انڈو تبت بارڈر پولیس (ITBP) کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت سنگھ کپور نے اکتوبر 2026 کوراجستھان کے شہر الور میں ایک تقریب سے خطاب کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ وہاں انہوں نے چین کے ساتھ سرحدی صورتحال اور فورس کی جدید کاری پر تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ آئی ٹی بی پی کے کچھ روایتی ہتھیار 50 سال پرانے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ دور میں صرف روایتی طریقوں اور پرانے ہتھیاروں سے چین کی تیزی سے جدید ہوتی ہوئی فوج (PLA) کا مقابلہ کرنا مشکل ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس مشکل کو آسان کرنے کے لیے مودی سرکار نے کیا کیا؟ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ ہندی بندر پاکی لنگور کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلتا رہا اور اس درمیان چینی بھالو ہندوستان تو دورامریکی بھیڑئیے کے لیے بھی بڑا چیلنج بن گیا ۔ یہ ایک حسن اتفاق ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی لاکھ ناز برداری کے باوجود ان کے عزیز دوست ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی تعلقات کو ہندوستانی رشتوں پر ترجیح دی۔ آپریشن سیندور میں ہندوستان کے بجائے پاکستانی موقف کی تائید کی اور وہاں کے آرمی چیف کو قصر ابیض میں ظہرانے کے منفرد اعزاز سے نواز دیا ۔ایران سے ثالثی کی خاطر بھی اسی رقیب روسیاہ پر اعتماد کیا ۔ جہاں تک چین کا تعلق ہے اس نے تو آپریشن سیندور کے دوران کھل کر پاکستان کی تائید و حمایت کی ۔ ایسے میں یہ سوال بھی بنتا ہے کہ پاکستان کی فوجی مدد کرنےوالے چین کو ہندوستان اپنی درآمدات سے معاشی فائدہ کیوں پہنچاتا ہے؟
جنرل شتروجیت سنگھ کپور نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ چین نے اپنے بنیادی ڈھانچے اور جنگی ٹیکنالوجی کو بہت جدید بنا کر روایتی جنگی طریقوں سے کافی آگے نکل چکا ہے۔ یہ بیان اگر 2013؍ میں آتا تو مودی جی کانگریس پر چڑھ دوڑتےحالانکہ اس صدی کی ابتداء میں اٹل جی نے بھی ۶؍سال حکمرانی کی تھی اور یہ استفسار کیا جاسکتا ہے کہ انہوں نے حربی بنیادی ڈھانچے اورجنگی ٹیکنالوجی کی جدید کاری کے لیے کیا کیا؟ ان کے زمانے میں بھی پاکستان کے ساتھ کھٹے میٹھے رشتوں کا سلسلہ جاری رہا۔پہلے تو فروری 1999 میں اٹل بہاری واجپائی نے تاریخی بس کے ذریعے لاہور کا دورہ کرکےیادگار اعلامیہ پر دستخط ثبت کیے لیکن اس کے فوراً بعد مئی 1999 میں پاکستانی فوج اور عسکریت پسند وں نےلائن آف کنٹرول عبور کر کے کارگل کی چوٹیوں پر قبضہ کرلیا۔ انہیں خالی کرانے کے لیے آپریشن وجے شروع کیا گیا جس میں بدنام زمانہ بوفورس ٹینک نے اہم کردار ادا کیا تاہم اٹل بہاری واجپائی نےہندوستانی فوج کو لائن آف کنٹرول (LoC) پار کرنے سے منع کیا تاکہ بین الاقوامی سطح پر بھارت کا موقف مضبوط رہے اور پاکستان جارح ثابت ہو۔ مودی جی نے انتخابی فائدہ اٹھانے کی خاطر سرجیکل اسٹرائیک اور آپریشن سیندور میں اس احتیاط کا پاس و لحاظ نہیں رکھا اس لیے عالمی حمایت گنوا بیٹھے۔
کارگل تنازع میں امریکی صدر بل کلنٹن کی مداخلت اور شدید عالمی دباؤ کے بعد، پاکستانی وزیراعظم نواز شریف نے فوج کو پیچھے ہٹنے کا حکم دیا اور 26 جولائی 1999 کو بھارت نے کارگل کی تمام چوٹیاں واپس حاصل کر لیں۔ آگے چل کر 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے کے بعد دونوں ممالک میں فوجی کشیدگی پیدا ہوگئی، تاہم اٹل بہاری واجپائی نے سفارتی کوششوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ مودی جی نے بھی اپنی حلف برداری میں پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو دعوت دے کر اسی پالیسی کو آگے بڑھایا اور بن بلائے اسلام آباد جاکر تعلقات کو بہتر بنانے کی ناکام کوشش کی۔ اس سے بات نہیں بنی تو سرجیکل اسٹرائیک کرکے 2019؍ کا الیکشن جیت لیا اور 2024؍ کی ہزیمت کو چھپانے کی خاطر آپریشن سیندور کرڈالا یعنی ساری توجہات کا مرکز پاکستان ہی رہا چین کی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی حالانکہ 2017 میں ڈوکلام کے اندر بھارت اور چین کے درمیان کشیدگی کی صورتحال کے سبب فوجی جھڑپ بھی ہوچکی تھی۔ اس کے بعد جب امن کی فضا قائم ہو گئی تو سرکار پھر سے شتر مرغ کی مانند ریت میں منہ چھپا کر سوگئی۔
چین نے حکومتِ ہند کی غفلت کا فائدہ اٹھاکر جون 2020 میں لداخ کی وادی گلوان میں در اندازی کردی۔ ہندوستانی فوج نے چینی فوجیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا مگر ایک کثیر الجماعتی اجلاس کے بعد ٹیلی ویژن خطاب میں وزیر اعظم نریندر مودی نے دعویٰ کردیا کہ "نہ تو کوئی ہماری سرحد میں داخل ہوا ہے اور نہ ہی ہماری کوئی پوسٹ کسی کے قبضے میں ہے”۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ملکی افواج کو سرحدوں کی حفاظت کے لیے مکمل آزادی حاصل ہے۔ اس بیان پرکانگریس رہنما راہل گاندھی اور سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم سمیت دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے سخت اعتراض کیا۔ انہوں نےپوچھا کہ اگر چینی فوج بھارتی علاقے میں داخل نہیں ہوئی تھی، تو پھر جھڑپ کہاں ہوئی ؟ اور بھارت کے 20 فوجی کیسے مارے گئے؟مخالف جماعتوں نے اس بیان کووزیر اعظم کی خاطر چین "کلین چٹ” قرار دیا ۔ چینی وزارت خارجہ نے بھی مودی کے بیان کا حوالہ دےکر دعویٰ کردیا کہ یہ جھڑپ لائن آف کنٹرول کے چینی حصے میں ہوئی تھی نیز چین نے پوری وادیِ گلوان پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ بھی پیش کر دیا، جوہندوستان کی وزارت خارجہ کے ذریعہ مسترد ہوگیا۔ اس وقت حزب اختلاف نے خبردار کیا تھا کہ حکومت کے اس موقف سے سرحد پر ہندوستانی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔ انڈو تبت بارڈر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل نے اسی اندیشے کی تصدیق کی ہے۔
جنرل شتروجیت سنگھ کپور نے اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ حالیہ مقابلہ آرائی کے واقعات کی تصدیق کے ساتھ سرحد پر انڈین فورسز کے ‘شوریا کمانڈوز’ کی کارکردگی کی مستعدی کو سراہا ۔ انہوں نے واضح کیا کہ آئی ٹی بی پی کے زیرِ استعمال کچھ روایتی ہتھیار تقریباً 50 سال پرانے ہیں جنہیں فوری طور پر جدید بنانے یعنی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ مودی سرکار نے اس نازک معاملے میں اتنی غفلت کیوں برتی کہ فوجی جنرل کو عوام میں ا ظہار خیال کرنا پڑا۔ ڈی جی آئی ٹی بی پی کے مطابق چین نے اپنے عسکری ڈھانچے اور جدید ترین ہتھیاروں پر بھاری سرمایہ کاری کی ہے، اس لیے اب روایتی جنگی طریقوں سے چین کا مقابلہ کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ مودی سرکار کو یہ بتانا ہوگا کہ حکومتِ ہند نے رافیل کی خریداری میں تو بے شمار سرمایہ لگا دیا مگر اس معاملے کیو ں نظر انداز کیا؟ جنرل شتروجیت نے اپنے بیان میں روایتی ہتھیاروں کے بجائے ڈرون اور اینٹی ڈرون سسٹمز پر سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے مثال دی کہ کس طرح ڈرون ٹیکنالوجی کی بدولت یوکرین نے روس جیسی بڑی طاقت اور ایران نے امریکہ کو چیلنج کیا۔ یعنی ہندوستان کو یوکرین اور ایران کی صف میں کھڑا کرکے چین کو روس اور امریکہ کا ہم پلہ قرار دے دیا گیا ۔
مودی جیسے قوم پرست رہنما کے دور ملک کی یہ حالت ہوگی ایسا کسی نہیں سوچا تھا؟ ہندوستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے آئی ٹی بی پی کے ڈی جی کے بیان کی تصدیق میں چین کی جانب سے گشت کے طے شدہ طریقہ کار سے انحراف کے باعث ایل اے سی پر صورتحال کے متاثر ہونے کا اعتراف کیا۔جیسوال نے واضح کیا کہ بھارت اور چین کے درمیان سرحدی غلط فہمیوں سے بچنے کے لیے قائم سفارتی اور فوجی ذرائع کا استعمال جاری ہے تاہم، آپریشنل تفصیلات اور جھڑپوں کی حساسیت کے پیشِ نظرموصوف نے مزید تفصیلات کے لیے وزارتِ دفاع سے رجوع کرنے کا مشورہ دے کر اپنی جان چھڑا لی۔ اروناچل پردیش میں LAC کی صورتحال کے بارے میں وہ بولے کہ سرحدی علاقوں میں حالات وقتاً فوقتاً چینی فوج گشت کے قائم کردہ نمونوں سے انحراف کی وجہ سے بگڑجاتے ہیں لیکن اس کا پاس و لحاظ کرکے وہاں اضافی فوج بھیجنے کے بجائے انہیں سرحد سے دہلی بلا لیا جاتا ہے تاکہ اپنے ہی بچوں کو قابو میں کرکے انہیں سبق سکھایا جاسکے ۔
یہ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ قوم کے تحفظ کا دم بھرنے والے حکمرانوں کو ملک سے زیادہ فکر اپنے اقتدار کی ہے۔ ہماری فوجیں دشمن کا مقابلہ کرنے کے بجائے خود اپنے ہی شہریوں کو ڈرا رہی جبکہ چینیوں سے نرمی برتی جار ہی ہے۔ مودی جی کا چینی رشتہ بہت پرانا ہے۔ 2001 سے 2014 کے درمیان وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے موصوف نے چین کے کئی دورے کیے تھے۔انہوں نے 9؍ نومبر 2011 کو چین کا دورہ کرکے وہاں کے صنعتکاروں کو گجرات میں سرمایہ کاری کی دعوت تھی ۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ گجرات بھارت کے دیگر حصوں سے ایک الگ، مستحکم، بہترین حکمرانی اور کم لاگت والا ترقیاتی ماڈل پیش کرتا ہے۔ اس لیے چینی سرمایہ کاروں کو گجرات کے اسپیشل انویسٹمنٹ ریجن پروگرام اور دھولرا جیسے منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ وہ خود تو چین سے دوستی کرتے تھے مگر عوام کو بیوقوف بنانے کی خاطر اکثر منموہن سنگھ کے زیر قیادت مرکزی حکومت پر چین کے معاملات پر تنقید کیا کرتے تھے ۔ وقت بدلا تو وہ خود وزیر اعظم بن گئے لیکن اب وہ چین کو لال آنکھ دکھانے کے بجائے اس سے نظریں چرا رہے ہیں اور اپنے باشندوں کو آنکھیں دکھا رہے ہیں ۔ یہ صورتحال تو اسی وقت بدلے گی جبکہ مودی جی اپنا جھولا اٹھاکر چل دیں گے اور وہ خوش کن گھڑی کب آئے گی یہ تو خود مودی جی بھی نہیں جانتے۔