخابی نظام کی ذمہ داری ہے، لیکن کسی حقیقی شہری کا نام کاغذی پیچیدگی، تکنیکی رکاوٹ، دستاویز کی عدم دستیابی یا مقررہ مدت میں کارروائی مکمل نہ کرپانے کے باعث خارج ہوجانا بھی اتنا ہی سنگین معاملہ ہے۔ فہرستِ رائے دہندگان میں نام کا ہونا محض ایک انتظامی اندراج نہیں؛ یہی اندراج شہری کو جمہوری عمل میں اپنی آواز استعمال کرنے کا عملی حق دیتا ہے۔
اور اب اسی پورے معاملے کے بیچ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار خود ان سوالات کے مرکز میں آگئے ہیں۔ ایس آئی آر کے طریقۂ کار اور فیصلوں پر اٹھنے والے اعتراضات، ان کے خلاف عدالت میں دائر عرضی اور استعفے کے مطالبات نے معاملے کو محض انتظامی کارروائی سے نکال کر ادارہ جاتی جواب دہی کے سوال تک پہنچا دیا ہے۔ یہاں بحث کسی ایک شخصیت کو ہدف بنانے کی نہیں، بلکہ اس بنیادی اصول کی ہے کہ جو ادارہ ملک کے انتخابی نظام کی نگرانی کرتا ہے، اس کے فیصلے بھی شفافیت، آئینی حدود اور عوامی اعتماد کے معیار پر پرکھے جائیں گے۔کیونکہ جمہوریت میں کوئی منصب سوال سے بالاتر نہیں، کوئی ادارہ جواب دہی سے مستثنیٰ نہیں اور کوئی انتظامی اختیار عوام کے بنیادی حق سے بڑا نہیں ہوسکتا۔حالیہ دنوں میں الیکشن کمیشن کے گرد اٹھنے والے سوالات کو اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے۔ بظاہر معاملہ چیف الیکشن کمشنر اور دو دیگر کمشنروں کے درمیان اختلاف کا دکھائی دیتا ہے، مگر اصل سوال اس سے کہیں بڑا ہے۔ کیا الیکشن کمیشن ایک اجتماعی آئینی ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے، یا فیصلہ سازی کا مرکز رفتہ رفتہ ایک فرد کے گرد سمٹتا جارہا ہے؟ یہ سوال اس وقت اور اہم ہوجاتا ہے جب فہرستِ رائے دہندگان کی تیاری، رائے دہندگان کے ناموں کے اخراج و اندراج اور انتخابی ڈیٹا کے انتظام جیسے بنیادی معاملات پر خود کمیشن کے ارکان کے درمیان اختلاف سامنے آئے۔
گاندھی اور امبیڈکر کے آئینِ جمہوریت میں حقِ رائے دہی
مہاتما گاندھی نے ۱۸ جون ۱۹۳۱ کو ینگ انڈیا میں سوراج کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کرتے ہوئے بالغ حقِ رائے دہی کو غیر معمولی اہمیت دی تھی۔ ان کے نزدیک ووٹ محض بیلٹ پر ایک نشان نہیں تھا؛ یہ عوام کے ہاتھ میں اقتدار پر قابض قوتوں کے سامنے اپنی رائے کے اظہار کا براہِ راست ذریعہ تھا۔ اسی لیے اگر کسی شہری کا نام فہرستِ رائے دہندگان سے غائب ہوجائے تو معاملہ صرف ایک نام کے اخراج تک محدود نہیں رہتا۔ اس کے ساتھ شہری کی سیاسی آواز بھی کمزور پڑتی ہے۔ فہرستِ رائے دہندگان میں ایسی تبدیلی، جس کے نتیجے میں اہل شہری اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہو، عوام اور اقتدار کے درمیان اس براہِ راست جمہوری رشتے کو متاثر کرتی ہے جسے گاندھی حقِ رائے دہی کی روح سمجھتے تھے۔
پھر ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر کی وہ تاریخی تنبیہ سامنے آتی ہے جو انہوں نے ۱۵ جون ۱۹۴۹ کو دستورِ ہند کے مسودے میں اس شق پر بحث کے دوران کی تھی جو بعد میں آرٹیکل ۳۲۴ بنی۔ امبیڈکر نے واضح کیا تھا کہ انتخابات کی نگرانی، ہدایت اور کنٹرول ایک الیکشن کمیشن کے سپرد کیا جارہا ہے اور فہرستِ رائے دہندگان تیار کرتے وقت کسی شہری کے ساتھ ناانصافی نہیں ہونی چاہیے۔ ان کے نزدیک اس کے برعکس کوئی بھی اقدام ’’جمہوری حکومت کی جڑ ہی کاٹ دے گا۔‘‘
سات دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد یہ تنبیہ پھر یاد آتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ فہرستِ رائے دہندگان کی تیاری، رائے دہندگان کے ناموں کے اخراج و اندراج اور انتخابی ڈیٹا کے انتظام سے متعلق خود الیکشن کمیشن کے اندر سوالات اٹھ رہے ہیں۔انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ نے اس بحث کو نیا رخ دیا۔ رپورٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ووٹر رجسٹریشن، ناموں کے حذف و بحالی اور انتخابی فہرست کے ڈیٹا تک رسائی جیسے اہم معاملات میں اپنے دونوں ساتھی کمشنروں، سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی، کو فیصلہ سازی کے عمل میں پوری طرح شریک نہیں کیا۔ اگر رپورٹ کی یہ تفصیلات درست ہیں تو معاملہ محض انتظامی اختلاف نہیں رہتا؛ سوال الیکشن کمیشن کے اجتماعی آئینی کردار اور اس کے داخلی نظامِ فیصلہ سازی تک پہنچتا ہے۔یہاں ٹی۔ این۔ سیشن بنام یونین آف انڈیا (۱۹۹۵) میں سپریم کورٹ کا وہ مؤقف بھی سامنے آتا ہے کہ آئین انتخابات کی ذمہ داری کسی ایک فرد کو نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کو سونپتا ہے۔ عدالت نے اس خطرے کی طرف بھی توجہ دلائی تھی کہ کسی فرد کو اس قدر نمایاں نہ کیا جائے کہ ادارہ خود پس منظر میں چلا جائے۔ آج سوال پھر وہی ہےالیکشن کمیشن اجتماعی آئینی ادارے کے طور پر فیصلے کررہا ہے یا ادارے کے اندر اختیارات کا ایسا ارتکاز پیدا ہورہا ہے جس میں ایک فرد کا کردار باقی ارکان پر غالب آجائے؟
چیف الیکشن کمشنر۔برابر افراد میں اول، واحد فیصلہ ساز نہیں
آئینی اعتبار سے چیف الیکشن کمشنر اور دوسرے الیکشن کمشنروں کی حیثیت برابر ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کو برابر افراد میں اول کہا جاسکتا ہے، لیکن اسے واحد فیصلہ ساز نہیں سمجھا جاسکتا۔ کمیشن کے فیصلوں کی بنیاد اجتماعی غور و فکر، اتفاقِ رائے یا اکثریتی فیصلے پر ہونی چاہیے۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دس ماہ کے دوران ایس آئی آر سے متعلق اہم معاملات پر الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے ۱۴ مرتبہ تحریری اعتراضات درج کیے۔ اس کے باوجود رپورٹ کے مطابق چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے دونوں کی شرکت کے بغیر متعدد اہم فیصلے کیے۔تب یہ مسئلہ دو اہلکاروں کے درمیان اختلاف سے آگے بڑھ جاتا ہے۔ سوال ادارہ جاتی فیصلہ سازی کے بنیادی اصول کا بن جاتا ہے۔ ایک آئینی کمیشن کی طاقت اس کی اجتماعی حیثیت میں ہوتی ہے۔ اگر اجتماعی ادارے میں فیصلہ سازی عملاً ایک فرد کے ہاتھ میں سمٹ جائے تو ادارے اور فرد کے اختیار کے درمیان حدِ فاصل دھندلی ہونے لگتی ہے۔ سپریم کورٹ نے ٹی۔ این۔ سیشن بنام یونین آف انڈیا میں اسی خطرے کی نشاندہی کی تھی۔ آرٹیکل ۳۲۴ انتخابات کی ذمہ داری الیکشن کمیشن کو دیتا ہے، کسی ایک فرد کو نہیں۔ عدالت کی یہ تنبیہ کہ کسی فرد کو نمایاں کرکے الیکشن کمیشن کو پس منظر میں نہیں دھکیلا جانا چاہیے، موجودہ بحث میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔
دو کمشنروں کی خاموش مگر دوٹوک مزاحمت
اس معاملے میں ایک فرق سمجھنا ضروری ہے۔ سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی محض چیف الیکشن کمشنر کے فیصلوں سے اختلاف کرتے ہوئے رسمی اختلافی نوٹس نہیں لکھ رہے تھے۔ رپورٹ میں پیش کی گئی تفصیلات کے مطابق دونوں کمشنروں کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ انہیں دانستہ طور پر فیصلہ سازی کے عمل سے باہر رکھا گیا اور بعض معاملات میں چیف الیکشن کمشنر ایسے فیصلے کررہے تھے جیسے وہ تنہا الیکشن کمیشن آف انڈیا کی نمائندگی کرتے ہوں۔یہ پہلو اس پورے معاملے کو اہم بنا دیتا ہے۔ اگر دو کمشنر خود تحریری طور پر یہ کہیں کہ انہیں ایسے معاملات میں شامل نہیں کیا گیا جن کا براہِ راست تعلق فہرستِ رائے دہندگان اور شہری کے حقِ رائے دہی سے ہے تو سوال صرف فیصلے کے نتیجے کا نہیں رہتا، فیصلے کے طریقۂ کار کا بھی بن جاتا ہے۔جمہوریت میں طریقۂ کار کی اپنی آئینی اہمیت ہوتی ہے۔ درست فیصلہ بھی اگر ایسے طریقے سے کیا جائے جس میں شفافیت اور اجتماعی مشاورت نہ ہو تو ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔ فہرستِ رائے دہندگان کسی سرکاری دفتر کی معمولی فائل نہیں۔ یہ اس بات کا عملی ثبوت ہوتی ہے کہ ریاست اپنے شہری کو سیاسی وجود کے طور پر تسلیم کرتی ہے۔اگر بڑے پیمانے پر شہریوں کے نام فہرست سے حذف کیے جائیں اور دوبارہ اندراج کا بوجھ انہی شہریوں پر ڈال دیا جائے، جبکہ ان سے ایسی دستاویزات بھی طلب کی جائیں جو بہت سے لوگوں کے پاس موجود نہ ہوں، تو بالغ حقِ رائے دہی کے تصور پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
مغربی بنگال: ۲۷ لاکھ نام حذف ہونے کا معاملہ
مغربی بنگال اس بحث کی ایک اہم مثال ہے۔ ایس آئی آر کے نتیجے میں تیار ہونے والی فہرستِ رائے دہندگان سے ۲۷ لاکھ رائے دہندگان کے نام حذف کیے گئے۔ ان شہریوں سے کہا گیا کہ وہ اپنا نام دوبارہ شامل کرانے کے لیے اپیل کریں اور سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت قائم عدالتی پینل کے سامنے اپنی اپیلیں پیش کریں۔معاملہ اس وقت مزید پیچیدہ ہوا جب انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا کہ مغربی بنگال میں ۱۶.۱۰ لاکھ رائے دہندگان کے نام، جنہیں دوبارہ فہرستِ رائے دہندگان میں شامل کیے جانے کے لیے کلیئر کیا گیا تھا، حذف کرنے کے مقصد سے اپیلیں دائر کی گئیں۔ یہاں ایک بنیادی سوال سامنے آتا ہے۔یہ اپیلیں آخر کس نے دائر کیں؟رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن اس سوال کا واضح جواب دینے سے قاصر رہا کہ اس کی جانب سے یہ اپیلیں دائر کرنے والے حکام کون تھے۔ الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو نے سوال اٹھایا۔’’الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ اپیلیں دائر کرنے کا مجاز کون تھا اور اسے یہ اختیار کس نے دیا؟‘‘
انہوں نے مزید پوچھا: ’’الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ اپیلیں حقیقتاً کس نے دائر کیں؟‘‘
سندھو کے مطابق نہ انہیں، نہ وویک جوشی کو اور نہ ہی مغربی بنگال کے موجودہ چیف الیکٹورل آفیسر کو ان اپیلوں کی بنیاد یا انہیں دائر کرنے کے طریقۂ کار سے آگاہ کیا گیا تھا۔یہ صورتِ حال اس لیے اہم ہے کہ الیکشن کمیشن کا بنیادی کردار شہریوں کے حقِ رائے دہی کی حفاظت اور قابلِ اعتماد فہرستِ رائے دہندگان کی تیاری ہے۔ ایسے میں اگر ۱۶.۱۰ لاکھ شہریوں کے نام حذف کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کی جانب سے اپیلیں دائر کی جائیں اور خود کمیشن کے دو ارکان اس عمل سے لاعلم ہوں تو سوال اٹھنا ناگزیر ہے۔ امبیڈکر نے ۱۹۴۹ میں واضح کیا تھا کہ فہرستِ رائے دہندگان تیار کرتے وقت الیکشن کمیشن کو کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ ایسا عمل ’’جمہوری حکومت کی جڑ ہی کاٹ دے گا۔‘‘آج جب دس لاکھ سے زیادہ رائے دہندگان کے نام حذف کرنے سے متعلق اپیلوں کا معاملہ سامنے آتا ہے تو امبیڈکر کی یہ تنبیہ محض تاریخی اقتباس نہیں رہتی وہ موجودہ صورتِ حال کو پرکھنے کا ایک آئینی پیمانہ بن جاتی ہے۔
فارم ۶: قانون بنانے کا اختیار کس کے پاس ہے؟
اب فارم ۶ کے معاملے پر آئیے۔ یہی وہ فارم ہے جسے ۱۸ برس یا اس سے زیادہ عمر کا شہری فہرستِ رائے دہندگان میں اپنا نام درج کرانے کے لیے پُر کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق ایس آئی آر کے تحت فارم ۶ پُر کرنے والے افراد سے کہا گیا کہ وہ اپنے والدین یا دادا دادی، نانا نانی کے نام بھی درج کریں، جیسا کہ وہ گزشتہ ایس آئی آر کی فہرستِ رائے دہندگان میں موجود تھے۔مسئلہ یہ تھا کہ والدین اور دادا دادی یا نانا نانی کے نام درج کرنے کی یہ شرط اصل فارم ۶ کا حصہ نہیں تھی۔ اسے بعد میں الیکشن کمیشن کی جانب سے شامل کیا گیا۔یہاں بنیادی قانونی سوال پیدا ہوتا ہےاگر کسی فارم میں ایسی شرط شامل کی جائے جو شہری کے قانونی حق پر اثر انداز ہو تو کیا یہ کام محض انتظامی حکم کے ذریعے کیا جاسکتا ہے یا اس کے لیے قانون میں باقاعدہ ترمیم ضروری ہوگی؟رپورٹ کا مؤقف ہے کہ ایسی تبدیلی قانون میں ترمیم کے ذریعے ہی ممکن تھی اور قانون میں ترمیم کا اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہے، الیکشن کمیشن کے پاس نہیں۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بالغ شہری جو رائے دہندہ بننا چاہتے تھے، فارم ۶ مکمل کرنے کے لیے والدین یا دادا دادی، نانا نانی کے نام فراہم کرنے کی شرط سے دوچار ہوئے۔انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق رواں سال مئی ہی میں وویک جوشی نے فائل پر خبردار کیا تھا کہ حکومتی قواعد میں ترمیم کیے بغیر فارم ۶ کو اس طرح تبدیل نہیں کیا جاسکتا، اور سکھبیر سنگھ سندھو نے بھی ان کے مؤقف سے اتفاق کیا تھا۔ اس کے باوجود، رپورٹ کے مطابق، گیانیش کمار کی سربراہی میں الیکشن کمیشن نے ان اضافوں کو برقرار رکھا۔یہاں سوال صرف فارم کا نہیں، اختیار کی حد کا ہے۔ آئینی ادارے بھی قانون کے پابند ہوتے ہیں۔ انتظامی سہولت یا انتخابی اصلاح کے نام پر قانون کے دائرے سے باہر قدم اٹھانے سے الگ آئینی سوال پیدا ہوتا ہے۔
ای سی آئی نیٹ ۔انتخابی ڈیٹا کس کے اختیار میں؟
ایک اور معاملہ بظاہر تکنیکی ہے، مگر اس کے سیاسی اور جمہوری اثرات گہرے ہیں۔ یہ ای سی آئی نیٹکا معاملہ ہے، جو تقریباً ایک ارب رائے دہندگان کے انتخابی ڈیٹا پر مشتمل نظام ہے۔ریاستوں کے الیکٹورل رجسٹریشن افسران وہ قانونی طور پر مجاز حکام ہیں جو فہرستِ رائے دہندگان میں نام شامل کرنے، نام حذف کرنے اور ضروری تصحیحات کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے اس وقت تشویش ظاہر کی جب انہیں محسوس ہوا کہ فہرستِ رائے دہندگان کا ڈیٹا بیس مرکزی طور پر الیکشن کمیشن کے کنٹرول میں لایا جارہا ہے، جبکہ الیکٹورل رجسٹریشن افسران کو اس نظام کے استعمال کے لیے مناسب رسائی حاصل نہیں رہی۔دونوں کمشنروں نے مطالبہ کیا کہ ای سی آئی نیٹکے عملی نظام کا آزاد تکنیکی آڈٹ کرایا جائے، تاکہ معلوم ہوسکے کہ نظام کس طرح کام کررہا ہے اور اس میں اختیار کی تقسیم کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق گوا میں ۹۷ افراد کو ان کے متعلقہ الیکٹورل رجسٹریشن افسران نے فہرستِ رائے دہندگان میں شامل کیے جانے کے لیے اہل قرار دیا، لیکن ان کے نام شامل نہ کیے جاسکے کیونکہ ای سی آئی نیٹ کا آپریشن مکمل طور پر الیکشن کمیشن کے کنٹرول میں تھا اور الیکٹورل رجسٹریشن افسران کو اسے چلانے کا موقع نہیں دیا گیا تھا۔یہ محض تکنیکی مسئلہ نہیں۔ جب فہرستِ رائے دہندگان کا پورا نظام مرکزی ڈیٹا بیس سے جڑا ہو تو اس نظام پر اختیار، انتخابی عمل کے ایک بنیادی حصے پر اختیار بن جاتا ہے۔ اسی لیے دونوں کمشنروں کی جانب سے آزاد تکنیکی آڈٹ کا مطالبہ اہمیت رکھتا ہے۔
اختیارات کے ارتکاز پر ایک اور سوال
الیکشن کمیشن میں سینئر ڈپٹی الیکشن کمشنر منیش گرگ کو جب انتظامی شعبے کی اضافی ذمہ داری سونپی گئی تو انہوں نے کمیشن کی منظوری کے بغیر کام کی تقسیم ازسرِنو کردی۔ رپورٹ کے مطابق دونوں الیکشن کمشنروں نے محسوس کیا کہ نئی تقسیمِ کار سے انتخابی ڈیٹا بیس چلانے کے اختیارات مزید مرکزی سطح پر مرتکز ہورہے ہیں۔ دونوں نے الگ الگ کابینہ سیکریٹری ٹی۔ وی۔ سومناتھن کو خط لکھ کر صورتِ حال سے آگاہ کیا۔یہاں ایک اور سوال سامنے آتا ہے: ایک آزاد آئینی ادارے کے اندر اگر کمشنروں کو اپنے ہی ادارے کے انتظامی فیصلوں کے خلاف کابینہ سیکریٹری سے رجوع کرنا پڑے تو اس سے ادارے کی داخلی خودمختاری کے بارے میں کیا تاثر پیدا ہوتا ہے؟اصولی طور پر چیف الیکشن کمشنر ہو یا کوئی دوسرا الیکشن کمشنر، اسے حکومت کے کسی عہدیدار، حتیٰ کہ کابینہ سیکریٹری کا بھی مرہونِ منت نہیں ہونا چاہیے۔ الیکشن کمیشن کی اصل جواب دہی کسی سرکاری افسر کے سامنے نہیں بلکہ آئین کے سامنے ہے۔
الیکشن کمیشن کا بیان اور اصل سوال
اس معاملے میں اہم بات یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے طرزِ عمل اور انتخابی عمل سے متعلق اعتراضات صرف اپوزیشن رہنماؤں نے نہیں اٹھائے، بلکہ خود الیکشن کمیشن کے دو ارکان نے بھی انہیں تحریری طور پر ریکارڈ کیا۔ جب کسی آئینی ادارے کے اندر سے ہی فیصلہ سازی، شفافیت اور اختیار کے استعمال پر سوال اٹھیں تو معاملہ محض سیاسی اختلاف نہیں رہتا بلکہ ادارہ جاتی طریقۂ کار کا بن جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن نے _انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے جواب میں کہا کہ وہ آئین کے آرٹیکل ۳۲۴قانونی قواعد اور قائم شدہ ادارہ جاتی روایات کے مطابق کام کرتا ہے۔ کمیشن کے مطابق تحریری اعتراضات، تکنیکی تجاویز اور داخلی نگرانی اس کے معمول کے طریقۂ کار کا حصہ ہیں۔ اسی طرح ایک آر ٹی آئی کے جواب میں الیکشن کمیشن نے ایس آئی آرمیں استعمال ہونے والے سافٹ ویئر، اس کے ڈیزائنر اور ٹینڈر سے متعلق بعض معلومات تجارتی رازداری اور دانشورانہ ملکیت کا حوالہ دیتے ہوئے فراہم نہیں کیں۔ تاہم کمیشن نے واضح کیا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آرکے لیے کوئی الگ سافٹ ویئر ماڈیول تیار یا الگ سے خریدا نہیں گیا۔ منطقی تضاد (لاجیکل ڈسکریپنسی) کے تحت نشان زد ووٹروں اور عمر کے فرق یا پروجینی جیسے معیارات کی تفصیلات بھی مانگی گئی تھیں، جن کے بارے میں کمیشن نے کہا کہ یہ معلومات متعلقہ ای آر اوزسے الگ الگ آر ٹی آئی کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ انتخابی فہرستوں کو درست اور قابلِ اعتماد بنانا یقیناً ضروری ہے، لیکن اس عمل کا طریقۂ کار بھی اتنا ہی اہم ہے۔ اگر فہرست کو ’’صاف‘‘ کرنے کے عمل میں کوئی اہل شہری ہی اپنے حقِ رائے دہی سے محروم ہوجائے تو اصلاح اور محرومی کے درمیان حد کہاں قائم ہوگی؟ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کا شفاف، قانونی اور قابلِ جانچ جواب ضروری ہے۔
جمہوریتیں ہمیشہ ٹینکوں سے نہیں مرتیں
اس موقع پر اسٹیون لیویٹسکی اور ڈینیئل زیبلٹ کی کتاب جمہوریتیں کیسے مرتی ہیںکا حوالہ غیر متعلق نہیں۔ دونوں مصنفین کے مطابق جمہوری پسپائی کا راستہ ہمیشہ کھلے تصادم سے شروع نہیں ہوتا۔ کبھی انتخابی عمل اور جمہوری اداروں کے اندر ہونے والی بتدریج تبدیلیاں بھی اس نظام کی بنیادوں کو متاثر کرتی ہیں۔اس صورتِ حال کی مشکل یہی ہے کہ بظاہر جمہوری ڈھانچہ قائم رہتا ہے۔ پارلیمنٹ موجود رہتی ہے، آئینی ادارے کام کرتے رہتے ہیں، انتخابات ہوتے ہیں اور لوگ ووٹ بھی ڈالتے رہتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہوتا ہے کہ ان اداروں کے اندر اختیار کس طرح استعمال کیا جارہا ہے اور آئینی پابندیاں کس حد تک برقرار ہیں۔کسی جمہوری ادارے کو صرف اس بنیاد پر نہیں پرکھا جاسکتا کہ اس کے پاس آئینی حیثیت موجود ہے یا اس کے اجلاس باقاعدگی سے ہوتے ہیں۔ اصل سوال اس کے عمل کا ہے وہ اپنے آئینی مقصد کو کس طریقے سے پورا کررہا ہے؟ایس آئی آر بھی چیف الیکشن کمشنرکی جانب سے انتخابی عمل کو صاف کرنے اور فہرستِ رائے دہندگان کو درست کرنے کی کوشش کے طور پر شروع کیا گیا تھا۔ لیکن انڈین ایکسپریس کی رپورٹ نے ایس آئی آر پر عمل درآمد کے طریقۂ کار سے متعلق جو سوالات اٹھائے ہیں، ان کے بعد یہ دیکھنا ضروری ہوجاتا ہے کہ فہرستِ رائے دہندگان کو درست کرنے کے نام پر کہیں ایسا عمل تو نہیں ہورہا جو خود اہل شہری کے بنیادی حقِ رائے دہی کو متاثر کردے۔
امبیڈکر کا خواب اور آج کا سوال
۲۷ جنوری ۱۹۱۹ کو ڈاکٹر بی۔ آر۔ امبیڈکر نے ساؤتھ بورو کمیٹی برائے رائے دہی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے حقِ رائے دہی کی بنیادی اہمیت کو نہایت جامع الفاظ میں بیان کیا تھا: ’’رائے دہی یا سیاسی حق کی بنیادی اہمیت اس موقع میں مضمر ہے کہ انسان اجتماعی زندگی کو برقرار رکھنے والی شرائط کے تعین میں فعال اور براہِ راست حصہ لے سکے۔‘‘یہ جملہ بالغ حقِ رائے دہی کے پورے فلسفے کا خلاصہ ہے۔ ووٹ صرف یہ نہیں کہ شہری ہر چند برس بعد پولنگ اسٹیشن جائے۔ ووٹ کا اصل مفہوم یہ ہے کہ شہری اس اجتماعی زندگی کے قواعد و شرائط طے کرنے میں فعال اور براہِ راست شریک ہو جس کا وہ خود حصہ ہے۔اسی لیے امبیڈکر نے اس وقت یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ حقِ رائے دہی کی حد زیادہ سے زیادہ وسیع ہونی چاہیے، تاکہ محروم طبقات کو بھی سیاسی زندگی میں شامل ہونے کا موقع ملے۔ ۱۹۱۹ میں عالمگیر بالغ حقِ رائے دہی کا تصور ابھی عملی حقیقت نہیں بنا تھا۔ امبیڈکر کی کوشش یہ تھی کہ حقِ رائے دہی کا دائرہ ممکنہ حد تک وسیع ہو، تاکہ محروم اور پسماندہ طبقات بھی رائے دہندہ کے طور پر رجسٹر ہوسکیں اور فہرستِ رائے دہندگان زیادہ سے زیادہ جامع بن سکے۔یہاں تاریخ ایک عجیب دائرہ مکمل کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف ۱۹۱۹ کا امبیڈکر ہے جو محروم انسان کو رائے دہندہ بنانے کے لیے حقِ رائے دہی کا دائرہ وسیع کرنا چاہتا ہے؛ دوسری طرف ۱۹۴۹ کا امبیڈکر ہے جو خبردار کرتا ہے کہ فہرستِ رائے دہندگان تیار کرتے وقت ہونے والی ناانصافی ’’جمہوری حکومت کی جڑ ہی کاٹ دے گی۔‘‘اور آج، ۲۰۲۶ میں، اسی بھارت میں فہرستِ رائے دہندگان کی تیاری اور ایس آئی آر کے طریقۂ کار پر ایسے سوالات اٹھ رہے ہیں جنہیں خود الیکشن کمیشن کے دو ارکان نے تحریری شکل میں ریکارڈ کیا ہے۔اس لیے اصل سوال کسی ایک سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت کا نہیں۔ اصل سوال اس اصول کا ہے جس پر جمہوریت کھڑی ہوتی ہے۔کیا ہر اہل شہری کو اپنے سیاسی وجود کے اظہار کا یکساں اور محفوظ حق حاصل ہے؟اگر جواب ہاں میں ہے تو فہرستِ رائے دہندگان کی تیاری کا ہر مرحلہ شفاف، قانونی، قابلِ جانچ اور ادارہ جاتی طور پر اجتماعی ہونا چاہیے۔ اور اگر کسی مرحلے پر یہ احساس پیدا ہونے لگے کہ شہری کو اپنا ووٹ ثابت کرنے کے لیے ریاست کے سامنے مسلسل دستاویزات کا بوجھ اٹھانا پڑ رہا ہے، جبکہ اس کے نام کے اخراج یا عدمِ اندراج کی ذمہ داری واضح نہیں، تو امبیڈکر کی وہ پرانی تنبیہ پھر سامنے آتی ہے۔جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ جمہوریت اس یقین کا نام ہے کہ جس شہری کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے، ریاست اسے اس حق سے محروم کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس حق کو محفوظ رکھنے کے لیے موجود ہے۔گاندھی کا عوامی اقدام، امبیڈکر کا فعال حقِ رائے دہی اور الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری اسی مقام پر ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔اگر فہرستِ رائے دہندگان ہی متنازع ہوجائے تو سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ کس نے ووٹ ڈالا۔ اس سے پہلے ایک اور سوال کا جواب دینا پڑتا ہے۔کسے ووٹ ڈالنے دیا گیا، کس کا نام فہرست میں رہا، کس کا نام نکالا گیا، اور یہ سب کچھ کس اختیار اور کس آئینی طریقۂ کار کے تحت ہوا۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے