نوابوں اورنظاموں کاشہرحیدرآباد فرخندہ بنیاد جو ایک زمانے میں اپنی تہذیب وشائستگی،انسانیت نوازی،ہمدردی و خیرخواہی،علمی برتری اور آپسی رواداری کے لئے پورے عالم میں منفردشناخت رکھتاتھا،اس وقت یہ قاتلوں کے شہر کے طورپر اپنی پہچان بنانے لگا ہے،نہ جانے اس شہر کو کس کی نظر لگ گئی کہ اب یہ شہرجرائم کی راجدھانی میں تبدیل ہوتا جارہا ہے،ہرطرف جرائم کا بول بالاہے،اخبار ہو یا سوشل میڈیا کاپلیٹ فارم،قتل و غارت گری اور دیگرجرائم کے واقعات تسلسل سے روزانہ سامنے ہوتے ہیں،یہ شہرجو ماضی میں بہت سی خصوصیات کے لئے جانا پہچانا جاتا تھا،آج یہ مختلف جرائم کا مرکز بنتا چلا جارہا ہے،گنگا جمنی تہذیب و روایات اور اقدار کاشہراب جرائم کا مرکز بننے لگا ہے،شاید ہی کوئی جرم ایسا ہو جوان دنوں حیدرآباد میں انجام نہ دیا جارہا ہو،قتل و غارت گری جوایک سنگین جرم ہے وہ معمول بنتی جارہی ہے،چوری اور رہزنی کے واقعات عام ہو گئے ہیں،راہ چلتے لوگوں کو لوٹنے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے،خواتین کےلئے شہرکے آٹومیں سفرکرنا خطرناک ہوتاجارہاہے،سائبر جرائم الگ سے رونما ہورہے ہیں،عوام کو لالچ دیتے ہوئے ان کے مال و دولت کو لوٹا جارہا ہے،نشے کی لعنت نے سارے شہر کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے 18 سال سے کم عمر کے لڑکے نشے کی لعنت کا شکار ہورہے ہیں،حکومت اور ایجنسیوں کی تمام تر کوششوں کے باوجود گانجہ کے استعمال پر قابو نہیں پایا جاسکا ہے،پولیس کی جانب سے چبوترہ مشن، کارڈن اینڈ سرچ اور کئی طرح کے اقدامات کئے جا رہے ہیں،اس کے باوجود قتل اور اقدام قتل کے واقعات پر بھی کسی طرح کی روک نہیں لگ پائی ہے،نشہ آور اشیاء اور ادویات کی خریدوفروخت اور استعمال اب معمول بن گیا ہے اور اسی کے اثر سے ہرروز قتل و خون کا بازار گرم کیاجارہا ہے،شہر میں آئے دن قتل کی وارداتیں انجام دی جارہی ہیں،مسلم نوجوان خاص طورپر کئی طرح کی برائیوں کا شکار ہو رہے ہیں،ناجائز تعلقات کے لیے قتل کیا جارہا ہے،رشتہ ٹھکرانے پرموت کے گھاٹ اتارا جارہا ہے،محبت میں ناکامی پر حملے کیے جارہے ہیں،شراب اورگانجہ کا استعمال بے تحاشہ بڑھ گیا ہے اور نوجوان نسل ان لعنتوں کا شکار بنتے ہوئے کھوکھلی ہوتی چلی جارہی ہے،خلاصہ یہ ہے کہ ہمارا سماج اورمعاشرہ ان دنوں کئی طرح کے بگاڑ کا شکار ہو گیا ہے،حد تو یہ ہے کہ ناجائز تعلقات بھی اب عام ہو گئے ہیں،بے راہ روی معاشرے کا حصہ بنتی جارہی ہے اور افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ کئی گوشوں میں اس کو برا بھی نہیں سمجھا جارہا ہے،سود کی لعنت الگ سے معاشرے میں بگاڑ پیدا کررہی ہے اور ہماری جڑوں کو کھوکھلا کررہی ہے،سود جیسی حرام کمائی کو بھی غلط یا ناجائز نہیں سمجھا جارہا ہے اور اسےحق سمجھتے ہوئے کاروبار کیا جارہا ہے،ان ساری غیرشرعی،غیرقانونی اورغیرسماجی سرگرمیوں کو روکنے کےلئے ایسا لگتا ہے کہ کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے،تیز رفتاری سے بدلتے اوقات کے ساتھ سماج میں نت نئی تبدیلیاں آتی رہتی ہیں یہ تبدیلیاں اگرمثبت اوربہتری کی سمت ہوں تو ان کا خیرمقدم ہے تاہم ترقی یافتہ دور میں لعنتوں کا عروج زیادہ ہو گیا ہے،معاشرے سے اچھے،برے،صحیح اور غلط کی پہچان تقریبا ختم ہونے لگی ہے اور لوگ غلط کو غلط سمجھنے کے لئے کسی طرح تیار نہیں ہیں۔
شہرمیں جرائم کی رفتار کس تیزی سے بڑھ رہی ہے،اسکوجاننے کے لیے یہ حالیہ رپورٹ ملاحظہ فرمائیں
شہرمیں جرائم کے نئے رجحانات تشویشناک،گلی کوچوں میں کلب کلچرکافروغ،شہرحیدرآباد کی جدید صورت گری کے دوران جرائم کا رجحان مختلف اورخطرناک صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے،شہرمیں نشہ کاچلن عام،محکمہ پولس بےبسی کاشکار،روڈی عناصر بھی اب منشیات کی منتقلی میں مگن،باصلاحیت عہدیدار بھی خاموش،میڈیکل دکانات، پان شاپس اورگلی کوچوں میں نشیلی اشیاء کی فروخت،پولس کی کارروائیوں میں سنسنی خیز انکشافات، کلب کلچر کے علاوہ اب گلی کوچوں میں منشیات دھڑلے سے فروخت ہونے لگی ہیں،گانجہ،گانجہ چاکلیٹ،ایم ڈی ایم اے حش آیئل کے علاوہ کوکین،چرس ہیروئن کے ساتھ ساتھ نشیلی انجکشن اور اب گولیاں بھی منظرعام پر آنے لگی ہیں،ایک طرف حکومت کی پالیسی اورسرکاری دعویداری ہے کہ ریاست کو نشہ سے پاک ریاست میں بدل دیا جائے گا لیکن اقدامات اور نتائج بالکل اس کے برعکس برآمدہورہے ہیں،بیماریوں کی ادویات دستیاب ہونے والی میڈیکل دکانات میں بھی اب نشیلی اشیاء فروخت ہورہے ہیں،جوشہر کی نوجوان نسل کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں،حالانکہ ریاست میں نشہ کے خلاف ایک مخصوص شعبے کوتشکیل دیا گیا ہے۔ پولیس ایکسائز،میڈیکل ڈپارٹمنٹ،ڈرگ کنٹرول ڈپارٹمنٹ،ان سب کے علاوہ نو تشکیل شدہ حیدرآباد نارکوٹک انفورسمنٹ ونگ بھی ریاست میں سرگرم ہے،باوجود اسکے اب شہر میں ہر قسم کی نشیلی شئی فروخت اور استعمال ہونے لگی ہے،جیسا کہ پولیس کاروائی میں ثابت بھی ہوچکا ہے،نشہ کا کاروبار کرنے والوں میں بیرونی افریقی ممالک کے باشندے پائے جاتے تھے جوویزا کی مدت ختم ہونے کے بعدبھی ملک کے ایک شہر سے دوسرے شہر میں قیام کرتے ہوئے منشیات کو فروخت کرتے ہوئے گرفتار کیے گئے لیکن اب منشیات کے اسمگلرس کا طریقہ کار بھی بدل چکا ہے،شہر کے روڈی شیٹرس بھی اب اس کاروبار میں شامل ہوچکے ہیں،روڈی شیٹرس کی ٹولیوں کو کنٹرول کرنے والے اب اپنے حامیوں اورغنڈہ عناصر کو منشیات کی اسمگلنگ میں استعمال کرنے لگے ہیں،توڑ پھوڑ،لڑائی جھگڑا،جبرا وصولی،ناجائز قبضہ،سرقہ،رہزنی غیرقانونی کاروبار اورسرگرمیوں کوفروغ دینے والے روڈی گینگ لیڈرس اب منشیات پرتوجہ دینے لگے ہیں،جس کے خطرناک نتائج برآمد ہورہے ہیں،نشہ کے سبب معمولی بات پرقتل ہونے لگے ہیں، اس پرامن اورعظیم،تاریخی ورثہ کے شہر حیدرآباد کو بھی نشہ کی لعنت میں لپیٹا جارہا ہے،اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی اورباصلاحیت فورس ہونے کے باوجود جبکہ سرکاری عزائم بھی نشہ کے خلاف پائے جاتے ہیں،آخر ان کی روک تھام میں مسلسل ناکامی کیوں ہورہی ہے؟نوتشکیل شدہ ونگ ایک ریٹائرڈ لیکن باصلاحیت اورسخت گیرموقف رکھنے والے آئی پی ایس عہدیدار کی نگرانی میں کام کرتی ہے،اس عہدے دار کوشہرمیں خدمات انجام دینے کا کافی تجربہ بھی پایا جاتاہے اور اس عہدے دار نے بہت سے مثالی اقدامات کوبھی انجام دیا لیکن ایک مخصوص گروپ اس عہدے دار کو پسند نہیں کرتا،کیا اس عہدے دار کو اپنی مرضی سے کام کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل نہیں ہے؟یا پھر کسی دباؤ کے نتیجے میں اس عہدے دار کو برائے نام خدمات تک محدود کردیا گیا ہے؟گزشتہ دنوں سی سی ایس کی خصوصی ٹیم نے مانگربستی افضل ساگر علاقے میں کارروائی کرتے ہوئے نشیلی ادویات کے ایک بڑے ذخیرے کو ضبط کیا،یہ انتہائی ہوش اڑانے والی کارروائی ثابت ہوئی،جب بڑی مقدارمیں نشیلی گولیوں کوضبط کیا گیا جو مخصوص پیاکنگ میں پائی جاتی ہیں،اگر اس طرح سے اقدامات جاری رہتے ہیں تو پھر یہ نشہ کے کاروباری اور اسمگلرس شہر کی شناخت کو بدل دیں گے اور عزت دارشہریوں کا جینا مشکل ہوجائے گا،نشہ کے خلاف جاری اقدامات میں پولیس کومزید سخت اقدامات کرنے ہوں گے،شہریوں کی جانب سے نوجوان نسل کے تعلق سے فکراورتشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اورحکومت وپولس سے مطالبہ کیاجارہا ہے کہ نشہ کی جڑوں کو کاٹ دیا جائے اورشہر کو بچا لیا جائے۔
ایک دوسری رپورٹ بھی ملاحظہ فرمائیں،حیدرآباد میں کو۔ لیونگ کی آڑ میں پھیلتی لیوان ریلیشن کی خاموش وبا،750کروڑ کی منافع بخش مارکیٹ،400 ہاسٹلس،70 ہزار نوجوانوں کا داؤ پر لگا اخلاقی مستقبل،صرف روزگار اورجدید لائف اسٹائل کا مرکزسمجھا جانے والا حیدرآباد کا آئی ٹی کوریڈور اب ایک سنگین اخلاقی اورسماجی بحران کی زد میں ہے،ہائی ٹیک سٹی،گچی باؤلی اور کوکٹ پلی جیسے علاقوں میں کارپوریٹ’ کو۔لیونگ'(Living۔Co) کلچر کی آڑ میں شادی کے بغیرنوجوان مرد و خواتین کا ایک ساتھ رہنا،لیوان ریلیشن شپ ہماری صدیوں پرانی تہذیب،خاندانی روایات اور اخلاقی اقدار پرکاری ضرب لگارہاہے،آزادی اور ماڈرن ازم کے نام پر پروان چڑھنے والا یہ رجحان اب محض فیشن نہیں رہا بلکہ یہ نئی نسل کو تباہی، دھوکہ دہی اورسنگین قانونی دلدل کی طرف دھکیل رہا ہے،شہرحیدرآباد میں منظم کو۔لیونگ کاروبار 750 کروڑ روپے کی ایک ایسی منافع بخش مارکیٹ بن چکا ہے،جہاں 400 سے زائد ہاسٹلس میں 70 ہزار سے زائد نوجوان مقیم ہیں،ان میں 60 سے 70 فیصد دوسری ریاستوں اور 30 سے 40 فیصد دونوں تلگوریاستوں تلنگانہ اورآندھرا پردیش کے نوجوان ہیں،ان ہاسٹلس کی طرف سے فراہم کردہ جم،کچن اور گیمنگ زون جیسی پرتعیش اور آزاد سہولیات دراصل نوجوانوں کوبغیر کسی خاندانی روک ٹوک کے ایک ساتھ رہنے کا کھلا لائسنس فراہم کررہی ہیں،جس کے لیے وہ ماہانہ 12 ہزار سے 25 ہزار روپے تک خوشی سے لٹارہے ہیں،اس مغربی کلچر کا سب سے بھیانک پہلو یہ ہے کہ نوجوان اپنے والدین کو اندھیرے میں رکھ کر دوہری زندگی جی رہے ہیں،یہ بے باکی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ تمام حدود پار کرنے کے بعد یہ نوجوان شادی جیسے مقدس رشتے اور ذمہ داری سے صاف انکار کر رہے ہیں،جوہماری مشرقی تہذیب کے منہ پرزوردارطماچہ ہے،جس لائف اسٹائل کو ذہنی ہم آہنگی کا نام دیا جارہا ہے وہ دراصل اخلاقی گراوٹ،منشیات،شراب نوشی اوربے راہ روی کا گڑھ بن چکا ہے،یہاں تک کہ وہ شادی شدہ افراد بھی جواپنے خاندان کو پیچھے چھوڑ کر نوکری یا کوچنگ کے لیے یہاں آتے ہیں وہ بھی اس رنگین اورغیر ذمہ دارانہ ماحول کا شکار ہو کراپنی ہنستی کھیلتی ازدواجی زندگی کوبرباد کررہے ہیں،اس کے علاوہ ذاتی تصاویر اور نجی ویڈیوز بنا کرایک دوسرے کو بلیک میل کرنے کے گھناؤنے واقعات بھی اب انہی بند کمروں سے نکل کرسامنے آرہے ہیں،حیدرآباد کا سماجی تانا بانا اس وقت شدید خطرے میں ہے،اگروالدین نے اپنے بچوں کی اس نام نہاد آزادی پرنظر نہ رکھی اور انتظامیہ نے کارپوریٹ ہاسٹلس کے ان غیراخلاقی ضابطوں پر لگام نہ لگائی تو وہ دن دور نہیں جب ہمارا خاندانی نظام پوری طرح بکھرجائے گا،جدیدیت کے نام پر اخلاقیات کا جنازہ نکالنے والے اس ٹرینڈ کے خلاف عوامی اورسماجی سطح پر آواز اٹھانا وقت کی اہم ترین ضرورت بن چکا ہے۔
ایک اورتشویش ناک رپورٹ بھی ملاحظہ فرمائیں کہ ریاست تلنگانہ میں بین مذہبی شادیاں سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے،مسلم لڑکے اورلڑکیوں میں بھی رجحان تشویش ناک ہے،جولائی کے اوائل سے 50 سے زائدمسلم لڑکوں اور 100 سے زائد مسلم لڑکیوں نے غیرمسلم نوجوانوں سے شادی رچائی۔رپورٹ کے مطابق تلنگانہ میں بین مذہبی شادیاں سنگین مسئلہ بنتا جارہا ہے،اورہرمہینے زائد از 50 بین مذہبی شادیاں اسپیشل میریج ایکٹ کے تحت انجام پانے لگی ہیں، کئی اضلاع میں بین مذہبی شادیوں کے معاملات میں اضافے کے سلسلے میں تحقیق کے دوران انکشاف ہوا کہ محض غیرمسلم لڑکیاں ہی مسلم لڑکوں سے شادی نہیں کررہی ہیں بلکہ بڑی تعداد میں مسلم لڑکیاں بھی غیر مسلم نوجوانوں سے اسپیشل میریج ایکٹ کے تحت رجسٹرار آف میریج کے پاس شادی کرنے لگی ہیں،شہر کے بیشتر ان علاقوں میں جہاں ملک کی مختلف ریاستوں سے حیدرآباد منتقل ہو کرنوجوان مقیم رہتے ہیں،ان سے تعلق رکھنے والے جوڑوں کی تعداد ان میں زیادہ ہے لیکن اگراس مسئلے کو یوں ہی نظرانداز کیاجاتا رہاتو بین مذہبی شادیاں عام ہوتی چلی جائیں گی اور اس رجحان پرقابو پانا مشکل ہوتا چلاجائے گا،حیدرآباد وسکندرآباد کے علاوہ کئی اضلاع میں یہ وبا تیزی سے پھیلنے لگی ہے،والدین اورسرپرستوں کو اس بات کا پتہ نہ چلے،اس کے لیے نوجوان خصوصی طور پرسب رجسٹرار کے دفتر کا انتخاب کررہے ہیں تاکہ یہ تفصیلات ان کے والدین تک نہ پہنچ پائے،شہر کی ترقی اورملٹی نیشنل کمپنیوں میں نوجوانوں کے ساتھ آزادانہ اختلاط،معاشرے میں جہیز کی لعنت،دن بدن پرتعیش شادی کی تقاریب اور لاکھوں کے اخراجات نے امت کے لڑکوں کوغیرمسلمین کے ساتھ شادی کے بندھن بندھنے کی راہ ہموار کی ہے،اس کے علاوہ شمالی ہندمیں بھگوا لو ٹرپ کی جو اصطلاح استعمال کی جارہی تھی وہ اب جنوبی ریاستوں میں بھی تیزی سے بڑھتی نظر آرہی ہے،مسلم لڑکوں،لڑکیوں کی بے راہ روی اورنوجوانوں میں بے دینی کو دور کرنے ناکافی اقدامات سے جونقصان ہورہا ہے اس پر خصوصی توجہ کی ضرورت ہے بلکہ اسپیشل میریج ایکٹ کے تحت شادی کرنے والوں کی خصوصی کونسلنگ کے لئے مراکز قائم کرکے انہیں اسلامی اقدار سے واقف کروایا جانا لازمی ہے،اطلاعات کے مطابق جولائی کے اوائل سے اب تک تلنگانہ میں 50 سےزائدمسلم لڑکیوں نے غیرمسلم لڑکوں سے اسپیشل میریج ایکٹ کے تحت شادی کی ہے،جبکہ 100 سے زائد مسلم لڑکوں نے غیرمسلم نوجوانوں سے شادی کی ہے،اس طرح کی شادیوں میں اضافے پر ذمہ داران ملت،علمائے کرام، زعمائے ملت اورسرکردہ شخصیات کوفوری توجہ دیتے ہوئے مہم چلانے کی ضرورت ہے،ہندوستانی قوانین کے اعتبار سے اسپیشل میریج ایکٹ کے تحت کوئی بھی بالغ لڑکا یا لڑکی اپنی مرضی سے کسی کے ساتھ بھی شادی کرسکتے ہیں،معاشرے میں اس کے تحت شادیوں کی حوصلہ افزائی کے رجحان نے متوسط اورغریب طبقے۔والوں میں بھی اس لعنت کو بڑھاوا دینا شروع کردیا ہے۔سیاستدان حضرات جوان قوانین کے تحت شادیوں پر اعتراض سے بھی گریز کررہے ہیں،انہیں کم از کم اپنے علماء و ذمہ داروں کو اس معاملے میں سنجیدگی سے اقدامات اور شعوربیداری کے لئے آمادہ کرنا چاہیے،کیونکہ وہ اپنی سیکولر اورمذہبی شناخت کے درمیان سیاسی مجبوری کا شکار ہوسکتے ہیں اورشادیوں پر اعتراض یا اس کی مخالفت نہیں کرسکتے لیکن امت کے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں میں شعور اجاگر کرنے مہم تو چلا سکتے ہیں،اس کے لئے علماء و زعمائے امت کے علاوہ ذمہ دارانہ ملت کو ذمہ داری تفویض کرکے ان کے ذریعے معاشرتی بگاڑ کے اسباب کی نشاندہی اور ان کے خاتمے کی تاکید کو یقینی بنا کرشادیوں اوربے جا رسومات کے ساتھ جہیز کی لعنت کے خاتمے پر زور دے سکتے ہیں اور اسطرح سماج کو ایک مثالی سماج بنایا جاسکتا ہے۔
معاشرے کی ان لعنتوں کوختم کرنے کے لئے محض زبانی جمع خرچ سے کچھ ہونے والا نہیں ہے،اصلاح معاشرہ کے لئے ایک منظم اور باضابطہ مہم چلائی جانے کی ضرورت ہے،سماج کے ذمہ داروں کوسیاسی قائدین کو مذہبی شخصیتوں کوخانقاہوں میں بیٹھے ہوئے مشائخین کو،مدارس میں تعلیم دینے والے علمائے کرام کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنے کی ضرورت ہے،بحیثیت مجموعی سماج سبھی طبقات اور گوشوں پرمشتمل ہوتا ہے،اس لیے برائی کو محض برائی سمجھ کرخاموش بیٹھنا اس کا حل بالکل نہیں ہوسکتا بلکہ ہرطبقے اور ہر گوشے کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے برائیوں کے خاتمے کے لئے آگے آنا چاہیے،سماج میں اورخاص طورپرنوجوانوں میں اصلاح معاشرہ کی مہم چلانے کی ضرورت ہے،جب تک سماج کے تمام گوشے اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کریں گے اور ان برائیوں کے خلاف اپنا کردار ادا کرنے کے لیے آگے نہیں آئیں گے،ہمارا سماج اورمعاشرہ اسی طرح کی لعنتوں کا شکارہوتا رہے گا،ہماری جڑیں کھوکھلی ہوتی رہیں گی اور اس کے لیے ہم سب برابر کے ذمہ دار ہوں گے۔شہرمیں پیش آرہی قتل وغارت گری کی وارداتیں اورمختلف واقعات انتہائی سنگین ہیں،اس کے جواثرات متاثرہ خاندانوں،پاس پڑوس،بستیوں،محلے اور سارے معاشرے پرمرتب ہوتے ہیں،اس جانب توجہ بہت کم دکھائی دے رہی ہے،ہمیں جاگنے کی ضرورت ہےقبل اس کے کہ تاخیرہوجائے،اب بھی کافی تاخیرہو چکی ہے اورحالات قابو سے باہر ہوجانے سے پہلے سماج کے تمام ذمہ دار طبقات کوحرکت میں آنے کی ضرورت ہے،ہمیں یہ سمجھناہوگا کہ ان واقعات کے سدباب اور اسکی روک تھام،سماج کے ہرذمہ دار طبقہ اورہرشہری کی ذمہ داری ہے۔کیاہم اپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں؟ بقول شاعر
آپ کس سمت سے نکلیں گے بچا کے دامن
حادثے راہ میں ملتے ہیں فقیروں کی طرح
(مضمون نگارمعروف صحافی اورکل ہندمعاشرہ بچاؤ تحریک کے جنرل سکریٹری ہیں)
sarfarazahmedqasmi@gmail.com