کیامودی کے بارے میں واجپائی کی پیشن گوئی سچ ہوئی ؟

کیامودی کے بارے میں واجپائی کی پیشن گوئی سچ ہوئی ؟

کیامودی کے بارے میں واجپائی کی پیشن گوئی سچ ہوئی ؟

ازقلم: ابن بھٹکلی
۔ +919448000010

2002 مہان مودی جی کے گجرات چیف منسٹر رہتے اور امیت شاہ کے گجرات سرکارمیں ہوم منسٹر رہتے، گجرات دنگے بعد، دورہ گجرات دوران چیف منسٹر گجرات مودی جی کے سامنے ہی میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے، اس وقت پی ایم اٹل بہاری واجپائی کا بیان جو فی زمانہ 2014 بعد والے سنگھی مودی رام راجیہ سرکار کی ترجمانی کرنے کے لئے کافی ہے
اٹل بہاری وجپائی نے کہا تھا "فساد زد علاقوں میں گھومتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ
نیا زہر اتپاد دنگے اورعوام کا نفرتی پاگل پن، اتنا بڑھادیا گیا ہے کہ دنگائیوں کو، ناری کے ساتھ ساموہک بلاتکار اور زندہ نساء و بچوں بوڑھوں کو کرویلتا پوروک جلادئیے جاتی انکی ہتھیائیں کئے جانے کے باوجود،ان میں لجا و شرمندگی دور دور تک نظر نہیں آتی تھیں۔ میں تو یہی کہوں گا کہ راجہ کے لئے یا شاشکھ "سی ایم” کے لئے پرجا پرجا میں انتر فرق نہیں ہوسکتا۔ اگر اب بھی ان میں سبھیتا سمپرتھی اخلاق و کردار باقی نہ ہو اور وہ راج دھرم کاپالن نہ کریں تو وہ انسانوں پر نہیں جنگل راج کرتے پائے جاتے ہیں”۔
تعجب خیز امر یہ تھا اس وقت انہی کے پارٹی سرپرست "پی ایم” اٹل بہاری واجپائی، اپنے ہی پارٹی کے "سی ایم” قاتل گجرات مودی جی کے سامنے الفاظوں کے ھیر پھیر کو چھوڑ، گویا براہ راست انہی سے مخاطب ہوئے انہیں راج دھرم کا پاٹھ پڑھارہے تھے اور انہی کی بغل میں بیٹھے گجرات چیف منسٹر اپنے مکھڑے پر شیطانی مسکان کے ساتھ، اٹل بہاری واجپائی جی کو لقمہ دیتے پائے گئے تھے۔ اس وقت کے قاتل گجرات مودی جی کی اس بے شرمی ہی سے بھارت واسیوں کویہ سمجھ لینا چاہئیے تھا کہ مودی جی اپنی سپتھا کے لئے، کتنے گر سکتے ہیں۔ اور 12 سال بعد ہم بھارت واسیوں نے انکے اس گجرات نرسنگہار کے کردار کو پرے رکھے, جھوٹوں کے سردار کے اپنے جادوئی آنکڑوں کے ھیر پھیر، مکرر کہے گئے،وائبرنٹ گجرات کے جھوٹ ہی کو سچ مان کر، 2014 سے پہلے من موہن سنگھ والی کانگرئس سرکار کے، سب سے تیز رفتار ترقی پزیر حکومت کو نکار کر، سونے کی چڑیابھارت کو، قاتل گجرات مودی جی ہی کے حوالے کرنے کا فیصلہ ہم بھارت واسیوں نے کیا کرلیا کہ آج 12 سالہ سنگھی رام راجیہ دوران بڑھتی مہنگائی، بڑھتی بے روزگاری اور آپسی انارکی نیز بین الملوکی رنجشیں، من مٹاؤ دیکھتے ہوئے اور سب سے اوپر ہزاروں سالہ بھارت کے "نون ایلائین” کردار کو پرے رکھے ، فرنگی سامراجیت کے تلوے چاٹتے ہوئے، یورپی ممالک والی پونجی واد کو بھارت کی اثاث میں تبدیل کئے، اپنے وقت کی سونے کی چڑیا شاندار معشیت کو، اپنے غریب و تنگ حال پڑوسی پاکستان,سری لنکا,بنگلہ دیش, بھوٹان,نیپال سے بھی بدتر معشیتی ملک بنا چھوڑا ہے۔انکے اپنے سنگھی گھر گجرات عدلیہ کے تڑی پار مجرم کو,عالم انسانیت کی سب سے بڑی سیکیولر جمہوریت کا لاشرکت غیرے ہوم منسٹر بنائے جانے کا نتیجہ آج بھارت کے مرکزی شہر دہلی کے رام۔لیلی میدان کے ساتھ دیش کے اکثر بڑے شہروں کے عوامی میدانوں میں،سابقہ بارہ سالہ سنگھی رام راجیہ میں، دیش کی یوا پیڑھی میں بڑھتی انارکی بے چینی کو عالم انسانیت کے سب سے بڑے دیش بھارت کے اردھ سینک بلوں کے سامنے سینہ سپرد ہوتے دیکھ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس مہان مودی امیت شاہ کے سنگھی رام راجیہ میں اپنے وقت کی سونے کی چڑیا دئش بھارت اب کس انارکی و بے چینی میں جل رہا ہے۔ اللہ ایشور بھگوان ہی الأمان والحافظ اس دیش بھارت اور اسکی تباہ حال معشیت کے لئے۔

https://www.facebook.com/share/v/1BVmFxgW7D/

اگر پہرے پر متعین کتا چوری ہوتے دیکھ بھی نہ بھونکے تو سمجھو کہ وہ چور کو نہ صرف اچھی طرح جانتا ہے بالکہ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ اس کامالک ہی اصلی چور ہے

https://www.facebook.com/share/r/1CjBMv5UDq/

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے