ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف منعقد ہونے والے مظاہروں نے ہندوستان کے سیاسی افق پر نیہا بورا جیسے ستارے کو چمکا دیا۔ نیہا کی پر جوش قیادت اور ترغیب کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ ملک گیر سطح پر اس تحریک مزاحمت میں خواتین و طالبات کی شرکت میں بے شمار اضافہ ہوگیا۔ ان مظاہرین کوخوفزدہ کرنے کے لیے پہلے تو پولیس کے ذریعہ انہیں تشدد کا شکار کیا گیا۔ اس سے بات نہیں بنی طالبات و خواتین پر دہلی پولیس کے علاوہ ہندوتواز تنظیموں سے منسلک لوگوں کو چھوڑ دیا گیا اور وہ دوہری بربریت کا شکار ہوگئیں۔ پچھلے دنوں ایسی کئی خبریں اور ویڈیوز سامنے آئی ہیں، جن میں نہ صرف طالبات و خواتین پر جبر دیکھنے کو ملا بلکہ نازیبا حرکتیں بھی سامنے آئیں۔ راہل گاندھی نے کچھ ایسی ہی متاثرہ طالبات و خواتین سے ملاقات کی اور اس کی ویڈیو اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل سے شیئر کیا۔ ان ویڈیوز میں مظلوم طالبات و خواتین نے اپنے ساتھ ہونےوالی زیادتی کو بیان کیا اور ملک کے موجودہ حالات پریشان نظر آئیں۔ انہوں نے فکر مندی کا اظہار بھی کیا۔ ویڈیو کے ساتھ راہل گاندھی نے لکھا ’’جنسی استحصال، کپڑے کھینچنا اور پرائیویٹ پارٹس پر حملہ، جمہوریت کے لیے آواز اٹھانے والی طالبات کے ساتھ دہلی پولیس کی بربریت شرمناک طریقے سے حدیں پار کر رہی ہے۔‘‘
راہل گاندھی سرکاری جبرو اتبداد یہ وجہ بتائی کہ ’’یہ سب آوازوں کو دبانے کی اس سازش کا حصہ ہے۔جس میں اتنا ڈرا دو، اتنا بے عزت کرو کہ کوئی دوبارہ سوال اٹھانے کی ہمت ہی نہ کرے۔‘‘ ویڈیو میں ایک خاتون یہ کہتی ہوئی نظر آتی ہے کہ انھیں اچانک اور زبردستی اس طرح گھسیٹا جا رہا تھا کہ کپڑے ٹھیک کرنے کا موقع بھی نہیں دیا گیا۔ ایک طالبہ نے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے کچھ لوگ لڑکیوں کو چھیڑنے کا موقع تلاش کر رہے تھے۔ان طالبات و خواتین کی باتیں سننے کے بعد راہل گاندھی نے انتہائی افسوس کا اظہار کیا اور ان کے ساتھ مشکل وقت میں کھڑے رہنے کا یقین بھی دلایا۔ اس معاملے پر راہل گاندھی اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’مودی شاہ جانتے ہیں، جس دن اقتدار ہاتھ سے گیا، اس دن ان کی من مانی کی کہانی ختم۔ ان کا یہی ڈر پولیس تک پہنچتا ہے اور تشدد بن کر ملک کے نوجوانوں و خواتین پر ٹوٹ رہا ہے۔‘‘ اس معاملہ میں کانگریس نے بھی اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ ’’نریندر مودی، امیت شاہ پولیس استحصال کے زور پر عوام کی آواز دبانا چاہتے ہیں، لیکن اب یہ ممکن نہیں ہے۔ ملک حقیقت جان چکا ہے اور بی جے پی حکومت لوگوں کو ڈرا دھمکا نہیں سکتی۔ ہم نہ ڈریں گے، نہ جھکیں گے۔ ناانصافی کے خلاف لڑتے رہیں گے۔
وطن عزیز میں ’نربھیا سے انکیتا تک ‘ خواتین پر مظالم کی داستان خونچکاں طویل سے طویل تر ہوتی جارہی ہے۔ گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ نریندر مودی کے لیے دہلی کے اندر نربھیا کی آبرو ریزی ’آپدا میں اوسر‘ ( آفت میں موقع غنیمت ) تھی۔ انہوں نے اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی خاطر نعرہ بلند کیا ’بہت ہوا ناری(عورت) پر اتیا چار(ظلم)، اب کی بار مودی سرکار‘ ۔ وزیر اعلیٰ مودی کو وزیر اعظم کے عہدے پر فائز کرنے میں اس نعرے کا بھی اہم کردار تھا۔ عوام نے سوچا چلو یہ تجربہ بھی کرکے دیکھتے ہیں حکومت سازی کے بعد مودی جی نے اپنا نعرہ بدل دیا۔ انہوں نے کہنا شروع کیا ’بیٹی پڑھاو ، بیٹی بچاو‘ لیکن ایک مرتبہ ان کی زبان پھسلی تو من کی بات زباں پر آہی گئی ۔ انہوں نے بھری مجلس میں نعرہ لگادیا’بیٹی پڑھاو، بیٹی پٹاو‘۔ یہ معاملہ وہیں ختم نہیں ہوا بلکہ اب تو جین زی(نسلِ نو) جنتر منتر سمیت دہلی و ملک کے کونے کونے میں یہ نعرہ لگا رہا ہے’بلاتکاری( عصمت در ) کہاں ملیں گے ، بی جے پی کے دفتر میں‘۔اس انقلابِ زمانہ کو عام آدمی سمجھ میں نہیں پاتا لیکن ہندو توا نوازں کے لیے یہ ایک عام سی بات ہے۔ ہندو توا نامی کتاب کے مصنف اور اس فسطائی نظریہ کے سب سے بڑے دانشور ونایک دامودر ساورکر کو تو اس معاملے میں چھترپتی شیواجی سے بھی اختلاف تھا ۔ انگریزوں سے معافی مانگ کر ان سے وفاداری کا عہد کرنے والے ساورکر نے راجہ شیواجی کے ذریعہ کلیان کے صوبیدار کی بہووالے واقعے پر تنقید کی تھی ۔
کلیان کی فتح کے بعد عادل شاہی گورنر کی خوبصورت بہو کو مالِ غنیمت کے طور پر شیواجی کے سامنے پیش کیا گیا۔ انہوں نے اس خاتون کو ماں کا درجہ دیا، اس کی عزت کی اور اسے پورے احترام اور تحائف کے ساتھ واپس بھیج دیا۔ ساورکر نے اپنی کتاب "سہا سونری پانے”میں اس اقدام پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس رحم و کرم کو اخلاقی کمزوری یا ‘فضیلت کی بگاڑ’ قرار دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ جنگ کے دوران دشمن کے ساتھ اس حد تک شرافت دکھانا قومی مفاد کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔ ساورکر نے راجہ شیواجی کی مذہبی رواداری پر تنقید کرتے ہوئے دشمن کے خلاف بقا کی جنگ میں اخلاقی حدود پر اصرار کرنے کو ایک سیاسی اور جنگی غلطی قرار دیا تھا جبکہ ڈاکٹر رام پونیانی اور دتا دامودر نائیک کے نزدیک شیواجی کی اصل طاقت ان کا اعلیٰ کردار اور خواتین کا احترام تھی۔شیواجی کی سیاسی جنگ مسلم عوام یا خواتین کے خلاف نہیں بلکہ مغل حکومت اور مسلم سلاطین کے خلاف تھی۔ خواتین کے تئیں ہندوتوانواز نظریہ ساز ساورکر کا یہ نظریہ غیر انسانی ہے کیونکہ وہ خواتین کو جنگی مہرے یا انتقام کا ذریعہ بنانے کی وکالت کرتا ہے۔
انکیتا بھنڈاری قتل کیس ابھی حال میں دہلی کے اندر آیا ہے مگر اتراکھنڈ کے اندر مسلسل چار سالوں سے احتجاج و مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ امسال فروری میں اتراکھنڈ کے سابق کانگریسی وزیر اعلیٰ ہریش راوت نے صدر جمہوریہ سے درخواست کی تھی کہ سی بی آئی سپریم کورٹ کی نگرانی اور رہنمائی میں جانچ کرے۔ انہوں نے بھی اس واقعہ میں ملوث وی آئی پی کے خلاف نامزد ایف آئی آر درج کرنے اور تباہ شدہ شواہد کی مکمل چھان بین کا مطالبہ کیا تھا ۔اس وقت انکیتا بھنڈاری کے لیے انصاف کا مطالبہ کرنے کی خاطر مہاپنچایت کا انعقاد کر کے مظلوم کے والدین سےیکجہتی کا اظہار کیا گیا تھا۔ راوت نے بتایا تھا انکیتا بھنڈاری کے والدین کا اپنی بیٹی کو کھونے کے بے پناہ غم کے باوجود ان کا صبر اور حوصلہ متاثر کن ہے۔ اس کا مظاہرہ ابھی حال میں انڈیا گیٹ پر ہوا۔ ہریش راوت کے مطابق انصاف کے ان کے مضبوط مطالبے نے پورے اتراکھنڈ کو متحد کر دیا ہے۔ ان کا درد ہر اتراکھنڈی کا مشترکہ درد ہے۔ انصاف کی اس لڑائی میں پورا اتراکھنڈ ان کے ساتھ کھڑا ہے پورا ہندوستان یہ دیکھ رہا ہے ۔ ایسے میں لوگ یہ نہ کہیں کہ ہم میں کبھی اُبال آتا ہے اور پھر ہم ٹھنڈے پڑجاتے ہیں، اب یہ لڑائی فیصلہ کن موڑ تک لے کر جانا چاہئے۔اب اتراکھنڈ سے نکل کر یہ معاملہ دہلی پہنچ گیا ہے۔
آر ایس ایس کے رہنما اور پرچارک چونکہ شادی نہیں کرتے اس لیے ان کے اولاد نہیں ہوتی اور نہ وہ بیٹی کا درد محسوس کرپاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے سنگھ پریوار کے لوگوں نے جب کھٹوا میں آصفہ کی آبروریزی کرکے اس کا قتل کردینے والوں کو بچانے کے لیے جلوس نکالا تو لوگوں نے سوچا کہ یہ مسلمانوں کی دشمنی میں ہندودرندوں کو بچانے کے لیے ایک قدم ہے۔ ہاتھرس میں جن ٹھاکروں نے ایک دلت بیٹی کی عصمت دری کرکے قتل کیا گیا تو اسے ہریجنوں پر مظالم کی فہرست میں ڈالا گیا اور یوگی کے ذریعہ راجپوتوں کا تحفظ فطری قرار دیا گیا مگر بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر نے تو اپنی ذات کی دوشیزہ کو اجتماعی آبروریزی کرائی اور اس کے باپ کو قتل بھی کردیا ۔ اس کے باوجو د یوگی کی پولیس نے اسے ضمانت دلوانے میں مدد کی ۔ اس سے پتہ چلا کہ اصل معاملہ مذہب و ذات پات کا نہیں بلکہ اپنی پارٹی کا آدمی اور خواتین پر ڈھائے جانے والے مظالم کا ہے۔ یہ لوگ خواتین کی عصمت دری کو معیوب نہیں سمجھتے اور اس میں ملوث اپنے لوگوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں مگر بلقیس بانو معاملے میں اس عصمت دری کرنے والوں کی سزا معاف کروانے کے بعد ان کو خراجِ تحسین پیش کرکے اس کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ انکیتا بھنڈاری معاملے میں تو ایک قدم آگے بڑھ کر اہم ملزم کو تفتیش ختم ہونے سے قبل سکم کا گورنر نامز کردیا گیا۔ اس رویہ نے ملک کے ہر انصاف پسند شہری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا کیونکہ گورنر کو سیاسی تحفظ حاصل ہوتا ہے یعنی ایک معنیٰ میں اس پر سزا کا دروازہ بند کردیا گیا۔ خواتین کے خلاف اس سے زیادہ سفاکی مظاہرہ ممکن نہیں ہے۔حکومت ِ وقت کی تمام تر زیادتی کے باوجود راہل گاندھی کی ویڈیو میں لڑکیوں کا حوصلہ بلند ہے۔ پولیس تھانے میں پٹنے کے باوجود یہ طالبات دوبارہ دوسرے دن لوٹ آتی ہیں اور انہوں نے سرکار کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر لڑنا سیکھ لیا ہے اور اب وہ گیانیش سمیت مودی سبق سکھا دیں گی۔