افسانچے

افسانچے

ازقلم:محمدیوسف رحیم بیدری

۱۔ لاعلاج :۔
عابر شاہ فکرمندی سے کہہ رہاتھا۔ ’’بیچاراڈاکٹر تباہ ہوجائے گا۔ اس کامستقبل برباد ہوجائے گا‘‘۔ الف حقانی کو اس کی بات عجیب لگی ، الف حقانی نے بھوویں چڑھاتے ہوئے پوچھا’’وہ کیوں ؟‘‘ موسیٰ فصیح نے دونوں کے درمیان مداخلت کرتے ہوئے پوچھا’’یار حقانی ، تم نے ڈاکٹر کی واہیات ویڈیوکلپ نہیں دیکھی کیا؟‘‘الف حقانی کو ہنسی بھی آئی اوران دونوں کے اندازوں پر غصہ بھی آیا ۔ حقانی نے کہا’’ایک ویڈیو سے کوئی تباہ نہیں ہوتا۔ لوگ معاف کردیتے ہیں یاپھر ڈاکٹر کسی دوسرے شہر چلا جائے گااور پریکٹس شروع کردے گا،ہمارے شہر میں بھی تو ایک ڈاکٹر مشہور ہورہاہے ، لوگ پوری عقیدت سے اس کے پاس اپناعلاج کرواتے ہیں۔ اس کے بارے میں تم نہیں جانتے لیکن میں جانتاہوں کہ اپنے شہر میں اس نے کیاکانڈ کیاتھا؟ اس کے بعد ہی یہاں آیاہے‘‘
موسیٰ فصیح نے اعتراض کیا’’اس میں عورت بھی برابر کی شریک ہے ‘‘ الف حقانی ہنس پڑا، اور بولا ’’خود کو نیک ، پارسااور خوبصورت بن کردِکھانا عورت کی کمزور ی ہے۔ اگر اس نے ڈاکٹر کو رجھایاہے ، تو یہ مخلوط کام کاج سے پیدا ہونے والاوہ مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں ‘‘ عابر شاہ نے حقانی کی جانب دیکھااور خاموش ہوگیا۔
۲۔ دوسرا انتظام :۔
اساتذہ جمع تھے ۔ ان کی تربیت کا پروگرام تھا۔ ایک تقریر انہر احمد کی بھی تھی ۔جس میں کچھ سوالات کے بعد انہراحمد کوان جوابات کی روشنی میں تقریرکرناتھا۔وہ شخصیت سازی کی دنیا کے ماہر کھلاڑی تھے۔ لیکن انہر احمد پہلی دفعہ خوف زدہ ہوگئے تھے۔ انھیں لگ رہاتھاکہ وہ ڈرے ہوئے ہیں ۔ انہراحمدنے اب تک سینکڑوں پروگرام کئے تھے مگر اس دفعہ وہ خوف زدہ اس سوال سے تھے کہ انتظامیہ نے انھیں ایک سوال پوچھنے کو کہاتھا۔وہ سوال تھا’’ ٹیچرس کانسٹی ٹیونسی انتخابات میں ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے کس ٹیچر نے کتنی رقم لی ؟‘‘یااگر نہیں لی تو کیوں اور اگر لی تو ایسا کیوں کیا؟ ہم ٹیچرس کو ماہانہ تنخواہ مل ہی جاتی ہے۔ کیاوہ ناکافی ہے ۔ یعنی سوال ایک ہی تھا کہ ووٹ کاسٹ کرنے کے لئے رقم لی یانہیں ؟مگر انہر احمد خوف زدہ ہوگئے تھے۔وہ اس سوال سے اس قدر خوف زدہ ہوگئے کہ اساتذہ کرام کی تربیت گاہ سے لڑکھڑاتے قدموں سے باہر نکل آئے۔ اپنی کارمیں بیٹھے اور فون کردیاکہ ذراطبیعت بگڑرہی ہے ، میری جگہ کسی دوسرے کاانتظام کرلیں۔
۳۔عورتوں کی واپسی :۔
حکومت کی منصوبہ بندی پر چل کرجب خواتین بڑے پیمانے پر گھروں سے باہر نکلیں تو مردنگاہوں کو حیرت کے ساتھ ٹھنڈک کااحساس بھی ہوا۔مرد سوچ رہاتھاکہ گھر میں کیارکھاہے ۔ خواہ مخواہ عورت گھر میں بیٹھ کر بورہوتی رہی ہے اب تک ۔ لیکن اس مرد نے یہ نہیں سوچا کہ ان خواتین میں اس کی بیوی اور بیٹی بھی شامل ہے۔ اس کی بہن اور ماں بھی شامل ہے۔ پھر یہ ہواکہ ہوسناک نگاہوں کا عورتیں مقابلہ نہ کرسکیں یہاں تک کہ وہ جلدہی اپنے اپنے گھرواپس ہوگئیں ۔
۴۔ کشش کی کمی :۔
بکثرت حملوں کے بعد لوگوں نے حملوں اور لڑائی کی خبروںمیں دلچسپی لیناچھوڑ دیا۔ یہ بات پروفیسر مینن سین نے بتائی اور کہاکہ جس کانتیجہ نہیں نکلتا اس کی طرف عوام کشش محسوس نہیں کرتی ۔اگر موت نہ ہوتی تو زندگی میں بھی اس قدر کشش نہ ہوتی ۔
۵۔کس طرف ؟:۔
دونوں ہاتھ جوڑکر خود کونیک ثابت کرنے کالطف ہمارا لیڈر لیتاہے۔تکلیف اس کو ہوتی ہے جس پر ظلم ہواہو۔ لگتا ہے عوام پر مزید ظلم کرنا باقی ہے کیوں کہ ہر طرف دونوں ہاتھ جوڑکرلیڈر گھوم رہے ہیں اور عوام ان کااستقبال کررہی ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اپنے لیڈروں کوپیٹ پیٹ کر ہلاک کرنے کی خبریں بھی آئی ہیں۔اس بات پر صحافی بولا’’ ہاں بھئی کام نہیں کریں گے تو کیاعوام الو بن کرلیڈروں کااستقبال کرے گی ؟‘‘ سناہے 100لوگوں پر مقدمہ چل رہاہے۔ صحافی نے اس سوال کے جواب میں کہا’’تو کیاجرم کرنے کے بعد مقدمہ بھی نہ چلے ؟‘‘ ہم لوگ حیران ہوگئے کہ یہ صحافی عوام کی طرف ہے یا عوام مخالف ؟

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے