ہمارا ملک ہندوستان کئی جہتوں سے خوش قسمت ملک ہے ، یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے ، اس ملک کو آزاد ہوئے ساٹھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے ، اس طویل عرصہ میں سوائے سال دو سال کی ایمرجنسی کے کبھی جمہوریت کا اغوا نہیں کیا جاسکا ، جیساکہ پڑوسی ملکوں میں آمرانہ طاقتیں کرتی رہتی ہیں ، کثیر مذہبی ، کثیر تہذیبی ، کثیر نسلی اور کثیر لسانی ملک ہونے کے اعتبار سے اس کا شمار دنیا کے دو تین گنے چنے ملکوں میں سے ہے ، اس وقت اس کی ایک امتیازی حیثیت افرادی صلاحیت اور ہنر مند کارکنوں کی فراوانی ہے ؛ چنانچہ ابھی مشرق بعید سے لے کر امریکہ تک پوری دنیا میں ہندوستان کے سائنسداں ، با صلاحیت ہنر مند اور فرض شناس مزدور پھیلے ہوئے ہیں ، خلیجی اورمغربی ملکوں میں تو یہ حال ہے کہ بہت سے ملکوں کی معاشی ، صنعتی اورتجارتی ترقی ہندوستان اور ہندوستانی نژاد افراد پر موقوف ہے ۔
مغربی ممالک میں وہاں کے معیارِ زندگی کے لحاظ سے تنخواہوں کا اوسط ہندوستان سے بہت زیادہ ہے اور وہاں کے لبیر قوانین میں مزدوروں کے لئے تحفظ کی بھی زیادہ رعایت ہے ؛ اس لئے یہ مختلف ممالک خاص کر امریکہ ہندوستان کے بڑے شہروں میں ’’کال سنٹرس‘‘ کھول رہے ہیں ، جہاں انکوائری کی اور مختلف دوسرے دفتری کاموں کی سہولت فراہم کی جاتی ہے ، ان سنٹرس سے امریکہ و یورپ میں مقیم گاہکوں کو اس طرح جوابات دیئے جاتے ہیں کہ گویا یہ سہولت امریکہ ہی سے فراہم کی جارہی ہے ، مغرب میں چوںکہ عورتوں کو کسب ِمعاش کی کوششوں میں مردوں کے برابر لانے کا سلسلہ جاری ہے ، نیز مہمانوں سے گفتگو اور استقبال کی ملازمتیں تو گویا خواتین ہی کے لئے مخصوص ہیں ؛ اس لئے ان سنٹروں میں نوجوان لڑکوں کے ساتھ ساتھ کثرت سے نوجوان لڑکیوں کا بھی تقرر ہورہا ہے اور پرکشش تنخواہیں دی جارہی ہیں ، ہندوستان میں ایسے کاموں کے لئے دس بارہ ہزار روپے ماہانہ کی تنخواہ بہت معیاری تصور کی جاتی ہے ؛ لیکن امریکہ و یورپ کے اعتبار سے یہ بہت ہی معمولی اور حقیر ہے ، ایک ہزار ڈالر پربھی شاید امریکہ میں کوئی شخص اس ڈیوٹی کو انجام دینے کے لئے تیار نہیں ہوگا اور کرنسی کی قدر میں فرق کی وجہ سے یہاں ڈھائی تین سود ڈالر لوگوں کے لئے خوش کن تنخواہ بن جاتی ہے ؛ اس لئے اس میں دونوں فریق کا فائدہ ہے ۔
بہر حال ہندوستان میں پڑھے لکھے بے روز گار نوجوانوں کے لئے یقیناً یہ ایک بڑی نعمت ہے اور اس سے روز گار کے وسیع مواقع پیدا ہورہے ہیں ؛ لیکن ضروری ہے کہ ہم اس مسئلہ پر اخلاقی اقدار اور اسلامی اُصولوں کی روشنی میں بھی غور کریں ، اس جہت سے تین باتیں قابلِ توجہ ہیں :
پہلی بات یہ ہے کہ شریعت میں وسائل کا وہی حکم ہوتا ہے ، جو مقاصد کا ہوتا ہے ، اگر مقصد واجب کے درجہ کا ہے ، تو اس کے لئے مطلوب وسائل بھی واجب ہوں گے ، اور مقصود شرعاً ناجائز وحرام ہے تو اس کے لئے جس وسیلہ کو اختیار کیا جائے ، وہ بھی حرام ہی ہوگا ، بذات خود مسجد جانا واجب نہیں ہے ؛ لیکن جماعت میں شریک ہونا واجب ہے ؛ اس لئے اس مقصد کے تحت مسجد تک جانا بھی واجب ہوگا ، بازار جانا گناہ نہیں ہے ؛ لیکن شراب پینا گناہ ہے ؛ اس لئے اس نیت سے گھر سے بازار تک کا فاصلہ طے کرنا بھی ناجائز و حرام ہے ، اسی بناء پر قرآن نے برّو تقویٰ میں تعاون کا حکم دیا ہے اور معصیت اور ظلم و زیادتی میں تعاون سے روکا ہے :
وَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الْبرِّ وَ التَّقْوَیٰ وَ لاَ تَعَاوَنُوْا عَلَی الإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۔ (المائدۃ : ۲)
لہٰذا جب آدمی کسی کمپنی کے لئے کام کرے تو اسے اس بات کو بھی ملحوظ رکھنا ہوگا کہ اس کمپنی کا کاروبار بنیادی طور پر حلال و جائز ہو ، جس کمپنی کا بنیادی کاروبار ہی ناجائز ہو ، جیسے شراب بنانے یا بیچنے والی کمپنی ، بینک ، انشورنس کمپنی ، فحش لٹریچر چھاپنے والی کمپنی ، تمباکو اور اس کی مصنوعات کو فروغ دینے والی کمپنی ، اسٹیچو بنانے والی کمپنیاں ، جن کا استعمال مغربی قوتیں ظلم وزیادتی اور دہشت گردی کے لئے کرتی ہیں ، وہ بے شمار انسانوں اور جانوروں کو ہلاک کرنے والے ہتھیار بناتی ہیں اور انھیں مجرمانہ طریقے پر استعمال کرتی ہیں ، غیر شرعی ذبیحہ فراہم کرنے والی کمپنیاں ، حرام مصنوعات بنانے والی کمپنیاں ، ایسی کمپنیوں میں مسلمانوں کے لئے ملازمت کرنا جائز نہیں ہے ؛ کیوںکہ یہ گناہ اور معصیت میں تعاون ہے ، ایسی کمپنیوں کے کال سنٹرس میں نہ لڑکوں کے لئے ملازمت جائز ہے اور نہ لڑکیوں کے لئے ۔
دوسرا قابلِ توجہ پہلو یہ ہے کہ ان سنٹرس میں لوگوں کے نام بھی تبدیل کئے جاتے ہیں ، اور انھیں یہودیوں اور عیسائیوں کے مماثل نام دئے جاتے ہیں ؛ تاکہ گفتگو کرنے والے کو یہ احساس نہ ہو کہ ہندوستان یا کسی اور ملک کا شخص اس سے گفتگو کررہا ہے ، اول تو نام ایسا ہونا چاہئے ، جس سے مسلمانوں کی شناخت ظاہر ہو ، رسول اللہ ﷺ نے ایسے ہی نام رکھنے کا حکم دیا ہے ، تاہم اگر کمپنی کی طرف سے نام بدلنے پر اصرار ہو تو چوںکہ ایک شخص کے ایک سے زیادہ نام ہوسکتے ہیں ؛ اس لئے ملازمت کے اوقات میں کوئی اور نام اپنی شناخت کے اظہار کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ؛ لیکن اس صورت میں بھی مناسب ہوگا کہ انبیاء بنی اسرائیل جیسے اسحاق ، یعقوب ، داؤد ، سلیمان وغیرہ جیسے نام منتخب کئے جائیں ؛ کیوںکہ انبیاء کے نام پر نام رکھنا مسنون ہے ، اور اگر یہ بھی نہ ہو توکم سے کم ایسا نام تو ہو کہ جس میں مشرکانہ معنی نہ پائے جاتے ہوں ، ایسے ناموں کا رکھنا جن سے شرک کا اظہار ہوتا ہو ، بہر حال جائز نہیں ہے ۔
تیسری قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ عام طور پر یہ کال سنٹرس امریکہ وغیرہ کے دن کے اوقات کی رعایت سے شب کے وقت کام کرتے ہیں ، ٹیکسیاں شہر کے مختلف محلوں سے لڑکوں اور لڑکیوں کو لے کر سنٹرس جاتی ہیں اور بعض اوقات تو ان کی ڈیوٹی پوری پوری رات ہوتی ہے ، یہاں بھی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں بہت سی دفعہ تنہا وقت گزارتے ہیں ، رات کا وقت اور تنہائی کا یہ ماحول جن اخلاقی برائیوں کو جنم دے گا اور جنم دے رہا ہے ، وہ محتاجِ اظہار نہیں ؛ اسی لئے اسلام میں اجنبی مرد و عورت کی تنہائی کو انتہائی ناپسند کیا گیا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ :
کوئی مرد کسی عورت کے پاس اس حال میں داخل نہ ہو کہ اس کے ساتھ اس کا محرم رشتہ دار موجود نہ ہو ۔ (طبرانی عن ابن عباس ؓ،مجمع الزوائد : ۴؍۳۳۶)
حضرت ابو امامہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انھیں نصیحت فرمائی کہ :
عورتوں کے ساتھ تنہائی اختیار کرنے سے بچو ، جب بھی کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی اختیار کرتا ہے ، تو شیطان ان دونوں کے درمیان داخل ہوجاتا ہے ، یہ بات کہ کوئی شخص مٹی اور کیچڑ سے لت پت خنزیر کے ساتھ جمع ہو ، اس سے بہتر ہے کہ ایک مرد کسی غیر محرم عورت کے کاندھے سے اپنے کاندھے کو ملائے ۔(طبرانی عن ابی أمامۃؓ ، حوالۂ سابق )
حضرت معقل بن یسار ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ :
یہ بات کہ تم میں سے کسی کے سر میں لوہے سے چوٹ پہنچائی جائے ، اس سے بہتر ہے کہ وہ ایسی عورت کو ہاتھ لگائے جو اس کے لئے حلال نہ ہو ۔ (طبرانی عن معقل بن یسارؓ ، حوالۂ سابق)
رسول اللہ ﷺ کے ان ارشادات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں غیر محرموں کے ساتھ تنہائی ، ان کے ساتھ اختلاط ، ان سے ہاتھ ملانا ، ان سے ضرورتِ شدیدہ کے بغیر گفتگو کرنا اور گفتگو میں عورت کا لوچ دار رویہ اختیار کرنا کسی قدر بری بات ہے ؛ کیوںکہ یہ ساری چیزیں انسان کو گناہ کی طرف لے جاتی ہیں ۔
مغربی معاشرہ کے لئے یہ کوئی قابل فکر مسئلہ نہیں ہے ؛ اس لئے کہ انھوں نے اپنے آپ کو مذہبی اور اخلاقی قدروں سے پوری طرح آزاد کرلیا ہے ؛ اس لئے ان کے لئے ان مسائل کی کوئی اہمیت نہیں ہے ، فارسی زبان کا مشہور مقولہ ہے کہ ’’ جب آدمی حیا کی چادر اُتار پھینکے ، تو پھر اس کے لئے کس چیز کی اہمیت باقی نہیں رہتی ، وہ سب کچھ کرسکتا ہے ‘‘ ، مغرب اس وقت اسی دور سے گزر رہا ہے ، اس نے اخلاقی قدروں کو تار تار کرکے رکھ دیا ہے ، پانی اورکھانے کی بھی کچھ قیمت ہوتی ہے ؛ لیکن مغربی تہذیب کی نظر میں مذہب و اخلاق کی کچھ بھی قیمت نہیں ہے ، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے قریب بے حیائی کا اتنا غلبہ ہوجائے گا کہ لوگ راستہ سے گزرتی ہوئی عورت کو برسرِ عام اپنی ہوس کا نشانہ بنائیں گے ، اس وقت جو شخص یہ کہے گا کہ کم سے کم دیوار کے پیچھے تو چلے جاؤ ، تو وہ ابو بکر ؓ و عمر ؓ کے درجہ کے لوگ ہوںگے ، شاید وہ وقت مغرب میں آچکا ہے یا آنے کو ہے ؛ اس لئے ان کے نزدیک اجنبی مرد وعورت کا اختلاط ، بے پردگی اور تلذذ میں تمام حدود کو پار کرجانا معمولی سی بات ہے ، مغرب اسی تہذیب کو مشرقی ملکوں پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور اسلام اورمسلمانوںسے اس کی عداوت کا اصل سبب یہی ہے کہ مسلمانوں نے اب تک ایسے بے خدا تمدن اور بے حیا تہذیب کے سامنے سپر نہیں ڈالا ہے ۔
حقیقت میں یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے ؛ بلکہ پورے ہندوستانی معاشرہ کا ہے ، ہندوستانی سماج بنیادی طور پر ایسا سماج ہے ، جو مذہب پر یقین رکھتا ہے ، ہندو تہذیب میں بھی پردہ کا تصور رہا ہے ، اجنبی مرد وں اور عورتوں کے اختلاط کو بری نظر سے دیکھا گیا ہے اور عورتوں کی عفت وعصمت کو تقدس کی نظر سے دیکھا جاتا ہے ، ہندو روایات کے مطابق سیتاجی کو ان کے دیور لکشمن جی پہچان نہیں سکے ؛ کیوںکہ انھوں نے کبھی اپنی بھاوج کا چہرہ دیکھا تک نہیں تھا اوررام جی نے راون کو شکست دینے کے بعد اپنی بیوی سیتاجی کو اسی وقت قبول کیا ، جب کہ ان کی عفت و پاکدامنی کا امتحان کرلیا ، ان واقعات کو ہندو قوم اُسوۂ و نمونہ کی نظر سے دیکھتی ہے ، عیسائیوں کے یہاں راہبات کا لباس آج بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ سوائے چہرہ کے ان کا پورا جسم چھپاہوتا ہے ؛ اس لئے یہ ایسی اخلاقی قدریں ہیں ، جو تمام مذاہب کے درمیان مشترک و مسلّم ہیں ؛ اس لئے یہ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ، ہمارے پورے سماج کا مسئلہ ہے ۔
بد قسمتی سے ہماری حکومت معاشی فوائد کے حصول کے لئے پوری طرح مغربی حکومتوں کے مطالبات کو قبول کرتی جارہی ہے ، غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ خصوصی سہولتیں اور رعایتوں کا معاملہ کیا جارہا ہے ؛ حالاںکہ وہ کثیر منافع حاصل کررہی ہیں، ایسی ہی کوششوں کا ایک حصہ یہ ہے کہ خواتین کے لئے رات کی ڈیوٹی پر جو پابندی تھی ، اسے ختم کردیا گیا ہے ، یہ عورتوں کے ساتھ کھلی ہوئی زیادتی اور ناانصافی ہے ، اس سے نہ صرف ان کا جنسی استحصال ہوگا ؛ بلکہ یہ ان کی صحت اور ان سے متعلق گھریلو ذمہ داریوں کے لئے بھی نقصان کا باعث ہوگا ؛ اس لئے لڑکیوں کو تو یہ ملازمت خاص کر رات کی ڈیوٹی بالکل ہی قبول نہیں کرنی چاہئے اور لڑکوں کے لئے بھی اس سے بچنا بہتر ہے ؛ البتہ اگر اس کے سوا کوئی مناسب راستہ موجود نہیں ہو تو احتیاط کے ساتھ اور اپنے دامنِ عمل کو آلائش سے بچاتے ہوئے ان ملازمتوں سے فائدہ اُٹھانے کی گنجائش ہے ۔
بہر حال کال سنٹرس کی ملازمتوں کو روز گار کا ایک نیا راستہ تصور کیا جارہا ہے اور یقیناً اس سے بہت سے لوگوں کو معاشی فوائد پہنچ رہے ہیں ؛ لیکن اس کے اخلاقی اور دینی نقصانات معاشی فوائدسے بڑھ کر ہیں ؛ اس لئے اس میں بڑی احتیاط کی ضرورت ہے !