Breaking

تعلیم کا معیار یا معیارِ نمائش؟ تعلیمی اداروں میں خود احتسابی، حقیقی کارکردگی اور اصلاحِ نظام کی ضرورت

تعلیم کا معیار یا معیارِ نمائش؟ تعلیمی اداروں میں خود احتسابی، حقیقی کارکردگی اور اصلاحِ نظام کی ضرورت

تعلیم کا معیار یا معیارِ نمائش؟
تعلیمی اداروں میں خود احتسابی، حقیقی کارکردگی اور اصلاحِ نظام کی ضرورت

ازقلم:سید توفیق سید عبدالرزاق
لیکچرر، شعبۂ طبیعیات
مولانا آزاد کالج، ڈاکٹر رفیق زکریا کیمپس، اورنگ آباد
رابطہ: 9890478610

تعلیم کسی بھی معاشرے کے مستقبل کی تشکیل کا بنیادی ذریعہ ہے۔ تعلیمی ادارے صرف علم منتقل کرنے کی جگہیں نہیں بلکہ نئی نسل کی فکری، اخلاقی، سماجی اور عملی تربیت کے مراکز بھی ہوتے ہیں۔ اسی لیے کسی ادارے کی کامیابی کا تعین محض اس کی عمارت، وسائل، سرگرمیوں، امتحانی نتائج یا تشہیری سرگرمیوں سے نہیں کیا جا سکتا۔ اس کی اصل کامیابی اس بات میں پوشیدہ ہے کہ وہ اپنے طلبہ کو کس حد تک باشعور، باصلاحیت، خود اعتماد اور ذمہ دار شہری بنانے میں کامیاب ہو رہا ہے۔

لیکن ہمارے تعلیمی ماحول میں ایک بنیادی سوال غور طلب ہے: کیا ہم واقعی تعلیم کا معیار بلند کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یا رفتہ رفتہ ایک ایسا نظام تشکیل دے رہے ہیں جہاں حقیقی کارکردگی سے زیادہ اس کی ظاہری تصویر اہم ہوتی جا رہی ہے؟

*جائزہ: اصلاح کا موقع یا کامیابی کا تاثر؟*

کسی بھی تعلیمی ادارے کی کارکردگی کا جائزہ لینے کا اصل مقصد اس کی خوبیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی، مسائل کے اسباب کی تلاش اور بہتری کے امکانات پیدا کرنا ہوتا ہے۔ کوئی بھی ادارہ ہر اعتبار سے کامل نہیں ہو سکتا۔ ہر ادارے میں اصلاح اور ترقی کی گنجائش موجود رہتی ہے۔ اس لیے خامیوں کی نشاندہی کو ناکامی یا بدنامی سمجھنے کے بجائے ترقی کی پہلی سیڑھی تصور کرنا چاہیے۔

تاہم بعض اوقات جائزے کا عمل اپنے اصل مقصد سے ہٹ کر ایک رسمی سرگرمی بن جاتا ہے۔ توجہ اس بات پر مرکوز ہو جاتی ہے کہ ادارے کا تاثر اچھا رہے، دستاویزات مکمل ہوں، سرگرمیاں نمایاں ہوں اور کامیابی کا ماحول دکھائی دے۔ اس دوران وہ بنیادی سوالات پس منظر میں چلے جاتے ہیں جن کا تعلق براہِ راست تعلیم کے معیار سے ہوتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ کسی ادارے کی ترقی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب وہ اپنی کمزوریوں کو تسلیم کرنے کا حوصلہ پیدا کرتا ہے۔ جو ادارہ اپنی خامیوں سے نظریں چراتا ہے، وہ اپنی اصلاح کا راستہ بھی محدود کر لیتا ہے۔

*کاغذی کارکردگی اور زمینی حقیقت*

آج تعلیمی اداروں میں رپورٹس، دستاویزات، منصوبہ بندی، تصاویر اور سرگرمیوں کے ریکارڈ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ یہ سب ادارہ جاتی نظم و نسق اور جواب دہی کے ضروری اجزا ہیں۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ ذرائع خود مقصد بن جائیں اور ان کے ذریعے پیش کی جانے والی کارکردگی کو حقیقی نتائج کا متبادل سمجھ لیا جائے۔

کسی ادارے میں متعدد پروگرام، سیمینار اور ورکشاپس منعقد ہو سکتے ہیں، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان سے طلبہ کی علمی استعداد میں کیا اضافہ ہوا؟ کیا اساتذہ کے تدریسی طریقوں میں بہتری آئی؟ کیا ان سرگرمیوں کے اثرات کلاس روم اور طلبہ کی عملی صلاحیتوں میں نظر آئے؟

ہمیں سرگرمی اور نتیجے کے درمیان فرق سمجھنا ہوگا۔ کسی پروگرام کا انعقاد ایک سرگرمی ہے، لیکن اس سے پیدا ہونے والی مثبت تبدیلی اس کا اصل نتیجہ ہے۔ دستاویزات میں کسی منصوبے کا درج ہونا ایک بات ہے اور اس کا عملی نفاذ دوسری بات۔ تعلیمی اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت ان دونوں کے درمیان فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔

*تعلیم کا اصل مرکز: طالب علم*

کسی بھی تعلیمی نظام کی تمام تر منصوبہ بندی کا مرکز طالب علم ہونا چاہیے۔ اگر ادارے میں انتظامی سرگرمیاں بڑھ رہی ہوں، تقریبات منعقد ہو رہی ہوں اور وسائل میں اضافہ ہو رہا ہو، لیکن طلبہ میں بنیادی فہم، مطالعے کا ذوق، سوال کرنے کی صلاحیت، تخلیقی سوچ اور مسائل حل کرنے کی استعداد پیدا نہ ہو رہی ہو تو اپنی ترجیحات پر نظرثانی ضروری ہے۔

کیا طلبہ صرف امتحانات میں نمبر حاصل کرنے کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں یا انہیں زندگی کے حقیقی مسائل کا سامنا کرنے کے قابل بھی بنایا جا رہا ہے؟ کیا وہ صرف معلومات یاد کر رہے ہیں یا انہیں سمجھنے، پرکھنے اور عملی زندگی میں استعمال کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر رہے ہیں؟

تعلیم کا مقصد محض امتحان میں کامیاب امیدوار پیدا کرنا نہیں، بلکہ ایسے انسان تیار کرنا ہے جو علم کے ساتھ شعور، صلاحیت کے ساتھ کردار اور کامیابی کے ساتھ سماجی ذمہ داری کا احساس بھی رکھتے ہوں۔ اس کے لیے ہر طالب علم کی انفرادی صلاحیت، سیکھنے کی رفتار اور پس منظر کو سمجھتے ہوئے اسے آگے بڑھنے کے مناسب مواقع فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔

*اساتذہ اور انتظامیہ: مشترکہ ذمہ داری*

کسی بھی تعلیمی نظام کی کامیابی میں استاد کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اساتذہ سے بہتر نتائج کی توقع یقیناً ہونی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ انہیں مناسب تربیت، تدریسی وسائل، پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع اور باوقار ماحول فراہم کرنا بھی ضروری ہے۔ ان کی کارکردگی کا جائزہ صرف حاضری یا نصاب کی تکمیل سے نہیں بلکہ تدریس کے معیار اور طلبہ کے سیکھنے کے نتائج سے بھی لیا جانا چاہیے۔

دوسری طرف اساتذہ کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلسل مطالعہ کریں، اپنے تدریسی طریقوں میں جدت پیدا کریں اور بدلتے ہوئے تعلیمی تقاضوں کے مطابق اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنائیں۔

انتظامیہ کا کردار بھی محض انتظامی امور چلانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ اسے ایسا ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں تعلیمی ترجیحات کو رسمی سرگرمیوں پر فوقیت حاصل ہو، وسائل کی منصفانہ تقسیم ہو، اساتذہ کی تجاویز کو اہمیت دی جائے اور کمزوریوں کی نشاندہی کو مخالفت کے بجائے اصلاح کا ذریعہ سمجھا جائے۔ ایک اچھی قیادت وہی ہے جو تعریف سننے کے ساتھ تنقید سننے اور اس سے سیکھنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہو۔

اسی طرح والدین کو بھی بچوں کی تعلیم کو صرف نمبروں اور گریڈز تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ ان کی فکری، اخلاقی اور عملی نشوونما پر توجہ دینی چاہیے۔ معاشرے کو بھی تعلیمی اداروں کی شہرت اور ظاہری سرگرمیوں کے بجائے ان کے حقیقی تعلیمی اثرات کو اہمیت دینی چاہیے۔

*پالیسی سازوں کی ذمہ داری*

تعلیمی معیار کی بہتری کی ذمہ داری صرف اداروں اور اساتذہ تک محدود نہیں۔ حکومت، تعلیمی بورڈز، جامعات اور پالیسی ساز ادارے بھی اس پورے نظام کا اہم حصہ ہیں۔ نئی پالیسیاں، ضابطے اور معیار کے پیمانے متعارف کرانا ضروری ہے، لیکن ان کی کامیابی کا اصل پیمانہ عملی نتائج ہونا چاہیے۔

پالیسی بناتے وقت زمینی حقائق، اداروں کے وسائل، اساتذہ کی ضروریات، طلبہ کے سماجی و معاشی پس منظر اور مختلف علاقوں کے تعلیمی تفاوت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اداروں کو مسلسل دستاویزی اور رسمی تقاضوں میں مصروف رکھنے کے بجائے انہیں تدریس اور طلبہ کی بہتری کے لیے مناسب وقت اور وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں۔

اگر تعلیمی نظام میں کامیابی کا اندازہ زیادہ تر کاغذی شواہد، ظاہری اشاریوں اور فوری نتائج سے لگایا جائے گا تو ادارے بھی اپنی توانائیاں حقیقی بہتری کے بجائے ان اشاریوں کو بہتر دکھانے پر صرف کرنے لگیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ تعلیمی پالیسیاں اور جائزے طلبہ کے حقیقی سیکھنے، تدریسی معیار، مساوی مواقع اور مجموعی ترقی کو مرکز بنائیں۔

*خود احتسابی سے عملی اصلاح تک*

حقیقی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ ہر تعلیمی ادارہ اپنی کارکردگی کا دیانت دارانہ اور مسلسل جائزہ لینے کا نظام قائم کرے۔ کمزوریوں کی نشاندہی کے بعد ان کے اسباب معلوم کیے جائیں، ترجیحات طے ہوں، ذمہ داریاں متعین کی جائیں اور اصلاح کے لیے واضح مدت مقرر ہو۔

ہر جائزے کے بعد یہ دیکھا جانا چاہیے کہ کون سے مسائل حل ہوئے، کن منصوبوں پر عمل درآمد ہوا اور کہاں مزید کوشش کی ضرورت ہے۔ اساتذہ، طلبہ اور دیگر متعلقہ افراد کی رائے کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ادارے میں ایسا ماحول پیدا ہو جہاں اختلافِ رائے، سوال، تنقید اور نئی تجاویز کی حوصلہ افزائی ہو۔

کسی ادارے کی اصل ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب وہاں خامیوں کو چھپانے کے بجائے ان کی اصلاح کو ترجیح دی جائے اور ہر فرد اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے بہتری کے عمل میں شریک ہو۔

*ہم کس قسم کے تعلیمی ادارے بنا رہے ہیں؟*

تعلیم کا میدان محض انتظامی اہداف حاصل کرنے، رپورٹس مکمل کرنے، تقریبات منعقد کرنے یا کامیابیوں کی تشہیر کرنے کا میدان نہیں۔ یہ نسلوں کی تعمیر اور معاشرے کے مستقبل کی تشکیل کا عمل ہے۔ اس لیے ہر فیصلے، ہر پالیسی اور ہر سرگرمی کو اس سوال کی روشنی میں پرکھنا ضروری ہے کہ اس سے طالب علم کی زندگی اور سیکھنے کے عمل میں کیا حقیقی بہتری آئی؟

ہمیں ایسے ادارے درکار ہیں جو اپنی کامیابیوں پر خوش ہوں لیکن اپنی کمزوریوں سے بے خبر نہ ہوں؛ جہاں انتظامیہ جواب دہ، اساتذہ بااختیار، طلبہ کو سیکھنے کے حقیقی مواقع میسر ہوں اور پالیسی ساز زمینی حقائق سے جڑے رہیں۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ تنقید ہمیشہ منفی نہیں ہوتی اور ہر تعریف ترقی کی دلیل نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ایک تلخ حقیقت کا اعتراف کئی خوش نما دعووں سے زیادہ تعمیری ہوتا ہے۔

آخرکار، کسی تعلیمی ادارے کی اصل پہچان اس کی شہرت، عمارت یا تشہیر نہیں، بلکہ وہ علمی، اخلاقی اور عملی تبدیلی ہے جو اس کے طلبہ اور معاشرے میں پیدا ہوتی ہے۔

اس لیے آج ہر تعلیمی ادارے کے سربراہ، ہر استاد، ہر پالیسی ساز، ہر والدین اور سرپرست اور خود ہر طالب علم کو اپنے آپ سے ایک سوال ضرور کرنا چاہیے:

کیا ہم تعلیم کے ذریعے ایک بہتر نسل تیار کر رہے ہیں، یا صرف اپنے تعلیمی نظام کی ایک بہتر تصویر پیش کرنے میں مصروف ہیں؟

یہ سوال کسی ایک ادارے یا فرد کے لیے نہیں، بلکہ پورے تعلیمی نظام سے وابستہ ہر شخص کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ کیونکہ تعلیم کی حقیقی کامیابی بہتر تاثر قائم کرنے میں نہیں، بلکہ بہتر انسان اور بہتر معاشرہ تشکیل دینے میں ہے۔

By Maqsood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے