ارشادِ ربانی ہے:’’ اور ان سے بڑھ کر ظالم کون ہے ، جو اللہ کی مساجد کو اس بات سے محروم کریں کہ ان میں اس کا ذکر کیا جائے اور ان کی ویرانی کے درپے ہوں ‘‘۔ تاریخ انسانی میں مختلف گروہوں نے اس سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ مثلاًعیسائی مذہب کے پیروکار رومی جرنیل طیطوس نے 70ء میں بیت المقدس پر حملہ کر کے ہیکلِ سلیمانی کی مسماری اور بے حرمتی کی۔مسیحی ابرہہ نے بیت اللہ کو مسمار کرنے کے ارادے سے مکہ پر لشکرکشی کی۔مشرکینِ مکہ نے بھی رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کو مکہ میں اعلانیہ نماز پڑھنے اور مسجدِ حرام میں داخل ہونے سے روکا۔یہود نے تحویلِ قبلہ پراعتراضات کرتےہوے، بیت اللہ کی عظمت کا انکار کیا اور شکوک و شبہات پیدا کیے۔ایسے ظالموں کی بابت فرمایا گیا:’’ ان کیلئے زیبا نہ تھا کہ ان میں داخل ہوتے ، مگر ڈرتے ہوئے ‘‘۔ یعنی یہ رعب کے سبب شرارت نہ کرسکیں۔ ایسے لوگوں کا انجام یہ بتایا گیا کہ:’’ ان کے لیے دنیا میں بھی رسوائی ہے‘‘۔ ابرہہ ، مشرکین مکہ اور یہود و نصاریٰ کا ذلیل ہوچکے ہیں لیکن:’’ آخرت میں بڑا عذاب (بھی)ہے‘‘۔ اسلام میں تمام مذاہب کی عبادت گاہوں کا تحفظ امن، مذہبی آزادی اور باہمی رواداری ایک بنیادی اصول ہے۔
اسلام مساجدکے علاوہ غیر مسلم اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے حفاظت کا بھی حکم دیتا ہے۔ عہدِ نبوی اور خلافتِ راشدہ کے دوران اسلامی ریاستوں میں غیر مسلمین کے جان و مال سمیت عبادت گاہوں کے تحفظ کو معاہدوں کا حصہ بنایا گیا۔دورانِ جنگ بھی راہبوں، عبادت میں مصروف افراد اور عبادت گاہوں کو منہدم کرنے یا نقصان پہنچانے کی سختی سے ممانعت کی گئی ۔ہندوستان کی قدیم اور قرونِ وسطیٰ کی تاریخ میں ہندو راجاؤں کے ذریعے مندروں کو لوٹنے، مسمار کرنے یا مورتیاں کے اٹھا لے جانے کی متعدد دستاویزی مثالیں موجود ہیں۔ قرونِ وسطیٰ کے ہندوستان میں مندر نہ صرف عبادت گاہ بلکہ دشمن بادشاہ کی سیاسی طاقت کے مراکز، شاہی وقار کی علامت اور ریاست کے بنیادی خزانوں کا مرکز سمجھے تھے۔ اسی لیے سلطان محمود غزنوی نے سومنات کا رخ کیا مگر ایسا کرنے والے وہ اکیلے حکمراں نہیں تھے ۔ پلوہ خاندان کےراجہ نرسنہا ورمن اول (642ء)نے جب چالوکیہ دارالحکومت ‘واتاپی’ پر حملہ کر کے اسے فتح کیا، تو وہ وہاں کے شاہی مندر سے گنیش کی مورتی کو مالِ غنیمت کے طور پر لےجاکراسے دارالحکومت میں نصب کردیا۔ اسی طرح 8ویں صدی میں راشٹر کوٹ راجہ گووند سوم نے شمالی ہند پر حملے کےدوران نہ صرف شیو کے ایک مندر کو نقصان پہنچایا بلکہ پلوہ سلطنت کے شاہی مندر سے ایک بڑا نندیشور (بیل کا مجسمہ) اکھاڑ کر اپنے ساتھ لے گیا۔
پانڈیہ راجہ شری مارا شری ولبھا نے (835ء) میں سری لنکا پر حملہ کیا اور وہاں کے بدھ خانقاہوں اور مندروں سے سونے کا بدھ مجسمہ اور دیگر قیمتی جواہرات لوٹ لیا۔ چولا حکمران راجیندر اول نے مفتوحہ علاقوں کے شاہی مندروں سے درگا، بھیرو اور سوریا دیوتا کی مقدس مورتیاں اپنے دارالحکومت لاکرانہیں فتح کی علامت کے طور پرنصب کروایا۔ اس معاملے میں کشمیر کا راجہ ہرش دیو (1089-1101ء) نے تومعاشی بحران پر قابو پانے کی خاطر مندروں سے دولت حاصل کرنے کے لیے باقاعدہ ایک سرکاری عہدہ "دیووت پاٹنا نائیکا” (یعنی مورتیاں اکھاڑنے والا افسر) قائم کیا۔ اس نے کشمیر کے کئی مندروں سے سونے اور چاندی کی مورتیاں پگھلا کر شاہی خزانے میں جمع کیں۔ معروف مؤرخین کے مطابق، یہ کارروائیاں خالصتاً مذہبی منافرت کے بجائے سیاسی بالادستی، معاشی مفادات اور دشمن بادشاہ کی سیاسی ساکھ کو ختم کرنے کے لیے کی جاتی تھیں۔ بدقسمتی سے موجودہ حکومت انہیں مقاصد کے حصول کی خاطر اس میں مذہبی نفرت انگیزی کی آمیزش کررہی ہے۔ سہارنپور کلکٹریٹ کی مسجد اور شاہی مسجداجین اس کی تازہ ترین مثالیں ہیں ۔
اجین میں2028 کے اندر مہاکمبھ کے لیے سڑکوں کو چوڑا کرنے کے لیےشہری میونسپل کارپوریشن کی جانب سے مہم چلائی جا رہی ہے تاکہ کنٹھال چوراہے سے گوپال مندر کے درمیان راستے کو چوڑا کیا جاسکے۔ اس دوران راستے میں 272 مکانات کے حصوں کو ہٹایا گیا جن میں وزیر اعلیٰ موہن یادو کا آبائی گھر بھی شامل ہے۔ اس مہم کی زد میں تقریباً 14؍ مذہبی مقامات کے کچھ حصے آئے جنھیں ہٹایا گیا۔ سڑک چوڑا کرنے کے لیے کئی قدیم مندروں کے حصوں کو 9 فٹ تک پیچھے کیا گیا جس میں سنکٹ موچن ہنومان مندر، شیو مندر، گنیش مندر جیسے مذہبی مقامات شامل ہیں۔ اس انہدامی کارروائی کے تحت ہنومان مندر تو توڑ دیا گیا مگر مورتی کو چونکہ بغیر نقصان پہنچائے ہٹانے کا وعدہ کیا گیا تھا اس لیےیہ کام عارضی طور پر رکا ہوا ہے ۔ اسی طرح قدیم شاہی مسجد بھی اس کی زد میں آگئی ۔ مسلمانوں نےانہدامی کارروائی کے خلاف نہ صرف سڑکوں پر اتر کر احتجاج بلکہ عدالت سے بھی رجوع کیا۔ جب دونوں کوششیں ناکام ہوگئیں تو ازخود کچھ حصہ ہٹایا گیا ۔ اس معاملے کا سب سے دردناک پہلو یہ ہے کہ میڈیا میں ہنومان کی مورتی کے تعلق سےمختلف خبریں اچھال کر ہندووں کی ہمدردیاں حاصل کی گئی اور مسجد کے انہدام کو اچھال کر انتہا پسند ہندووں کو خوش کرنے کی ناپاک کوشش بھی ہوئی جو نہایت اوچھی سیاست ہے۔
شیوراج سنگھ چوہان کے زمانے میں سڑک وغیرہ کی راہ میں عبادتگاہیں آجاتیں تو منصوبے میں لچک پیدا کرکے اسے تبدیل کیا جاتا تھا مگر یہ نئے لوگ سیاسی فائدے کی خاطر بالکل باولے ہوگئے ہیں ۔ یہ مساجد کی بے حرمتی کرکے اس سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی بابت ارشادِ قرآنی ہے :’’ اور اگر اﷲ انسانی طبقات میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ ( جہاد و انقلابی جد و جہد کی صورت میں ) ہٹاتا نہ رہتا تو خانقاہیں اور گرجے اور کلیسے اور مسجدیں ( یعنی تمام ادیان کے مذہبی مراکز اور عبادت گاہیں ) مسمار اور ویران کر دی جاتیں جن میں کثرت سے اﷲ کے نام کا ذکر کیا جاتا ہے‘‘۔ یہاں اول تو مشیت ایزدی کے ذریعہ ایسے مظالم کرنے والوں کے انجامِ بد سے واقف کرایا گیا ہےنیز اپنی عبادتگاہوں کے تحفظ کی خاطر مزاحمت کرنے والوں کو یہ بشارت دی گئی ہے کہ : ’’ جو شخص اﷲ ( کے دین ) کی مدد کرتا ہے یقیناً اﷲ اس کی مدد فرماتا ہے ۔ بیشک اﷲ ضرور ( بڑی ) قوت والا ( سب پر ) غالب ہے ( گویا حق اور باطل کے تضاد و تصادم کے انقلابی عمل سے ہی حق کی بقا ممکن ہے )‘‘۔