جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں 40 روزہ تفہیمِ قرآن ورکشاپ کا آغاز طلبہ میں قرآن فہمی کا ذوق پیدا کرنے اور اساتذہ کو جدید و مؤثر طریقۂ تدریس سے آراستہ کرنے کی منفرد کوشش
جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں 40 روزہ تفہیمِ قرآن ورکشاپ کا آغاز
طلبہ میں قرآن فہمی کا ذوق پیدا کرنے اور اساتذہ کو جدید و مؤثر طریقۂ تدریس سے آراستہ کرنے کی منفرد کوشش
مونگیر (پریس ریلیز) 27 اکتوبر 2026 امیرِ شریعت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی صاحب دامت برکاتہم سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر کی ہدایت پر جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں 40 روزہ تفہیمِ قرآن ورکشاپ کا آغاز ہوا ہے۔ اس تربیتی پروگرام کا بنیادی مقصد طلبہ اور اساتذہ کے اندر قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنے، اس کے پیغام کو جاننے اور اس کی تعلیمات سے عملی رہنمائی حاصل کرنے کا ذوق پیدا کرنا ہے۔ ورکشاپ میں طلبہ کی تعلیم کے ساتھ اساتذہ کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ قرآن فہمی کے اس نصاب کو مؤثر انداز میں عام کیا جا سکے۔
ورکشاپ کے تحت روزانہ چار تربیتی نشستیں منعقد کی جا رہی ہیں، جن میں طلبہ اور اساتذہ کو ان کی ضروریات کے مطابق الگ الگ تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ پہلی نشست صبح 9 بجے سے 10:30 بجے تک شعبہ دارالحکمت کے تقریباً 50 منتخب طلبہ کے لیے منعقد ہوتی ہے، جب کہ دوسری نشست صبح 10:30 بجے سے دوپہر 12 بجے تک درجہ حفظ کی اندرونی مسجد میں تقریباً 50 منتخب طلبہ کے لیے ہوتی ہے۔ ان دونوں نشستوں میں طلبہ کو قرآن فہمی کے بنیادی نصاب کی تعلیم دی جا رہی ہے۔
اس نصاب کو ’’انڈراسٹینڈ قرآن اکیڈمی‘‘ نے تیار کیا ہے، جس کے پہلے حصے میں روزمرہ تلاوت کی جانے والی سورتوں، مثلاً سورۂ فاتحہ، سورۂ عصر، سورۂ کافرون، سورۂ اخلاص، سورۂ فلق اور سورۂ ناس، نیز نماز کے منتخب اذکار اور احادیث کی مدد سے قرآن مجید کے تقریباً 232 ایسے الفاظ سکھائے جاتے ہیں جو قرآن کریم میں مجموعی طور پر کم و بیش 41 ہزار مرتبہ استعمال ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ بنیادی عربی گرامر، اسم، فعل ثلاثی مجرد کے مشہور اوزان اور حروفِ جر کی تعلیم بھی آسان اور دلچسپ انداز میں دی جاتی ہے۔ تدریس کو مزید مؤثر بنانے کے لیے (Total Physical Interaction) جیسی جدید تعلیمی تکنیک سے بھی استفادہ کیا جا رہا ہے۔
ورکشاپ کی تیسری نشست دوپہر 2:15 بجے سے سہ پہر 3:30 بجے تک مکتب ولی اور دیگر مکاتب کے تقریباً 20 منتخب اساتذہ و ذمہ داران کے لیے منعقد ہوتی ہے۔ جب کہ چوتھی نشست شام 6 بجے سے رات 8 بجے تک شعبہ دارالحکمت اور درجہ حفظ کے اساتذہ جامعہ رحمانی و ذمہ داران کے لیے ہوتی ہے، جس میں نمازِ مغرب کے بعد تدریسی تربیت فراہم کی جاتی ہے۔
اساتذہ کی تربیت میں محض نصاب کے مواد کی وضاحت کے بجائے طریقۂ تدریس پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، تاکہ وہ قرآن فہمی کے اس نصاب کو خود بھی مؤثر انداز میں پڑھا سکیں اور ضرورت پڑنے پر دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دے سکیں۔ اس سلسلے میں شخصیت سازی، طلبہ کی ذہنی و فکری سطح کی پہچان، مختلف تعلیمی انداز اور قرآن مجید کو طلبہ کی پسندیدہ کتاب بنانے جیسے اہم موضوعات پر بھی تربیتی نشستیں منعقد کی جا رہی ہیں۔
اس 40 روزہ ورکشاپ کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ طلبہ ابتدائی درجات ہی سے قرآن مجید کے الفاظ کے معانی سمجھنے، ان کی بنیادی ساخت کو پہچاننے اور آیات کے اہم مضامین سے واقف ہونے کی صلاحیت حاصل کر سکیں۔ اسی طرح اساتذہ کو اس قابل بنانا بھی مقصود ہے کہ وہ طلبہ کی ذہنی سطح اور تعلیمی ضروریات کے مطابق قرآن فہمی کا مضمون آسان، دلچسپ اور مؤثر انداز میں پیش کر سکیں۔
اس تربیتی پروگرام کے ذریعے مدارس کے طلبہ و اساتذہ کے ساتھ اسکولوں، کالجوں کے طلبہ اور عام لوگوں تک بھی قرآن مجید کی تعلیمات کو آسان انداز میں پہنچانے کی راہیں ہموار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ معاشرے میں قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھنے کا رجحان فروغ پائے، لوگوں کا قرآن مجید سے تعلق مضبوط ہو اور اس کی تعلیمات کی روشنی میں انفرادی و اجتماعی زندگی کی اصلاح ممکن ہو سکے۔
جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں جاری یہ ورکشاپ قرآن فہمی کے فروغ اور اساتذہ کی تدریسی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی ایک اہم تعلیمی و تربیتی کوشش ہے، جس کے ذریعے قرآن مجید کے پیغام کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک آسان اور مؤثر انداز میں پہنچانے کا ہدف سامنے رکھا گیا ہے۔