اجین کی شاہی مسجد: ترقی کے نام پر مذہبی حساسیت کا امتحان!

اجین کی شاہی مسجد:     ترقی کے نام پر مذہبی حساسیت کا امتحان!
alhilalmedia

اجین کی شاہی مسجد:
ترقی کے نام پر مذہبی حساسیت کا امتحان!

✍️ افتخاراحمدقادری

بھارتیہ جنتا پارٹی کے زیرِ اقتدار ہندوستان میں گزشتہ چند برسوں کے دوران مذہب، سیاست، انتظامیہ اور قانون کے باہمی تعلق نے متعدد ایسے سوالات کو جنم دیا ہے جنہیں سیاسی اختلاف یا جماعتی کشمکش قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان کا آئینی ڈھانچہ تمام شہریوں کو مساوی حقوق، مذہبی آزادی اور قانون کے سامنے برابری کی ضمانت دیتا ہے۔ اس لیے جب کسی مذہبی مقام سے متعلق انتظامی کارروائی عمل میں آتی ہے تو اس کی قانونی حیثیت کے ساتھ ساتھ اس کے طریقہ کار، شفافیت اور غیر جانب داری بھی عوامی اعتماد کے لیے نہایت اہم ہو جاتی ہے۔ حالیہ دنوں مدھیہ پردیش کے اجین میں صدیوں قدیم شاہی مسجد کے ایک حصے کو سڑک کشادگی کے منصوبے کی زد میں لانے کے معاملے نے اسی بنیادی سوال کو ایک مرتبہ پھر نمایاں کر دیا۔
اجین کی شاہی مسجد سے متعلق معاملہ بنیادی طور پر سڑک کشادگی کے منصوبے سے وابستہ ہے۔ انتظامیہ کے مطابق سمسٹھا 2028 اور شہر میں بڑھتی ہوئی آمد و رفت کے پیش نظر بعض اہم شاہراہوں کو وسیع کیا جا رہا ہے۔ گوال مندر روڈ کے اطراف مختلف تعمیرات کو منصوبہ بندی کے تحت ہٹانے کی کارروائی جاری ہے اور انتظامیہ کا موقف ہے کہ مذہبی تعمیرات سمیت وہ تمام ڈھانچے جو مجوزہ راستے کی زد میں آتے ہیں انہیں منصوبے کے مطابق ہٹایا جا رہا ہے۔ مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے بھی ستمبر میں متعلقہ عرضیوں پر فیصلہ دیتے ہوئے سڑک کشادگی کے عمل میں مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کی راہ ہموار کی تھی۔ بادی النظر میں سڑک کی کشادگی، ٹریفک کے نظم و نسق اور بڑے مذہبی اجتماع کے دوران زائرین کی آمد و رفت کو سہل بنانا ایک انتظامی ضرورت ہو سکتی ہے لیکن ترقیاتی منصوبوں کی تنفیذ کے دوران مذہبی مقامات کے ساتھ کس قدر احتیاط، مشاورت اور حساسیت کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اگر کسی سڑک کی کشادگی ناگزیر ہو تو اس کا پیمانہ، اصول اور معیار ہر تعمیر اور ہر شہری کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ یہی مساوات آئینی نظم کی روح ہے۔ کسی خاص مذہبی مقام کو نشانہ بنائے جانے کا تاثر بھی انتظامیہ کے لیے معمولی بات نہیں کیونکہ مذہبی مقامات عوامی جذبات سے گہرا تعلق رکھتے ہیں اور ان کے بارے میں معمولی انتظامی بے احتیاطی بھی غیر معمولی کشیدگی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
اجین کی شاہی مسجد کے معاملے میں تشویش اس وقت مزید نمایاں ہوئی جب کارروائی سے قبل مسجد کے اطراف بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے اور علاقے میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ 28 ستمبر کو صورتِ حال اس وقت کشیدہ ہوئی جب مسجد کے ایک حصے کو ہٹانے کی کارروائی کے دوران احتجاج کرنے والے افراد اور پولیس کے درمیان تصادم کی کیفیت پیدا ہوئی۔ پولیس کی جانب سے آنسو گیس کے استعمال اور لاٹھی چارج کی اطلاعات سامنے آئیں جبکہ پولیس پر سنگ باری کے الزامات بھی رپورٹ ہوئے۔ متعدد افراد کو حراست میں لیے جانے اور مقدمات درج کیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔ کسی بھی احتجاج کے دوران تشدد، سنگ باری یا سرکاری اہلکاروں پر حملہ کسی صورت قابلِ قبول نہیں ہو سکتا۔ اختلافِ رائے کا آئینی اور جمہوری طریقہ پُرامن احتجاج، قانونی چارہ جوئی اور مذاکرات ہیں۔ اسی طرح انتظامیہ پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مذہبی حساسیت کے حامل معاملات میں طاقت کے استعمال کو آخری چارۂ کار کے طور پر دیکھے نہ کہ اولین انتظامی وسیلہ سمجھے۔ قانون کی عمل داری اور شہریوں کے آئینی حقوق دونوں ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ ایک ہی جمہوری نظام کے دو لازمی ستون ہیں۔ اجین کا تنازعہ تصادم تک محدود نہیں رہا بلکہ انتظامیہ اور مسجد کمیٹی کے درمیان گفت و شنید کے ذریعے ایک قابلِ عمل راستہ بھی سامنے آیا۔ تازہ عدالتی کارروائی کے دوران عدالت نے انتظامیہ اور مسجد کمیٹی کے درمیان طے پانے والے تصفیے کو ملحوظ رکھا۔ رپورٹ شدہ معاہدے کے مطابق مسجد کے متاثرہ حصے کو تین فٹ تک محدود رکھنے، متاثرہ دکانوں کے لیے متبادل انتظامات اور مسجد کے مینار کی منتقلی جیسے امور پر اتفاق ہوا۔ یہ پیش رفت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حساس مذہبی معاملات میں گفت و شنید، باہمی افہام و تفہیم اور قانونی راستہ اختیار کرنا تصادم کے مقابلے میں زیادہ مفید ہو سکتا ہے۔ جب فریقین عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کر سکتے ہوں، جب انتظامیہ اور مذہبی کمیٹی کے درمیان مذاکرات ممکن ہوں اور جب ایک محدود تر حل تلاش کیا جا سکتا ہو تو پھر ماحول کو اس حد تک کشیدہ ہونے سے بچانا بھی انتظامی ذمہ داری کا حصہ بن جاتا ہے۔ مسئلہ صرف یہ نہیں کہ آخرکار کتنے فٹ زمین لی گئی؛ اصل مسئلہ یہ ہے کہ وہاں تک پہنچنے کے لیے ریاستی طاقت اور عوامی جذبات کے درمیان کس قدر فاصلہ پیدا ہونے دیا گیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سڑک کشادگی کا منصوبہ کسی ایک مذہبی مقام کو ہدف بنانے کے لیے نہیں بلکہ وسیع تر شہری ضرورت کے تحت ہے۔ عدالت میں بھی حکومت کی جانب سے یہ موقف پیش کیا گیا کہ متعلقہ راستے پر متعدد رکاوٹیں دور کی جا رہی ہیں اور سڑک کو وسیع کرنے کا مقصد بڑے مذہبی اجتماعات اور عام آمد و رفت کے دوران ٹریفک کو منظم رکھنا ہے۔ عدالتی ریکارڈ کے مطابق انتظامیہ نے یہ بھی کہا کہ اس راستے پر تقریباً تمام رکاوٹ بننے والی تعمیرات کو ہٹایا جا چکا ہے۔ لہٰذا اس معاملے کو صرف مذہبی عینک سے دیکھنا بھی مکمل تصویر پیش نہیں کرتا۔ شہری منصوبہ بندی، ٹریفک کی ضروریات، قانونی ملکیت، تجاوزات اور ترقیاتی منصوبوں کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ مذہبی مقام کوئی معمولی تعمیر نہیں ہوتا۔ مسجد، مندر، گرجا گھر یا کوئی دوسرا عبادت خانہ محض اینٹ، پتھر اور سیمنٹ کا مجموعہ نہیں بلکہ عقیدت، تاریخ اور اجتماعی حافظے سے وابستہ ہوتا ہے۔ اس لیے ریاستی انتظامیہ کو جب ایسے مقامات سے متعلق فیصلہ کرنا پڑے تو قانونی ضرورت کے ساتھ مذہبی حساسیت، تاریخی اہمیت اور عوامی جذبات کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔
اس سلسلے میں اتر پردیش کے سہارنپور کا حالیہ واقعہ بھی عوامی حافظے میں تازہ ہے۔ ضلع کلکٹریٹ احاطے میں واقع مسجد کو سرکاری زمین پر غیر مجاز تعمیر قرار دیتے ہوئے کارروائی کی گئی۔ حکام کے مطابق ضلعی عدالت نے مسجد انتظامیہ کی اپیل مسترد کرنے کے بعد کارروائی کی راہ ہموار کی جبکہ مسجد کے متولی کی جانب سے طریقہ کار پر اعتراضات بھی سامنے آئے اور معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ تک پہنچا۔ یعنی وہاں بھی انتظامیہ کا ایک قانونی موقف تھا اور دوسری طرف متاثرہ فریق کی جانب سے قانونی اعتراضات موجود تھے۔ ان واقعات کو ایک ہی نوعیت کا قرار دینا درست نہیں ہوگا، کیونکہ اجین اور سہارنپور کے قانونی و انتظامی پس منظر میں فرق موجود ہے۔ سہارنپور میں سرکاری زمین اور مبینہ غیر مجاز تعمیر کا سوال بنیادی حیثیت رکھتا ہے جبکہ اجین میں بنیادی تنازعہ سڑک کشادگی اور مسجد کے متاثرہ حصے سے متعلق ہے۔ لیکن دونوں واقعات ایک وسیع تر سوال ضرور پیدا کرتے ہیں۔ مذہبی مقامات سے متعلق ریاستی کارروائی میں قانون کی پابندی کے ساتھ عوامی اعتماد کو کیسے برقرار رکھا جائے؟ ریاستی اقتدار کی اصل قوت محض پولیس، مشینری اور انتظامی اختیارات میں نہیں ہوتی بلکہ اس کی حقیقی قوت عوام کے اعتماد میں ہوتی ہے۔ اگر کسی کارروائی کے بعد عوام کے ایک طبقے میں یہ احساس پیدا ہو کہ اس کے مذہبی یا شہری حقوق کو نظر انداز کیا گیا ہے تو قانونی کارروائی بھی سماجی اضطراب کو جنم دے سکتی ہے۔ اس لیے انتظامیہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر ایسے معاملے میں اپنے فیصلے کی بنیاد، قانونی جواز، متبادل امکانات اور متاثرہ فریق سے ہونے والی مشاورت کو زیادہ سے زیادہ شفاف بنائے۔ ہندوستان جیسے کثیر المذہب اور کثیر الثقافتی ملک میں انتظامیہ کے لیے غیر جانب داری محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ آئینی ضرورت ہے۔ یہاں کسی حکومت یا سیاسی جماعت کی ذمہ داری صرف اپنے حامیوں کے مفادات تک محدود نہیں ہوتی۔ اقتدار میں آنے والی جماعت پورے ملک کی حکومت ہوتی ہے، اور ریاستی ادارے کسی مخصوص مذہبی اکثریت یا اقلیت کے ادارے نہیں ہوتے۔ ان کا دائرہ کار ہر شہری تک یکساں طور پر پھیلا ہوا ہے۔ یہی وہ اصول ہے جو ہندوستانی جمہوریت کو محض عددی اکثریت کے نظام سے ایک آئینی جمہوری نظام بناتا ہے۔ یہ کہنا بھی مناسب نہیں ہوگا کہ ہر مسجد کو ترقیاتی منصوبوں سے مستثنیٰ قرار دے دیا جائے۔ اگر کوئی تعمیر واقعی قانونی طور پر سڑک، ریلوے، عوامی منصوبے یا کسی ناگزیر بنیادی ڈھانچے کی راہ میں حائل ہو تو ریاست کو قانون کے مطابق کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔ لیکن اس اختیار کے استعمال کی تہذیب بھی ہوتی ہے، طریقہ کار بھی ہوتا ہے اور انصاف کے تقاضے بھی ہوتے ہیں۔ مناسب معاوضہ، متبادل انتظام، پیشگی اطلاع، مذاکرات، قانونی سماعت اور ممکنہ حد تک کم نقصان پہنچانے کی کوشش وہ عناصر ہیں جو ایک مہذب انتظامی نظام کو محض جابرانہ طاقت کے استعمال سے ممتاز کرتے ہیں۔ اجین کے معاملے میں تین فٹ تک محدود ہونے والا سمجھوتہ اسی سمت ایک اہم مثال بن سکتا ہے۔ اگر ایک بڑے تنازعے میں فریقین مذاکرات کے ذریعے نقصان کو محدود کرنے پر متفق ہو سکتے ہیں تو آئندہ ایسے معاملات میں پہلے ہی مذاکرات کا دروازہ کیوں نہ کھولا جائے؟ اگر مذہبی کمیٹی رضاکارانہ طور پر متاثرہ حصہ ہٹانے پر آمادہ ہو سکتی ہے تو انتظامیہ کو بھی تصادم سے قبل مکالمے کی تمام راہیں کیوں نہ آزمائی جائیں؟ اگر عدالت کے سامنے فریقین ایک سمجھوتے تک پہنچ سکتے ہیں تو انتظامی سطح پر بھی اسی تحمل اور تدبر کا مظاہرہ کیوں نہ کیا جائے؟ ترقی اور مذہبی حساسیت کو ایک دوسرے کا حریف بنانا کسی بھی معاشرے کے لیے سود مند نہیں۔ سڑکیں وسیع ہونی چاہئیں، شہر ترقی کریں، ٹریفک کا نظام بہتر ہو، بڑے مذہبی اجتماعات کے لیے انتظامات ہوں اور شہری سہولیات میں اضافہ ہو لیکن ترقی کا تصور ایسا نہیں ہونا چاہیے جس میں شہریوں کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کے مذہبی تشخص کی قیمت پر بنیادی ڈھانچہ تعمیر کیا جا رہا ہے۔ ترقی اگر اعتماد کو مجروح کرکے حاصل کی جائے تو اس کے سماجی مضمرات خود ترقیاتی منصوبے سے کہیں زیادہ دیرپا ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح مسلم برادری کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے مذہبی مقامات کے تحفظ کے لیے قانونی اور آئینی راستوں کو مضبوط بنائے۔ جذباتی اشتعال، سڑکوں پر تصادم اور قانون کو ہاتھ میں لینے سے نہ مسجد محفوظ ہوتی ہے، نہ شہری حقوق مضبوط ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ اشتعال انگیزی اکثر اصل مسئلے کو پسِ پشت ڈال دیتی ہے اور معاملہ قانونی حق سے نکل کر امن و امان کے بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس لیے مسجد کی حفاظت کا بہترین راستہ علم، قانون، دستاویزات، عدالت، مکالمہ اور پُرامن اجتماعی جد وجہد ہے۔ حکومتوں کو بھی یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ بلڈوزر ایک مشین ہے، انصاف کا پیمانہ نہیں۔ کسی تعمیر کو منہدم کرنا انتظامی اعتبار سے چند گھنٹوں کا کام ہو سکتا ہے، لیکن اس کارروائی سے پیدا ہونے والے اعتماد کے بحران کو ختم کرنے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ ریاستی طاقت کا مظاہرہ وقتی طور پر راستہ صاف کر سکتا ہے، مگر پائیدار امن صرف انصاف، شفافیت اور اعتماد سے پیدا ہوتا ہے۔
ہندوستان کی گلیوں، بازاروں، عبادت گاہوں اور تاریخی عمارتوں میں صدیوں کی تہذیبی آمیزش موجود ہے۔ اس ورثے کو محض ترقیاتی نقشوں کی لکیروں سے نہیں پرکھا جا سکتا۔ جو ملک اپنے ماضی کے آثار، مذہبی مقامات اور تہذیبی تنوع کی حفاظت کرتا ہے، وہ اپنے حال کو بھی زیادہ مستحکم بناتا ہے۔ حکومت کا کام صرف سڑکیں چوڑی کرنا نہیں، دلوں کے درمیان فاصلے کم کرنا بھی ہے۔ انتظامیہ کا منصب صرف قانون نافذ کرنا نہیں، قانون کے بارے میں عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنا بھی ہے۔
اجین کی شاہی مسجد کا معاملہ اسی بنیادی سبق کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ ترقی، قانون اور مذہبی آزادی کو باہم متصادم بنانے کے بجائے ان کے درمیان توازن پیدا کرنا ہوگا۔ سڑک کشادگی کی ضرورت اپنی جگہ، عدالتی احکام اپنی جگہ اور شہری سہولیات اپنی جگہ؛ لیکن عبادت گاہوں سے متعلق ہر فیصلہ اس قدر شفاف اور محتاط ہونا چاہیے کہ کسی شہری کو یہ محسوس نہ ہو کہ قانون اس کے مذہب، شناخت یا عقیدے کی بنیاد پر مختلف پیمانے استعمال کر رہا ہے۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتیں طاقت کے بجائے تدبر، تصادم کے بجائے مکالمہ، جلد بازی کے بجائے قانونی احتیاط اور سیاسی مفاد کے بجائے آئینی مساوات کو ترجیح دیں۔ مذہبی مقامات کے بارے میں فیصلے کرتے وقت ہر فریق کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عبادت گاہیں محض تعمیرات نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کے جذبات اور عقیدت کا مرکز ہوتی ہیں۔ اسی طرح مذہبی برادریوں کو بھی یہ عہد کرنا ہوگا کہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون کی حدود سے باہر قدم نہیں رکھا جائے گا۔ ریاست اگر اپنے شہریوں کے اعتماد کی حفاظت کرے گی تو شہری بھی ریاستی اداروں پر اعتماد کریں گے۔ حکومت اگر قانون کو سب کے لیے یکساں رکھے گی تو قانون کی بالادستی مضبوط ہوگی۔ اور معاشرہ اگر اختلاف کو تصادم کے بجائے مکالمے میں تبدیل کرے گا تو مذہبی حساسیت بھی محفوظ رہے گی اور ترقی کا سفر بھی جاری رہے گا۔ اجین کی شاہی مسجد کا واقعہ ہمیں یہی سبق دیتا ہے کہ **سڑکیں کشادہ کرنے سے پہلے نیتیں، طریقہ کار اور انصاف کے راستے کشادہ ہونا ضروری ہیں؛ کیونکہ ریاستی مشینری عمارتیں گرا سکتی ہے، مگر ایک بار ٹوٹ جانے والا عوامی اعتماد کسی بلڈوزر سے دو بارہ تعمیر نہیں کیا جاسکتا۔
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے