ایس آئی آر کے خلاف احتجاج اب عوامی تحریک میں بدل رہا ہے، حکومت کی آزمائش شروع

ایس آئی آر کے خلاف احتجاج اب عوامی تحریک میں بدل رہا ہے، حکومت کی آزمائش شروع
Protest against SIR is now turning into a public movement, testing the government begins

ایس آئی آر کے خلاف احتجاج اب عوامی تحریک میں بدل رہا ہے، حکومت کی آزمائش شروع

ازقلم:شیخ سلیم،،ممبئی

ملک ان دنوں ایک عجیب و غریب صورت حال سے گزر رہا ہے۔ ایس آئی آر کی دھاندلی، ووٹ چوری اور گیانیش کمار کے استعفے کی مانگ دن بہ دن زور پکڑتی جا رہی ہے۔ راہول گاندھی کی قیادت میں حزب اختلاف کے تین سو سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ کئی دنوں سے گیانیش کمار سے ملنا اور بات کرنا چاہتے تھے، مگر انہیں ملاقات کا موقع نہیں دیا گیا۔ حد تو یہ ہے کہ حزب اختلاف کے لیڈروں کو جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت بھی نہیں ملی۔ درجنوں میٹرو اسٹیشن بند کر دیے گئے تاکہ نوجوان احتجاج میں شامل نہ ہو سکیں۔ راہول گاندھی، پرینکا گاندھی کے ساتھ آکاش وانی بھون گئے تو وہاں داخلے کی اجازت نہیں ملی۔ وہ ایک برگد کے درخت کے نیچے بیٹھ گئے، لیکن وہاں سے بھی انہیں زبردستی اٹھا دیا گیا۔ ان کی بہن سے بھی پولیس افسران نے کہا کہ آپ یہاں سے اٹھ جائیے۔ اس پر راہول گاندھی نے کہا: ٹھیک ہے، ہم اٹھ جاتے ہیں، بس آپ دہلی میں کوئی ایسی جگہ بتا دیجیے جہاں حزب اختلاف اور نوجوان احتجاج کر سکیں۔ پولیس کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔
شاید ہماری جمہوریت کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہوا ہے کہ پورے کے پورے ممبران پارلیمنٹ چیف الیکشن کمشنر سے ملنا چاہتے تھے اور چیف الیکشن کمشنر نے ان سے ملاقات نہیں کی۔ اب راہول گاندھی، پرینکا گاندھی اور حزب اختلاف کے بڑے بڑے لیڈر سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ پورے ملک میں احتجاج کی لہر چل رہی ہے اور مرکزی حکومت کے خلاف ماحول بنتا جا رہا ہے۔ حزب اختلاف گیانیش کمار کا استعفیٰ چاہتی ہے، اور جن جن ریاستوں میں ایس آئی آر کے ذریعے ووٹ کاٹے گئے اور وہاں بھاجپا کو کامیابی ملی، وہاں وہ دوبارہ انتخابات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ جولائی کے مہینے میں جب جنتر منتر پر احتجاج جاری تھے، اسی دوران 20 جولائی کو ایک بھیانک لاٹھی چارج ہوا جس میں سیکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ راہول گاندھی اور کانگریس والے پارلیمنٹ میں وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے سوالات کرنا چاہتے تھے، مگر دونوں آخری دن تک ایوان میں نہیں آئے۔ آخری دن بھی وہ بس چند لمحوں کے لیے آئے اور پارلیمنٹ کا اختتام ہو گیا۔

آج صورت حال یہ ہے کہ حزب اختلاف کے حوصلے بلند اور حکومت کے حوصلے پست نظر آ رہے ہیں۔ احتجاج کی اجازت اب بھی نہیں دی جا رہی، جبکہ 10 اکتوبر کو سبھی حزب اختلاف اور انڈیا الائنس نے اپنے کارکنان سے دہلی پہنچنے کی اپیل کی ہے۔ آج بنگلور میں بھی ایک بڑا احتجاج ہوا، جس میں دھرو راٹھی بھی شامل ہوئے۔ ایس آئی آر کی دھاندلی کی وجہ سے ملک میں بے یقینی کی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ اگر عدالت عالیہ پہلے ہی ایس آئی آر کو خارج کر دیتی تو نہ ایس آئی آر ہوتا، نہ لوگوں کے نام کاٹے جاتے اور نہ ایسی غیر یقینی صورت حال پیدا ہوتی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 10 اکتوبر کے احتجاج کو اجازت ملتی ہے یا نہیں۔ بھارت کی تاریخ میں شاید پہلی بار متحدہ حزب اختلاف کو بھی احتجاج کی اجازت نہیں دی جا رہی، اور صورت حال غیر اعلان شدہ ایمرجنسی جیسی لگتی ہے۔ مرکزی حکومت کے لیے یہ ایک بڑا امتحان اور چیلنج ہے کہ وہ اس آزمائش سے کیسے نمٹتی ہے۔ راہول گاندھی اور حزب اختلاف کے لیے بھی یہ راستہ آسان نہیں، کیونکہ احتجاج اب عوامی احتجاج میں تبدیل ہو رہے ہیں۔ حالات جیسے بھی ہوں، راہول گاندھی اس احتجاج کے نتیجے میں ایک لڑنے والے لیڈر کے طور پر ابھر چکے ہیں اور وہ آرام کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔معاملہ اتنا آسان بھی نہیں ہے کہ چیف الیکشن کمشنر استعفیٰ دے دیں اور معاملہ ختم حکومت گیانیش کمار کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہو چکی ہے اگر وہ استعفیٰ دے دیں تو حزب اختلاف وزیر داخلہ اور وزیر اعظم کے استعفے کی مانگ کو لیکر سڑکوں پر اُتر آئےگا کیوں کہ معاملہ پورے سسٹم کا ہے صرف صرف ایلکشن کمیشن کی تطہیر کا نہیں ہے مہنگائی بیروزگاری نوکریوں کا نہیں ملنا کسانوں کی مشکلات ان سبھی چیزوں نے حالات کو پیچیدہ بنا دیا ہے اور عوام مرکزی حکومت کو اسکا زمہ دار سمجھتی ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے