الیکشن کمیشن:
بڑے بے آبرو ہو کر تیری کوچے سے ہم نکلے!
✍️ افتخاراحمدقادری
ملک کی جمہوری تاریخ میں الیکشن کمیشن محض ایک سرکاری ادارہ نہیں بلکہ عوام کے حقِ رائے دہی، انتخابی شفافیت اور اقتدار کی آئینی منتقلی کا وہ نگہبان ادارہ ہے جس کی غیر جانب داری پر جمہوری نظام کی پوری عمارت کھڑی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اسی ادارے کے اندر سے فیصلوں، اختیارات کی تقسیم، ووٹر فہرستوں، نئے ووٹروں کے اندراج اور انتخابی اعداد و شمار کے انتظام کے متعلق سنجیدہ سوالات سامنے آئیں تو معاملہ کسی ایک سیاسی جماعت یا ایک انتخاب تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے اثرات پورے جمہوری نظام کی ساکھ تک پہنچتے ہیں۔ گزشتہ چند روز میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے زیر قیادت الیکشن کمیشن آف انڈیا کے اندرونی کام کاج سے متعلق جو تفصیلات منظر عام پر آئی ہیں، انہوں نے اسی لیے سیاسی حلقوں میں غیر معمولی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ 23 ستمبر کو شائع ہونے والی انڈین ایکسپریس کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق الیکشن کمشنر سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی نے گزشتہ دس ماہ کے دوران کم از کم چودہ مرتبہ ایسے فیصلوں اور احکامات پر باضابطہ اعتراضات درج کیے جن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ وہ ان کی اطلاع یا منظوری کے بغیر کیے گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق بعض مواقع پر ایک ہی دن میں چار اعتراضات بھی درج ہوئے۔ یہ اعتراضات محض معمولی انتظامی اختلافات تک محدود نہیں تھے بلکہ نئے ووٹروں کے اندراج، ووٹر فہرست سے نام حذف کرنے اور بحال کرنے، فارم 6 میں تبدیلی، انتخابی ڈیٹا بیس کی مرکزیت اور اس تک ریاستی سطح کے افسران کی رسائی جیسے بنیادی امور سے متعلق تھے۔ یہاں اصل سوال کسی ایک افسر کے شخصی مزاج کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی اختیار اور آئینی ذمہ داری کا ہے۔ اگر تین رکنی انتخابی کمیشن میں دو ارکان بار بار کسی فیصلے پر تحریری اعتراض درج کر رہے ہوں، اور ان اعتراضات کا تعلق براہ راست ووٹر کے نام، ووٹر فہرست اور انتخابی ڈیٹا کے انتظام سے ہو، تو جمہوری معاشرے میں ان اعتراضات کو محض دفتری اختلاف کہہ کر نظر انداز کرنا آسان نہیں۔ اختلافِ رائے کسی بھی آئینی ادارے میں ناممکن نہیں، بلکہ بسا اوقات اختلاف ہی ادارہ جاتی احتساب کی بنیاد بنتا ہے؛ لیکن جب اختلافات بار بار تحریری شکل اختیار کرلیں تو ان کی نوعیت، پس منظر اور فیصلوں کے قانونی جواز پر عوامی وضاحت ناگزیر ہو جاتی ہے۔
انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں یہ بھی سامنے آیا کہ دونوں الیکشن کمشنروں نے انتخابی رول کے انتظامی نظام میں اختیارات کی بتدریج مرکزیت پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے اعتراضات میں یہ سوال بھی شامل تھا کہ کیا فیلڈ سطح پر قانونی اختیار رکھنے والے الیکٹورل رجسٹریشن افسران عملاً ایسے سافٹ ویئر اور مرکزی نظام کے سامنے بے اختیار تو نہیں ہو جائیں گے جس کے ذریعے ووٹر فہرستوں میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دونوں کمشنروں نے انتخابی رول کے آئی ٹی نظام سے متعلق بعض تبدیلیوں پر کابینہ سکریٹری کو بھی خط لکھا۔ یہ معاملہ اس وقت اور زیادہ حساس ہوگیا جب گوا سے متعلق ایک دوسری تحقیقی رپورٹ سامنے آئی۔ انڈین ایکسپریس کے مطابق گوا کے 97 ووٹروں کے معاملات میں مقامی انتخابی افسران نے دستاویزات کی جانچ کے بعد انہیں اہل قرار دیا، مگر ECINet سافٹ ویئر میں پہلے حذف کیے گئے ناموں کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے مطلوبہ ’رول بیک‘ سہولت دستیاب نہ ہونے کے سبب ان کے نام حتمی انتخابی فہرست میں شامل نہ ہوسکے۔ رپورٹ کے مطابق گوا کے چیف الیکٹورل آفیسر کے دفتر نے 11 سے 17 فروری کے درمیان سات دن میں آٹھ مرتبہ الیکشن کمیشن سے اس سہولت کو فعال کرنے کی درخواست کی، مگر 21 فروری کو حتمی فہرست جاری ہونے تک یہ مسئلہ حل نہ ہوسکا۔ انڈین ایکسپریس نے 20 ستمبر تک ان 97 ناموں کے حتمی رول میں موجود نہ ہونے کی بھی نشاندہی کی۔
اگر کسی شہری کو قانونی طریقہ کار کے تحت اپنا حق ثابت کرنے کے بعد مقامی انتخابی افسر اہل قرار دے دے، لیکن مرکزی سافٹ ویئر میں اس فیصلے کو درج کرنے کی گنجائش ہی موجود نہ ہو تو آخر قانونی اختیار کس کے پاس رہ جاتا ہے؟ افسر کے پاس یا نظام کے پاس؟ اگر اختیار قانون نے مقامی انتخابی افسر کو دیا ہے تو سافٹ ویئر کو اس اختیار کا معاون ہونا چاہیے، متبادل حاکم نہیں۔ اور اگر تکنیکی نظام قانونی فیصلے پر عمل درآمد میں رکاوٹ بن جائے تو ذمہ داری طے ہونا بھی ضروری ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے سامنے آنے والی وضاحت بھی اس بحث کا اہم حصہ ہے۔ کمیشن کے مطابق ECINet پر قانونی اختیارات اب بھی متعلقہ فیلڈ افسران ہی استعمال کرتے ہیں اور سائبر سکیورٹی اور مرکزی تکنیکی انتظام کا مقصد انتخابی ڈیٹا کو محفوظ رکھنا ہے۔ گوا کے معاملے میں کمیشن نے وضاحت کی کہ سسٹم میں فارم 7 کے ذریعے نام حذف ہونے کے بعد اسے واپس پلٹانے کی سہولت موجود نہیں تھی۔ یوں کمیشن نے اس معاملے کو دانستہ طور پر کسی اہل ووٹر کو محروم کرنے کے بجائے سافٹ ویئر کے طریقۂ کار اور قانونی عمل کے تناظر میں بیان کیا ہے۔ یہ وضاحت اپنی جگہ مگر سوال اپنی جگہ قائم رہتا ہے کہ جب ریاستی سطح کا انتخابی افسر بروقت مرکزی ادارے کو مسئلے سے آگاہ کر چکا تھا اور بار بار اس کے حل کی درخواست بھی کی گئی تھی، تو حتمی فہرست جاری ہونے سے قبل اس تکنیکی رکاوٹ کو دور کیوں نہ کیا جاسکا؟ جمہوریت میں ایک ووٹ محض ایک عدد نہیں ہوتا؛ وہ ایک شہری کی آئینی شرکت کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لیے ایک بھی اہل ووٹر کا نام غلطی سے خارج ہو جانا انتظامی معمول نہیں سمجھا جاسکتا، خصوصاً اس وقت جب پورا ملک انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظر ثانی کے عمل سے گزر رہا ہو۔اسی تناظر میں فارم 6 کا معاملہ بھی بحث کا مرکز بنا ہوا ہے۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق وویک جوشی نے نئے ووٹروں کے اندراج کے لیے فارم 6 سے متعلق بعض تبدیلیوں پر قانونی سوال اٹھائے، جبکہ سکھبیر سنگھ سندھو نے بعد میں اس اقدام کو ’’غیر مجاز‘‘ اور ’’غیر قانونی‘‘ قرار دیتے ہوئے اعتراض درج کیا۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ وضاحت سامنے آئی کہ فارم 6 میں بنیادی طور پر کوئی تبدیلی نہیں کی گئی بلکہ اس کے ساتھ ایک اضافی اعلان نامہ طلب کیا گیا تھا، جس میں درخواست گزار کے والدین یا دادا دادی کے سابقہ انتخابی ریکارڈ سے متعلق معلومات مانگی گئی تھیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ یہ طریقۂ کار ایس آئی آر سے متعلق احکامات میں شامل تھا اور اسے کمیشن کی منظوری حاصل تھی۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سیاسی الزام اور قانونی سوال کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا ضروری ہے۔ اپوزیشن نے ان تبدیلیوں کو نوجوان اور پہلی مرتبہ ووٹ ڈالنے والے شہریوں کے لیے دشواری پیدا کرنے والا قدم قرار دیا ہے، جبکہ الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد انتخابی فہرستوں کی تصدیق کو مضبوط بنانا ہے۔ لہٰذا اصل فیصلہ جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ اس بات سے ہوگا کہ مطلوبہ اضافی معلومات کس قانونی اختیار کے تحت طلب کی گئیں، ان کے لیے مقررہ قواعد پر عمل ہوا یا نہیں، اور کسی اہل شہری کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کے لیے مناسب متبادل طریقۂ کار موجود تھا یا نہیں۔
سیاسی تنازع اس وقت مزید شدت اختیار کرگیا جب اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے، برطرفی، گرفتاری، مواخذے، ایس آئی آر پر روک اور بعض ریاستوں میں دوبارہ انتخابات جیسے مطالبات اٹھانا شروع کیے۔ سابق وزیر اعلیٰ مغربی بنگال ممتا بنرجی نے گیانیش کمار کی گرفتاری اور ایس آئی آر سے قبل کی انتخابی فہرست کی بنیاد پر مغربی بنگال میں دوبارہ اسمبلی انتخابات کا مطالبہ کیا۔ بعض دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی انتخابی عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے مختلف ریاستوں میں دوبارہ انتخابات کی بات کی۔ کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے چیف الیکشن کمشنر پر مرکزی حکومت کے اشارے پر کام کرنے جیسے سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں۔ لیکن یہ بات بہرحال سیاسی الزامات کے دائرے میں آتی ہے اور ان الزامات کو ثابت شدہ حقیقت کے طور پر پیش کرنا مناسب نہیں۔ خود الیکشن کمیشن نے ان اختلافات کو ادارہ جاتی بحث کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق اہم فیصلے کمیشن کے تمام ارکان کی متفقہ منظوری سے لیے گئے۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی کمیشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ارکان کے درمیان اختلافِ رائے کو آمریت یا ادارہ جاتی انہدام کے مترادف نہیں سمجھا جاسکتا لیکن یہاں بھی ایک سوال اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود ہے: اگر حتمی فیصلے متفقہ تھے تو پھر چودہ مرتبہ تحریری اعتراضات کیوں درج ہوئے؟ اگر اختلافات معمول کے داخلی غور وفکر کا حصہ تھے تو ان اعتراضات کی نوعیت کیا تھی؟ کیا ان اعتراضات کو دور کرنے کے لیے کوئی باقاعدہ نظر ثانی ہوئی؟ کیا متعلقہ افسران اور عوام کو ان فیصلوں کی قانونی بنیاد بتائی گئی؟ اور اگر دو کمشنروں نے بعض اقدامات کو غیر مجاز یا غیر قانونی قرار دیا تو ان اعتراضات پر حتمی فیصلہ کس طریقہ کار سے ہوا؟
جمہوریت کی اصل روح یہی ہے کہ اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی ہو۔ الیکشن کمیشن کو آئینی خود مختاری حاصل ہے تو اسی خود مختاری کا تقاضا ہے کہ اس کے فیصلے شفاف، قابلِ فہم اور قانونی بنیادوں پر قائم نظر آئیں۔ عوام کو یہ اطمینان ہونا چاہیے کہ ان کا نام ووٹر فہرست میں کسی سیاسی پسند و ناپسند کے تحت نہیں بلکہ واضح قانونی معیار کے تحت شامل یا خارج کیا جارہا ہے۔ اگر کوئی نام حذف کیا جاتا ہے تو متعلقہ شہری کو مناسب اطلاع، سماعت اور اپیل کا موقع ملنا چاہیے؛ اگر کوئی نام بحال کرنے کا حکم دیا جاتا ہے تو انتظامی اور تکنیکی نظام کو اس حکم پر عمل درآمد کی ضمانت دینی چاہیے۔ ایس آئی آر کے پورے معاملے میں سب سے حساس پہلو یہی ہے کہ انتخابی فہرست محض سرکاری کاغذ نہیں، بلکہ جمہوری شہریت کا عملی دروازہ ہے۔ جس شہری کا نام فہرست سے باہر ہوگیا، اس کے لیے انتخابی دن جمہوریت کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ اس لیے انتخابی فہرست کی اصلاح بلاشبہ ضروری ہے، مگر اصلاح اور اخراج کے درمیان قانونی احتیاط کی وہ لکیر بھی اتنی ہی ضروری ہے جو ایک اہل شہری کو محض تکنیکی یا انتظامی غلطی کے سبب حقِ رائے دہی سے محروم ہونے سے بچائے۔ یہاں ایک اور خطرناک پہلو سیاسی جماعتوں کے باہمی اعتماد کا ہے۔ اگر حکومت اور اپوزیشن دونوں الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری پر متفق نہ ہوں تو انتخابی نتائج خواہ قانونی طور پر درست ہی کیوں نہ ہوں، ان کے بارے میں عوامی اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کسی بھی جمہوری نظام کے لیے اس سے زیادہ تشویش ناک صورت حال اور کیا ہوسکتی ہے کہ انتخابات تو ہوں، نتائج بھی آئیں، مگر عوام کا ایک حصہ انتخابی نظام کے بارے میں بنیادی سوالات اٹھاتا رہے۔ اسی لیے اس وقت سب سے زیادہ ضرورت شور، الزام تراشی اور جوابی الزام تراشی سے آگے بڑھ کر شفاف جانچ کی ہے۔ اگر الیکشن کمیشن کے اندر واقعی ایسے فیصلے ہوئے جن سے قانونی اختیار رکھنے والے افسران کی قوتِ عمل متاثر ہوئی، تو اس کی وضاحت ہونی چاہیے۔ اگر سافٹ ویئر نے اہل ووٹروں کے نام بحال کرنے سے روکا، تو اس تکنیکی خامی کی مکمل ذمہ داری طے ہونی چاہیے۔ اگر فارم 6 کے ساتھ اضافی معلومات طلب کرنے میں قانونی طریقۂ کار کی خلاف ورزی ہوئی، تو اس کی آئینی و قانونی حیثیت واضح کی جانی چاہیے۔ اور اگر اپوزیشن کے الزامات بے بنیاد ہیں تو الیکشن کمیشن کے پاس بھی شفاف دستاویزات کے ذریعے انہیں مسترد کرنے کا پورا راستہ موجود ہے۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ عدلیہ نے ایس آئی آر کے قانونی پہلوؤں پر پہلے بھی غور کیا ہے، اور انتخابی فہرستوں سے متعلق تنازعات میں شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا سوال بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ چنانچہ جہاں سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام عائد کررہی ہوں، وہاں عدالتی نگرانی میں دستاویزی حقائق کی جانچ عوامی اعتماد کو بحال کرنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ تحقیقات کا دائرہ کسی فرد کو پہلے سے مجرم قرار دینے کے بجائے فیصلوں، احکامات، فائلوں، سافٹ ویئر کے لاگز، اعتراضات اور قانونی اختیار کی مکمل زنجیر تک پھیلا ہو۔ آج مسئلہ صرف گیانیش کمار کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستانی جمہوریت میں ووٹر فہرست کس کے اختیار میں ہے؟ فیصلہ کون کرتا ہے؟ اعتراض کون سنتا ہے؟ سافٹ ویئر کس کے حکم پر چلتا ہے؟ مقامی افسر کا قانونی فیصلہ تکنیکی نظام کے سامنے کیوں رک سکتا ہے؟ اور اگر ایک شہری کا نام غلطی سے حذف ہوجائے تو اس کی فوری تلافی کا ذمہ دار کون ہے؟ یہ سوال کسی ایک جماعت کے نہیں، ہر اس شہری کے ہیں جو انگلی پر سیاہی لگوا کر اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق کو جمہوریت کا بنیادی سرمایہ سمجھتا ہے۔ اقتدار آج کسی ایک کے پاس ہے، کل کسی دوسرے کے پاس ہوسکتا ہے؛ مگر ووٹ کا حق عوام کے پاس رہنا چاہیے۔ اسی لیے الیکشن کمیشن کی ساکھ کا تحفظ حکومت اور اپوزیشن دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ انتخابی ادارے کے بارے میں اٹھنے والے سوالات کا سیاسی دفاع کرنے کے بجائے شفاف وضاحت کی حوصلہ افزائی کرے، اور اپوزیشن کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ سنگین الزامات کو دستاویزی ثبوت اور قانونی فورم پر ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ ورنہ معاملہ صرف ایک چیف الیکشن کمشنر کے خلاف الزامات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس سے کہیں بڑا سوال جنم لے گا کہ کیا ہندوستانی جمہوریت کا سب سے بنیادی ستون، یعنی آزاد اور قابلِ اعتماد انتخابی عمل، عوام کے اعتماد پر پورا اتر رہا ہے؟ میرزا غالب کا مشہور شعر ہے: ’’بڑے بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے‘‘ آج اس شعر کی بازگشت کسی ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ اس صورت حال کے لیے سنائی دے رہی ہے جس میں انتخابی ادارے کی ساکھ، اس کے اندرونی اختلافات، ووٹر فہرستوں کی شفافیت اور شہریوں کے حقِ رائے دہی پر ایک ساتھ سوال اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اگر یہ سوال بے بنیاد ہیں تو انہیں حقائق کے ذریعے ختم کیا جائے؛ اگر ان میں کچھ وزن ہے تو اصلاح کی جائے؛ اور اگر کہیں واقعی قانون سے تجاوز ہوا ہے تو آئینی طریقۂ کار کے مطابق ذمہ داری طے کی جائے۔ جمہوریت نعروں سے نہیں، اعتماد سے زندہ رہتی ہے۔ الیکشن کمیشن کی سب سے بڑی طاقت اس کا آئینی منصب نہیں بلکہ عوام کا یہ یقین ہے کہ بیلٹ پیپر ہو یا الیکٹرانک ووٹنگ، ووٹر لسٹ ہو یا انتخابی نتیجہ، ہر مرحلے پر قانون سب سے بالاتر ہے۔ اگر یہ یقین باقی رہا تو اختلافات بھی جمہوریت کو مضبوط کریں گے، اور اگر یہ یقین کمزور پڑ گیا تو پھر بڑے سے بڑا آئینی ادارہ بھی عوام کے سوالات سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ الزامات کی گرد بیٹھے، دستاویزات سامنے آئیں، قانونی سوالات کے جواب دیے جائیں اور ہندوستانی ووٹر کو یہ یقین دلایا جائے کہ اس کا ووٹ کسی دفتر، کسی سافٹ ویئر، کسی افسر یا کسی سیاسی مصلحت کا محتاج نہیں، بلکہ آئین کے تحت اس کا محفوظ جمہوری حق ہے۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com