شریر بچوں کو کڑوی دوا پلانے کے لیے ناک دبانا پڑتا ہے تب جاکہ منہ کھلتا ہے مگر نکٹے گیانیش کمارکی ناک کیسے دبائی جائے ؟ تو اس جیسے ڈھیٹ کو راہ پر لانے کی خاطر کان اینٹھنے کی ضرورت پیش آتی ہے اور یہی ہوا۔ پورے ملک میں جب بدنامی ہوگئی اور دباو اس قدر بڑھا کہ کسی منہ دکھانے لائق نہیں رہے ۔ وزیر اعظم کے حلقۂ انتخاب وارانسی سمیت میرٹھ تک میں عوام سے رابطے کے پروگرام کو منسوخ کرنا پڑا تو تب جاکر دماغ ٹھکانے آیا۔ ویسے یہ دعویٰ بھی غلط ہے کیونکہ اگر دماغ ہوتو ٹھکانے بھی آئے یہاں تو صرف ایک گردن ہے جو ہمیشہ اپنے آقا کے آگے جھکی رہتی ہے اور ایک صدا بہار دُم بھی ہے جس کا کام’بہار ہو کہ خزاں‘ ہلتے رہنا ہے۔ خیر الیکشن کمیشن آف انڈیا نے بعد از خرابیٔ بسیار 26؍ ستمبر 2026 کو ایک اہم پریس نوٹ جاری کردی تاکہ پالتو گودی میڈیا کو یہ شور شرابہ کرکے ’سب کچھ چنگا سی‘ کہنے کا موقع مل جائے لیکن یہ تو شتر مرغ کی مانند ریت میں منہ چھپانے والی حماقت ہے۔ کمیشن کا یہ دفاع نہایت مضحکہ خیز ہے کہ کثیر رکنی ادارے کے تمام فیصلے آئینی اور انتظامی ضابطوں کے مطابق مکمل شفافیت سے کیے گئے ۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کر کے گیانیش کمار نے کون سا تیر مارا جو اس کے لیے پریس نوٹ کی ویڈیو جاری کرنی پڑے۔
الیکشن کمیشن کی یہ حرکت بجائے خود اعتراف جرم ہے کیونکہ اس طرح کی صفائی دینے کی نوبت اسی وقت آتی ہے جب دال میں کچھ کالا ہو مگر یہاں تو پوری دال ہی کالی ہے۔ کمیشن نے اپنی پریس نوٹ میں واضح کیا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت ایک کثیر رکنی آئینی ادارہ ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے کہ جس سے سارا ملک واقف ہے لیکن چیف الیکشن کمشنر اس بات بھول گئے تھے اس لیے سارے اہم فیصلے اپنے ساتھیوں کی رائے کو بالائے طاق رکھ کرکیا کرتے تھے۔ ترجمان کا یہ دعویٰ سراسر جھوٹ ہے کہ کمیشن کے تمام فیصلے قانون اور طے شدہ روایات کے مطابق ہوتے ر ہے ہیں ۔ اس روایت کا پاس و لحاظ رکھا جاتا تو دیگر الیکشن کمشنرس کو دس ماہ میں چودہ بار اعتراض نہ کرنا پڑتا۔ چوری چوری پریس نوٹ جاری کرنے کے بجائے تینوں کمشنرس کی ایک کھلی پریس کانفرنس ہوتی ۔ اس میں انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کو مسترد کیا جاتا اور اخبار کی سرزنش کی جاتی لیکن کسی میں ایسا کرنے ہمت نہیں ہے۔ پریس نوٹ کے بجائے کھلی پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا جاسکتا تھا کہ:’’اندرونی جانچ پڑتال، تحریری نوٹس اور تکنیکی تجاویز شفافیت اور قانونی تعمیل کو یقینی بنانے کے لیے ادارے کا معمول کا حصہ ہیں‘‘لیکن اتنی کذب گوئی کی جرأت الیکشن کمیشن نہیں کرسکا ۔
الیکشن کمیشن اگر پریس کانفرنس کرتا تو سوالات کا ایسا آتش فشاں پھٹتا کہ اس کا رہا سہا وقار بھی مٹی مل جاتا ۔ اس لیے پریس نوٹ میں دعویٰ توکیا جاتا ہےکہ ’’ای سی آئی کے مطابق اداروں کے اندر مختلف آراء اور مشاہدات ہونا ایک عام بات ہے ‘‘ لیکن اخبارنویسوں کو جرح کرنے اجازت نہیں دی جاتی اور گیانیش کمار جیسے ہماشما کی کیا حیثیت ان کے مہامانو(نام نہاد عبقری شخصیت) آقا نے پچھلے بارہ برسوں میں کوئی پریس کانفرنس نہیں کی ۔ یہی وجہ ہے کہ کانگریس سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے الیکشن کمیشن کے اس پریس نوٹ کے باوجود چیف الیکشن کمشنر کے استعفیٰ یا فوری برطرفی کا مطالبے پر اصرار جاری رکھا۔ اس طرح کی لیپا پوتی سے بات نہیں بنتی ۔ گیانیش کمار کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تگڑم بازی سے بی جے پی کی پارلیمانی ہار کو ریاستی حکومتوں کی جیت سے ڈھانپ دیا اور اب وہی کارستانی سرکار کے گلے کی ہڈی بن گئی ہے۔ بی جے پی کے لیے وہ اب سانپ کے منہ میں چھچھوندر کی مانند ہے کہ جسے نہ اگلا جاسکتا ہے اور نہ ہی نگلنا ممکن ہے۔
گیانیش کمار کو جب تک ہٹایا نہیں جائے گا پورے ملک میں ووٹ چوری کے نعرے گونجتے رہیں گے ۔ حزب اختلاف مودی حکومت کے ناک میں دم کردے گا اور اگر ان سے پیچھا چھڑا نے کے لیے دھرمیندر پردھان کی مانند بلی کا بکرا بنا دیا گیا تو یہ سرکار کی بہت بڑی ہار شمار کی جائے گی۔ الیکشن کمیشن کی کارکردگی میں چونکہ شفافیت کا فقدان تھا اس لیے گزشتہ ڈیڑھ سال کے اندر لیے جانے والےتمام فیصلوں کی فہرست تیار کرکے اس وضاحت کےساتھ عوام کے روبرو پیش کی جا نی چاہیے کہ ان میں سے کتنے فیصلے متفقہ طور پر کئے گئے اور کتنے اکثریتی بنیاد پر ہوئے ۔ ان کے علاوہ دونوں الیکشن کمشنرس کو نظر انداز کرکے گیانیش کمار نے جو فیصلے کیے وہ سب غیر قانونی ہیں اور ایسے تمام فیصلوں کو کالعدم کیا جانا چاہئے ۔سامبت پاترا کی اس دلیل تو درست ہے کہ الیکشن کمیشن میں اختلاف فطری ہے لیکن فیصلہ یکطرفہ نہیں بلکہ اکثریت کی بنیاد پر ہونا چاہئے۔ یہاں تو چار چار ماہ کی مدت میں ایک بھی اجلاس ہی منعقد نہیں ہوا اور گیانیش کمار نے تمام فیصلے من مانے طور پر کردیئے ۔
الیکشن کمیشن کی ذمہ جمہوریت کا تحفظ ہے لیکن اگر وہ آمریت کا مظاہرہ کرنے لگے تو دوسروں سے اس پر کیسے عمل کروا سکے گا؟الیکشن کمیشن کو سدھارنے کی خاطر سپریم کورٹ کو آگے بڑھ کر مداخلت کرنی چاہیے اور گزشتہ دیڑھ سال کے فیصلوں کی فہرست طلب کرکے ان کی غیر جانبدارانہ تفتیش کروانا چاہئے۔ گیانیش کمارکو عہدیداروں کے پیچھے چھپ کر اپنی وکالت کروانے یعنی پریس نوٹ کا سہارا لینے کے بجائے ساتھی الیکشن کمشنرس کے ساتھ پریس کانفرنس کرکے اخباری رپورٹ کی تردید کرنی چاہیے لیکن چور کی داڑھی میں تنکہ چیف الیکشن کمیشنر کے پیروں کی زنجیر بن گیا ہےاس لیے وہ منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ راہل گاندھی کی طرح سابق کمشنر ایس وائی قریشی نے بھی دونوں الیکشن کمشنرس کے احتجاج کی تعریف کرتے ہوئےکہا کہ وہ خودبھی حالیہ دنوں میں ان دونوں کی خاموشی پر حیران تھے اور انہیں ترس بھی آتا تھا لیکن اب اختلافی نوٹ کے کا انکشاف سےخوش ہیں ان کی عزت میں اضافہ ہوا ہے۔
الیکشن کمیشن نے دی انڈین ایکسپریس کی رپورٹ میں مذکور 14 تحریری نوٹس کے وجود، تاریخ یا مواد کی تردید نہیں کی، تاہم ان کو فیصلہ سازی کے دوران پیش کی جانے والی تجاویز اور مشاہدات قرار دیا لیکن سوال یہ ہے کہ انہیں کوڑے کی ٹوکری میں کیوں ڈال دیا گیا۔ گیانیش کمار بھول گئے تھے ضابطے کے مطابق فہرست رائے دہندگان میں ناموں کی شمولیت یا اخراج کا مکمل اختیار سب ڈیویژنل مجسٹریٹ رتبہ کے عہدیدار الیکٹورل ریٹرننگ آفیسر (ERO) کو ہوتا ہے ۔ اس معاملے میں ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ، چیف الیکٹورل آفیسر اور حتیٰ کہ چیف الیکشن کمشنر بھی ناموں کو شامل یا خارج کرنےکا مختار نہیں ہوتا۔ اس ضابطے کو بالائے طاق رکھ کر الیکشن کمیشن نے ای آر او کے اختیارات کو فراموش کرکے نئی دہلی میں کمپیوٹر سسٹم کے ذریعہ ووٹر لسٹ میں جو چھیڑ چھاڑ کی ہےاس کی تحقیقات ہونی چاہئے کیونکہ اس میں ملوث لوگ ہی اصل مجرم ہیں ۔
سنگھ پریوار نے ذرائع ابلاغ کی مدد سے خود کو سب سے بڑا قوم پرست ثابت کرکے دیش بھگتی کے سرٹیفکیٹ بانٹنے کا دھندا کھول رکھا ہے۔ اس سے فائدہ اٹھا کر وہ اپنے خلاف الزام لگانے والوں کو غدارِ وطن کہہ کر ملک دشمن قرار دے دیتا ہے۔ حزب اختلاف کے رہنماوں کو جارج سوروس کا ایجنٹ کہہ کر بدنام کرنا یا چین و پاکستان نواز کے لقب سے نوازنے کا گھٹیا کاروبار پچھلے بارہ سالوں سے زور و شور کے ساتھ چل رہا تھا کہ اچانک میڈیا میں گیا نیش کمار سے متعلق ایک رپورٹ کیا آئی کہ سارے ملک نے سنگھ پریوار کوغدارِ وطن کہنا شروع کردیا ۔ ایک نوجوان صحافیہ ریتیکا چوپڑا کی انڈین ایکسپریس میں گیانیش کمار کے خلاف ایک رپورٹ کیا چھپی کہ پانسہ پلٹ گیا۔رام مندر میں چندہ چوری کے الزامات کی شہادت تو ویڈیو کیمروں نے دے دی اور ووٹ چوری کے الزام پر انڈین ایکسپریس کی رپورٹ نے تصدیقی مہر ثبت کردی۔ اب تو عوام کا انتخابی عمل سے اعتماد ہی اٹھ گیا ہے اور بے اعتمادی مودی سرکار کے خلاف ہے۔
انڈین ایکسپریس کے پہلے صفحے پر شاہ سرخی کے ساتھ شائع ہونے والی ایک خبر نےشواہد کے ساتھ الیکشن کمیشن کے اندرونی معاملات پر کئی اہم سوالات کھڑے کر دیئے ۔ ایسی حساس رپورٹ مرتب کرنے والی ریتیکا چوپڑا کی تعریف میں آج پورا ملک رطب اللسان ہے۔ اس کی ہمت، حوصلے اور صحافتی بہادری کو بجا طور سراہا جا رہا ہے کیونکہ انہوں گودی میڈیا کے دور میں آزاد اور بے خوف صحافت کی مثال قائم کی ہے ۔ ملک بعض گھاگ سیاسی مبصرین کے نزدیک ان اندر کی باتوں کے منظر عام پر آنا اورآر ایس ایس سے فکری طور پر ہم آہنگ انڈین ایکسپریس میں اتنے اہتمام سے شائع ہوجانا سنگھ پریوار کی داخلی مہابھارت کا نتیجہ بھی ہوسکتا ہے ۔ پچھلے بارہ سالوں کے اندر بی جے پی اس قدر طاقتور ہوگئی کہ اس آر ایس ایس کو گہن لگ گیایہاں تک کہ سنگ کے سربراہ موہن بھاگوت کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کو سبق سکھانا ضروری ہوگیا ہے ورنہ یہ عفریت اپنی مادر تنظیم کو پوری طرح نگل سکتا ہے۔ یہ قیاس اگر درست ہو تو زعفرانیوں کی تباہی کے لیے یہ خانہ جنگی ہی کافی ہے۔