ہندوستان کے دارالحکومت میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کو روکنے کی تیاری دیکھ کر ایسا لگتا ہے گویا چین یا پاکستان نے حملہ کردیا ہے۔ میٹرو ٹرین سے لے کر انٹر نیٹ تک کو بند کردیا گیا۔ ایسا خوف تو تہران کے اندر امریکی و اسرائیلی حملے کے بعد بھی نہیں تھا۔ ساری دنیا مودی سرکار کی بزدلی پر حیران ہے۔ ایک طرف مودی اپنی کرسی بچانے کے لیے ہاتھ پیر ماررہے ہیں اور ساتھ اپنے جڑواں بھائی کو دوبارہ انتخابی کامیابی سہل بنانے کی خاطر سعی فرما رہے ہیں ۔ اسی چکر میں مودی اور یاہو نے مل فلائی دُبئی کے جہاز میں ہنگامہ کی سازش رچی ۔ وہاں صرف یہ ہوا کہ دو پائیلٹس کا کاک پٹ میں جھگڑا ہوگیا اور انہوں نے بات کا افسانہ بنا دیا ۔ اس لڑائی میں سُمیت مچھرہندوستانی اور دوسرا گمنام پائیلیٹ عمانی تھا ۔ جہاز چونکہ تل ابیب جارہا تھا اور دوسرا پائیلیٹ مسلمان تھا اس لیے طرح طرح کی قیاس آرائی کا دور دورہ ہوگیا۔ نیتن یاہو سے لے کر مودی تک بلکہ ٹرمپ نے بھی اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرڈالی اس لیے کہنا پڑے گا کہ دہشت گرد کا کوئی مذہب نہیں ہوتا مگر اس کی آگ پر روٹیاں سینکنے والوں کا ضرور ہوتا ہے۔
اس واقعہ کے اگلے دن چونکہ ملک بھر میں مودی سرکار کے خلاف احتجاج ہورہا تھا اس لیے مودی جی نےموقع غنیمت جان کرعوام کی توجہ اپنی جانب مرکوز کرنے کے لیے اس واقعہ کو اچھال دیا ۔ وزیر اعظم نے فون پر سمیت مچھر کے والدین سےبات کرکے اس کا دنیا بھر میں ڈھنڈورا پیٹا۔ اپنے دوست بینجمن نیتن یاہو کے سُر میں سُر ملاتے ہوئےاس کو خوب سراہا اور بہادری کی تعریف کی۔ وزیراعظم مودی کا سمیت مچھر کے والد بھوپیندر بھائی، والدہ گیتا بین اور اہلیہ سونل بین سے فون اور ویڈیو کال پر گفتگو کرنا یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ انہیں پچھلے ڈیڑھ سال کے عرصے میں ایک بار بھی عادل شاہ کے گھر والوں کی خبرگیری کرنے کی توفیق کیوں نہیں ہوئی؟ ً کیا یہودیوں کی جان بچانا زیادہ اہم ہےاور ہندوستانیوں کے جان بچانے کی کوئی اہمیت نہیں ہے؟ کیا جان بچانے والا گجراتی ہو تو وزیر اعظم اس پر فخر کریں گے اور کشمیری ہوتو اسے نظر انداز کردیں گے؟ کیا اکھنڈ بھارت کے دعویداروں کی جانب سے یہ علاقائی تنگ نظری کا بدترین نمونہ نہیں ہے؟
وزیراعظم نے سُمیت مچھر کے اہل خانہ کی مانند عادل شاہ کے گھروالوں کی مزاج پرسی کیوں نہیں کی ؟ کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ عادل مسلمان اور سُمیت ہندو ہے ۔ ایک طرف وسو دیو کٹمبکم کا کا نعرہ لگانا اور پھر یہ تفریق و امتیاز کرنابتاتا ہے کہ ہاتھی دانت کھانے اور دکھانے کے مختلف ہوتے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر ا یک پوسٹ میں مچھّر کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اسے ’ہیرو‘ قرار دیا یہی کام وہ عادل کے لیے بھی کرسکتے تھے مگر نہیں کیا ۔ وزیر اعظم نے ویڈیوکہا ’’شدید ترین خطرے کے باوجود اور شدید زخمی حالت میں ، انہوں نے دوسروں کی جان بچانے کے لیے بے پناہ ہمت اور غیر متزلزل عزم کا مظاہرہ کیا۔ ان کی بہادری نے سینکڑوں زندگیاں بچانے اور ایک بڑے سانحے کو ٹالنے میں مدد کی۔اس لیے ہندوستان کو کیپٹن مچھّر پر فخر ہے۔‘‘لیکن اگر زخمی حالت میں حالت میں دروازہ کھول کر مدد کرنا قابلِ فخر ہے تو بندوق پکڑ کا جان لڑا دینا کیا ہے؟ وزیر اعظم نے عادل شاہ کے اہل خانہ سے اس لیے بھی بات نہیں کی ہوگی وہ سمیت مچھر کی طرح وہ انہیں اپنا آئیڈیل نہیں کہیں گے ۔ عادل کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکے گا کہ سمیت کی والدہ گیتا بین نے اپنے بیٹے کی پرورش بھگوت گیتا کی اقدار اور تعلیمات کے ساتھ کی ہے۔ اور وہ مشکل حالات میں ہنومان چالیسا کا پڑہتے ہیں اور پرواز کو حادثے سے بچانے کے انتہائی مشکل لمحات میں بھی ہنومان چالیسا پڑھ رہے تھے حالانکہ ہنومان چالیسا بھگوت گیتا نہیں بلکہ رامائن میں ہے۔
مودی جی کا مسئلہ یہ ہے کہ آج کل وہ جو بھی کرتے ہیں اس میں اتنی اوور ایکٹنگ کردیتے ہیں کہ دیکھنے والے نہ صرف اوب جاتے ہیں بلکہ ان کو کبھی کبھار ہنسی بھی آجاتی ہے مثلاً وزیراعظم مودی نے کہا کہ ملک فخر سے کہہ سکتا ہے کہ ہندوستانی جان لینے والے نہیں بلکہ دوسروں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان خطرے میں ڈالنے والے ہیں۔ یہی بات ہے تو کیا گجرات میں فساد کرنے والے ، دہلی میں آگ لگانے والے اور منی پور میں خاک اور خون کی ہوکی کھیلنے والے پاکستان یا بنگلہ دیش سے آئے تھے؟ وزیر اعظم نریندر مودی کو بلند بانگ دعویٰ کرتے وقت اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے ۔ پہلگام سانحہ کے بعد فلسطین کےصدر محمود عباس نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’’گھناؤنا فعل‘‘ قرار دیا اور وزیر اعظم مودی کو تحریری طور پراس دہشت گردانہ حملے میں معصوم جانوں کے اتلاف پر افسوس کا اظہار کیا گیا ۔ اس کے برعکس مودی جی نے اسرائیل کا دورہ کیا لیکن محمود عباس سے ملنا تو دور غزہ کی نسل کشی کے خلاف اپنی زبان سے ایک حرف نہیں نکالا بلکہ بلواسطہ اس کو جائز ہی ٹھہرایا۔ ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے وزیر اعظم مودی کو ذاتی طور پر فون کرکے پہلگام حملے پر تعزیت پیش کی اور دہشت گردی کے خلاف مضبوط علاقائی تعاون کی ضرورت پر زور دیا لیکن جب ایران پر اسرائیل نے حملہ کرکے رہبر معظم کو اہل سمیت شہید کردیا ۔ ایک اسکول پر بمباری کرکے ڈیڑھ سو سے زیادہ بے قصور طالبات کو شہید کردیا تو مودی جی منہ میں دہی جمائے بیٹھے رہے۔ الٹا دورانِ جنگ اسرائیل کو اسلحہ فراہم کیا ۔ کیا یہ جان بچانا ہے ؟ کیا احسان فراموشی کی بدترین مثال نہیں ہے؟
سُمیت مچھر کا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے خود کو بچانے کے لیے کاک پٹ کادروازہ کھولا اور باقی کا کام طیارے میں موجود مسافروں نے کیا۔ اس کے برعکس ایک ایسے وقت میں جبکہ پہلگام کی بیسران گھاٹی میں ہر کوئی اپنی جان بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگ رہا تھا اور عادل حسن شاہ کو تو کہیں بھاگنے کی ضرورت بھی نہیں تھی وہ خود اپنی جان کی پروا کیے بغیر دہشت گردوں سے لوہا لینے کے لیے آگے بڑھا اور ان کی بندوق پکڑ کر پوچھا کہ تم بے قصور لوگوں کو کیوں ماررہے ہو۔ اس کو جان بچانے کے لیےدلیری کا مظاہرہ کہتے ہیں۔ انہوں نے نہتے ہونے کے باوجود دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، بندوق چھیننے کی کوشش کی اورنے قصور لوگوں کو مارنے کی وجہ پوچھی۔اس تصادم کے دوران ایک دہشت گرد نے انہیں پوائنٹ بلینک رینج (بالکل قریب سے) گولی مار دی، جس سے وہ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ عادل شاہ اپنے خاندان کے واحد کمانے والے تھے۔ ان کے پسماندگان میں بوڑھے والدین، اہلیہ اور چھوٹے بچے سے وزیر اعظم تو دور وزیر دفاع تک نے بات کیوں نہیں کی؟
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نےجنازے میں شرکت کے بعد اہلیہ اور بھائی کو مستقل سرکاری ملازمت، کے ساتھ مالی امداد دی ۔ ا س کے علاوہ مہاراشٹرا حکومت کی جانب سے بھی خاندان کے لیے مالی مدد اور گھر کا انتظام کیا گیا مگر مرکزی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی ۔فلائی دبئی جہاز میں اپنی جان بچانے کے لیے ہاتھ پیر مارنے والے مسافروں کی تو خوب تعریف و توصیف ہورہی ہے مگر پہلگام حملے کے بعد باقی ماندہ سیاحوں کی مدد کرنے والوں کو ملک نے بھلا دیا۔ اس بابت کوستبھ گنبوٹے کی بیوی سنگیتا نے وہاں پیش آنے والے واقعے کے بارے میں بی بی سی کوبتایا تھا کہ ’اگر جائے حادثہ پر ایک بھی سکیورٹی گارڈ یا پولیس اہلکار تعینات ہوتا تو ہماری مدد ہو جاتی۔‘ یہ تو خیر امیت شاہ کی کوتاہی پر اعتراض ہے کیونکہ یونین ٹیریٹری ہونے کے سبب لیفٹننٹ گورنر کے توسط سے حفاظتی عملہ مرکزی وزارت داخلہ کے تحت کام کرتا ہے۔ سنگیتا نے آگے کہا کہ ’ہمارے گھوڑے والے مسلمان تھے، انھوں نے آخر تک ہمارا ساتھ دیا۔ گھوڑے والے بھی بہت روئے۔ وہ بہت اچھے انسان تھے۔‘ عادل کے متعلق سنگیتا نے کہا کہ ’ایک مسلمان ہمیں بچانے کے لیے آگے آیا لیکن انھوں (حملہ آوروں) نے اسے بھی گولی مار دی۔ اس نے حملہ آور سے پوچھا کہ تم انھیں کیوں مار رہے ہو؟ انھوں نے کیا غلط کیا۔‘
پہلگام میں موجود ایک اور سیاح نے یہ بھی بتایا کہ ’ہمارا حمال وہاں پہنچ گیا تھا اور وہ میری والدہ کو اپنی پیٹھ پر لاد کر نیچے لایا۔ باقی لوگ پیدل ہی اتر رہے تھے، ہمیں پیدل اترنے میں چار گھنٹے لگے۔‘ خود اپنی فکر کرنے سے آگے بڑھ کر اجنبی لوگوں کی بے لوث خدمت کرنا اس کو کہتے ہیں لیکن چونکہ یہ کام مسلمان کررہے تھے اس لیے گودی میڈیا اور سرکار نے اسے نظر انداز کردیا ۔ مودی سرکار کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندو مسلمان کھیلنے کا دور گزر گیا ۔ اب اس پر کوئی کان نہیں دھرتا اس لیے مسجد میں جاکر مسلم نوجوانوں کو روکنے کی چنداں ضرورت نہیں ۔ جب مجید ملک نہیں ڈرا۔ عرفان نے ڈٹ کا مقابلہ کیا عبدالحفیظ اپنے والد کی ماب لنچنگ کے باوجود ثابت قدم رہا اورعادل نے تو جان لڑا دی ۔ اس لیے مسلمانوں کو خوفزدہ کرنا مودی سرکار کے بس کا روگ نہیں ہے۔ وہ گیانیش کمار کے خلاف دیگر نوجوانوں کے ہراول دستے میں شامل ہوں گے۔