استا د محترم حضرت مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن ندوی رحمہ اللہ
شاگردنامہ
ازقلم:مفتی سیدآصف الدین ندوی قاسمی پی ایچ ڈی اسکالر
بانی انسٹی ٹیوٹ آف عربک حیدرآباد
۸ اکٹوبر ۲۰۲۶ کو حضرت الاستاذ مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن ندوی رحمہ اللہ تعالی اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔حضرت مولا ناکی۹۱ سالہ کامیاب زندگی کے مختلف تابناک پہلو مضامین کی شکل میں نہیں بلکہ کتابوںکے صورت میں ان شاء اللہ آپ کے شاگردوںکے قلم کے ذریعہ سامنے آئیں گے۔راقم الحروف کے زمانہ طالب علمی دو سال ۱۹۹۸۔۱۹۹۹ عیسوی میں سے عالمیت کے آخری سال عالیہ رابعہ شریعہ میں سکشن الف میں حضرت مولانا سے عربی انشاء پڑھنے کی توفیق ملی۔سیکھنے والوں کے لئےآپ کا گھنٹہ سنہری موقعہ تھا، اور سست طلبہ کےلئے ہر دن قیامت سے کم نہیں تھا،آپ کی شاگردگی کا ملنا ایک قابل اعزاز نعمت سے کم نہیں۔الحمد للہ بہت فائدہ ہوا اس گھنٹہ سے اور بہت کچھ سیکھنے ، سمجھنے ، جاننے کا کے مواقع ملے۔
دوسرا واقعہ یہ کہ ہر جمعرات النادی یعنی عربی زبان میںتقریر کرنا ہوتا تو الحمد آپ کی موجودگی میں عربی زبان میں تقریر کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی،میرے ہم درس ساتھیوں میں مولانا فرمان ندوی نیپالی ،مولانا محمد نفیس خان ندوی،مولانا محمد علی ندوی،(موجودہ اساتذہ ندوہ ) مولانا اسعد ندوی ، مولانا عنایت اللہ وانی کشمیری ، مولانا صہیب ندوی ، مولانا عمار انس فلاحی ندوی ،مولانا ملک عنایت ندوی حیدرآبادی وغیرہ وغیرہ ہیں جن کے ساتھ مقابلہ رہتا تھا اور واقعہ یہ ہے کہ سیکھنے کا ایک شوق تھا او راس پر آپ کی نگرانی وسرپرستی سونے پر سہاگہ تھی ، آج بھی یا دہے کہ حضرت الاستاذ نے ایک جمعرات کو تقریر کے بعد دعا دی کہ لا فض فوک کہ تمہارےدانت نہ ٹوٹیں۔جس ضرب المثل کا مطلب ہوتا ہےکہ آپ اسی طرح فصاحت وحکمت سے گفتگوکرتے رہیں۔یہ دعا راقم الحروف کے لئے بہت بڑا سرمایہ ہے۔
تیسری خاص بات یہ کہ حضرت مولانا نے بندہ کی کتاب” آسان سیرت النبی ﷺ "پر ایک تفصیلی اور شاندار تقریظ عنایت فرمائی جو کتاب کا حصہ ہے۔الحمد للہ ۔آگے کا جو مضمون ہے وہ دار العلوم ندوۃ العلمائ کی طالب علمی کی یادگار ہے۔
لکھنؤ کی سرزمین علم وادب کی آبیاری میں ماضی سے یکتا ومنفرد رہی ہے، اور اس نے ہمیشہ اہل علم اور اصحاب کمال کو پالا اور پیش کیا ہے۔ ماضی میں کئی ایک نامور مصنف ومؤلف اور مایہ ناز انشاء پرداز اور بلند پایہ مفکر و مورخ اور دیدہ ور نقاد محقق لکھنؤ کی علم پروری اور ادب دوستی کی دلیل بنے ہیں، اور ایسی ایسی تاریخ ساز اور مردم خیز ہستیاں ابھری ہیں کہ دنیا دنگ ہے، اور ان کے علم وادب، مہارت وکمال، اور صلاحیت و صلاحیّت کی معترف ومدّاح ہے، اور ندوۃ العلماء لکھنؤ نے بھی اس کے طرّہ امتیاز اور شانِ انفرادیت کو ضیاء بخشی، اور اس کی شہرت و مقبولیت کو چار چاند لگائے ، اپنی خداداد صلاحیتوں، اور علمی وادبی شاہکاروں سے لکھنؤ کی عزّت و عظمت کو دو بالا کیا، اور ماضی میں لکھنؤ کا دھڑکن اور جان تھے، علامہ شبلی نعمانی، سید سلیمان ندوی، مولانا عبدالحی ندوی ، اور حضرت مولانا علی میاں ندوی جیسی اہل کمال شخصیتیں لکھنؤ اور ندوہ کی ترجمان ہیں۔ندوۃ العلماء میں اب بھی ایسے گوہرِماہتاب، نیر آفتاب ہیں جو اپنے اندر بے پناہ صلاحیت واستعداد رکھتے ہیں، ان مایہ ناز و باکمال اور نابغۂ روزگار شخصیتوں کے سر خیل حضرت مولانا سعیدالرحمن اعظمی ندوی ہیں جن کی شخصیت، صلاحیت، اور مہارت و قابلیت سے اہل علم اور اصحابِ فکر ونظر گاہ بخوبی واقف ہیں، اور علمی وادبی حلقۂ آشنا ہے، جامعات اور یونیورسٹیوں کے اساتذہ وطلبہ متعارف ہیں، اور جن کی آنکھوں نے اس جبل ادب و بیان، اور پیکرِ عمل وصداقت، وکوہِ عزیمت کو نہیں دیکھا ہے، اور جن کے کانوں نے اس عاشقِ رسولؐکی محبت و شیفتگی کے چرچے نہیں سنے ہیں۔ یہ چھوٹا سا خاکہ پیش کررہا ہوں، سچ تو یہ ہے کہ مجھ جیسے بے بضاعت طالب علم اس گلِ سرسبد کی مدح و ثنا اور حلیہ و بیان، ماہتابِ خطابت وتحریر کےتعارف کی جسارت نہیں کر سکتا، یہ ممکن ہے کہ میرا قلم آپ کی پوری شخصیت کو نہ پیش کر سکے، لیکن ایک جذبہ ایک اُمّنگ ضرور بار بار ابھر رہی ہے کہ اس شخصیت پر لکھوں تاکہ آپ کے نام سے میرا قلم چمکے، اور اس کی رونق بڑھے، بہرحال باعثِ افتخار اور درجۂِ انبساط ہے کہ مجھے اپنے آئیڈیل پر لکھنے کا موقع مل رہا ہے، میںبے انتہا شاداں وفرحاں ہوں۔
ایک اجنبی وانجان شخص مولانا محترم کو دیکھتا ہے، اور قریب ہو کر آپ سے ملتا ہے تو آپ کا گرویدہ و شیفتہ، اور فریفتہ ہو جاتا ہے، آپ کی شخصیت کی مقناطیسیت و کشش، آپ کے علم وادب کی جاذبیت اپنا بنا لیتی ہے، اور دل کی آنکھوں سے اتر کر دل میں رچ بس جاتی ہے۔سب سے بڑی وجہِ کشش یہ ہے کہ آپ ایک ممتاز و منفرد اور مایہ ناز انشاء پرداز ہیں، اور عالمِ عربی آپ کو ادیب تسلیم کرتا ہے، اور حقیقت بھی یہی ہے کہ جب آپ عربی بولتے یا لکھتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ کوئی عرب ادیب، منجھاا ہوا سعودی انشاء پرداز بول اور لکھ رہا ہے، عربی اسلوبِ تحریر اور اس کے باریکیوں پر پوری طرح حاوی ہیں، اسی لیے آپ کے مضامین عربی قواعد وادب کا ایک بہترین وخوبصورت و حسین مرقع ہوتے ہیں، عربی کا جمال وحسن ہویدا، اور آپ عربی الفاظ، قوّت وطاقت پر بھی پورا عبور رکھتے ہیں، اس لیے الفاظ کا انتخاب اور برجستگی اور موزونیت لفظ لفظ سے آشکارا ہوتی ہے، اور اپنے جذبات واحساسات کو پورے حزم وجزم اور مکمل وثوق سے پوری بے باکی و بلند آہنگی سے پیش کرتے ہیں،مضامین پڑھ کر ایک جذبہ تموج کرتا ہے، بیدار ہونے، آنکھیں کھولنے، اور اپنا احتساب و جائزہ لینے کا داعیہ پیدا ہوتا ہے۔آپ اپنے سینے میں ملّت کے لیے تڑپنے والا، اس کی ہمدردی و کامیابی میں رونے والا دل رکھتے ہیں، آپ کی تحریروں اور خطابوں سے درد اور تڑپ صاف جھلکتا ہے، آپ کے مضمون کا ہر جملہ ایک دعوت، ایک پیغام اور ایک تحریک ہوتا ہے، تنِ مردہ میں جان ڈالنے، اور خوابیدہ جذبات کو جگانے اور عزم وحوصلہ پیدا کرنے کی بے انتہا قوّت رکھتے ہیں، اگر کوئی صاحبِ نظر پڑھے تو اس کی زندگی بدل کر رہ جائے، اس کے خیالات واحساسات میں انقلاب برپا ہو جائے، جو لوگ مولانا محترم کے مضامین پڑھتے ہیں یا پڑھے ہیں انہیں میری بات ضرور صحیح نظر آئے گی، اور جنہوں نے نہیں پڑھے ہیں وہ اب بھی پڑھ کر دیکھ لیں کہ آپ کا قلم امت کا احتساب بھی کرتا ہے، خیر و صلاح کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، اور برائی و باطل پر سخت نکتہ چینی کرتا ہے، مسلمان جن برائیوں اور غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں اور ان کا مؤاخذہ کرتا ہے، اور جن پریشانیوں اور مصیبتوں سے دوچار ہیں ان کا باریک بینی سے تجزیہ کرتا ہے۔یہی نہیں بلکہ ایک صاحب نظر اور دیدۂ ور و بینا کی طرح پوری طاقت سے مسائل و مشکلات کا حل بھی پیش کرتا ہے، تنگنائے سے صحیح سالم نکلنے کا راستہ بھی دکھاتا ہے، اور یہ بتلاتا ہے کہ ہمارے قدم کہاں پھسلے تھے، اور کہاں کہاں ہم سے چوک ہوئی تھی، اور پھر اس لمحہ کے غلطی کی تلافی کیوں کر ممکن ہے، اور کن ذرائع سے اپنی کمی پوری کی جا سکتی ہے؟آپ کے مضامین پڑھیے تو ہوئے معلوم ہوگا کہ آپ مغربی افتراء پردازی، اسلام دشمنی کا کس طرح کھل کر، بلکہ شمشیر برہنہ ہوکر جواب دیتے ہیں، اور کس طرح اس کے غلط و بے بنیاد الزامات اور شکوک و شبہات کا منہ توڑ دفاع کرتے ہیں، اور کس جرات و حریت کے ساتھ اسلام کی صحیح ترجمانی کرتے ہیں۔مغرب پرستی اور اس کی اندھی تقلید کا جو سیلاب امڈ رہا ہے، اور نوجوان نسل کو جس طرح اپنا متوالا و دلدادہ بنا رہا ہے، اور کیا کچھ گل کھلا رہا ہے، اس کی پوری حقیقت و اصلیت آپ کو حضرت مولانا کے مضامین میں مل جائے گی، نوجوان نسل کو مغربی پرستی کی وباء سے دور رکھنے اور اس کا حاشیہ بردار بننے سے بچانے کے لیے آپ کس طرح کڑھتے، روتے، بلکہ بلبلاتے ہیں، وہ ضبطِ تحریر سے باہر ہے۔یہی وجہ ہے کہ آپ کے مضامین دل و جان سے پڑھے جاتے ہیں، اور ان سے روشنی حاصل کی جاتی ہے، اور ان سے سبق سیکھا جاتا ہے، انہیں پڑھ کر جینے کا ڈھنگ، رہنے کا طریقہ ملتا ہے۔
ایک بڑی خوبی اور بڑی کشش یہ بھی ہے کہ آپ لمحوں، سیکنڈوں کی قیمت پہچانتے ہیں، ان کی بے انتہا طاقت کا احساس رکھتے ہیں، ہم نے اپنے اسلاف کے سلسلہ میں وقت شناسی اور وقت کی قدر دانی کے جو واقعات سنے یا پڑھے تھے، آج بفضلِ خدا ایسے پیکر کو دیکھ بھی لیا، جو ایک ایک لحظہ کی قدر و قیمت جانتا اور پہچانتا ہے، اور اس کا مصرف و محل سمجھتا ہے۔ عالیہ رابعہ شریعہ سالِ بھر میں کئی ایسے موقعے آئے کہ جن سے آپ کی یہ خوبی ہمارے لئے مشعلِ راہ بنی ۔ اور بار بار ہمیں آپ کے نقشِ قدم پر چلنے کا جذبہ پیدا کیا، ایک راقم الحروف ہی نہیں ہی بلکہ پورا ندوہ کہتا ہے کہ مولانا محترم بہت ہی وقت شناس ہیں، مولانا نذر الحفیظ صاحب ندوۃ العلماء کی مسجد میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم مولانا محترم کو کتنے دنوں سے دیکھتے آ رہے ہیں، آپ کو ہر دم، ہر لمحہ، ہر آن گفتگو، گرمِ دمِ جستجو ہی پایا، آپ دن میں ۱۸-۱۸ گھنٹے مصروف رہتے ہیں، کیا اس سے بڑھ کر کوئی اور شہادت ہو سکتی ہے۔
ساتھ ہی ساتھ آپ ایک مشفق استاد اور مخلص و بے لوث مربی بھی ہیں، کتنے جیالوں نے آپ کے سایۂ تربیت میں پروان چڑھ کر عظمت و شہرت پائی، کتنوں نے مہارت و صلاحیت اور قابلیت پیدا کی، اور آپ کی نگاہِ تربیت نے کتنوں کی زندگی بدل کر رکھ دی، کتنے ذروں کو چمکایا، اللہ سے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعا ہے کہ آپ کی مربیانہ نگاہیں مجھ پر بھی پڑیں، اور میں بھی آپ کے سایۂ تربیت میں پروان چڑھوں ۔ (آمین)آپ کی شخصیت کی ہمہ گیری و تنوع کو دیکھئے کہ آپ ماہنامہ "البعث الاسلامی” کے کیے دہوں سے ایڈیٹر ہیں، اسی طرح ندوۃ العلماء کی عالی شان مسجد کے خطیب و امام بھی ہیں، اور پھر ندوۃ العلماء جیسی عالمگیر و مستحکم عالمی یونیورسٹی کے مہتمم بھی ہیں، خدائے ذوالجلال سے دعا ہے کہ یہ متنوع و ہمہ گیر شخصیت تا دیر سایہ فگن رہے، اور ان کے برکات صدیوں تک ہمیں پہنچتے رہیں۔