شاہی مسجد اجین کے تحفظ کے لئے مسلمانوں کا جذبہ قابلِ تحسین- آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اجین کے مسلمانوں کو مبارکباد دی
شاہی مسجد اجین کے تحفظ کے لئے مسلمانوں کا جذبہ قابلِ تحسین-
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اجین کے مسلمانوں کو مبارکباد دی
نئی دہلی:29/ ستمبر 2026
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے ایک بیان میں اجین کے مسلمانوں، خصوصاً پردہ نشیں خواتین، کی جانب سے شاہی مسجد کے تحفظ کے لئے کئے گئے پُرامن احتجاج اور ان کے حوصلے کی ستائش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز اجین میں جس طرح بڑی تعداد میں مسلمان، جن میں پردہ نشیں خواتین بھی شامل تھیں، انتظامیہ اور پولیس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوئے اور مسجد کو مکمل طور پر منہدم کرنے کی کوشش کے خلاف مضبوط مزاحمت کی، وہ قابلِ تحسین ہے۔ ان کے اس پُرامن اور جمہوری احتجاج نے مسجد کی مکمل مسماری کی کوشش کو بڑی حد تک ناکام بنایا۔
مولانا رحمانی نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق بعض سرکاری اور حکومت نواز افراد نے مسجد کی انتظامیہ پر دباؤ ڈال کر اسے مسجد کے تقریباً تین فٹ حصے کو خود منہدم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی۔ انہیں یہ باور کرایا گیا کہ اگر یہ حصہ خود نہیں گرایا گیا تو پوری مسجد کو منہدم ہونے سے نہیں بچایا جا سکے گا۔ تاہم وہاں موجود مسلمانوں نے اس تجویز کی سخت مخالفت کی اور اس کے خلاف احتجاج کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کو ختم کرنے کے لئے پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔ اطلاعات کے مطابق متعدد افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی، جبکہ کئی نوجوانوں کو حراست میں بھی لیا گیا۔
بورڈ کے صدر نے کہا کہ اگر حکومت اور انتظامیہ چاہتی تو اس مسماری کو روکا جا سکتا تھا۔ اس سے قبل بھی اجین میں مسلمانوں کی بستی نظام الدین کو مہاکال کوریڈور کے نام پر اجاڑا گیا اور وہاں موجود تکیہ مسجد کو منہدم کر دیا گیا، جبکہ اس سے متصل گنیش کالونی کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا گیا۔ ایسے واقعات انتظامیہ کے طرزِ عمل پر سنجیدہ سوالات پیدا کرتے ہیں۔
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ اب یہ ایک تشویش ناک رجحان بنتا جا رہا ہے کہ کبھی سڑک کی توسیع اور کبھی کسی دوسرے عذر کی بنیاد پر بی جے پی حکومت والی ریاستوں میں برسوں سے قائم مدارس اور مساجد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایسے اقدامات میں نہ تو Places of Worship Act, 1991 کی روح اور تقاضوں کا لحاظ رکھا جاتا ہے اور نہ ہی وقف املاک کی قانونی حیثیت کا۔
انہوں نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اجین کے مسلمانوں، بالخصوص نوجوانوں اور پردہ نشیں خواتین کے عزم، حوصلے اور پُرامن جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اگر حکومت اور انتظامیہ کی حمایت کرنے والا طبقہ درمیان میں نہ آتا تو ممکن ہے کہ مسجد کا کوئی حصہ بھی منہدم نہ کیا جاتا۔
مولانا رحمانی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ ایسے تمام معاملات میں جذباتی ردِعمل کے بجائے پُرامن، جمہوری، دستوری اور قانونی طریقوں کو اختیار کیا جائے اور اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آئین اور قانون کے دائرے میں دستیاب تمام ذرائع کا بھرپور استعمال کیا جائے۔