گیانیش کمار کا جواب اعترافِ گناہ . حکومت کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار

گیانیش کمار کا جواب اعترافِ گناہ . حکومت کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار

گیانیش کمار کا جواب اعترافِ گناہ .
حکومت کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار

ازقلم:عبدالعزیز

بعد از خرابیِ بسیار الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے ان اعتراضات اور سوالوں کا جواب دیا ہے جو ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی نامہ نگار انیتا چوپڑا نے اپنی رپورٹ میں ایک ایک کرکے پیش کیا ہے۔ 24ستمبر کو مذکورہ اخبار میں صفحۂ اوّل پر الیکشن کمشنر کی دھاندلیوں اور بدعنوانیوں کے خلاف تین رپورٹیں نمایاں طور پر شائع ہوئی تھیں۔ اس کے بعد ہی پورے ملک میں الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج اور مظاہرے بڑے پیمانے پر ہونے لگے۔ الیکشن کمشنر کے استعفیٰ، ان پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ اور سر عام پھانسی دینے کی مانگ اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں، کاکروچ پارٹی کے رہنماؤں، نوجوانوں اور طالب علموں کی طرف سے کیا جانے لگاہے۔ جنتر منتر پر جو مظاہرے ہوئے ان مظاہروں میں دیکھا گیا کہ دہلی پولس نوجوانوں لڑکیوں اور طالب علموں پر لاٹھیاں برسا رہی ہے ۔ گھسیٹ گھسیٹ کر انھیں بسوں میں بھر رہی ہے۔ بسوں میں بھر کر کئی گھنٹوں تک شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک گھما گھما کر کئی گھنٹے تک حراست میں رکھا۔ اس طرح کے پولس مظالم ملک کے مختلف شہروں میں کانگریس کے نوجوانوں، طالب علموں کو برداشت کرنا پڑا۔ اس کے بعد ہی الیکشن کمیشن کی طرف سے ایک پریس ریلیز جاری کیا گیا ۔ پریس ریلیز دو صفحات پر مشتمل ہے جس میں گیانیش کمار کے ساتھ ڈاکٹر سکھ بیر سنگھ سندھو اور ڈاکٹر ویویک جوشی کی تصویریں ہیں۔
اس میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پینل کی ایک میٹنگ 26ستمبر کو 3بجے سہ پہر میںمنعقد ہوئی۔ میٹنگ بند کمرے میں ہوئی۔ کس طرح الیکشن کمیشن کے تینوں کمشنر ایک ساتھ میٹنگ میں بیٹھے یا بٹھائے گئے کہنا مشکل ہے۔ اگر راضی خوشی سے پریس کانفرنس میں ایک ساتھ بیٹھتے ۔ پریس کانفرنس ہوتی، اس میں سوال و جواب بھی ہوتا۔ دنیا دیکھتی کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے جو دو دیگر کمشنرز اعتراضات پر اعتراضات کر رہے تھے وہ ایک ساتھ بیٹھے ہیں ۔ دس مہینے میں 14 اختلافی نوٹس الیکشن کمشنر کی خدمت میں پیش کئے گئے تھے۔ جب ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی تو دونوں نے کیبنٹ سکریٹری کو خط لکھ کر الیکشن کمیشن کے موجودہ حالات سے آگاہی دی۔ ایک سال تک الیکشن کمیشن کی کوئی میٹنگ نہیں ہوئی نہ میٹنگ کا ایجنڈا دیا گیا اور نہ ہی منٹ بک کا استعمال ہوا۔ پریس ریلیز میں یہ بات نمایاں طور پر درج کی گئی ہے کہ تینوں الیکشن کمشنر کے اتفاق سے پریس ریلیز میں اعلانات کئے کئے گئے ہیں۔ پریس ریلیزز پڑھنے سے پتہ چلتا ہے کہ ووٹروں کو راحت دینے کے بہت سے وعدے کئے گئے ہیں۔ ان وعدوں اور راحت دینے کی باتوں سے کچھ ایسا ہی ظاہر ہوتا ہے کہ ایک تندرست و توانا شخص کو پہلے مریض بنایا جاتا ہے اور وہ مرض اس قدر شدید ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ پھر اس مرے ہوئے شخص کو تسلی اور تشفی دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
SIR (مخصوص نظرثانی) کے نام پر کروڑوں انسانوں کو پریشان کیا گیا۔ ووٹر لسٹ سے ان کے نام خارج کئے گئے۔ لاکھوں، کروڑوں لوگوں کو ووٹ دینے سے محروم رکھا گیا۔ بہتوں کو غیر شہری یا گھس پیٹھیا قرار دے کر شبہات کی بنیاد پر ملک بدر کیا گیا۔ اب پریس ریلیز میں کہا جارہا ہے کہ جن لوگوں کے نام خارج کئے گئے ہیں ان کو نوٹس دے کر بلایا نہیں جائے گا بلکہ بی ایل او گھر گھر جاکر ان سے ان کے دستاویز حاصل کرے گا۔ فارم نمبر 6 میں جو غیر قانونی ضابطے شامل کئے گئے تھے ان کے بارے میں صفائی دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے منظوری دی تھی۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایس آئی آر کی تکمیل کے بعد پرانے فارم کا استعمال کیا جائے گا۔ اس سے خود ثابت ہوتا ہے کہ الیکشن کمشنر نے فارم 6میں تبدیلیاں کی ہیں وہ غیر قانونی ہیں۔ دو کمشنروں کے اختلاف اور اعتراضات کے باوجود بھی تبدیل شدہ فارم 6 کا استعمال کرنا دستور اور جمہوریت کے سراسر خلاف تھا۔ پریس ریلیز میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ کمیشن کی طرف سے ایک کمیٹی بھی تشکیل کی جائے گی جو تمام ضابطوں کا جائزہ لے کر اس کی اصلاح کرے گی۔ ڈاکٹر سکھ بیر سنگھ سندھو اور ڈاکٹر ویویک جوشی کی طرف سے انتخابی پینل میں گیانیش کمار کی طرف سے جو تبدیلیاں کی گئی ہیں اس پر کئی اعتراضات کئے گئے تھے ۔’دی اکنامکس ٹائمز‘ میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ ’جنریشن زی کو ووٹر بننے سے روکا جارہا ہے۔‘ اس سلسلے میںپریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ نئے ووٹرس بنانے کے لئے کیمپ لگائے جائیں گے۔ اشتہارات کے ذریعے آگاہی دی جائے گی۔ کسی کو بھی ووٹر بننے سے روکا نہیں جائے گا۔ 13 کروڑ ووٹروں کو ووٹرلسٹ سے جو خارج کیا گیا ہے اس کے بارے میں پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ابھی کئی ریاستوں میں ایس آئی آر کا پروسیس جاری ہے اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ووٹر لسٹ سے کتنے لوگوں کو نکالا گیا ہے۔
مغربی بنگال میں 27 لاکھ لوگوں کو ووٹر لسٹ سے نکالا گیا ہے۔ اس کے بارے میں پریس ریلیز میں کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ججوں کی توجہ ستائیس لاکھ رائے دہندگان کو ووٹ دینے سے روکنے کی جانب دلائی گئی تو جج صاحبان نے بہت ہی بے تکا اور غیر جمہوری جواب دیا تھا کہ بعد میں وہ ووٹ دے سکیں گے۔ 13کروڑ ووٹروں کو ووٹر لسٹ سے ہٹایا گیا ہے ان کے بارے میں بھی جب سپریم کورٹ کی توجہ دلائی جائے گی تو کیا سپریم کورٹ کا یہی جواب ہوگا کہ بعد میں وہ لوگ ووٹ دے سکیں گے؟ پریس ریلیز میں گوا کے 97 ووٹروں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ان کو رائے دہندگان کی فہرست میں شامل کرلیا جائے گا۔ یہ ستانوے ووٹرس ایسے ہیں جنھوں نے بار بار اپنے دستاویز دکھائے اس کے باوجود انھیں ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔
الیکشن کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ اس کے تمام اجلاسوں کے ایجنڈے پیشگی جاری کئے جائیں گے اور بعد میں کارروائی کی رپورٹ بھی جاری کی جائے گی۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ افسران کی سالانہ کارروائی کی جانچ رپورٹیں 31 دسمبر تک مکمل کرلی جائیں گی۔ افسران کو بیرون ملک دوروں کے لئے کمیشن کی منظوری لینی ہوگی اور کمشنروں کی جانب سے کمیشن کے افسروں کو دیئے گئے احکامات پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ پریس ریلیز میں اس کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے کہ ان طریقہ کار پر پہلے بھی عمل کیا جاتا رہا ہے یا نہیں؟ کمیشن کی طرف سے جو اعلان پریس ریلیز کی شکل میں بہت سے ضابطوں کی اصلاح کی بات کی گئی ہے یا ووٹروں کو راحت دینے کا اعلان کیا گیا ہے اس میں یہ بات درج نہیں کی گئی ہے کہ صرف کمشنر کی من مانی اور آمرانہ رویے کی وجہ سے جو لاکھوں اور کروڑوں لوگوں کو مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ان کا تدارک کیسے ہوگا اور ان کی تلافی کیسے ہوگی؟ اس کا کوئی ذکر نہیں ہے۔
اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اپنی پریس کانفرنس اور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعے صاف طریقے سے بتایا ہے کہ غیر قانونی ضابطوں کے ذریعے جو الیکشن ہوا ہے اور اس کے ذریعے لوک سبھا یا اسمبلیوں میں جو ممبران ہیں وہ غیر قانونی ہیں، یعنی ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ ان کے ذریعے جو قوانین پاس کئے گئے ہیں ان کو قانونی حیثیت حاصل نہیں ہیں۔ غیر قانونی ضابطوں اور ووٹ چوری کے ذریعے جو حکومتیں بنائی گئی ہیں وہ بھی غیر قانونی ہیں۔ راہل گاندھی کے مطابق ہریانہ، مہاراشٹر، بہار، مغربی بنگال،دہلی جیسی ریاستوں میں ووٹ چوری اور انتخابی بے ضابطی کے ذریعے الیکشن کرایا گیا ہے ، ان مذکورہ ریاستوں میں دوبارہ الیکشن ہونا چاہئے۔ کاکروچ جنتا پارٹی کے سربراہ ابھجیت دیپکے نے پریس کانفرنس میں کہاکہ سوال کیا جارہا ہے الیکشن کمشنر سے اور جواب سمبیت پاترا دے رہے ہیں۔ تو کیا یہ مان لیا جائے کہ الیکشن کمشنر بی جے پی کے ممبر ہیں یا بی جے پی کے آدمی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ الیکشن کمشنر کا عمل اور کردار کیا اعتراضات کے صحیح اور غلط جوابوں سے تشفی بخش ہوسکتا ہے؟ الیکشن کمشنروں کی تقرری کا طریقہ کار ہے اس کا جو ڈھانچہ ہے حکومت نے اسے بدل کر یا ایک ایسا قانون بناکر الیکشن اور جمہوریت کو بالکل ختم کردیا ہے۔ اس کی کوئی معنوی اہمیت باقی نہیں ہے۔ کانگریس لیڈر ابھیشیک منو سنگھوی نے اپنی پریس کانفرنس میں کہاکہ بی جے پی نے الیکشن اور جمہوریت کے قتل کا دفتر کھول رکھا ہے۔
الیکشن کمشنر کی طرف سے جو جواب یا پریس ریلیز جاری کیا گیا ہے اس کے بارے میں کانگریس کے ترجمان پون کھیرا نے کہا ہے کہ "Two lame, Two little, Two late” (نہایت فضول، بہت کم اور بہت تھوڑا ہے)۔ ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا لیڈر ڈیرک اوبرائن نے کہا ہے کہ ’’صرف گیانیش کمار کے استعفیٰ سے ہی کام نہیں چلے گا بلکہ الیکشن کمشنر کی تقرری اور ایس آئی آر جیسے پروسیس کا فراڈ بھی ختم کرنا ہوگا۔ جب ہی آزادانہ اور ایماندارانہ انتخاب عمل میں آئے گا۔‘‘ حقیقت تو یہ ہے کہ جب تک الیکشن کمشنر کا صحیح طریقے سے تقرری نہیں ہوگی آزادانہ انتخابا ت ممکن نہیں ہوسکتا۔ الیکشن کمیشن کے علاوہ سپریم کورٹ نے جس طرح ایس آئی آر کو ہری جھنڈی دی ہے اس سے بھی سپریم کورٹ سوالات کے گھیرے میں ہے، کیونکہ دستور میں ایس آئی آر نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
ایس آئی آر اس وقت کرایا گیا جب ریاستوں میں الیکشن سرپر تھا۔ ایک سازش کے طور پر یہ اس وقت سے منصوبہ بنایا گیا جب 2024ء میں لوک سبھا کے الیکشن میں تمام دھاندلیوں کے باوجود بی جے پی 240 سیٹوں پر سمٹ گئی۔ مودی اور شاہ دونوں کو اندازہ ہوگیا کہ بی جے پی کو لوگ ووٹ نہیں دے رہے ہیں، پھر بڑے پیمانے پر ووٹروں کی فہرست میں حذف اور اضافہ کا پروسیس الیکشن کمشنر کو شروع کرنے کے لئے کہا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اس وقت سے مودی اور شاہ کے اشارے پر بی جے پی کو ہر ریاست میں جتانے کی ہر طرح سے کوشش کرتے رہے۔ دو الیکشن کمشنروں نے ان کی من مانی یا آمریت کو طشت ازبام کیا ہے جس کی وجہ سے ان کا گناہِ عظیم دنیا کے سامنے پورے طور پر ظاہر ہو، حالانکہ راہل گاندھی یہی باتیں تین سال دہراتے رہے ہیں۔راہل گاندھی نے گیانیش کمار کے لئے دو راستے میں سے کسی ایک راستہ کو اپنانے کی صلاح دی ہے یا تو وہ سرکاری گواہ بن جائیں یا جیل میں جانے کے لئے تیار ہوجائیں۔ کاکروچ پارٹی کے ابھجیت دیپکے نے کہا ہے کہ اس وقت الیکشن کمشنر ہندستان کے سب سے بڑے مجرم ہیں۔ ان کو سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہئے۔
جہاں تک مودی اور شاہ کی حکومت کا معاملہ ہے تو اس کے سر پر بہت دنوں سے تلوار لٹک رہی ہے لیکن ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ اور الیکشن کمشنر کے اعترافِ گناہ کی وجہ سے اب یہ تلوار کچھ زیادہ ہی لٹکتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ مودی اور شاہ کے باڈی لنگویج سے اندازہ ہورہا ہے کہ وہ مرجھا سے گئے ہیں ۔ ان کی حکومت بھی مرجھائی ہوئی نظر آرہی ہے۔ کتنے دنوں تک بکرے کی ماں خیر منائے گی یہ کہنا مشکل ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے