ایک ادیب کی زبانی انسان کی کہانی

ایک ادیب کی زبانی انسان کی کہانی

ایک ادیب کی زبانی انسان کی کہانی

ازقلم: ڈاکٹر محمد آصف
اسماعیل یوسف کالج آف آرٹس ،سائنس اینڈ کامرس
جوگیشوری ایسٹ ممبئی
9403282420

ادیب انسانی رویوں پر گہری نظر رکھتا ہے،وہ سماجی معاملات کو ژرف نگاہی سے پرکھتا ہے۔مناسب موقع پر جملوں کے گلدان میں لفظوں کے پھولوں کے ذریعے بڑے ہی سلیقے سے اس کی آرائش و زیبائش کرتا ہے۔جو نگاہوں کو خیرہ کرتا ہے ۔دل کو جذبات سے بھر دیتا ہے۔ دماغ کو منور کرتا ہے۔ذہن و فکر کو وسعت فراہم کرتا ہے. اس کی روشنی میں ہم سماج کا اصل چہرہ دیکھتے ہیں۔اس کی عمدہ مثال شیخ غلام ھمدانی مصحفی کی ہیں. مصحفی نے مختصر الفاظ میں انسان کو تین خانوں تقسیم کردیا ہے. ملاحظہ فرمائیں اور ان کے تخیل کو خراج تحسین پیش کیجیے۔

"هر که بر ابنای جنس خود جابر و قاهر باشد، همه از او ترسند، او بهترین مردم دنیا باشد. و اگر به مسلک عاجزانه زندگی کند، او بد ترین مردم دنیا بوَد. وهر که متوسط زِنَد، نه بهتر، نه بد تر۔”.

شیخ غلام همدانی مصحفی

ترجمہ : جو شخص اپنی ہی نوع (انسان) کے لیے جابر و قاهر ہوتا ہے، اس سے ہر کوئی ڈرتا ہے، وہ دنیا کا بہترین انسان ہوتا ہے. اور اگر کوئی عاجزانہ زندگی گزارتا ہے، وہ دنیا کے لوگوں میں بدترین قرار پاتا ہے. اور جو میانہ روی اختیار کرتا ہے وہ نہ بہتر ہوتا ہےاور نہ بد تر

یہاں شیخ غلام ھمدانی مصحفی نے انسانی رویوں اور سماجی منافقت کو جامع انداز میں صفحہ قرطاس پر نقش کردیا ہے۔مصحفی نے یہ زاویہ نگاہ اٹھارویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے ابتدائی زمانے کے معاشرے کو سامنے رکھ کر کیا ہیں۔تاہم اس میں عصرحاضر کے معاشرہ کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔مصحفی کا نام اور زمانہ ظاہر کیے بغیر اگر اسے کسی بھی سماج کے کسی فرد کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ اپنے سماج کے حوالے سے اس کی بلا تامل تصدیق کرے گا۔

یہاں انھوں نے انسان کو تین خانوں میں تقسیم کیا ہے۔

1۔ جابر و قاہر شخص : مصحفی نے جبر و ظلم و ستم ڈھانے والے شخص کو بہترین انسان قرار دیا ہے۔کیا یہ سچ ہے؟ کیا ظالم و جابر سماج کا بہترین انسان ہوتا ہے؟نہیں ،ہرگز نہیں ۔پھر مصحفی نے اسے بہترین کیوں کہا؟ ادب کا با ذوق قاری خوب جانتا ہے کہ مصحفی یہاں سماج کے لوگوں پر طنز کے نشتر چلا رہے ہیں۔سماجی منافقت کا پردہ فاش کر رہے ہیں۔سماج کے مشاہدہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ جابر و قاہر کے غیاب میں تو اسے براکہتے ہیں ،لیکن اس کی حاضری میں اس کی عزت کرتے ہیں ۔اس کی جی حضوری سے کام چلاتے ہیں۔ کسی میں ہمت نہیں ہوتی کہ اس کے جبر و ستم پر تنقید کرے۔یہ روایت ہمیں دنیا کے ہر سماج میں دیکھنے کو ملتی ہے۔

2۔ عاجزانہ زندگی گزارنے والے: عاجزانہ زندگی گزارنے والے افراد کو مصحفی بدترین کے خانے میں رکھتے ہیں۔یہ بے عملی و بے راہ روی کی زندگی بسر کرتے ہیں۔یہ لوگ اپنی خودی سے آشنا نہیں ہوتے ہیں ۔ان میں عقل و شعور ظاہر نہیں ہوتا۔اپنے حالات کو بدلنے کی کوشش نہیں کرتے ۔اپنے آپ کو کمزور سمجھتے ہیں اور اسی ناتوانی پر راضی رہتے ہیں۔

3۔ میانہ روی اختیار کرنے والے:یہ سماج کا بڑا حصہ ہوتا ہے۔یہ اپنے وجود سے آشنا ہوتے ہیں لیکن زندگی میں کسی طرح کی پریشانی کو مول لینا نہیں چاہتے،نتیجے میں جی حضوری والی زندگی بسر کرتے ہیں۔اور انہی کی غیر ضروری مصلحت پسندی کی وجہ سے پہلا طبقہ جنم لیتا ہے۔ایسے لوگوں کو مصحفی نے نہ بہتر نہ بد تر کے درجے میں رکھا ہے۔اگر ان میں ہمت پیدا ہوجائے تو یہ بہتر کے درجے میں داخل ہوسکتے ہیں۔بزدلی کا اظہار انہیں بد تر کے درجے میں ڈال دیتا ہے ۔ یہ اپنی حالت پر قانع رہتے ہیں ۔” جیو اور جینے دو” کے اصول پر کار بند ہوتے ہیں ۔یہ اصول انھوں نے صرف اپنی زندگی کو خوشحال بنانے کے لیے اپنایا ہوتا ہے۔

ہمدانی مصحفی کے عقل و فہم کی داد دیجیےکہ انھوں نے انسان کی درجہ بندی اس طور کی ہیں کہ ہم کسی بھی زمانے اور علاقے پر اس کا اطلاق کر سکتے ہیں۔دنیا بھر میں انسان انہی تین خانوں میں تقسیم ہیں۔چوتھا طبقہ سوال اٹھانے والوں کا ہوسکتا ہے ،لیکن یہ ہوتے ہی کتنے ہیں ، آٹے میں نمک کے برار۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے