ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ریاستی جمعیۃ علماء کی ائمہ اور خطبہ سے شعور بیداری کی اپیل

ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ریاستی جمعیۃ علماء کی ائمہ اور خطبہ سے شعور بیداری کی اپیل

ایک انسان کا قتل ساری انسانیت کا قتل ریاستی جمعیۃ علماء کی ائمہ اور خطبہ سے شعور بیداری کی اپیل

 

حیدرآباد(30؍ ستمبر2026؁ء)حضرت مولانا سید احسان الدین صاحب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ اور محترم حافظ پیر خلیق احمدصابر خادم جمعیۃ علماء تلنگانہ نے گزشتہ چند ماہ سے شہر حیدرآباد اور مضافاتی علاقوں میںبڑھتے ہوئے قتل کے وارتدات میں اضافہ کے سبب اپنے گہرے تشویش کا اظہار کیا۔اور انہوں نے محکمہ پولیس سے ضروری اقدامات کر نے کا مطالبہ کیا ۔اسی سلسلہ میں ر یاستی جمعیۃ علماء کے صدر محترم اور جزل سکریٹری صاحب نے آنے والے جمعہ کے موقع پر علماء‘ ائمہ ‘ خطبہ‘ حضرات اور مشائخین عظام سے گزارش کی ہے کہ وہ قتل کے وارتدات کی روک تھام اور اسلام نقطہ نظر سے انسان کا مقام اور مرتبہ کے عنوان پر عوام میں شعور بیدار ی لائیں ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شہر حیدآباد اور اس کے اطراف میں پانی مہنگا اور خون ستا ہوگیا ۔

چھوٹی بات پر یا محض چند روئیے کیلئے بدلہ لینے کے ارادہ سے قتل کیا جارہا ہے ۔جس مذہب میں ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیاگیا جب کے کھولے عام یہاں بے درری کے ساتھ انسانوں کا قتل ہورہا ہے ۔پہلے کبھی کبھار ایک آد واقعہ سنے میں آتا تھا ۔ افسوس کی بات ہے کہ اب ہرروز کوئی نہ کوئی علاقہ میں قتل کے واردات پیش آرہے ہیں اور حیرت کی بات ہے کسی روز دوہرے قتل کے واردات بھی ہورہے ہیں۔اسی چیز کے پیش نظر حضرات علماء کرام ائمہ اور خطیب حضرات مشائخین سے گزارش ہے کہ جمعہ کے موقع پر اسکوموضوع بناکرعوام کے اند ر شعور لایاجائے ۔اور ریاستی جمعیۃ علماء حکومت اور پولیس کے اعلی حکام سے مطالبہ کرتی ہے کہ جن علاقوں میں ایسے واقعات ہورہے ہیںان علاقہ پر خاص نظر رکھے جائے اور لوگوں کے اند جو خوف اور ہراس کا ماحول ہے اسکو دور کیا جائے ۔

ورنہ ہرآدمی ہر چھوٹی بات پر قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے لگے گا ۔تو ایسے واقعات میں اضافہ ہوگااور عوام کے اندر سے پولیس پر سے بھروسہ ختم ہوجائیگا آئندہ اور بڑے مسائل کھڑے ہونگے۔ایک طرف مرکزی حکومت کی طرف سے ریاستی حکومت کے اعلی عہدیداران کو منشیات پاک حکومت ایواڈسے نوازاجاتاہے ۔دوسری طرف قتل کرنے والوں میں اکثر لوگ نشہ کی حالات میں ملوث پائے جاتے ہے ۔اس لئے شہر حیدرآباد اور اطراف کے علاقوں میں قتل کے واردات کی روک تھام کیلئے سخت اقدامات کرنانہایت ضروری ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے