سنبھل میں شاہی جامع مسجد کے سروے کے دوران( نومبر 2024) پولیس کی زیادتی سے برپا ہونے والے تشدد کےبعد اترپردیش کی انتظامیہ نے ملا افروز کو گرفتار کرکے ان پر اہم کردار کا الزام لگایا تھا۔ اس کےتقریباً ایک سال بعد اکتوبر 2025 میں، الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت ملی تو یوپی کی یوگی حکومت نے ان پراین ایس اے لگا کر انہیں حراست میں رکھنے کا ظالمانہ حکم جاری کردیا۔ یوگی بابا کی اس اندھیر نگری کے خلاف ملا افروز نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تو بازی پلٹ گئی۔ وہاں انہیں بڑی راحت دیتے ہوئے نہ صرف ان کے خلاف نیشنل سکیورٹی ایکٹ کے تحت جاری الہ باد ہائی کورٹ کےحراستی حکم کو منسوخ کردیا بلکہ اتر پردیش کی حکومت پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد ہوگیا ۔ اسے کہتے ہیں ایک ملین کا عدالتی جوتا جو یوگی سرکار کے سر پر پڑا۔ یوگی کے لیے عدالت کی پھٹکار نئی نہیں ہے۔ وہ اسے سن سن کر ایسے ڈھیٹ ہوگئے ہیں کہ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن این ایس اے کے معاملے میں یہ جرمانہ پہلی بار لگا ہے۔ ایسی زبردست ہزیمت کے بعد اگر یوگی بابا کی حکومت میں عقل ہوتو ٹھکانے آجانی چاہیے لیکن چونکہ اس کی کھوپڑی میں صرف نفرت بھری ہوئی ہے اس لیے یہ شعر یاد آتا ہے؎
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر
سپریم کورٹ نے افروز کی این ایس اے حراست کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس حراست کے دوران مبینہ طور پر دیئے گئے اقبالی بیان کی بنیاد پر کسی شخص کو احتیاطی حراست میں رکھنا غیر قانونی ہے۔سپریم کورٹ نے جب دیکھا کہ اتر پردیش حکومت پر کلام نرک نازک کا کوئی اثر نہیں ہوتا تو 10 لاکھ روپئے کا جرمانہ بھی جڑ دیا ۔ اس ذلت و رسوائی کے بعد بھی اگر اس مغرور حکمراں کے ہوش ٹھکانے آجائیں تو اس میں اسی کی بھلائی ورنہ عوام کے پاس ووٹ کے جوتوں کی کوئی کمی نہیں ہے اور ان کے ذریعہ دماغ درست کرنے کی تیاری ہورہی ہے۔ یہ اہم فیصلہ جسٹس دیپانکر دتا اور جسٹس شیل ناگو کی بنچ نے کیا اور مُلّا افروز کی احتیاطی حراست کو ختم کرتے ہوئے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے پرانے فیصلے کو منسوخ کر دیا۔ عدالت نے یوپی حکومت کی کارروائی کو قانون کا غلط استعمال قرار دیا اور ہراساں کرنے کے عوض 10 لاکھ روپے جرمانہ (بطورِ ہرجانہ) ادا کرنے کا حکم دیا۔ اتر پردیش میں یوگی ادیتیہ ناتھ نہ صرف وزیر اعلیٰ بلکہ وزارت داخلہ کا قلمدان بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ پولیس کا محکمہ انہیں کے تحت کام کرتا ہے ۔ وہی اس سے سارے غیر قانونی کام کرواتے ہیں اس لیے یہ رقم یوگی کی جیب سے وصول کی جانی چاہیے۔ وہ اگر کہہ دیں کے اس کا حکم انہوں نے نہیں دیا تھا تب بھی اپنی پولیس کو ایسی زیادتی سے روکنا ان کا فرض منصبی ہے اور اس معاملے میں یقیناً کوتاہی سرزد ہوئی ہے جس کی سزا ان کو ملنی چاہیے۔
سنبھل تشدد کے معاملہ نومبر 2024 میں اتر پردیش کے سنبھل میں واقع شاہی جامع مسجد کے سروے کے دوران برپا ہونے والے تشدد سے متعلق ہے۔ ملزم ملا افروز پر شاہی جامع مسجد بنام شری ہریہر مندر سروے کے دوران بھڑکے تشدد میں بھیڑ جمع کرنے اور ہتھیار فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ۔ یہی نہیں، افروز کو اس معاملے کا ماسٹر مائنڈ بھی بتایا جاتا تھا اور اس کے خلاف 16 اکتوبر 2025 کو قومی سلامتی قانون (NSA) کے تحت کارروائی کی گئی تھی۔پولیس کی پوچھ گچھ کے دوران ملا افروز نے بتایا تھا کہ وہ شارق ساٹھا گینگ کے لیے کام کرتا ہے۔ اس کے اشارے پر ہی دہلی-این سی آر سمیت ملک کی مختلف ریاستوں سے مہنگی گاڑیاں چوری کرکے بنگال، آسام اور نیپال بھیجی جاتی ہیں۔ اس نے غیر ملکی ہتھیاروں کی ڈلیوری میں بھی ملوث ہونے کی بات قبول کی تھی۔ اس بیان پر پولیس ایمان لے آئی حالانکہ بنگال اور آسام غیر ممالک نہیں بلکہ بھارت کا اٹوٹ انگ(جزو لاینفک )نیپال ایسا پڑوسی ہے جہاں جانے کے لیے ویزہ تک کی ضرورت نہیں پڑتی۔و ہاں ہندوستان کا سکہ (کرنسی نوٹ)بھی چلتا ہے۔اس معاملے میں تین ہفتے قبل ہونے والی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے اتر پردیش حکومت کے طریقۂ کار اور پولیس حراست میں دیئے جانے والےاعترافِ جرم کی بنیاد پر احتیاطی حراست نافذ کرنے پر سخت سوالات اٹھائے تھے ۔
عدالت کے اس تلخ سوال کو سن کرریاستی ھکومت کو سمجھ لینا چاہیے تھا کہ اس کے ارادےٹھیک نہیں ہیں اس لیے فیصلہ سرکار کے خلاف آسکتا ہے ۔ اس لیے جب عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ رکھ کے سرکار کو اصلاحِ حال کا موقع دیا تو اسے فائدہ اٹھا کر سدھر جانا چاہیے مگریوگی بابا نے اسے گنوا کر اپنی بے عزتی کروالی۔ اتر پردیش حکومت کی جانب سے وہی گھسی پٹی دلیل دی گئی کہ دستیاب شواہد اور مواد سے یہ خدشہ موجود تھا کہ ملا افروز مستقبل میں تشدد یا عوامی نظم و نسق کو متاثر کر سکتا ہے۔ تاہم، سپریم کورٹ نے پولیس حراست میں دیئے جانے والے اس مبینہ اعترافِ جرم کو احتیاطی حراست کی قانونی بنیاد تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ یوپی کی پولیس تو ظلم و زیادتی کرکے جو چاہے اعتراف کروانے کے لیے بدنام ہے۔ اس عدالتِ عظمیٰ نے واضح طور پر کہہ دیا کہ پولیس حراست میں دیئے جانے والے مبینہ اعترافِ جرم کی بنیاد پر قومی سلامتی قانون کے تحت حراست کا حکم جاری کرنا غلط ہے۔ یہ یوگی سرکار کی اس زیادتی کا کرارہ جواب ہے جس کے تحت اس نے مسجد کے امام پر 2 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ یہ کارروائی کوٹ گڑوی کے علاقے کی اناروالی مسجد کے امام کے خلاف لاؤڈ اسپیکر کے قوانین کی خلاف ورزی پر کی گئی ہے۔ اب عدالت نے سود سمیت انتقام لے لیا ۔
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے اعلان کے بعد بھی یوگی کی سرپرستی میں ہندو فرقہ پرستوں نے سنبھل کی شاہی مسجد کا تنازع کھڑا کیا ۔ نچلی عدالت نے قانون کے خلاف سروے کی اجازت دے کر فتنہ کا دروازہ کھولا اور پہلا جائزہ امن و امان کے ساتھ ہوگیا ۔ اس وقت مسلمانوں کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں ہوا مگر دو دن بعد ہندو وکیل کے ساتھ اچانک انتظامیہ کے لوگ صبح تڑکے مسجد میں پہنچ گئے اور وضو خانے کا تالاب خالی کروانے لگے ۔ پانی کو باہر آتا دیکھ کر مسلمانوں نے خطرے کی بو سونگھ لی اور وہ اپنی مسجد کو بچانے کے لیے وہاں جمع ہوگئے اس سے ماحول کشیدہ ہوگیا اور اس کی صد فیصد ذمہ داری سرکار کی بدمعاشی پر آتی ہے۔ اس ماحول کو افہام و تفہیم سے درست کرنے بجائے انتظامیہ کی طرف سے قوت کا بیجا استعمال کیا گیا تو تشدد پھوٹ پڑا۔ پولیس یہی چاہتی تھی اس لیے اس نے گولی چلا دی اور اس میں چار لوگ شہید ہو گئے۔ جاں بحق ہونے والے نعیم غازی، بلال انصاری، ایان عباسی اور کیف علوی سب کے سب مسلمان تھے اس کے علاوہ اور بھی کئی لوگ زخمی ہوئے مگر الٹا الزام بھی مسلمانوں پر ڈال دیا گیا اور بزدل پولیس والوں نے گولی چلانے سے انکار کردیا۔ مذکورہ بالا معاملے میں 23 سالہ امام تہذیب پر احتیاطی تدابیر کے طور پر 2 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا تھا مگر انہیں ضمانت مل گئی جبکہ ملا افروز کو تو باعزت بری ہوگئے۔
اتر پردیش کے سنبھل میں پھوٹ پڑنے والے تشدد کا الزام الٹا مسلمانوں پر ڈالنے کے لیے پولیس نے جامع مسجد کمیٹی کے صدر ایڈوکیٹ ظفر علی کو حراست میں لے لیا ہے۔ کمیٹی کے صدر 19 نومبر(2024) کو جامع مسجد کے اندر ایڈوکیٹ کمیشن کے پہلے سروے کے دوران سروے ٹیم کے ساتھ موجود تھے۔ اسی طرح 24 نومبر کو ہونے والے دوسرے سروے کے دوران بھی وہ ٹیم کے ساتھ مسجد میں موجود رہے۔ تاہم جب سروے کے دوران بھیڑ جمع ہونے لگی تو ظفر علی ٹیم کو مسجد کے اندر چھوڑ کر باہر چلے گئے اور بھیڑ میں شامل افراد سے گفتگو کی یعنی اسے سمجھانے بجھانے کی سعی کی ۔اس پر ان کا شکریہ ادا کرنے کے بجائے ایس آئی ٹی (خصوصی تفتیشی ٹیم) نے ان سے پوچھ تاچھ کے لیے بلاکر قید کرلیا ۔ایڈوکیٹ ظفر علی کے علاوہ پولیس نے دو خواتین سمیت 25 مسلمانوں کو گرفتار کرلیا اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے ایم پی ضیاء الرحمان برق سمیت تقریباً 2500 لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔ چار ماہ سے زیادہ وقت تک جیل میں رہنے کے بعد سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے پر ظفر علی ایڈوکیٹ جیل سے رہا کیے گئے ۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد سنبھل پہنچ کر ظفر علی ایڈوکیٹ کے حامیوں نے پھول مالا پہنا کر زور دار استقبال کیا۔
سنبھل تشدد کی بابت پولیس دعویٰ کیا کہ اس نے بھیڑکے خلاف کوئی مہلک ہتھیار استعمال نہیں کیا لیکن اس کے برخلاف سوشل میڈیا پر نشر ہونے والے ویڈیو میں پولیس افسران اور کانسٹبلوں کو بھیڑ پر گولی چلاتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا ۔ ایک سینئر اہلکار نے ب اعتراف بھی کیا کہ شیئر کیے گئے ویڈیو میں نظر آنے والا ہتھیار پیلٹ گن تھے مگر پھر اسے دیسی پستول کہہ دیا گیا۔ مقامی رکن پارلیمان ضیاء الرحمٰن برق نے بھی الزام لگایا کہ کچھ افسران نے اپنے نجی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ اپنے سروس ہتھیاروں سے بھی گولی چلائی اور اپنی کاروں کو آگ لگا دی۔ سنبھل پولیس نے ابھی تک ان کے الزامات کا جواب نہیں دیا ہے۔سماجوادی پارٹی کے پی سربراہ اکھلیش یادو نے بھی پارلیمنٹ کے باہر ان الزامات کو دہرایا اور پولیس افسران کے خلاف کارروائی اور ان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ واقعہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کندرکی ضمنی انتخاب میں ‘ووٹوں کی لوٹ مار’ سے توجہ ہٹانے کے لیے کیا گیا ہے۔اس وقت تو کسی نے ان الزامات پر توجہ نہیں دی مگر اب عدالت عظمیٰ کے اندر ملا افروز نے یوگی ادیتیہ ناتھ کو پچھاڑ کر ان الزامات کی تصدیق کردی ۔ موجودہ سرکار جیسے جیسے کمزور ہورہی عدالتوں میں اعتماد پیدا ہورہا ہے اور الہ باد ہائی کورٹ سے سپریم کورت تک ہر جگہ حکومت کی زیادتی کے خلاف فیصلے آنے لگے ہیں جو نہایت خوش آئند تبدیلی ہے۔