پانی کی قدر کیجیے قبل اس کے کہ دیر ہو جائے
____
✍🏻محمد عادل ارریاوی
____
پانی اللہ ربّ العزت کی ایک عظیم قدرتی نعمت ہے جو انسانی زندگی کے لئے سانس کی اہمیت رکھتا ہے جس طرح سانس کے بنا ہم زندگی کا تصور نہیں کرسکتے ہوبہو پانی کے بنا بھی زندگی کے وجود کا تصور کیا جانا محال ہے ہم سب جانتے ہیں کہ آب زمزم سے جڑی ایسی ہی ایک کہانی ہے جو ایک بیٹے کے پیاس کی شدت میں ایک ماں کی تڑپ کو دیکھ کر قادر مطلق نے اس عظیم نعمت سے انسانیت کوسرشارکیا ہے پانی خواہ میلا ہو یا صاف دونوں کی اپنی اہمیت ہے اور دونوں کے طریقئہ استعمال جدا ہیں صاف پانی کو جہاں ہم نہانے دھونے اچھی صحت کو برقرار رکھنے اور پیاس کی آگ کو بجھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں وہیں میلے پانی کو بھی کھیتوں کی سینچائی فصلوں کی پیداوار اور باغبانی وغیرہ میں استعمال کرتے پانی کے بہت سے ذرائع ہیں ان میں سے سب سے اہم ذریعہ زمین کی سطح میں پانی کا ہونا ہے جہاں آسانی سے پائپ لگا کر اسے حاصل کیا جاتا ہے پتھریلی اورپہاڑی علاقوں میں جہاں پانی کی سطح بہت نیچی ہے اور اس کی تہ تک پہونچنا نہایت مشکل کام ہوتا ہے وہاں کے باشندے بڑے تالاب اور کنوؤں کی شکل میں بارش کے پانی کو ذخیرہ اندوز کرتے ہیں اور اسے پورا سال فیلٹر کرکے کھانے پینے سے لے کر دیگر ضروریات میں استعمال کرتے ہیں اور جہاں زیادہ آلودگی ہونے کی صورت میں پائپ سے نکلنے والے پانی میں کسی طرح کے جراثیم کا وجود تسلیم کیا جاتا ہے یا آئرن اور سوڈیم وافر مقدار میں پائی جاتی ہے وہاں حکومت ٹینکوں میں پینے کا پانی دستیاب کراتی ہے جوفردی معیار کے حساب سے ضروریات میں استعمال کیا جاتا ہے یا پرائیوٹ کمپنیاں اس میلے اور جراثیم شدہ پانی کو صاف ستھرا بنا کر عوام تک فروخت کرتیں ہیں
پانی دراصل قدرت کی بہت بڑی نعمت ہے اتنی بڑی کہ اگر کسی کو سخت پیاس لگی ہوئی ہو اور اسے پانی نہ ملے تو وہ سخت بے چین اور پریشان ہو جائے اور اسے ایک گلاس پانی کو حاصل کرنے کے لیے اپنی بیش بہا قیمتی دولت کیوں نہ دینی پڑے تو وہ اس کے لیے بھی تیار و آمادہ ہو جائے پھر بھی پانی میسر نہ آئے تو سسک سسک اور بلک بلک کر جان دے دے اگر جسم کا پانی خشک ہو جائے اور فوری طور پر پانی میسر نہ آئے تو انسان کی زندگی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔
آج زندگی کے مختلف شعبوں میں پانی کی اہمیت و ضرورت کا احساس بہت زیادہ بڑھ گیا ہے خواه ان شعبوں کا تعلق انسان کی انفرادی اور نجی زندگی سے ہو یا اجتماعی زندگی سے ہو چنانچہ فصل و پیداوار کے لیے پانی لازمی اور ضروری چیز ہے اسی طرح سستی بجلی کی پیداوار کے لیے بھی پانی کی بڑی اہمیت ہے غرضیکہ پانی انسانی بلکہ حیوانی زندگی اور اس کی بقا کا لازمی جز و حصہ ہے اور معمولات زندگی کو جاری رکھنے کے لیے پانی کی ضرورت واہمیت ایک مسلمہ مسئلہ ہے اس لیے انسانوں پر لازم ہے کہ وہ پانی کی قدر و قیمت کا احساس اور اس نعمت پر شکر کا اظہار کریں۔
مگر بد قسمتی سے ایک عرصہ سے دیکھنے میں آرہا ہے کہ پانی کی نعمت کا مختلف شکلوں میں ضیاع بڑھ گیا ہے خاص طور پر جب سے پانی حاصل کرنے کے لیے جسمانی مشقت کا سلسلہ کم یا ختم ہوا اور ڈول یا دستی نلکے وغیرہ کے بجائے بجلی کی مشینوں وغیرہ سے برق رفتاری کے ساتھ پانی حاصل کرنے اور ذخیرہ اندوزی کر کے رکھنے اور ٹونٹیوں کے ذریعے بآسانی تیز رفتاری کے ساتھ استعمال کرنے کا سلسلہ شروع ہوا اس وقت سے پانی کے ضیاع میں غیر معمولی اضافہ ہو گیا ہے پہلے زمانہ میں جہاں پانی کے ایک لوٹے سے ضرورت پوری ہو جاتی تھی اب اس ضرورت کے لیے بھری ہوئی بالٹیوں اور گھڑوں کی مقدار بھی پوری نہیں ہوتی چنانچہ پہلے زمانے میں نہانے کے لیے ایک گھڑے یا بالٹی سے ضرورت پوری کر لی جاتی تھی لیکن اگر اب کسی ایسے شخص کو ایک بالٹی یا گھڑے کے پانی سے نہانے کا کہا جائے کہ جو موجودہ ٹینکی اور ٹونٹی سے نہانے کا عادی ہو بلکہ اگر اس نے اسی ماحول میں آنکھ کھولی ہو تو اس کے لیے اتنی مقدار پانی سے نہانا مشکل ہو جائے گا۔
اس طرح مختلف صورتوں اور شکلوں میں پانی کے غیر ضروری استعمال اور ضیاع کے نتیجے میں آج بہت سے علاقوں میں لوگوں کو پانی کی قلت کا سامنا ہے اور آہستہ آہستہ زمین کے اندر موجود پانی کی سطح نیچے ہوتی جارہی ہے جس کے نتیجے میں کنویں اور بورنگ وغیرہ خشک ہو رہے ہیں دریا بھی پانی کی قلت سے دوچار ہیں اور تقریبا ہر سطح پر پانی کی قلت کا رونا رویا جارہا ہے اور پانی کے حصول وغیرہ کے لیے مختلف تدبیریں اور کوششیں کی جارہی ہیں حتی کہ یہاں تک کہا جا رہا ہے کہ آیندہ کئی ملکوں کی جنگیں بھی پانی کے حصول کے لیے ہی ہوں گی مگر پانی کے ضیاع اور بے جا استعمال کے مسئلے پر قابو پانے کی عوامی اور عمومی سطح پر کوششیں نہیں کی جار ہیں جو اس پریشانی کا سب سے بڑا سبب ہے۔
لہذا ہم سب کو پانی کی قدر و قیمت کا احساس پیدا اور شعور اجاگر کر کے پانی کے ضیاع سے بچنا چاہیے پانی کو ضیاع سے بچانا دراصل اپنے مستقبل کو اندھیروں سے محفوظ رکھنے اور اپنی نسل کو پیاس اور ضروریات زندگی کی محرومی اور جنگوں کے خطرات سے بچانے کے مترادف ہے۔
مگر المیہ یہ ہے کہ جس نعمت کے بغیر زندگی کا تصور ناممکن ہے اسی نعمت کو ہم سب سے زیادہ بے قدری سے استعمال کر رہے ہیں۔ ہماری کھلی ہوئی ٹونٹیاں بے مقصد بہتا ہوا پانی اور ضرورت سے بڑھ کر استعمال اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے شکر کی جگہ اسراف کو اپنا لیا ہے۔ حالانکہ اسراف صرف مال میں نہیں نعمتوں میں بھی ہوتا ہے اور پانی اس کی سب سے واضح مثال ہے۔
آج زمین خاموشی سے ہمیں خبردار کر رہی ہے۔ زیرِ زمین پانی مسلسل نیچے جا رہا ہے دریا اپنی روانی کھو رہے ہیں کنویں خشک ہو رہے ہیں اور کئی بستیاں ایک ایک بالٹی پانی کے لیے پریشان ہیں۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو آنے والی نسلیں ہمیں ترقی یافتہ نہیں بلکہ اپنی نعمتیں ضائع کرنے والی نسل کے نام سے یاد کریں گی۔
اللہ ربّ العزت ہمیں پانی کی قدر داں بنائے آمین یارب العالمین