ڈاکٹر، وکیل اور گورکن٭ ایک بزرگ کا واقعہ
پہلے کے مسلمان ٭ ایک اچھا واقعہ
ڈاکٹر، وکیل اور گورکن:تین پیشے سے جو لوگ تعلق رکھتے ہیں اگر انسانوں سے خاص طور سے غریبوں سے حسن سلو ک اور ہمدردی سے پیش نہیں آتے تو وہ بہت جلد انسانوں کی سطح سے گر تے چلے جاتے ہیں اوراسفل السافلین ( سب نیچوں سے نیچا) ہوجاتے ہیں۔ ایسے لوگ بہترین ساخت پر پیدا ہونے کے بعد بدی کی طرف مائل ہو تے ہیں اور اخلاقی پستی میں گر تے گرتے اس انتہا کو پہنچ جاتے ہیں جہاں ان سے زیادہ نیچے کوئی دوسری مخلوق نہیں ہوتی۔ یہ پیشہ ڈاکٹر، وکیل اور گورکن ( قبر کھودنے والا) کا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر اپنے چیمبر میں چاہتا ہے کہ بیمار آدمی آئے تندرست نہیں کیونکہ بیمار اس کی آمدنی میں اضافہ کرتا ہے۔ وکیل کی خواہش ہوتی ہے کہ لڑ جھگڑ کر لوگ اس کے چیمبر میں آئیں۔ گورکن لاش قبر ستان میں آتی دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ اگر کسی روز میت کم آتی ہے یا نہیں آتی تو وہ بہت مایوس ہو تا ہے۔ ایک دفعہ ایک صاحب نے ایک گورکن سے پوچھا کہ کیا حال چال ہے؟ اس نے کہا کہ بہت ہی خراب حال ہے۔ لاشیں کفن دفن کیلئے بہت کم آتی ہیں۔ چھہ مہینے کے بعد جب ان کا جانا قبرستان ہوا تو ان کے دریافت کرنے پر اسی گورکن نے کہا ’’ صاحب! بہت اچھی حالت ہے، روزانہ دس بیس لاشیں دفن کیلئے آ جا تی ہیں‘‘۔ بالکل یہی ذہنیت ان ڈاکٹروں اور وکیلوں کی ہوتی ہے جو غریب سے غریب انسان سے بھی ہمدرد انہ رویہ نہیں اپنا تے۔ ایک ہمدرد ڈاکٹر کو ہم نے اپنے پرانے محلے میں دیکھا وہ Child Specialist (بچوں کے ماہر ڈاکٹر) تھے مگر ان کی فیس برائے نام تھی۔ دس روپے پہلے تھی بعد میں بہت دنوں کے بعد پچاس روپئے۔ ایک بار میں نے ان کو گھر آنے کی تکلیف دی۔ مریض کو دیکھنے کے بعد جب میں فیس دینے لگا تو کہا آپ سے فیس نہیں لوںگا۔ آپ کی دعاؤں کا طالب ہوں۔ اب وہ دنیا میں نہیں رہے۔ ان کا نام محمد اسلم تھا۔ اللہ ان کی قبر کو نور سے بھر دے ،آسماں ان کی قبر پرشبنم افشانی کرے۔آمین۔ پٹنہ کے ایک بزرگ ڈاکٹر ضیاء الہدیٰ تھے۔ ولی صفت تھے۔ کبھی کسی مریض کو غریب سمجھتے تو فیس نہیں لیتے۔ زیادہ ضرورتمند سمجھتے تو دوا کے بھی پیسے نہیں لیتے۔ اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے ،آمین۔ میں نے ایک وکیل کو بھی غریب پر ور دیکھا۔ اللہ ان کی عمر دراز کرے۔ آمین
ایک بزرگ کا واقعہ: تحریک اسلامی کے ایک بزرگؒ نے خاکسار کو بتایا کہ’’ ایک شخص کو چند مہینے کیلئے اپنی بلڈنگ میں کرایہ پر ایک فلیٹ دیا تھا۔ جب مقررہ وقت آیا تو اس نے فلیٹ چھوڑنے سے انکار کر دیا۔ مجھے مجبور اً اس پر مقدمہ کرنے کیلئے ایک وکیل کی تلاش کر نی پڑی۔ ایک مسلمان وکیل سے وکیلوں کے مشترکہ چیمبر میں ملاقات کی۔ وکیل کو میں نے اپنا معاملہ تفصیل سے بتایا۔ وکیل نے کہا کہ آپ مقدمہ جیت جائیں گے مگر آپ کو یہ سب لکھنا اور بولنا ہوگا۔ وکیل جھوٹ بولنے اور لکھنے کیلئے کہہ رہا تھا۔ جب میں نے کہا کہ نہ میں جھوٹ بول سکتا ہوں اور نہ جھوٹی تحریر پر دستخط کر سکتا ہوں تو اس نے کہا میں تمہارا مقدمہ نہیں لوںگا۔ میں جب واپس آنے لگا تو اس کے بغل میں بیٹھا ایک غیر مسلم وکیل نے کہا کہ مولانا سنئے؛ میں آپ کا کیس لو ں گا۔ آپ کو جھوٹ بولنا نہیں پڑے گا۔ میں بہت خوش ہوا اور اپنا معاملہ اس کے سپرد کر دیا۔ مجھے واقعی جھوٹ بولنا نہیں پڑا اور میں اپنا مقدمہ جیت گیا۔
پہلے کے مسلمان:1987ء کی بات ہے کہ مجھے اپنے ریلوے اسٹیشن اکبر پور قصبہ میں ٹرین لیٹ پہنچنے کی وجہ سے رات میں رکنا پڑا۔ عاشورہ کا دن ایک دو روز بعد آنے والا تھا۔ عام طور پر اکبر پور میں شیعہ اور سنی دونوں محرم میں رات کے وقت تعزیہ بناتے ہیں جس کی وجہ سے دیر رات تک قصبے میں چہل پہل رہتی ہے۔ میں جس گھر میں ٹھہرا ہوا تھا 80سالہ ایک ہندو بزرگ آیا اور محرم منانے کے بارے میں بات چیت کرنے لگا۔ بات چیت کے دوران اچانک اس نے کہاکہ ’’پہلے کے مسلمان بہت سچے اور اچھے ہوا کرتے تھے۔ہم ہندوؤں میں جب جھگڑا یا لڑائی ہوتی تھی تو ہم لوگ میاں جی (مسلمان) کے گھر کی دیواروں پر ہاتھ رکھ کر قسمیں کھایا کرتے تھے۔ میاں جی کے گھر بھی ہم ہندوؤں کیلئے بہت متبرک اور مقدس ہوا کرتے تھے، لیکن اب ایسی بات نہیں ہے‘‘۔ چند سالوں کے بعد یعنی 1992ء میں اجودھیا کی بابری مسجد کو فرقہ پرستوں نے مسمار کر دیا۔ قابل غور ہے کہ کیا بات تھی کہ مسلمانوں کے گھر ہندو بھائیوں کیلئے پَوِتر اور مقدس تھے۔ اب ہماری مسجدیں بھی ان کیلئے پوتر اور مقدس نہیں ہیں۔ اجودھیا شہر اکبر پور کے ایک اسٹیشن کے بعد ہے۔ اور میرا گاؤں اجودھیا سے تقریباً 50، 60کیلو میٹر دور واقع ہے۔ میں جب اپنے گاؤں کا جائزہ لیتا ہوں تو اپنے بچپن میں نے دیکھا تھا کہ گاؤں کی مسجد کا امام بھی مسجد میں جھوٹ بولتا تھا۔ دوسرے لوگ بھی مسجد میں جھوٹ بولنے یا قسمیں کھانے میں جو اللہ سے ڈرتے تھے وہ ڈر باقی نہیں رہا۔ ایک معاملے میں میں نے دیکھا کہ ایک بیوہ عورت کی جائیداد کیلئے گاؤں میں ایک شخص بھی ایسا نہیں تھا جو حق کی گواہی دینے کیلئے تیار ہو۔ مجھے کلکتے سے ایک روز کیلئے اکبر پور جانا پڑا اور گواہی دے کر میں کلکتہ واپس آگیا۔ گاؤں جانے کا جی اس لئے نہیں چاہا کہ گاؤں ایسا ہوگیا ہے کہ گاؤں کا گاؤں سچ بولنے کیلئے تیار نہیں۔ یہ بات ایک ہندو وکیل نے مجھ سے اس وقت کہی جب میں گواہی دینے کیلئے تحصیل دار کی عدالت میں جارہا تھا تو اس نے مجھ سے کہاکہ ’’حاجی صاحب؛ آپ کا گاؤں ایک ایسا گاؤں ہے جہاں ایک آدمی بھی سچ بولنے کیلئے تیار نہیں ہے‘‘۔
ایک اچھا واقعہ: ایک واقعہ اکبر پور ہی کا ہے۔ اس واقعہ کو بیان کرنے پر مجھے بے پناہ خوشی ہورہی ہے۔ اکبر پور ریلوے اسٹیشن کے بعد ہی ایک چھوٹا سا قصبہ شہزاد پور ہے۔ شہزاد پور کے چوراہے سے جیپ اور دوسری سواریاں دستیاب ہوتی ہیں۔ سائیکل رکشہ سے اتر کرمیں فوراً جیپ میں جاکر بیٹھ گیا۔ بیٹھنے کے فوراً بعد مجھے خیال آیا کہ رکشہ والے کو کرایہ نہیں دیا ۔ جیپ سے اتر کر میں رکشہ والے کے پاس آیا ، اتفاق سے وہ مجھے مل گیا۔ میں نے اس سے کہاکہ ’’معاف کیجئے گا؛ میں آپ کو کرایہ دینا بھول گیا تھا‘‘۔ اس نے بغیر توقف کے کہا کہ ’’میاں جی سے پیسہ کہیں جانے والا نہیں ہے‘‘۔ یہ سن کر خوشی سے میری آنکھوں میں آنسو رواں ہوگیا۔ میں سوچنے لگا کہ ’’آج بھی ایسے لوگ ہیں جو مسلمانوں کے بارے میں اچھا خیال رکھتے ہیں‘‘۔