جمعہ نامہ: اسلام میں خواتین کا تحفظ و احترام

جمعہ نامہ: اسلام میں خواتین کا تحفظ و احترام

جمعہ نامہ: اسلام میں خواتین کا تحفظ و احترام

ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان

ارشادِ ربانی ہے:’’ تم زنا ( بدکاری ) کے قریب بھی مت پھٹکو بیشک یہ بے حیائی کا کام ہے ، اور بہت ہی بری راہ ہے‘‘۔ یہاں زنا نہ کرو کے بجائے قریب بھی نہیں جانے سے مراد زنا کا سبب بننے والے تمام راستوں اور طور طریقوں سے اجتناب کی تلقین ہے۔ اس کے تحت عورتوں سے آزادانہ اختلاط، عورتوں کا بےپردہ ہو کر بازاروں میں نکلنا، اجنبی مرد و عورت کی اکیلے میں گفتگو ، نظر بازی، عریاں تصویر، فلمیں، فحش لٹریچر، گندی گالیاں، فحش افسانے اور ڈرامےوغیرہ شامل ہیں۔ اس حکم کا مخاطب فرد اور معاشرہ دونوں ہیں۔ اجتماعی زندگی میں زنا ، اور محرکات زنا ، اور اسباب زنا کا سدباب کرنےکےلیے قانون کے علاوہ تعلیم و تربیت ، اجتماعی ماحول کی اصلاح اور معاشرتی زندگی کی مناسب تشکیل ضروری ہے ۔ اسی غرض سے دین اسلام میں حجاب کے ساتھ فواحش کی اشاعت ، شراب و موسیقی اور رقص اور فحش تصاویر پر بندشیں لگائی گئیں ، نیز نکاح کوآسان کرکے زنا کے معاشرتی اسباب کی بیخ کی گئی ہے ۔ زنا کی بے شمار قباحتیں ہیں مثلاً بچے کا نسب مشکوک ہوجانا اور میراث کے مسائل کا جنم لینا۔ اس میں ملوٹ مردوں میں باہمی رقابت، دشمنی اور قتل اور اب تو خواتین بھی اپنے شوہروں کو ٹھکانے لگانے لگی ہیں۔

دین اسلام میں زنا کے فتنے پر قابو پانے کے لیے زبانی ترغیب پر اکتفاء کرنے کے بجائے سخت سزا بھی مقرر ہے۔ فرمانِ خداوندی ہے :’’بدکار عورت اور بدکار مرد ( اگر غیر شادی شدہ ہوں ) تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو ( شرائطِ حد کے ساتھ جرمِ زنا کے ثابت ہو جانے پر ) سو ( سو ) کوڑے مارو‘‘ ۔ یہ سزائیں چونکہ سخت ہے اس مغرب پرست اسے سفاکی کہتے ہیں۔ وہ اسے دو حصوں میں تقسیم کرکے زنا بالرضا کو جرم کے خانے سے نکال باہر کرتے ہیں اور زنا بالجبر یعنی عصمت دری پر بھی سخت سزا کے بجائے نرمی برتنے کی ترغیب دیتے ہیں ۔ا س کے برخلاف قرآن عظیم میں آگے فرمایا گیا :’’ اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہوتو تمہیں ان دونوں پر اللہ کے دین (کے حکم کے اجراء ) میں ذرا ترس نہیں آنا چاہئے‘‘۔ اسی کے ساتھ عوام کے اندر سزا کا خوف راسخ کرنے کی خاطر یہ تلقین بھی فرمائی گئی ہےکہ :’’ اور چاہئے کہ ان دونوں کی سزا ( کے موقع ) پر مسلمانوں کی ( ایک اچھی خاصی ) جماعت موجود ہو‘‘۔ زنا کی بابت اسلام کسی تفریق کا قائل نہیں ہے۔ وہ تواس فتنے کا دروازہ بند کرکے رشتۂ ازدواج کے تقدس کو بحال کردیتا ہے ۔

موجودہ سماج میں راضی خوشی زنا کا ارتکاب کرنے والے درندوں کے ہوس کی بھوک انہیں بے قصور بچیوں کی آبروریزی کرنےپر اکساتی ہے ۔ اس سنگین جرم کا ارتکاب کرنے والے یہ ثابت کرکے چھوٹ جاتے ہیں کہ یہ زنا بالرضا تھا ۔ اس جرم کے سزا کا خوف بھی دل سے نکل جانے کے سبب راجدھانی دہلی ریپ کیپٹل کہلانے لگی ہے۔ نیشنل کرائم ریکارڈ بیوروکے سرکاری اعداد و شمار گواہ ہیں کہ ملک بھر میں روزانہ 80 تا 90 سے زائد عصمت دری کے مقدمات پولیس کے پاس درج ہوتے ہیں جبکہ اصلی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوگی ۔ وطن عزیز میں خواتین کے خلاف مجموعی جرائم کی تعداد سالانہ 4 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے انتظامیہ اور عدلیہ کو مظلوم کے بجائے ظالم سے ہمدردی ہوتی ہے اور انہیں ترس کھاکر رہا کردیا جاتا ہے۔ اس سے دوسرے درندوں کو ترغیب ملتی ہے۔ دہلی کے اندر جب پانی سر سے اونچا ہوگیا تو جسٹس جے بی پاردی والا نے بھی اس خوف کی ضرورت کو محسوس کرکے کہا کہ خواتین کی سلامتی کے لئے کیے جانے والے اقدامات صرف کاغذوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ مجرموں کے دل میں یہ خوف پیدا ہونا چاہیے کہ اگر انہوں نے ایسا جرم کیا تو انہیں سنگین نتائج بھگتنا پڑیں گے، تب ہی خواتین کے خلاف جرائم پر مؤثر طریقے سے قابو پایا جاسکتا ہے۔مغرب زدہ عدلیہ کو یہ احساس اس وقت ہوا جب دہلی کے ایک پارک میں 17 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس سے قبل سوروپ نگر میں ایک نوعمر لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کے بعد اسے قتل کیے جانے کا معاملہ بھی سامنے آیا تھا۔ اس کے علاوہ سلیپر بس میں ایک نابالغ لڑکی جنسی زیادتی کا شکار ہوگئی ۔ ان سانحات نے عدلیہ جھنجھوڑ کر رکھ دیا اور اس نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئےازخود نوٹس لے کران معاملات کی سماعت شروع کردی ۔ سماعت کے دوران جسٹس جے بی پاردی والا نے کہا کہ جب تک آپ مجرموں کے ذہنوں میں یہ خوف پیدا نہیں کرتے ہیں کہ ایسا کچھ کرنے پر مارے جائیں گے، تب تک آپ ایسے جرائم کو روک نہیں پائیں گے۔ آپ کو ایسے جرائم کرنے کا رجحان رکھنے والے شخص کے ذہن میں خوف پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام کا تعزیراتی نظام جب یہی کرتا ہے تو اس پرسفاکی کا لیبل لگا کر دین فطرت کو بدنام کیا جاتا ہے۔

عصر حاضر میں بے لگام اخلاقی انحطاط عدالتوں کو اسلامی قوانین کی جانب متوجہ کررہا ہے اور وہاں پر اعتراف کیا جارہا ہے کہ خواتین کے خلاف جرائم کاارتکاب کرنے والوں کے دلوں میں موت اور قانون کا خوف پیدا کرنا ضروری ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے حالیہ تبصرے میں کہا ہے کہ مردوں کے ذہنوں میں یہ خوف پیدا کرنا ضروری ہے کہ اگر انہوں نے جنسی حملہ کیا تو انہیں لازماً اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔اسلامی تعلیم کے غلط استعمال سے متعلق شکوک و شبہات کا شکار ہونے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ زنا کی سزا کے نفاذ کے لیے چار ایسے گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے کہ جنھوں نے اس عمل کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو یا مرتکب ازخود اس کا اقرار کر لیں۔ اس کےساتھ اسلامی قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے یہ فرمانِ قرآنی بھی موجود ہے کہ :’’ وہ لوگ جو تہمت لگائیں پاکدامن عورتوں پر پھر وہ چار گواہ نا لاسکیں تو انھیں 80 کوڑے مارو اور ان کی گواہی کبھی نہ قبول کرو ۔ اور یہی لوگ فاسق ہیں‘‘۔ اس طرح کے اسلامی قوانین اگر نافذ ہوں تو نہ خواتین مظالم کا شکار ہوں گی اور نہ عدالت کو ایسے سخت تبصرے کرنے پڑیں گے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے