دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت
بھارت میں کیا،جمہوری اقدار باقی ہیں؟
ازقلم:ڈاکٹر محمد فاروق شاہ بندری
المعروف نقاش نائطی/ابن بھٹکلی
۔ 919448000010+
سنگھی مودی حکومت کے خلاف سراپا احتجاج رہتے ،دہلی عوام کا دل جیتتے،دہلی عام انتخاب میں پوری اکثریت سے پانچ سالہ دہلی اقتدار پر قبضہ جمانے کے بعد، دہلی و ملکی سیکیولر سو کروڑ عوام کی امنگوں کے برخلاف ، سنگھی مودی امیت شاہ کے اشاروں پر ناچتے ہوئے، دہلی منظم فساد برپا کروانے ہر ممکنہ ان سنگھی فسادیوں کی مدد کرنے والے، سیکیولر ذہن مکھوٹے کے پیچھے چھپے، دہلی چیف منسٹر کیجریوال کے دہلی فساد کے سنگھی ذمہ داروں کو آزاد کھلا چھوڑ، سنگھیوں کے ظلم و ستم سہنے والے بے قصور ہم مسلمانوں ہی کو، دہلی فساد ذمہ دار ٹہراتے، ہزاروں مسلم جامعہ ملیہ طلبہ و رضاکاروں کو مہینوں سے جیل میں سڑنےمرنے دانستہ چھوڑنے والے، دہلی چیف منسٹر کیجریوال کا، اب بہار انتخابی نتائج بعد مسلمانوں کے معزز و معتبر سیاسی رہنما صاحب شرع لائق تعظیم مسلم پرسنل بورڈ ممبر، المحترم اسدالدین اویسی مدظلہ ہی کو، مسلم دشمن سنگھی آر ایس ایس بی جے پی کا مددگار و مسلم دشمن، اپنے پریس ریلیز میں بتاتے ہوئے، ہم مسلمانوں کے صاف اذہان کو آپنے معتبر لیڈر کے خلاف ذہن پراگندہ کرنے کی کوشش کرنے پر سنگھی ذہنیت کیجریوال کی ہمت پر تعجب ہوتا ہے۔چونکہ ہم سادھ لوح مسلمان اپنے 1440 سالہ جہادی نظریات کو پس پشت ڈالے صوم و صلاۃ ہی کے بل پر، اپنی آخرت سنوارنے کی سعی کرتے پائے جاتے ہیں، اسلئے اپنے دشمنوں کے بہکاوے میں آکر اپنے مخلص لیڈروں کے خلاف دست و گریباں پائے جاتے ہیں۔اس لئے کیجریوال جیسے مسلم دشمن سنگھی لیڈروں کو مسلم لیڈران کے خلاف ہرزہ سرائی کی ہمت ہو پاتی ہے ۔
مجلس اتحاد المسلمین نے بہار میں 24 امیدوار میدان میں اتارے تھے جن میں سے 4 کی نامزدگی منسوخ کردی گئی تھیں ۔اس لئے صرف 20 امیدواروں نے اب کی بہار انتخاب میں حصہ لیا تھا۔20 میں سے 5 امیدوار کامیاب ہوئے ہیں اور باقی 15 حلقوں میں مجلس نے جہاں انتخاب حصہ لیا تھا ان میں سے 9 سیٹوں پر گٹھبندن سیکیولر امیدوار جیت چکے ہیں باقی بچی 6 سیٹوں پر این ڈے کو کامیابی ملی ہے الیکشن کمیشن کی سائٹ پر جاکر دیکھیں گے تو
1) صاحب گنج اسمبلی حلقہ میں، وی آئی پی امیدوار81036ووٹوں کے مقابلےآر جے ڈی امیدوار کو ملے64643ووٹ اور مجلس کے امیدوار نے4048ووٹ لئے ہیں اور آر جے ڈی کا امیدوار اس حلقہ میں15393ووٹوں سے ہارا تھا اس لئے اس حلقہ میں آرجے ڈی کی ہار کا کھیکڑا مجلس کے سر نہیں مونڈھا جاسکتا ہے۔
2) اس کے علاوہ چھتاپور اسمبلی حلقہ میں بی جے امیدوار 77323ووٹ لے کر آر جے ڈی کے امیدوار کے63766ووٹ لینے کے باوجود 13557 ووٹ کے فرق سے جیت چکے ہیں گویا اس حلقہ میں بھی مجلس کے امیدوار کو ملے1801 ووٹ کیلئے بھی مجلس کو آرجی ڈی امیدوار کی ہارکیلئے کسی صورت ذمہ دار نہیں ٹہرایا جاسکتا ہے۔
3) نرپتگنج اسمبلی حلقہ بی جے پی امیدوار کو77962 ووٹ آر جے ڈی امیدوار کو56359ملے تھے۔اورآرجے ڈی امیدوار کے 21603ووٹ فرق ہار کو، مجلس امیدوار کو ملے4900 ووٹ کیلئے کسی بھی صورت ذمہ دار نہیں ٹہرایا جاسکتا ہے۔
4) پرانپوراسمبلی حلقہ جہاں بی جے پی امیدوار ،کانگریس امیدوار کو ملے 65626ووٹوں کے مقابلے 71206ووٹ لیکر5580 ووٹوں کے فرق سے جیت درج کرچکے ہیں اس حلقہ میں بھی مجلس کو ملے صرف 438 ووٹ انہیں کانگریس کی ہار کا ذمہ دار کسی صورت نہیں ٹہرا سکتےہیں۔
5) براری اسمبلی حلقہ جہاں جے ڈی یو کا امیدوار81320 ووٹ لیتے ہوئے، آرجےڈی امیدوار کے70475ووٹوں کے مقابلہ 10816فرق سے جہاں اپنی جیت درج کرائی ہے وہاں پر اس حلقہ سے مجلس کے امیدوار کیلئے6574ووٹ کیلئے بھی۔کسی صورت مجلس امیدوار کو آر جے ڈی کی ہار کا ذمہ دار نہیں ٹہرایا جاسکتا ہے۔
5) ان 6 اسمبلی حلقوں میں سے صرف رانی گنج ایک حلقہ ایسا ملتا ہے جہاں پر کل مسلم ووٹ5فیصد ہی ہیں۔جے ڈی یو امیدوار کے 81874ووٹ کے مقابلے کانگریس امیدوار79479ووٹ لیکر بھی2395ووٹ مارجن سے ہار گئے ہیں اوراس حلقہ میں اتحاد المسلمین کے امیدوار کو6564 ووٹ جو ملے ہیں ۔ صرف اس سیٹ پر مجلس کو ملے آدھے ووٹ بھی کانگریس کو ملتے تو کانگریس جیت سکتی تھی۔ صرف اس حلقہ کے نتیجہ کے پیش نظر مجلس کو سیکیولر ووٹ کٹوا پارٹی اور بی جے پی کی مدد کرنے اور اسے جتوانے والی پارٹی کا الزام لگانا کہاں تک صحیح ہے؟ یہ اس لئے کہ اسی حلقہ میں بھاولی بلی پپو یادو کی جن آدھیکار پارٹی ، چراغ پاسوان کی لوک جن شکتی پارٹی نے اپنے اپنے امیدوار کھڑے کئے تھے اور ایک آزاد امیدوار نے بھی اسی حلقہ سے اپنی قسمت آزمائی تھی۔ ان تینوں امیدواروں نے مجلس کے غیر مسلم امیدوار روشن دیوی سے زیادہ ووٹ لئے تھے یا دوسرے لفظوں میں کانگریس کے ووٹ کاٹے تھے پھر کیوں کوئی پپو یادو کو کانگریس کا ووٹ کٹوا نہیں کہتا،اور چراغ پاسوان کا اکلوتا ایجنڈا ہی نتیش کمار کی پارٹی جے ڈی یو کو ہرانا تھا پھر کیوں چراغ پاسوان کے اتنے سارے نتیش کے ووٹ کاٹنے کے باوجود نتیش کے جے ڈی یو امیدوار اس حلقہ سے سب سے زیادہ ووٹ لے کر کامیاب ہو پائے ہیں ۔ ایک اور بات اس حلقہ ہی میں نوٹا کھاتے میں مجلس سے بھی زیادہ ووٹ کیوں پڑے ہیں۔؟
جن 5 حلقوں سے مجلس کے امیدواروں نے،جس واضح اکثریتی ووٹوں سے جیت جو درج کی ہے اگر اس پر سرسری نگاہ ڈالیں تو ان تمام حلقوں کے مسلم ووٹرس کا مجلس کے امیدوار کو جتانے کے اجتماعی فیصلے میں جو اعتماد نظر آتا ہے انکے پراعتماد واضح اکثریت دیکھتے ہو ئے، آج کے مسلم ووٹرس کی سوجھ بوجھ کو سلام کرنے کو دل کرتا ہے
1) بہادر گنج مجلس امیدوار کو 45۔46فیصد ووٹ 47235جبکہ 16500ووٹ کے فرق سے ہارنے والے وی آئی پی امیدوار 23۔30فیصد 30735ووٹ ملے ہیں۔
2) آمور اسمبلی حلقہ مجلس کا امیدوار 48۔55فیصد 71016کل ووٹ لیتے ہوئے، جے ڈی یو امیدوار کے 67۔23فیصد30292 ووٹ40724 کثیر مارجن سے جیت درج کی ہے۔
3) بایاسی حلقہ اسمبلی سے مجلس کا امیدوار 14۔38فیصد67370 کل ووٹ لیتے ہوئے، اپنے حریف بی جے پی کے 32۔29فیصد51739 ووٹ لینے کے باوجود15577ووٹوں کی اکثریت سے جیت درج کی ہے۔
4) جوکی ہاٹ اسمبلی حلقہ سے مجلس کا امیدوار 22۔34فیصد 59523 ووٹوں سے اپنے حریف بی جے پی امیدوار کے 98۔29فیصد51980ووٹوں کے مقابلے7543ووٹوں سے جیت درج کی ہے۔
5) کوچادھامن اسمبلی حلقہ سے مجلس کا امیدوار 06۔51فیصد 69525ووٹوں سے اپنے حریف جے ڈی یو امیدوار 08۔28 فیصد38216لئے ووٹ پر31314ووٹوں کی بھاری اکثریت سے جیت درج کی ہے۔
جیتے ہوئے 5 اسمبلی حلقہ ووٹوں کے مقابلہ جن 15 میں سے بی جے پی اور ان کے سہیوگی پارٹیوں نے جن 6 اسمبلی حلقوں میں جیت درج کی ہے ان حلقوں کے مسلم ووٹروں نے باوجود اسد الدین اویسی سے اپنی چاہت و محبت کے، ان حلقوں میں اپنے ووٹوں کی وجہ سے مسلم مخالف پارٹیوں کی ممکنہ جیت سے بچنے کے لئے، مجلس کے امیدوار کو بالکلیہ نظر انداز کر نہایت ہی کم ووٹ دئیے ہیں۔ گویا دس بیس سال قبل آل انڈیا ملی کونسل کے صدر مفتی مجاہد الاسلام قاسمی علیہ الرحمہ کے، اس وقت سجھائے اوصول ووٹنگ طریقہ کار، جہاں جہاں مسلم امیدوار کے جیتنے کے چانسز کم ہوں، وہاں انتخاب لڑرہے مسلم امیدوار کو بھی نظر انداز کر، ھندو شدت پسند مسلم مخالف امیدوار کے مقابلے، کسی بھی ذات برادری کے سیکیولر امیدوار کو جتانے کی سعی کی جائے اس اوصول پر آج کا بہاری مسلم ووٹر اپنے قیمتی ووٹ استعمال کرتا نظر آتا ہے۔ کیا یہ خوش آئند بات نہیں ہے،
کانگریس نے 70 حلقوں پر امیدوار اتارے تھے جس میں سے صرف 19 حلقوں میں کانگرئس کو کامیابی ملی ہے باقی 51حلقوں میں کانگریس کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اب یہ 51 سیٹیں کس کو ملیں الزام تراشنے والے ان ہاری ہوئی سیٹوں کا جائزہ لیں تو جواب مل جائے گا۔ بہار اسمبلی انتخاب سے قبل سیٹوں کے بٹوارے میں کانگریس کے حق میں جو 70 سیٹیں دی گئی تھیں وہ صرف 50 سیٹیں ہی کانگریس کو دی جاتیں اور ان بیس سیٹوں میں دس سیٹیں کمیونسٹوں کو اور باقی دس سیٹیں آر جے ڈی اپنے لئے بھی رکھتیں تو آسانی سے ان بیس حلقوں میں دس بارہ سیٹوں پر جیت درج کرتے ہوئے آج آر جے ڈی بہار میں حکومت بنا رہی ہوتی۔
2014 کے انتخابات ہوں 2019 کے انتخابات یا کئی ریاستوں کے صوبائی انتخابات، ہمیشہ بی جے پی، ای وی ایم چھیڑ چھاڑ ہی سے اپنی جیت درج کرانے میں کامیاب رہی ہے ۔ اور ای وی ایم اپنی جیت کو مختلف ووٹنگ پیٹرن بتاتے ہوئے، اپنی جیت صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتی پائی گئی ہے۔ کورونا قہر کہرام مودی جی کے دیش بھر، بغیر مناسب وقت دئیے بھارت بھر، کرفیو نما لاک ڈاؤن کے چلتے، مختلف بڑے شہروں میں روزانہ دہاڑی پر دیش کی ترقی انتی پر معمور لاکھوں کروڑوں پرواسی مزدور، شہروں میں اچانک بے روزگار بن جانے کے سبب ہزاروں کلومیٹر کا پیدل سفر کر، اپنے اپنے گاؤں دیہات پہنچتے تکلیف کے پیش نظر، اور دیش کے بڑے پونجی پتیوں کے لاکھوں کروڑ کے بنک قرضہ سنگھی مودی حکومت کے معاف کرتے پیش منظر باوجود ان کروڑوں پرواسی مزدوروں کو حکومتی امداد وقت پر نہ ملنے کے غم و غصہ کے پیش نظر، اور سنگھی مودی حکومتی معشیتی ناکام پالیسیز کی وجہ سے کئی کروڑ روزگار پر رہے مزدوروں کے بے روزگار ہوتے تناظر میں، بہار کی یوا پیڑھی نے آرجےڈی کی انتخابی ریلیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ جس انداز لیا تھا اور بی جے پی اور نتیش جی کے انتخابی جلسوں میں خالی کرسیاں جو نظر آتی تھیں اس کے باوجود حالیہ بہار انتخابی نتائج، بی جے پی کی جیت کسی بھی صورت ای وی ایم چھیڑ چھاڑ ہی پر منتج دکھائی دیتی ہے۔ خصوصا بیس تیس اسمبلی حلقوں میں معمولی کٹرت آرا ووٹوں سے بی جے پی اور اس کی سہیوگی پارٹیوں کی جو جیت ہوئی ہے ان تمام حلقوں میں نہ صرف ہارے ہوئے تمام سیکیولر امیدوار، اپنے اپنے حلقہ اسمبلی کے ریٹرنگ انتخابی آفیسر کے پاس تحریری طور ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی درخواستیں دینی چاہیئے بلکہ ای وی ایم سے منسلک ووٹ پرنٹیڈ ہرچیوں کی گنتی کراوتے ہوئے ،ای وی ایم رزلٹ سے تقابل کرنا از حد ضروری ہے۔ اگر الیکشن کمیشن اس سمت تعاون کرنے سے انکار کرتا ہے تو دیش کی عدلیہ عالیہ میں رٹ پیٹئشن دائر کر انصاف کی گوہاڑ لگانی چاہئیے۔ اور دیش کی عدلیہ سے بھی انصاف نہ ملنے کی امید رہے تو ای وی ایم طرز انتخاب سے پرے پرانے بیلٹ پیپر طرز انتخاب، اپنے حق رائے دہی ہی کی خاطر لاکھوں کروڑوں دیش کے یواؤں کو سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔ ہر انتخاب ای وی ایم چھیڑ چھاڑ ان سنگھیوں کی جیت بعد ملکی مفاد میں خاموش بیٹھتے ان سنگھیوں کو صدا ای وی ایم چھاڑ اپنی جیت جاری رکھنے تقویت دینے کے بجائے، اور پانچ سال ودھایک بنے بیکار بیٹھے رہنے کے بجائے، تمام نئے منتخب اراکین اسمبلی ای وی ایم چھیڑ چھاڑ سنگھی جیت کے خلاف اجتماعی اسمبلی سے استعفے دیتے ہوئے، اپنے احتجاج کو عالمی میڈیا پر پیش کرنا چاہئیے تاکہ عالم کو بھی دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے غیر جمہوری طرز انتخاب کے بارے میں آگہی ہو
دنیا کی سب سے پہلی بڑی جمہوریت کی دعویدار حالیہ امریکی انتخاب میں کورونا کا ڈر بتا 50 فی صد سے زیادہ ووٹوں کو ڈاک ووٹ میں منتقل کرتے، امریکی انتخاب کو اپنی مرضی مطابق امریکی ڈیپ اسٹیٹ کے، بدلے جانے کی سازش پر آواز اٹھاتے موجودہ صدر امریکہ ٹرمپ ہی کا امریکی جمہوری طرز انتخاب ہی کو ماننے سے انکار کرتے پس منظر میں، کیا ہم بھارتیہ شہری اس ای وی ایم چھیڑ چھاڑ طرز انتخاب کو کالعدم قرار دیتے دوبارہ بیلٹ پیپر انتخاب کروانے پر امن عوامی احتجاج کیا شروع نہیں کرسکتے ہیں ۔وما علینا الا البلاغ۔
Best Regards,
ڈاکٹر محمد فاروق شاہ بندری
المعروف نقاش نائطی/ابن بھٹکلی
Dr. Mohammed Farooque Shahbandri
Well known as Naqash Naity / Ibn e bhatkali
+966 562677707