یہ جو تم ہر وقت ہاتھوں میں آئینہ لیے پھرتے ہو، لوگوں کو ہر وقت جانچتے رہتے ہو کہ کس میں کیا برائی ہے ، کون مسلمان کہلانے کے لائق ہے اور کون نہیں، کون شریعت پر عمل کررہا ہے اور کون کافر کہلانے کے لائق ہے۔ تم کیوں لوگوں میں حق و ایمان تلاشتے ہو؟ تمہیں آخر کس نے یہ حق دیا ہے کہ تم فیصلے کرو کہ کون حق پر ہے اور کون نہیں۔ تم لوگوں کو صِرابط مستقیم پر چلنے کی دعوت تو دے سکتے ہو لیکن تم جنت اور دوزخ کے سرٹیفکیٹ نہیں بانٹ سکتے۔ تم خود پہلے اپنا احتساب کرو، خود اپنے اعمال کا جائزہ لو، لوگوں کے اعمال میں سیاہیاںتلاش کرنے کا حق تم کو ہر گز حاصل نہیں ہے۔ اکثر لوگ بہت آسانی سے سوچے سمجھے بغیر کسی کو بھی فاسق، فاجر اور منافق ٹھہرا دیتے ہیں بجائے اس کے کہ ہم ہر لمحہ اپنا محاسبہ کریں، رات دن ہمارا بس ا یک ہی کام رہ گیا ہے کہ دوسروں کو گناہ گار ٹھہرانے میں لگے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سب فیصلے کرنے والا ہے، فیصلے کرنے کا اختیار ہمارا نہیں ہے۔ ہم سب اس جہاں میں امتحان دینے کے لیے آئے ہیں، ہمیں صرف اپنے اعمال پر نظر رکھنی چاہئیے۔ لوگوں میں خامیاں نکالنا ، عیب جوئی کرنا، غیبت کرنا ، کیا یہ سب گناہ نہیں ہیں۔ ہم اپنے لیے وکیل تلاش کرتے ہیں یا خود ہی وکیل بن جاتے ہیں اپنی خامیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے نئے نئے جواز تلاش کرتے ہیں ، ہر حد تک ہم اپنا دفاع چاہتے ہیں اور دوسروں کو گناہ گار ٹھہرانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگادیتے ہیں ہم اپنے آپ کومنصف سمجھتے ہیں کہ چاہیں تو کسی کو جنت کا حقدار ٹھہرادیں اور چاہیں تو دوزخ کی راہ دکھادیں۔ ہم خود احتسابی سے خوف کھاتے ہیں۔ ہر انسان خوبیوں اور خامیوں کا منبع ہے ہر انسان سے غلطی ہوسکتی ہے ہم سب انسان ہیں فرشتے نہیں ہیں۔ ہمارا سارا وقت دوسروں کو آئینہ دکھانے میں گزر جاتا ہے، ہماری ساری توانائیاں دوسروں میں خامیوں کی تلاش میں صرف ہوجاتی ہیں لیکن ہمارا یہ ایک بڑا المیہ ہے کہ وہ آئینہ جو ہم دوسروں کے لیے ، لیے پھرتے ہیں اُس آئینے میں خود اپنا عکس دیکھنے سے کتراتے ہیں، ہم اپنی خامیوں سے نظریں چُراتے ہیں اور اپنی غلطیوں کو بھی تسلیم کرنے کے لیے کبھی بھی تیار نہیں ہوتے، اس لیے کہ ہم بہت خود پرست ہیں، ہم اس خودفریبی میں گرفتار رہتے ہیں کہ ہم میں کوئی بھی عیب نہیں ہے ہم جو ہر وقت ہاتھوں میں آئینہ لیے پھرتے ہیں اس سے معاشرے میں کوئی بھی مثبت تبدیلی نہیں آسکتی۔ معاشرے کو صراطِ مستقیم پر چلانے کے لیے ہمیں سب سے پہلے اپنی اصلاح کرنی ہوگی، آئینے میں پہلے خود کی صورت دیکھنی ہوگی ، اپنا احتساب کرنا ہوگا، اپنے منفی طرزِ عمل کو بدلنا ہوگا جب تک ہم اپنے سوچنے کے انداز کو نہیں بدلیں گے اُس وقت تک نہ ہی ہم خود ڈھنگ سے زندگی گزارنے کے لائق ہوں گے اور نہ ہی معاشرے کے لیے کار آمد ثابت ہوں گے۔ اخلاقیات ہمارے نزدیک صرف ایک لفظ بن کر رہ گیا ہے۔ ہم صرف دوسروں کو دوش دیتے ہیں اور خود اخلاقیات سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ جب ہم کسی کی نفرت اور حسد میں عوام الناس کے سامنے کسی کی تذلیل کرتے ہیں اُس پر کیچڑ اُچھالتے ہیںتو اس کا مطلب ہے کہ ہم ایک ایسا معاشرہ ترتیب دینے کی کوشش کررہے ہیں جہاں افراتفری ہو، باہمی اعتماد کی فضا کے بجائے عداوت ہو۔ امن و آتشی کے پھول وہیں کھِلتے ہیں جہاں سب لوگ اپنا احتساب کریں۔ معاشرے کو بدلنے کی کوشش کرنے سے پہلے اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کریں اپنے گریبان میں جھانکیں، اپنی غلطیاں تلاش کریں، لوگوں کو جس نظر سے دیکھتے ہیں اُسی نظر سے خود کو دیکھنے کی کوشش کریں، لوگوں کی عزتیں اُچھالنے سے کسی کو بھی معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل نہیں ہوسکا ہے۔ ہاتھوں میں ہر وقت دوسروں کے لیے آئینہ لیے پھرنے والے لوگ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ آئینے تو اُن کے پاس بھی ہوسکتے ہیں۔ آئینے تو ہر ہاتھ میں ہوسکتے ہیں وہ تمام آئینے توڑ دیجیئے جس میں صرف دوسروں کا کِردار دکھائی دیتا ہو، خود کے لیے بھی کوئی آئینہ رکھئیے ، خود کے لیے بھی کوئی آئینہ رکھئیے۔