✍️۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
"اور ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو” (سورۃ الحجرات: 12)۔ اور رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللّٰہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے” (صحیح مسلم)۔ انسانی معاشرے کی پائیداری اعتماد، حسنِ اخلاق، راز داری اور باہمی احترام پر قائم ہوتی ہے۔ اسلام نے جہاں سچائی، امانت اور خیر خواہی کی تعلیم دی ہے، وہیں لوگوں کی عزّت، آبرو اور گھریلو معاملات کی حفاظت کو بھی ایمان کا تقاضا قرار دیا ہے۔ اسی لیے اہلِ دانش نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ انسان اپنی نجی زندگی کو غیر ضروری طور پر دوسروں کے سامنے نہ کھولے، کیونکہ ہر سننے والا رازدار اور ہر مسکرانے والا خیر خواہ نہیں ہوتا۔
انسانی زندگی کا حسن صرف اس کی خوشیوں میں نہیں بلکہ اس کی خاموشیوں، اس کی راز داری، اور اس کے شعورِ زندگی میں بھی پوشیدہ ہوتا ہے۔ ہر انسان کی زندگی میں ایسے لمحات آتے ہیں جب دل غم سے بوجھل ہوتا ہے، حالات آزمائش میں ڈال دیتے ہیں اور انسان کسی ہمدرد کی تلاش میں اپنے دل کے بوجھ کو ہلکا کرنا چاہتا ہے۔ لیکن یہی وہ مقام ہے جہاں عقل، بصیرت اور حکمت کی ضرورت سب سے زیادہ ہوتی ہے۔ ہر سننے والا مخلص نہیں ہوتا، ہر مسکرانے والا خیر خواہ نہیں ہوتا، اور ہر ہمدردی کرنے والا ہمیشہ کے لیے امانت دار نہیں رہتا۔
اسی لیے ہمیشہ ایک بات یاد رکھیے کہ اپنے گھر کی ہر بات لوگوں کو مت بتائیے۔ گھر انسان کی عزّت، وقار، محبت اور اعتماد کا مرکز ہوتا ہے۔ اس کی خوشیاں، اس کے دکھ، اس کے اختلافات اور اس کے راز ایک ایسی امانت ہیں جن کی حفاظت ہر فرد کی ذمّہ داری ہے۔ جب گھریلو معاملات غیر ضروری طور پر دوسروں تک پہنچنے لگتے ہیں تو صرف راز ہی افشا نہیں ہوتے بلکہ اعتماد کی بنیادیں بھی کمزور ہونے لگتی ہیں۔
زندگی کا ایک تلخ مگر اٹل حقیقت یہ بھی ہے کہ حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔ وقت کے ساتھ موسم بدلتے ہیں، حالات بدلتے ہیں، لوگوں کے مفادات بدلتے ہیں، اور بعض اوقات دلوں کے رجحانات بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ جو شخص آج آپ کے دکھ پر آنسو بہا رہا ہے، ضروری نہیں کہ کل وہی شخص آپ کے دکھ کا سبب نہ بن جائے۔ جو آج آپ کے غم کا شریک ہے، ممکن ہے آنے والے وقت میں وہی آپ کی کمزوریوں کو طعنوں، الزاموں یا تمسخر کا ذریعہ بنا دے۔ اس لیے عقل مندی کا تقاضا یہی ہے کہ انسان اپنے جذبات کے بہاؤ میں آ کر اپنی نجی زندگی کے دروازے ہر ایک پر نہ کھول دے۔
اسلام انسان کو نہ صرف عبادات کی تعلیم دیتا ہے بلکہ معاشرتی تعلقات کے آداب بھی سکھاتا ہے۔ قرآنِ کریم مومن کو دوسروں کی عزّت، آبرو اور راز کی حفاظت کا حکم دیتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "اور ایک دوسرے کے عیب تلاش نہ کرو”۔ اسی طرح فرمایا: إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ السَّاتِرِينَ کے مفہوم کے مطابق اسلام پردہ پوشی، حسنِ ظن اور عزّتِ نفس کی حفاظت کی تعلیم دیتا ہے۔ مومن کا کردار یہی ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی عزّت و حرمت کا محافظ بنے، نہ کہ ان کے عیبوں کو لوگوں میں پھیلانے والا۔
اسلامی تعلیمات بھی انسان کو راز داری، پردہ پوشی اور امانت داری کا درس دیتی ہیں۔ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ اپنی اور دوسروں کی عزّت کی حفاظت کرے، عیبوں پر پردہ ڈالے اور زبان کو ایسی باتوں سے محفوظ رکھے جو بعد میں ندامت کا باعث بن جائیں۔ جس گھر میں راز محفوظ رہتے ہیں وہاں اعتماد مضبوط ہوتا ہے، محبت پروان چڑھتی ہے اور تعلقات میں استحکام پیدا ہوتا ہے، جب کہ رازوں کی بے احتیاطی اکثر اختلافات، بدگمانیوں اور دل آزاریوں کو جنم دیتی ہے۔
رسول اللّٰہﷺ نے رازداری کو ایمان دارانہ کردار کا حصّہ قرار دیا۔ آپﷺ نے فرمایا: "جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللّٰہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرماتا ہے” (صحیح مسلم)۔ ایک اور حدیث میں فرمایا: "مجلس کی بات امانت ہوتی ہے” (سنن ابی داؤد)۔ یہ تعلیمات ہمیں بتاتی ہیں کہ دوسروں کے راز محفوظ رکھنا، گھریلو معاملات کو غیر ضروری طور پر عام نہ کرنا اور اعتماد کی حفاظت کرنا اسلامی اخلاق کا بنیادی تقاضا ہے۔
انسان کو اپنے گھر کی کمزوریاں، رشتوں کے اختلافات اور دل کے راز ہر کسی کے سامنے بیان نہیں کرنے چاہییں۔ ہر شخص آپ کے درد کو محسوس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ بعض لوگ ہمدردی کے نام پر صرف تجسس کی تسکین چاہتے ہیں، بعض وقتی افسوس کا اظہار کرتے ہیں، اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو بعد میں انہی باتوں کو محفلوں کی زینت یا طعنوں کا ہتھیار بنا لیتے ہیں۔ اس لیے دانش مندی اسی میں ہے کہ انسان اپنی عزّت اور اپنے خاندان کی حرمت کو اپنی زبان کی حفاظت کے ذریعے محفوظ رکھے۔
نفسیات کے ماہرین کے مطابق انسان جب ہر شخص کے سامنے اپنے مسائل بیان کرتا ہے تو وقتی طور پر دل کا بوجھ ضرور ہلکا محسوس ہوتا ہے، لیکن اکثر اس کے نتیجے میں احساسِ ندامت، بے بسی اور دوسروں پر غیر ضروری انحصار پیدا ہونے لگتا ہے۔ اس کے برعکس جو شخص اپنے مسائل کو حکمت کے ساتھ صرف قابلِ اعتماد افراد تک محدود رکھتا ہے، وہ اپنی عزّتِ نفس، ذہنی سکون اور خود اعتمادی کو زیادہ محفوظ رکھتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھیے کہ ہر سننے والا رازدار نہیں ہوتا اور ہر قریب آنے والا خیر خواہ نہیں ہوتا۔ دنیا میں مخلص لوگ یقیناً موجود ہیں، مگر ہر تعلق کو اسی درجے کا اعتماد دینا دانش مندی نہیں۔ اعتماد ایک قیمتی سرمایہ ہے، اور اس کی حفاظت اسی طرح ضروری ہے جیسے انسان اپنی جان و مال کی حفاظت کرتا ہے۔ ایک لمحے کی بے احتیاطی کبھی کبھی برسوں کی ندامت کا سبب بن جاتی ہے۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا نے نجی زندگی اور عوامی زندگی کے درمیان موجود سرحدوں کو بہت حد تک مٹا دیا ہے۔ بہت سے لوگ اپنی گھریلو زندگی، اختلافات، مالی معاملات اور ذاتی دکھ تک دنیا کے سامنے بیان کر دیتے ہیں۔ بظاہر یہ اظہارِ جذبات محسوس ہوتا ہے، لیکن بعد میں یہی معلومات غلط فہمیوں، کردار کشی، بلیک میلنگ یا تعلقات کی خرابی کا سبب بن سکتی ہیں۔ عقل مندی اسی میں ہے کہ انسان اپنی نجی زندگی کو نمائش کے بجائے حفاظت کا عنوان بنائے۔
جب دل غم سے بھر جائے، راستے بند محسوس ہوں اور آنکھیں اشک بار ہوں تو اپنے دکھ انسانوں کے دروازوں پر نہیں بلکہ اللّٰہ تعالیٰ کے حضور رکھیے۔ وہی ایسا ربّ ہے جو بندے کی ہر آہ کو سنتا ہے، ہر آنسو کو جانتا ہے، ہر درد کو سمجھتا ہے اور بغیر کسی ملامت کے اپنے بندے کو سکون عطا کرتا ہے۔ وہ رازوں کا بھی محافظ ہے اور عزّتوں کا بھی نگہبان۔ وہ ایسے راستے پیدا فرما دیتا ہے جن کا انسان تصور بھی نہیں کر سکتا، اور ایسی آسانیاں عطا کرتا ہے جو انسانی تدبیروں سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہیں۔
حقیقی راز داری صرف زبان بند رکھنے کا نام نہیں بلکہ دل کو اللّٰہ تعالیٰ کے ساتھ جوڑنے کا نام بھی ہے۔ جب انسان اپنے معاملات اللّٰہ کے سپرد کرتا ہے تو وہ لوگوں سے غیر ضروری توقعات وابستہ نہیں کرتا۔ یہی توکل اسے صبر، وقار اور استقامت عطا کرتا ہے اور وہ شکایت کے بجائے دعا کو اپنا سہارا بنا لیتا ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ پر بھروسہ انسان کو اندرونی طاقت، صبر اور اطمینان عطا کرتا ہے۔ جو دل اپنے راز اللّٰہ کے سپرد کر دیتا ہے، وہ لوگوں کی بے اعتنائی، طعنوں اور بے وفائی سے کم متاثر ہوتا ہے، کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا ربّ اس کے حال سے پوری طرح واقف ہے اور وہی بہترین کارساز ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اعتماد شیشے کی مانند نازک ہوتا ہے۔ ایک مرتبہ ٹوٹ جائے تو دوبارہ جڑ بھی جائے تو اس کی دراڑیں باقی رہ جاتی ہیں۔ اسی لیے دانا انسان اپنی زبان کی حفاظت کرتا ہے، اپنے رازوں کی حفاظت کرتا ہے اور اپنے تعلقات کی حرمت کو ہر قیمت پر قائم رکھتا ہے۔ خاموشی بہت سے ایسے فتنوں سے بچا لیتی ہے جنہیں بے احتیاط گفتگو جنم دیتی ہے۔ یاد رکھیے! ہر بات کہہ دینا سچائی نہیں اور ہر راز چھپا لینا دھوکا نہیں۔ حکمت یہی ہے کہ انسان جان لے کہاں خاموش رہنا ہے، کس سے مشورہ کرنا ہے اور کس معاملے کو صرف اپنے ربّ کے سپرد کر دینا ہے۔ جو شخص اپنی زبان، اپنے جذبات اور اپنے رازوں پر قابو پا لیتا ہے، درحقیقت وہ اپنی شخصیت کی سب سے بڑی حفاظت کر لیتا ہے۔
باوقار زندگی گزارنے کا ایک بنیادی اصول یہ ہے کہ انسان اپنی نجی زندگی کو غیر ضروری نمائش سے محفوظ رکھے، اپنے گھر کی عزّت کو اپنی عزّت سمجھے، اپنے رشتوں کی کمزوریوں کو دوسروں کے سامنے بیان کرنے کے بجائے ان کی اصلاح کی کوشش کرے، اور اپنے دکھوں اور امیدوں کا سب سے بڑا سہارا اللّٰہ تعالیٰ کو بنائے۔ جو شخص راز داری کو اپنی عادت، حکمت کو اپنا شعار، صبر کو اپنا زیور اور اللّٰہ پر توکل کو اپنی قوت بنا لیتا ہے، وہ دنیا کے بہت سے فتنوں، ندامتوں اور دل آزاریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ یہی دانش مندی ہے، یہی کردار کی پختگی ہے، اور یہی ایک باوقار اور مطمئن زندگی کا راستہ ہے۔
"اور جو اللّٰہ سے ڈرتا ہے، اللّٰہ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا، اور جو اللّٰہ پر بھروسہ کرے تو وہی اس کے لیے کافی ہے” (سورۃ الطلاق: 2-3)۔ اور رسول اللّٰہﷺ نے فرمایا: "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں” (صحیح البخاری، صحیح مسلم)۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنی زبان کی حفاظت کرنے، دوسروں کی عزّت و آبرو کا پاس رکھنے، رازوں کی امانت ادا کرنے، اور ہر حال میں اسی پر کامل توکل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین یا ربّ العالمین)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○